شمالی کوریا امریکہ کے ساتھ جنگ کے لیے خود کو آمادہ کر رہا ہے

شمالی کوریا امریکہ کے ساتھ جنگ کے لیے خود کو آمادہ کر رہا ہے

قرائن و شواہد سے اس بات کی نشاہدھی ہوتی ہے کہ شمالی کوریا خود کو امریکی جارحیت اور حملوں کا مقابلہ کرنے کی غرض سے آمادہ کر رہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قرائن و شواہد سے اس بات کی نشاہدھی ہوتی ہے کہ شمالی کوریا خود کو امریکی جارحیت اور حملوں کا مقابلہ کرنے کی غرض سے آمادہ کر رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی یون ھاپ کے مطابق جزیرہ نمائے کوریا میں امریکی بمبار طیاروں کی پروازوں کے بعد شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ ہر جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد امریکی اقدامات کا جواب دےگا۔ شمالی کوریا نے ایسی تصاویر جاری کیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ پیانگ یانگ کی فوج نے فرضی طور پر امریکی بمبار طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی ریہرسل بھی کی ہے۔خبروں میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جنگی طیاروں کو مشرقی ساحلی علاقے میں منتقل کردیا ہے جہاں امریکی جنگی طیارے پرواز کرتے دیکھے گئے ہیں۔دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں جزیرہ نمائے کوریا کی کشیدگی میں شامل تمام فریقوں سے صبر و تحمل سے کام لینے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔ادھر جنوبی کوریا کے صدر نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک شمالی کوریا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

صدر مون جائے ان نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ جنوبی کوریا کی فوج شمالی کوریا کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آمادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ طاقتور دفاعی نظام کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا اور ہم اپنی سرحدوں کا دفاع نہیں کرسکتے۔دارالحکومت سیئول میں اعلی فوجی افسران سے خطاب کرتے ہوئے صدر مون جائے ان نے کہا کہ ہمیں پیشگی حملوں اور شمالی کوریا کا مقابلہ کرنے کے لیے لازمی طاقت حاصل کرنا ہوگی۔انہوں نے اس سے قبل شمالی کوریا کے ساتھ مصالحت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تھا ہمیں اپنے دفاع کے لیے میزائل ڈیفینس سسٹم اور ترقی یافتہ میزائلوں تک رسائی حاصل کرنا ہوگی۔اس وقت اٹھائیس ہزار پانچ سو کے قریب امریکی فوجی جنوبی کوریا میں تعینات ہیں اور امریکہ بہت جلد ایٹمی ہتھیار بھی جنوبی کوریا منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔شمالی کوریا کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مخاصمانہ اور یکطرفہ اقدامات کی وجہ سے جزیرہ نمائے کوریا کی کشیدگی میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک، مخاصمانہ رویہ ترک نہیں کرتے اس وقت تک وہ اپنے ایٹمی اور میزائلی پروگرام کی تقویت کا سلسلہ جاری رکھےگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram