آل سعود نے فلسطینیوں پر حج اورعمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

آل سعود نے فلسطینیوں پر حج اورعمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل نواز شاہی حکومت نے نئی ویزا پالیسی کے تحت فلسطینیوں پر حج اورعمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا نے اسرائیلی اخبار ہارٹض کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل نواز شاہی حکومت نے نئی ویزا پالیسی کے تحت فلسطینیوں پر حج اورعمرہ کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے اپنی حج و عمرہ ویزا پالیسی تبدیلی کردی جس کے بعد کسی بھی فلسطینی مسلمان کو اردن اور لبنان کے ویزے پر داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ 1978 میں اردن کے بادشاہ حسین نے خصوصی طور اسرائیلی زیر قبضہ علاقوں میں رہائش پذیر فلسطینی مسلمانوں کو حج اور عمرے کی ادائیگی کے لیے عارضی ویزا جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے سے تمام فلسطینی مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے پہلے اردن پہنچتے اور عارضی ویزا لے کر سعودی عرب داخل ہوتے تھے۔ سعودی عرب کی نئی ویزا پالیسی سے تقریباً 30 لاکھ فلسطینی متاثر ہوں گے جو بذریعہ اردن اور لبنان حج اور عمرے کی ادائیگی کے لیے مکہ اور مدینہ آتے تھے۔ سعودی عرب کی جانب سے مذکورہ فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی نئی سوچ کی تعریف کی۔خیال رہے کہ 30 اپریل کو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاست کی پوزیشن میں واضح تبدیلی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلیوں کو اپنے وطن کا حق حاصل ہے۔

.....

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram