شام پر جرائم پیشہ ٹرائیکا کی جارحیت (۷)

ڈونلڈ ٹرمپ کا متضاد موقف

ڈونلڈ ٹرمپ کا متضاد موقف

جو حکومت صرف دو ہفتوں تک اپنے اعلان شدہ اور صریح موقف پر استوار نہیں رہ سکتی اور اتنی جلدی سے اور اس میں اتنی فاش تبدیلی آسکتی ہے، تو کیا کوئی بھی ملک اس پر اعتماد کرسکتا ہے؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ 28 مارچ 2018 کے ٹرمپ نے کہا: ہم سترہ سال سے مشرق وسطی میں ہیں جہاں ہماری موجودگی نے یہاں کے عوام کو موت اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا؛ میں چاہتا ہوں کہ ہم شام سے نکل جائیں اور اپنے گھروں کو پلٹیں، اور اپنے ملک کی تعمیر نو کا اہتمام کریں۔ ۔۔۔ آج سے تین مہینے قبل مشرق وسطی میں ہمارے سترہ سال پورے ہوئے؛ ہم نے 7 ٹریلین ڈالر خرچ کئے اور اس کے عوض ہمیں کچھ بھی نہيں ملا۔
11 اپریل 2018 کے ٹرمپ نے کہا: روس نے کہا ہے کہ جو بھی میزائل شام کی طرف داغا جائے گا، اسے گرا دیں گے، تو اب تیار رہو اے روس! کیونکہ خوبصورت، جدیداور ہوشیار میزائل آرہے ہیں۔
اب یہ دیکھنا ہے کہ سعودی شہزادے نے کیا کچھ دے دیا کہ امریکی صدر اپنی ہی تحریر سے پلٹ گئے؟ جو کچھ انھوں نے دیا ہے کیا وہ امریکہ کے غیر اصولی اقدام کا ازالہ کرسکے گا؟
جو حکومت صرف دو ہفتوں تک اپنے اعلان شدہ اور صریح موقف پر استوار نہیں رہ سکتی اور اتنی جلدی سے اور اس میں اتنی فاش تبدیلی آسکتی ہے، تو کیا کوئی بھی ملک اس پر اعتماد کرسکتا ہے؟
ٹرمپ امریکی پالیسی کی مثال ہے، جو اس سے قبل چھپائی جاتی رہی تھی لیکن اب سامنے آچکی ہے اور رہبر انقلاب کے بقول ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انھوں نے امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram