امریکی صدر ٹرمپ کی شام پر فوجی حملے کی دھمکی

امریکی صدر ٹرمپ کی شام پر فوجی حملے کی دھمکی

شام میں کیمیائی حملے کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ناکامی کے بعد امریکی حکام نے شام پر جلد ہی فوجی کارروائی کی دھمکی دے ڈالی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق  امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے تک شام کے سلسلے میں اہم فیصلہ کیا جائے گا-

ٹرمپ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ فوجی حملے کا آپشن بدستور میز پر موجود ہے، کہا کہ اعلی فوجی عہدیدار غوطہ شرقی کے شہر دوما میں کیمیائی حملے پر ایکشن لینے کے راستوں اور طریقوں کا جائزہ لے رہے ہیں-

اس درمیان شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملے کے بارے میں امریکی اور مغربی ملکوں کے دعوؤں کا جائزہ لینے کے لئے سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کی شام ہوا جو ووٹنگ کے بغیر ہی ختم ہو گیا-

مغربی ممالک اس اجلاس میں شام کے خلاف مذمتی بیان پاس کرانے کی کوشش کر رہے تھے- یہ اجلاس امریکا، برطانیہ، ہالینڈ، پیرو، آئیوری کوسٹ، پولیند اور کویت جیسے ملکوں کی درخواست پر بلایا گیا تھا-

سلامتی کونسل کے اجلاس میں روسی مندوب نے کہا کہ سوشل میڈیا میں دوما شہر میں کیمیائی حملے سے متعلق جو تصاویر دکھائی جا رہی ہیں وہ جعلی ہیں-

ان کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک مختلف بہانوں سے کوشش کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کو شام میں باقی رکھیں-

اقوام متحدہ میں روس کے مندوب واسیلی نبنزیا نے امریکی حکام کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ جہاں بھی جاتے ہو اور جہاں بھی مداخلت کرتے ہو وہاں بحران ہی پیدا کرتے ہو-

انہوں نے امریکیوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تمہیں کچھ خبر ہے کہ تم لوگوں نےعلاقے اور پوری دنیا کے لئے کتنا خطرہ پیدا کیا ہے اور تم لوگ کیا کررہے ہو؟

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار الجعفری نے بھی اس اجلاس میں شام میں امریکا کی غیر قانونی فوجی موجودگی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن جنگ پسندانہ روش اپنائے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادی ہر طرح کی تحقیقات سے پہلے ہی شامی حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں، جبکہ دوما میں کیمیائی حملے کا کوئی اثر یا نام و نشان تک نہیں ہے-

شامی مندوب نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سلامتی کونسل کے بعض ارکان پیشہ ورانہ طریقے سے جھوٹ بولتے ہیں اور ان کا پیشہ ہی جھوٹ بولنا ہو گیا ہے کہا کہ جھوٹ بول کر فلسطین پر قبضہ کر لیا گیا اور جھوٹ بول کر اور جھوٹے دعوؤں سے کوریا، ویتنام، عراق اور لیبیا میں جنگ مسلط کی گئی-

انہوں نے سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ جلد سے جلد سے اپنے معائنہ کاروں کو دوما روانہ کرے تاکہ دہشت گردوں کے حامی ملکوں کے لئے ثابت ہوسکے کہ اس علاقے میں کیمیائی مواد کا کوئی نام و نشان تک نہیں ہے-

واضح رہے کہ دمشق کے مضافاتی علاقے دوما میں موجود دہشت گرد گروہ جیش الاسلام کے عناصر نے ہفتے کی رات شامی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے اس علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے جس میں ڈیڑ ھ سو افراد مارے گئے ہیں-

شامی حکومت نے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے اس الزام کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا ہے-

مغربی اور عرب ملکوں کے ذرائع ابلاغ نے اس دعوے کے بعد شامی حکومت کے خلاف نفسیاتی جنگ کا آغاز کر دیا- امریکا اور مغربی ملکوں نے کسی ثبوت کے بغیر شامی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام عائد کر دیا-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فوج کو دوما میں کیمیائی حملے کی کوئی علامت یا اثر نہیں دکھائی دیا- روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ معائنہ کاروں کو حتی اسپتال میں بھی کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو کیمیائی مادے سے متاثر ہوا ہو-

۔۔۔۔۔

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram