سابق چینی سفیر کی انقلاب اسلامی کے بارے میں کچھ یادیں

سابق چینی سفیر کی انقلاب اسلامی کے بارے میں کچھ یادیں

سابق چینی سفیر 'شائولی منگ' نے کہا کہ انقلاب کے دوران وہ ایران میں بطور چین کے سفیر تعینات تھے اور 1979 میں رونما ہونے والے دنیا کے اس تاریخی واقعے کو قریب سے دیکھا.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایران اور فرانس میں تعینات سابق چینی سفیر جو اسلامی انقلاب کے عروج کے دن ایران میں موجود تھے اور ان تاریخی واقعات کو قریب سے دیکھا اپنی یادوں پر روشنی ڈالی.

سابق چینی سفیر 'شائولی منگ' نے کہا کہ انقلاب کے دوران وہ ایران میں بطور چین کے سفیر تعینات تھے اور 1979 میں رونما ہونے والے دنیا کے اس تاریخی واقعے کو قریب سے دیکھا.

انقلاب کی فتح کے بعد علاقائی اور عالمی سطح پر ایران کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے سابق چینی سفیر نے کہا کہ جب 39 سال پہلے حضرت امام خمینی (رح) کی قیادت میں ایرانی عوام نے انقلاب کو کامیاب کیا تو میں نے اس کامیابی کو قریب سے دیکھا.

انہوں نے مزید کہا کہ جب اس وقت شہنشاہ ایران سے نکل گیا اور بانی انقلاب وطن واپس آئے تو کروڑوں ایرانی عوام نے اپنے رہنما کا تاریخی استقبال کیا، سارے عوام سڑکوں پر نکلے تھے جسے میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا.

سابق چینی سفیر نے کہا کہ ایران کے اس تاریخی انقلاب کو ہرگز نہیں بھول سکتا اور آج تقریبا 40 سال گزرنے کے باوجود انقلاب کے تمام مناظر میرے آنکھوں کے سامنے آتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب نے ایران کے عالمی قوتوں پر انحصار کو ختم کردیا جس کے بعد ایران ایک آزاد ملک بن گیا جس میں اسلامی جمہوری نظام قائم اور اس کی ایک نئی تاریخ کا آغاز بھی ہوگیا.

چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہمیں توقع ہے کہ ایران، ترقی اور خوشحالی کے سفر میں چین کا ساتھ دے اور چین کی ترقی سے فائدہ حاصل کرے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور چین کے تعلقات کا مستقبل روشن اور قابل اطمینان ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے تعاون کے ذریعے مزید ترقی کرسکتے ہیں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram