سعودی ولی عہد کا امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ کو انٹرویو

امت مسلمہ کے خدشات درست ثابت ہوئے/ بن سلمان نے جعلی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرلیا

امت مسلمہ کے خدشات درست ثابت ہوئے/ بن سلمان نے جعلی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرلیا

بن سلمان نے فلسطینیوں کی سترسالہ جدوجہد سے غداری کرتے ہوئے اٹلانٹک نامی امریکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلیوں کو بھی اپنی مستقل سرزمین رکھنے کا حق حاصل ہے/ سعودی عرب کے یہودی ریاست کے ساتھ مشترکہ مفادات ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ نیوز کے مطابق، سعودی ولیعہد نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان بہت سارے مشترکہ مفادات موجود ہیں اور اگر امن قائم ہو جائے تو اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کے درمیان روابط میں استحکام آ سکتا ہے۔
محمد بن سلمان نے اس انٹرویو میں مزید کہا کہ اسرائیلیوں کو بھی اپنی مستقل سرزمین رکھنے کا حق حاصل ہے جس میں وہ پرامن طریقے سے زندگی بسر کر سکیں۔
پیر کے روز شائع ہونے والے امریکی جریدے دی اٹلانٹک میں سعودی شہزادے نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بتدریج بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔
بن سلمان سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہودیوں کو ایک مستقل جگہ پر جینے اور اپنا ملک بنانے کا حق حاصل نہیں ہے؟ کہا: فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کو اپنی اپنی سرزمین رکھنے کا حق حاصل ہے لیکن ان دونوں ملکوں کو چاہیے کہ ایک پرامن معاہدے پر اتفاق کر لیں جس سے علاقے میں استحکام پیدا ہو اور باہمی تعلقات بھی معمول پر آئیں۔
سعودی ولیعہد کا اپنے انٹرویو کے دوران مزید کہنا تھا کہ ان کی کسی قوم کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے بلکہ ان کے تمام خدشات یروشلم میں واقع مسجد الاقصیٰ کے مستقبل اور فلسطینی عوام کے حقوق سے متعلق ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں اسرائیل سے کوئی مشکل نہیں ہے۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ہمارا یہودیوں سے کوئی جھگڑا نہیں ہے کہا: ہمارے اور اسرائیل کے ساتھ مشترکہ مفادات ہیں اور اگر امن حاصل ہو جاتا ہے تو اسرائیل اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں جیسے مصر اور اردن کے ساتھ بہت سارے مشترکہ مفادات حاصل ہوں گے۔
حالیہ برسوں کے دوران سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات کی خبریں سامنے آ رہی تھی لیکن سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے اقتدار کی کرسی سنبھالتے ہی ان تعلقات میں مزید استحکام پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ اسرائیلی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول کر یہودیوں کے دل خوش کر دئے اور صہیونی ریاست نے بھی بڑی گرم جوشی سے ان کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔
گزشتہ سال نومبر کے مہینے میں اسرائیل کابینہ کے ایک وزیر نے اسرائیل کے سعودیہ کے ساتھ خفیہ روابط کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کے سعودی اعلیٰ حکام سے گہرے اور قریبی تعلقات ہیں۔
خیال رہے کہ سعودی شہزادہ بن سلمان جو حالیہ دنوں طویل امریکی دورے پر ہیں نے امریکہ میں یہودی لابی سرغنوں سے ملاقاتیں کی ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کوشنر سے ملاقات کے دوران امریکی مجوزہ امن منصوبہ ’’صدی کی ڈیل‘‘ کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram