ہائے ۔۔۔زینب اور آصفہ

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر!

یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر!

بحیثیت مجموعی اس قسم کے واقعات سے یہ بات اخذ ہو جاتی ہے کہ مادی، سائنسی اور فنی اعتبار سے بامِ عروج پر پہنچنے والا موجودہ انسان سماجی، اخلاقی، معنوی اعتبار سے مسلسل زوال پزیری کی جانب گامزن ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ / زاویہ نگاہ

بقلم: فدا حسین بالہامی
           چند دن قبل پاکستانی صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں ایک د ل فگار سانحہ رونماہوا۔ جس میں ایک کم سن بچی کو انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔اس بچی کا نام زینب تھا اور وہ مظلومیت کی علامت بن گئی ۔اس کی وہ چیخ و پکار جسے قاتل نے دبایا تھا،جیسے فضائے بسیط میں گونجنے لگی۔ یہی وجہ ہے اس کے خونِ ناحق نے پورے پاکستان کو سراپا احتجاج ہونے پر مجبور کیا ۔ جس کسی کے پہلو میں انسان کا دل تھا وہ ٹرپ اٹھا۔ ایک انسان نما درندے نے ایک بچی کے ساتھ ظلم ِ عظیم کر کے گویاپوری انسانیت کو سوگوار بنا دیا۔ حساس طبعیت ماووں کو زینب کی دل موہ لینے والی تصویر میں اپنے بچوں کا عکس نظر آیا تو ان کا روم روم اس خیال سے کانپ اٹھا کہ کل کو ان کے ننھے منھے لاڈلوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو سکتا ہے۔ اس بہیمانہ قتل نے بچوں کے تئیں عدم ِتحفط کے احساس کونہ صرف بچوں کے کومل دلوں میں بلکہ ان کے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے ذہنوں میںپھر سے جگادیا ۔ قرآن کریم کے مطابق کسی انسان نما درندے نے ایک زینب کی عصمت و حرمت کو پائمال کر کے پوری انسانیت کی حرمت و عصمت کو پائمال کیا ۔ ایک معصوم کی کیا جان لی گویا اس نے زمین پرننھے فرشتوں کا اجتماعی قتل کیا۔
               زینب کے متعلق جو معلومات الیکڑانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا میں مشتہر ہوئیں۔ ان کے مطابق اس کے والدین زیارتِ حرمین کی غرض سے گھر سے دور تھے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ بچے اپنے ماں باپ کی وقتی جدائی سے بھی نڈھال ہو جاتے ہیں۔ اور جب تک وہ واپس لوٹ کر نہ آئیں ان کا دل و دماغ چشم براہ ہوتا ہے۔کم سن زینب کو بھی اپنے والدین کی وقتی جدائی نے ضرور متاثر کیا ہوگا ۔ لیکن شاید یہ سوچ کر اس نے اپنے معصوم من کو یوں بہلایا ہوگا کہ اس کے والدین خدا کے گھر مہمان بن کر گئے ہیں اور بہت جلد لوٹ آئیں گے ۔اوراس کے لئے خدا کے یہاں سے بہت سارے تحفے تحائف بھی لے آئیں گے۔نہ جانے اس کے پاک و پاکیزہ اور معصومیت سے معمور ذہن میں کتنے خوشگوار خیالات  محوِگردش رہے ہوں گے۔ ممکن ہے اس نے سوچا ہو گا کہ جب اس کے ابو اور امی مقدس سفر سے لوٹ آئیں گے توسب سے پہلے کون مجھے گودی میں لے کر پیار کرے گا۔اور میں دوڑ کر کس سے لپٹ جاووںگی، امی سے یا ابو سے؟ ۔۔۔ یہ بھی ممکن ہے اس مقدس سفر پر روانہ ہو تے وقت زینب نے اپنے والدین سے کوئی فرمائش بھی کی ہو۔اور اب اس یقین کے ساتھ اس نے انتظارکا ایک ایک لمحہ گزارا  ہوگا ۔کہ اس کی فرمائش ضرور پوری ہوگی۔اسی طرح دوسری جانب رہ رہ کر زینب کے والدین کو بھی خانۂ خدا میں بھی اپنے گھر کاخیال ضرور آیا ہوگا ۔ گھر کے دیگر افراد کے ساتھ ساتھ اس پیاری سی بچی کی تصویر بھی بار بار ان کے اذہان میں منعکس ہوتی ہوگی۔انہوں نے ضرور بضرور اپنی پیاری زینب کی لمبی عمر اور کامیاب زندگی کے لئے دعا کی ہو گی۔انہیں خدا کی یادنے بھی اپنی بچی کی یاد سے غافل نہیں کیا ہوگا۔وہ بھی اس بات سے ضرور واقف ہوں گے کہ جب بھی رسولِ خداۖ دور کہیں سفر پر جاتے تھے تو وہ سب سے آخر میں اپنی لاڈلی بیٹی خاتونِ جنت سے رخصت لیتے تھے اور جب سفر سے واپس لوٹتے ۔ تو سب سے پہلے اپنی بیٹی فاطمہ علیھا سلام کو ہی دیکھنے جاتے۔اور سیرت کے اسی پہلو کو مدنظر رکھ کران کے ذہن کے کسی کونے میں یہ خیال رہا ہو گا کہ وہ بھی اپنی لاڈلی اور ننھی سے بیٹی زینب کو سب سے پہلے گلے لگا کر ڈھیر سارا پیار دیں گے ۔چنانچہ ماں اپنی مامتا اور باپ شفتِ پدری کو ایامِ جدائی میں اپنے بچوں کے لئے بچا کے رکھتے ہیں۔اور جب انہیں اپنے بچوں کا قرب دوبارہ نصیب ہو جاتا ہے تو پھر اس محفوظ کی ہوئی مامتا اور شفقت کو ایک ساتھ اپنے پیاروں پر وار دیتے ہیں۔ہائے  افسوس!ان والدین کی بدنصیبی ،جہنوں نے یہ سوچا ہو گا کہ ان کی کم سن بیٹی انہیں دیکھی گی تو اچھل کر ان کی گود میں آجائے گی۔ لیکن ان کی گود میں آنے سے پہلے ہی وہ موت کی گود میں جا کر سو گئی۔اب تو وہ مامتا اور شفقت جوانہوں نے اپنی نازک سی بیٹی کے لئے رکھ چھوڑی تھی وہ ان کے لئے عمر بھر سوہانِ روح بن جاے گی۔
  بہر حال آج پھر ایک ننھی سی کلی چمنِ انسانیت کو سوگوار کر گئی۔ گو کہ پوری انسانیت اس کے غم میں نوحہ کناں ہے لیکن پھر بھی قلم اور زبان اس کرب کو ظاہر کرنے سے قاصر ہے کہ جو اس معصوم بچی نے جھیلا۔افسوس صد افسوس! یہ ننھی سی جان بیک وقت تہرے جرم کا شکار ہوئی۔وہ درسِ قرآں کی غرض سے گھر نکلی تھی کہ ایک انسان نما شیطان نے اسے پکڑ کر پہلے اغواء کیا اس کی عصمت دری کی اور پھربڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا۔ستم بالائے ستم یہ کہ ننھی سی لاش کی بے حرمتی کر کے کچرے کے ڈھیر میں پھینکا گیا۔ یعنی ظلم و تعدی کی فہرست میں جو بھی سرِ فہرست مظالم ہیں وہ سب کے سب مظلوم بچی کے ساتھ ہوئے۔پانچ دن کی مختصر سی مدت میں ایسے ناقابل ِ برداشت جرائم کا سامنا کیسے اس نازک سی بچی نے کیا ہوگا ، سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا۔جگر چھلنی ہوا جاتا ہے۔جو مظالم چار صدیوں پر بھی بھاری ہے وہ مظالم زینب نے چار پانچ دن میں برداشت کئے۔اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کہ وہ بچاری کس قدراذیت اور درد و کرب کے کن روح فرسا مراحل سے گزری ہوگی۔چنانچہ اس مظلوم بچی  ٰٰٰٰکے والدین نے اسے خانوادۂ رسالت کی ایک مظلوم ترین خاتون زینبِ کبریٰ کے اسم ِ مبارک سے مسمّیٰ کیا تھا۔مقتول زینب کی ماں کے مطابق زینب کے والد ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ ''ہم نے خاندان ِرسالت کے والہانہ عقیدت ومحبت کے پیش نظراس کا نام رکھا ہے۔ اس لئے کوئی اس کی جانب تیکھی نگاہ سے بھی نہ دیکھے اور اس مقدس نام کے تقدس کے پیشِ نظرپورے خاندان میں  زینب کی ایک خاص اہمیت و عزت تھی۔  لھٰذا اس تعلق کے حوالے سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ زینب کو جس عظیم المرتبت خاتون کے نام ِ نامی سے منسوب کیا گیا تھا ۔انہوں نے بھی ایک قلیل مدت میں مصائب کے ایک بڑے ریلے سے نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ اس کا رخ قصرِ ظالم کی طرف یوں موڑ دیا کہ ظالموں کو اپنے ظلم کا ریلا ہی بہا لے گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا لقب ام المصائب قرار پایا۔ اور بلا تشبیہ قصور کی زینب  ،زینب ِ کربلاکی طر ح ایک کم مدت میں بہت زیادہ اور سنگین مظالم سہہ کر اس دنیا سے رخصت ہوئی ۔وہاں یزید نے خاتونِ کربلا کے ساتھ گوناگوں مظالم روا رکھے اور یہاں یزید صفت درندے نے اس کلی کو مسل ڈالا اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر کربلا کی شیر دل خاتون ''ام المصائب'' ہیں۔ تو ان کی یہ ننھی پیرو ''بنت المصائب'' کہلائی جائے ۔
       باعثِ تشویش یہ ہے کہ نہ زینب پہلی کم سن بچی ہے جس کے ساتھ یہ ظلم ِ عظیم ہوا ۔اور نہ یہ آخری بچی ہو گی۔ بلکہ آثارو قرآئن کے مطابق یہ سلسہ یوں ہی چلتا رہے گا کیونکہ صورتِ حال روز بروز بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے ۔ پاکستان پنجاب کے جس ضلع یعنی قصور میں یہ دلدوز سانحہ پیش آیا۔ ٢٠١٥ میں اس جائے وقوعہ سے محض چند کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع حسین خان والا میں ایک جنسی سیکینڈل سامنے آیا جس میں ١٤ سال سے کم عمر والے بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا اور اس بہیمانہ فعل کی ویڈیو بھی بنا لی گئی۔  گزشتہ چھے مہینے کے دوران زینب کے ساتھ پیش آمدہ واقعہ سے ملتے جلتے بارہ واقعات اسی ضلع قصور میں پیش آئے۔ معاملہ اسی ضلع تک ہی محدود ہوتا تو اس کا حل پیش کرنا قدرے آسان تھا ۔مگراس قسم کے واقعات پورے معاشرے کی ابتری اور بے حسی بلکہ بے راہ روی کی غمازی کرتے ہیں۔ بی بی سی اردو سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق روزانہ گیارہ بچے پاکستان میں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔اور اس میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا ہے۔ ساحل نامی ایک رضاکار تنظیم کی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ ٢٠١٦ میں بچوں کے متعلق اغواء ، جنسی زیادتی اور جبری شادی کے ٤١٣٩ کیس رجسٹر ہوئے۔
        بہر حال انسانیت کے بدن پر لگے اس زخم سے تازہ خون رس ہی رہا تھا کہ ایک اور گھاؤنے درد کی شدت کو دو چند کردیا۔ ابھی زینب کی قبر کی مٹی گیلی تھی کہ ایک اور ننھی سی مسخ شدہ لاش کو اپنی گود میںدیکھ کر دردر کے مارے زمین کا سینہ شق ہوا ۔اور اس لاش کو من و عن بطورِ امانت اپنے پہلو میں لے لیا تاکہ روز محشر ان ننھی سی لاشوں کو اسی صورت میں اگل دے۔جس ہیت و صورت میں اس کے سپرد کی گئیں۔ اور پھر ان سے پوچھا جائے گا ''کہ انہیںاس قدر بے دردی کے ساتھ کس قصورمیں مارا گیا؟''  واضع رہے قصور کے دلدوز واقعے کے چند روز بعد ہی جموں و کشمیر  کے ضلع کٹھوا میں ایک اور کم سن بچی کے ساتھ بھی زینب کی داستانِ الم دہرائی گئی۔ ٨ سالہ آصفہ بھی جہاں دنیا سے بے خبر معصومیت کی بے خوف دنیا میں مگن تھی کہ کسی درندے نے اس کی معصومیت کو ہوس کے پنجوں سے تار تار کیا۔ ہر دو المناک واقعات میں اس قدر مماثلت ہے کہ جیسے دونوں واقعات کو سر انجام دینے والا ہاتھ ایک ہی ہے۔ کٹھوہ کی آصفہ اور قصور کی زینب کو دو الگ الگ واقعات میں مختلف جگہوں پر تشدد کا نشانہ بنا یا گیا لیکن ان کے تقابلی جائزہ سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ جیسے ان دو درندہ صفت پیکروں میں ایک ہی شیطانی روح حلول کر گئی تھی۔جس انداز سے قصور اور کٹھو ا میں اس گھناونے فعل کو انجام دیا گیا اور جو حیرت انگیز مماثلت ان دو مختلف واقعات میں پائی جاتی ہے اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ ہو نہ ہو دونوں کی انجام دہی میں یکسان محرک کار فرما رہا ہو۔
ان دلخراش سانحوں کا دوسرا پہلو بھی نہایت ہی امید شکن ہے ۔اور وہ پہلو یہ ہے کہ اب انسانی سماج نے نہ جانے کتنے درندوں کو آدم ذات سمجھ کراپنی پناہ گاہ میں پناہ دے رکھی ہے۔اور سماج کے دیگر افراد ان درندوں کی اصل پہچان سے واقف ہی نہیں۔پہلے پہل جب افرادِ معاشرہ کے مابین ایک گہرا تعلق اور ایک دوسرے کے تئیں اصلاح کا جذبہ موجود تھا۔ ایسے بد قماش عناصر کا زیادہ دیر تک چھپا رہنا محال تھا۔ گو کہ اُس وقت نگرانی کے یہ جدید آلات موجود نہیں تھے ۔ لیکن ہر فرد کو یہ احساس تھا کہ وہ دیگر انسانوں کی نگرانی میں ہے۔ اور وہ سماج کے ہر فرد کے سامنے جوابدہ ہے ۔ پہلے کے بہ نسبت سماجی سطح پر نگرانی کا فطری نظام کافی حد تک کمزور ہو گیا ہے۔اس لحاظ سے ہمارے آباو اجداد ہم سے کافی زیادہ حساس اور زیرک کے تھے ۔ کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ بحرِ انسانیت کے سطحِ آب پر رواں دواں معاشرے کی ناو میں اپنی جگہ پر چھیدنے والا پورے معاشرے کو ڈبونے کا عمل انجام دے رہا ہے۔ اور اس فردِ معاشرہ کی یہ منطق کسی بھی لحاظ سے قابلِ قبول ہی نہیں کہ وہ اسی جگہ سماجی ناو میں چھید کر رہا ہے جو اس نے حسبِ حیثیت گھیر رکھی ہے۔ لیکن موجودہ دور میںایک ہی معاشرے میں رہ رہے افراد کے مابین آپسی نگرانی اور ایک دوسرے کے تئیں فکرمندی کا جذبہ ماندپڑگیا ہے اور یہ بات ہر شخص کے ورد زبان ہے کہ کوئی کیا کرے اسے ہمارا کیا واسطہ ۔اور ہمیں کیا کرنا اسے کسی کو کیا لینا دینا۔ سماجی رابطے کے ذرایع کی بھر مار ہے  لیکن پھر بھی ہر فرد خود کو تنہائی میںخود کو خود مختار محسوس کرتا ہے۔ اور اپنی ایک الگ تھلگ دنیا میں مست ہے ۔جہاں اسے کوئی دیکھنے بھالنے والا ہے نہ روکنے ٹوکنے والا۔ہم نے اس سماجی آنکھ کی بصارت کو کھو دیا ہے جو ہمیں خطرے سے قبل ہی خطرے کی بھنک دیتی تھی اوراپنی آنکھیں موند کر اب نگرانی کا سارا معاملہ سی سی کیمراہ کے حوالے کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے جب بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے تو اپنی آنکھوں میں جھانکنے کے بجائے سی،سی، ٹی وی کی فوٹج دیکھنے میں محو ہو جاتے ہیں۔یہ کسی معاشرتی المیہ سے کم نہیں کہ ایک انسان دیکھتے ہی دیکھتے درندہ بن جائے۔ وہ اشرف المخلوقات کے اوجِ کمال سے گر کر سفلیت کے آخری طبقے میں جا پہنچے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔نہ جانے وہ قیافہ شناش کیا ہوئے جو اپنے معاشرے کے کسی فرد میں ہورہی باطنی تغیر کواسکے چہرے سے ٹارتے تھے۔اور اسے پہلے کہ وہ ذلت کی گہری کھائی میں جا گرتا، اسے بچانے کی سعی کرتے تھے۔لیکن اب تو کسی کو کسی کی جانب دیکھنا تک گوارا نہیں ۔ اس کو تنزل سے کیسے بچایا جا سکے۔
  باعثِ تشویش بات یہ ہے کہ د نیا میں انسانی اقدار کا جنازہ ہر روز ایسے ہی کسی نہ کسی بظاہر چھوٹے مگر بھاری بھرکم جنازے کی صورت میں اٹھتا ہے۔ان دو دلدوز واقعات نے باور کرایا کہ انسانیت قریب المر گ ہے ۔اور زینب اور آصفہ جیسی ادھ کھلی کلیوں کا کسی کی دست درازی سے مسل جانا اس بات کی غمازی کر تا ہے کہ اب چمنستانِ آدمیت میں وہ کبھی نہ سونے والی نرگسی آنکھ نہ رہی جو ہمہ وقت اس کی نگرانی پر معمور تھی۔ مشامِ الفت و محبت کو معطر کرنے والا گلاب یہاں ناپید ہے جو عطر بیز ی سے نفرت کی فضاء قائم ہونے نہیں دیتا تھا۔اب تو گلِ لالہ کی طرح یہاں خونین قبا اوڑھے دل میں انسانی ہمدردی کا داغ لئے  کوئی فرد دکھائی نہیںدیتاہے۔ اور رنگین نوا بلبلیں نغمۂ انسانیت بھول گئیں انہیں اب گنگنانا بھی نہیں آتا۔ان کانٹوں میں چبھن ہی کہاں رہی جو مزاحمت کی علامت تھے اور ہر دست دراز کے ہاتھ کو لہو لہان کرتے تھے جو ادھ کھلی کلیوںکو مسلنے کچلنے کی غرض سے اپنا ہاتھ بڑھانے کی جسارت کرتاتھا۔یہی وجہ ہے کہ اب آئے روز زینب، آصفہ، اسما، کائنات بتول، تابندہ غنی،صبرینہ فیاض،دامنی ،پرینکا،سنڈریلا جیسی ادھ کھلی کلیوں کو مسلا کچلا جاتا ہے اور ہم سب دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارا اجتماعی دیکھ ریکھ کا نظام کس قدر زوال آمادہ ہے۔اور اس کا نتیجہ کیا ہوگا وہ بھی روز رشن کی طرح عیاں ہے بقول کسے
قیاس کن زگلسانِ من بہارِ مرا  
 باعثِ تشویش بات یہ ہے کہ اس قسم کی درندگی میں سماج کے مختلف طبقوں سے وابسطہ افراد ملوث پائے گئے۔ایک پاکستانی ٹی وی اداکارہ نادیہ جمیل جو اب شادی شدہ اور کئی بچوں کی ماں ہیں، نے اپنے بچپن سے متعلق انتہائی افسوسناک انکشاف کیا ہے ۔'' سوشل میڈیا پر جاری پیغامات اور بی بی سی کے ساتھ دئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جب وہ محض چار سال کی تھی تو اسے جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا۔''مجھے اس گھناؤنے عمل کا نشانہ قاری صاحب، ڈرائیور اور انتہائی تعلیم یافتہ اونچے گھرانے سے تعلق رکھنے والے خاندان کے قریبی شخص نے بنایا۔وہ شخص اب شادی شدہ اور لندن میں اپنا کامیاب بزنس چلا رہا ہے۔''اس انکشاف سے کم از کم یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ بد ترین حرکت فقط ان افراد کے ہاتھوں سر انجام نہیں دی جاتی ہے(جیسا کہ عام تاثر دیا جاتا ہے )جو ذہنی مرض میں مبتلا ہوں۔بلکہ بعض دفعہ تو ان قبیح ترین گناہوں میں مقدس مآب اور بظاہرجنٹل مین کہلائے جانے والے افراد بھی ملوث پائے گئے حتیٰ کہ یہ انسان نما درندے مقدس ترین لباس میں نیز مقدس ترین مقام پر بھی فائز ہو سکتے ہیں۔
بحیثیت مجموعی اس قسم کے واقعات سے یہ بات اخذ ہو جاتی ہے کہ مادی، سائنسی اور فنی اعتبار سے بامِ عروج پر پہنچنے والا موجودہ انسان سماجی، اخلاقی، معنوی اعتبار سے مسلسل زوال پزیری کی جانب گامزن ہے۔دورِ ظلمت میں اس نے جس صبحِ آزادی کا خواب دیکھا تھا وہ سراغ دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ بقول ِ فیض  
یہ داغ داغ اْجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram