سامری قرآن و حدیث کی روشنی میں

سامری قرآن و حدیث کی روشنی میں

سامری نے جبرائیل کے گھوڑے کے قدم کے نشان سے جو مٹی اٹھا لی تھی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا۔ اس نے سونے کا ایک گوسالہ بنا دیا اور اس مٹی کو اس کے اوپر ڈال دیا جس کے بعد گوسالے سے آواز نکلنا شروع ہوئی اور ستر ہزار بنی اسرائیلی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوئے۔


اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
کیا جبرائیل کے نقش پا کی مٹی سامری کے کام میں مؤثر تھی؟
جواب:
داستان سامری کو تین زمروں میں قرار دیا جاسکتا ہے:
اول: سامری کون ہے؟
دوئم: جبرائیل کے گھوڑے کے قدموں کی مٹی اٹھانے کا مسئلہ
سوئم: سامری کے بارے میں شیعہ مفسرین کی رائے

اول: سامری کا تعارف:
الف: سامری بنی اسرائیل کے عمائدین میں سے تھا، تعلق قبیلہ سامرہ سے تھا جس نے خدا کی دشمنی اختیار کی اور منافقت کے راستے پر گامزن ہوا۔
سعید بن جبیر کا کہنا ہے کہ کرمان کا رہنے والا تھا اور بعض دیگر کا کہنا ہے کہ "باجرمی" (1) کا رہائشی تھا اور پیشے کے لحاظ سے سنار (Goldsmith) تھا اور اس کا نام "میخا" تھا۔
عبداللہ بن عباس کے مطابق اس کا نام موسی بن ظفر تھا جو منافقین میں سے تھا اور بظاہر حضرت موسی علیہ السلام کا دوست بنا بیٹھا تھا اور درحقیقت گاؤپرست تھا۔ (2)

دوئم: سامری کا تعارف حدیث کی روشنی میں
تفسیر قمی (3) میں سامری کے مختصر حالات زندگی بیان ہوئے ہیں، جو کچھ یوں ہیں:
موسی علیہ السلام الواح اور توریت لینے کوہ طور پر چلے گئے اور وعدے کے مطابق واپس نہ آئے تو بنی اسرائیل نے ابلیس کے دھوکے میں آکر بغاوت کا راستہ اپنایا اور آپ کے جانشین ہارون علیہ السلام کو قتل کرنا چاہا۔ ابلیس ایک مرد کی شکل میں ان کے سامنے ظاہر ہوا اور کہا: موسی علیہ السلام بھاگ کر چلے گئے ہیں، اور واپس نہیں آئیں گے؛ اس لئے کے بغیر معبود کے نہ رہ جاؤ، اپنے زیورات جمع کردو تا کہ میں تمہارے لئے معبود بنا دوں اور تم اس کی عبادت کرو۔۔۔ سامری نے جبرائیل کے گھوڑے کے قدم کے نشان سے جو مٹی اٹھا لی تھی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا۔ اس نے سونے کا ایک گوسالہ بنا دیا اور اس مٹی کو اس کے اوپر ڈال دیا جس کے بعد گوسالے سے آواز نکلنا شروع ہوئی اور ستر ہزار بنی اسرائیلی اس کے سامنے سجدہ ریز ہوئے۔۔۔ موسی علیہ السلام کو اطلاع ملی تو اسے قتل کرنا چاہا۔ وحی آئی کہ اسے قتل نہ کرو، کیونکہ "خوب پیسہ خرچ کرتا ہے" اور سخی ہے، چنانچہ موسی علیہ السلام نے اس سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ دیکھ لو اپنے معبود کو جس کی تو مسلسل پوجا کیا کرتا تھا، کہ کس طرح ہم اس کا برادہ بنا دیتے ہیں اور اسے دریابرد کردیتے ہیں۔ اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تمہارا معبود وہی اللہ ہے جس کے بغیر کوئی معبود نہیں ہے اور اس کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کررکھا ہے۔
علامہ طباطبائی کہتے ہیں کہ یہ روایت دو وجوہات کی بنا پر قابل اعتماد نہيں ہے:
1۔ پہلی بات یہ ہے راوی نے کلام ائمہ(ع) کو اپنی عبارت کے سانچے میں ڈھال کر بیان کیا ہے اور اس کے ضمن میں اپنی بات بھی کر دیتے ہيں۔ اور اس کے لئے ہمارے پاس کئی شواہد بھی ہیں۔
2۔ فرض کریں کہ اس روایت کا مضمون درست بھی ہو، روایت مرسل اور بلا سند ہے اور اس امام کا نام بھی بیان نہیں ہوا جس سے یہ روایت نقل ہوئی ہے، لہذا یہ روایت قابل اعتماد نہیں ہے۔ (4)

سوئم: جبرائیل علیہ السلام کے نقش پا کی مٹی اٹھانے کا مسئلہ اور شیعہ مفسرین کی رائے
مفسرین کے ہاں اس سلسلے میں دو آراء ہیں:

الف) جبرائیل علیہ السلام کے نقش پا یا ان کے گھوڑے کی جائے قدم کی مٹی اٹھانے کا مسئلہ

مذکورہ بالا روایت میں بیان ہوا کہ سامری نے جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے نقش قدم کی مٹی اٹھا لی۔ ایک روایت اور بھی ہے جو اس روایت کی تائید کرتی ہے۔ یہ روایت جامع الجوامع، (5) البحر المحیط، (6) غرائب القرآن، (7)، زبدۃ التفاسیر (8) اور مجمع البحرین (9) میں امیرالمؤمنین علیہ السلام سے منسوب ہوئی ہے۔
روایت کچھ یوں ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور روانہ ہوئے تو جبرائیل علیہ السلام اپنے گھوڑے "حیزوم" پر سوار موسی علیہ السلام کو لینے آئے تو سامری نے یہ منظر دیکھ لیا اور کہا: اس گھوڑے کے لئے ایک منزلت ہے اور اس کے قدم کے مقام سے مٹی اٹھا لی۔
لیکن کچھ مفسرین کی رائے یہ ہے کہ سامری نے جبرائیل علیہ السلام کے نقش پا کی مٹی اٹھا لی نہ کہ ان کے گھوڑے کے قدم کی مٹی، اور اس کی دلیل آیت کی ظاہری عبارت ہے:  
کتاب "تبیین القرآن" میں آیت "قالَ بَصُرْتُ بِما لَمْ یَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُها؛ اس نے کہا میں نے ایسی چیز دیکھی جو ان لوگوں نے نہیں دیکھی تو میں نے ایک مٹھی خاک لے لی (خدا کے) بھیجے ہوئے (فرشتے) کے قدم کے نیچے سے تو اس کو میں نے ڈال دیا"، کی تفسیر میں تحریر ہے:
جب ہم [بنی اسرائیل] سمندر میں داخل ہوئے، تو میں نے ایسی چیز کو دیکھا جو بنی اسرائیل کو نظر نہیں آیا، میں دیکھا کہ جبرائیل آگے جارہے تھے اور مٹی ان کے قدموں سے اڑ رہی تھی اور ان کے قدموں کے مقام سے زندگی پھوٹتی تھی اور میں نے اس میں سے مٹھی بھر خاک اٹھا دی۔ (11)

ب) "بَصُرْتُ" میں بصر سے ظاہری بصارت سے دیکھنا مراد نہیں ہے:
راغب اصفہانی کہتے ہیں کہ "بَصُرْتُ بِہ" میں بصیرت عام طور پر فہم اور سمجھنے کے معنی میں آتی ہے اور اس بصیرت کی جمع "بصائر" ہے اور اس میں بصر "بمعنی آنکھوں سے دیکھنا" مراد نہیں ہے جس کی جمع "ابصار" ہے۔ (12)
تفسیر نور میں طبرسی کی کتاب احتجاج میں منقولہ روایت اس روایت کی تائید میں نقل ہوئی ہے جو کچھ یوں ہے: جب امیرالمؤمنین علیہ السلام بصرہ کو فتح کیا تو لوگ آپ کے گرد جمع ہوئے تا کہ آپ کا کلام سن لیں۔ جناب امیر علیہ السلام کی نظر لوگوں کے اجتماع میں حسن بصری پر پڑی جو کچھ لکھ رہا تھا۔
امام علیہ السلام نے بآواز بلند، حسن بصری سے مخاطب ہوکر فرمایا: کیا کررہے ہو؟ عرض کیا: آپ کے کلام کو لکھ رہا ہوں تا کہ دوسروں کے لئے بیان کروں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: آگاہ رہو کہ "ہر قوم اور ہر آبادی کا ایک سامری ہوتا ہے، اور تم اے حسن! اس امت کے سامری ہو" تم مجھ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے آثار حاصل کرتے ہو اور اپنی ہوائے نفس اور اپنی رائے سے ان کی تفسیر اور تشریح کرتے ہو، نیا مکتب بناتے ہو اور لوگوں کو اس مکتب کی طرف بلاتے ہو"۔ (13)

بنابر این، برداشت مراد سامرى از «فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِنْ أَثَرِ الرَّسُولِ» آن است که من مقدارى از آثار موسى را فراگرفته و بر آن مؤمن شدم، سپس آن را رها کرده و گوساله را ساختم و قهراً جمله «بَصُرْتُ بِما لَمْ یَبْصُرُوا» یعنى به طرحى براى انجام این کار پى بردم که دیگران از آن غافل بودند و این معنا با حدیث فوق مناسب‌تر است.[14]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1- باجرمی شہر نصیبین کا ایک محلہ ہے؛ عبد اللہ بن عبد العزیز، معجم، ص 220، عالم الکتب، بیروت، 1403ھ.
2- مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، ج 13 ص 244، مؤسسة الوفاء ،بیروت ،1404ھ ق.
3- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، ج 2، ص 61-62، دار الکتب، قم، 1404ھ ق.
4- رجوع کریں: طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان، ج 14، ص 201، دفتر انتشارات اسلامی، قم، 1417ھ ق.
5- طبرسی، فضل بن حسن، تفسیر جوامع الجامع، ج 2، ص 433، انتشارات دانشگاہ تہران، 1377ھ ش.
6- اندلسی، ابوحیان، البحر المحیط فی التفسیر، ج 7، ص 376، دار الفکر، بیروت، 1420ھ ق.
7- نیشابوری، نظام الدین حسن بن محمد، تفسیر غرائب القرآن، ج 4، ص 568، دار الکتب العلمیة، بیروت، 1416ھ ق.
8- کاشانی، ملا فتح اللہ، زبدة التفاسیر، ج 4، ص270، بنیاد معارف اسلامی، قم، 1423ھ.
9- طریحی، فخر الدین، مجمع البحرین، ج 3، ص 197، کتابفروشی مرتضوی، تہران، 1375ھ ش.
10- سورہ طہ، آیت 96.
11- حسینی شیرازی، سید محمد، تبیین القرآن، ص 330، دار العلوم، بیروت، 1423ھ ق.
12- راغب اصفہانی، حسین محمد، المفردات فی غریب القرآن، ص 127، دار العلم، 1412ھ ق.
13- طبرسی، ابو منصور، احمد بن علی، الاحتجاج، ج 1، ص 171، نشر مرتضی، مشہد،1403ھ ق.
14- قرائتی، محسن، تفسیر نور، ج 7، ص 384، مرکز فرہنگی درسہایی از قرآن، تہران، 1383ھ ش.
ماخذ:islamquest.net
۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram