یہودی وزير اعظم کا “انجانوں کے بیچ شیخیاں بگھارنا”

یہودی وزير اعظم کا “انجانوں کے بیچ شیخیاں بگھارنا”

آج کی اس عجیب دنیا میں تو بچے بھی جانتے ہیں کہ اس طرح کی شیخیوں کا براہ راست مطلب عاجزی اور بےبسی کا اظہار ہے؛ فلسطینی یہودیوں کے مظالم سے تنگ آ کر ہاتھوں سے کنکریاں اٹھا کر اس موذی شیطان کی طرف پھینکنے لگتے ہیں تو مکڑی کا پورا جال لرزہ بر اندام ہوجاتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ کے مطابق، فارسی زبان کی کہاوت “لاف در غریبی” [انجانوں کے بیچ شیخی بگھارنا] صہیونیوں کی شیخیوں اور نفرت انگیز اداکاریوں پر بالکل پوری اترتی ہے۔ یہودی وزیر اعظم آیپیک کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے للکارتے ہوئے خوب جانتے تھے کہ محاذ مزاحمت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والے صرف اسٹیج کے اوپر فاتحانہ جنگ کی اداکاری ہی کرسکتے ہیں؛ حماقت کی انتہاؤں پر فائز ہونے کے باوجود ان کے ذہن میں یہ سوال ضرور ابھرا ہوگا کہ 16 سالہ فلسطینی بچی عہدالتمیمی کے ایک تھپڑ کے سامنے عاجز زدپذیر ریاست ایک علاقائی (یا حتی مغربی اعترافات کے مطابق عالمی طاقت) کے سامنے رجز خوانی کیونکر کرسکتی ہے۔
اسرائیل ـ امریکہ عمومی معاملات کی کمیٹی “آیپیک” (American Israel Public Affairs Committee AIPAC) ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سب سے زیادہ طاقتور اور بڑی یہودی لابی ہے جس میں پوری انسانی تاریخ کی وحشی ترین اور خونخوارترین جعلی ریاست کی حمایت میں امریکی حکام کی چاپلوسیوں کی دوڑ بھی دیکھی گئی اور آخرکار اس طفل کش ریاست کے خونخوار وزیر اعظم کو بھی خطاب کا موقع دیا گیا امریکہ کے آقا کے طور پر۔
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اسلامی جمہوریہ ایران کو ہدف تنقید بنایا گیا ـ امریکیوں کی طرف سے بھی، صہیونی امریکیوں کی طرف سے بھی اور یہودی ریاست کے وزیر اعظم کی طرف سے بھی ـ کیونکہ اس نے اس کے جھنڈے پر مندرجہ ان نشانیوں کو ابھی تک جھٹلائے رکھا ہے جو نیل سے فرات تک کے صہیونی سپنے کی ترجمانی کررہے ہیں؛ جس نے نیل سے فرات کے یہودی نقشے کو خاک میں ملا دیا ہے بلکہ عظیم تر مشرق وسطی کے ناکام منصوبے کے خاک کش بین الاقوامی کھلاڑیوں کو بھی چیلنج کردیا ہے؛ آج اسرائیل بھی اور مشرق وسطی کا منصوبہ بھی ـ ستر سال بعد ـ مغرب کے لئے ایک چیلنج ہے اور وہ اس جعلی ریاست کے لئے محفوظ ماحول فراہم نہیں کرسکا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور پھر میونخ کانفرنس میں اسٹیج اداکاری کرنے والے نیتن یاہو نے اسٹیج پر جاکر اپنا چہرہ آئینے میں دیکھے بغیر کہا: میں آج “اچھے، برے اور خوبصورت” کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں؛ “اچھا” وہ خدمات ہیں جو اسرائیل نے دنیا والوں کو فراہم کی ہیں!!! “برا” وہ شرانگیزیاں ہیں جو اسرائیل کے خلاف ہورہی ہیں اور میرا مقصد ایران ہے۔
اس نے ایک بار پھر اسٹیج پر مزاحیہ اداکاری کا شوق پورا کرتے ہوئے اس بار عالم عرب کا ایک نقشہ دکھایا جس میں بعض ملکوں کو مختلف رنگت میں ظاہر کیا گیا تھا اور نیتن یاہو دعوی کررہا تھا کہ ایران، “عراق، شام، لبنان، یمن اور غزہ” میں معاندت پر استوار سلطنت قائم کررہا ہے!! بےچارہ اپنے خیال میں عرب ممالک کو ڈرانے کی سعی کررہا تھا ایرانی سلطنت کے قیام کا مسئلہ چھیڑ کر لیکن اس سے کئی باتیں اور بھی مشتق ہوتی ہیں:
ایران اور علاقے کے ممالک کا دین اور ثقافت ایک ہے، جس کی بنا پر ایران کو اس حوالے سے اقوام کے ساتھ برادرانہ تعلقات استوار کرنے کے زیادہ مواقع میسر ہیں، جبکہ یہودی ریاست کو ان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے ایک مشترکہ دشمن تراشنے کی ضرورت پڑرہی ہے جو اس کا دشمن تو ہے لیکن اس کے کردار سے اب تک عربوں سے دوستی کے ناقابل انکار علائم سامنے آئے ہیں اور پھر یہودی ریاست سب سے پہلے عربوں کی دشمن ہے اور ایران نے اس دشمن کے مقابلے میں عربوں کا ساتھ دیا ہے۔
اگرچہ ایران کی طرف سے کسی سلطنت کے قیام کا دعوی خود صہیونی حلقوں کے اندر بھی ایک سفید جھوٹ سے زیادہ نہیں ہے لیکن ایک بہت بڑا اعتراف ہے صہیونیوں کی طرف سے اس حقیقت کا کہ “نیل سے فرات تک کے نقشے رسم کرنے والوں کے نقشے اجڑ چکے ہیں اور انہیں شدید ناامیدی کا سامنا ہے” اور وہ جو کبھی نیل سے فرات تک ایک بڑی یہودی ریاست قائم کرنے کے سپنے دیکھ رہے تھے، انہیں اب اس منحوس ریاست کو فلسطین کی سرحدوں کے اندر محفوظ رکھنے پر بھی جان و مال و آبرو نچھاور کرنا پڑ رہی ہے۔
یاہو نے دعوی کیا کہ ایران شام میں منضبط میزائل (Guided missiles) تیار کرنے کے درپے ہے، لیکن “میں ایسا نہیں ہونے دونگا، ہمیں ایران کو روک دینا چاہئے، ہم ایران کو روک دیں گے”۔۔۔
کچھ عرصے سے یمنی سعودیوں کے قلب تک اپنے میزائل داغنے لگے ہیں تو سعودی ـ جو 3 سالوں سے یمن کی میزائل ٹیکنالوجی کے خاتمے کے لئے اس ملک کے چپے چپے پر امریکی، یہودی، انگریزی، فرانسیسی اور جرمن بم گرا چکے ہیں ـ ناامیدی کی انتہا میں مدعی ہوئے کہ میزائل ایران سے آرہے ہیں۔۔۔ امریکہ کی نفرت انگیزی کامیڈی اداکارہ نیکی ہیلی نے یہ دیکھے اور سوچے بغیر کہ یمن کا امریکہ اور اس کے یہودی ـ سعودی حلیفوں نے محاصرہ کرلیا ہے اور یہاں تو باہر سے ایک سوئی بھی نہیں آسکتی، ڈرامہ رچایا کہ میزائل ایران سے آرہے ہیں! وہ گمان کررہے ہیں کہ دنیا والے یمن کو نہیں جانتے جہاں ہر ایک شخص کے لئے 4 ہتھیار پہلے سے موجود ہیں اور وہاں میزائل اتنے ہیں کہ امریکہ کے حلیف اس کی کمانڈ میں مل کر ان کے خاتمے کے لئے یمن پر حملہ آور ہوئے ہیں۔ اور اب نیتن یاہو کہتے ہیں کہ شام کو ایرانی میزائلوں کی ضرورت ہے جبکہ وہاں 50 برسوں سے ہتھیاروں کے بڑے بڑے ذخائر مختلف قسم کے ہتھیاروں سے بھر دیئے گئے ہیں۔
اور آج کی اس عجیب دنیا میں تو بچے بھی جانتے ہیں کہ اس طرح کی شیخیوں کا براہ راست مطلب عاجزی اور بےبسی کا اظہار ہے؛ فلسطینی یہودیوں کے مظالم سے تنگ آ کر غلیلوں سے پتھر ہاتھوں سے کنکریاں اٹھا کر اس موذی شیطان کی طرف پھینکنے لگتے ہیں تو مکڑی کا پورا جال لرزہ بر اندام ہوجاتا ہے، اور اب جو انتفاضہ قدس کا دور ہے، نیتن یاہو اور اس کے ہم پیالہ مغربی اور یہودی سیاستدان اور عسکری حکام شدت سے ڈرے سہمے ہوئے ہیں کنکریوں کے آگے، غزہ کی گیارہ روزہ، 22 روزہ اور 51 روزہ جنگوں میں اور لبنان کی 33 روزہ جنگ کی آزمائش سے ناکام و نامراد ہوکر جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہونے والی غاصب جعلی ریاست، جو سالہا جنگ میں عرب حکمرانوں، ترکی اور یورپ و امریکہ کی مدد سے شام پر چھ سالہ خونریز دہشت گردانہ جنگ تھونپ کر بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے، عراقی کردستان میں شرانکيزی کرکے اسے عراق سے الگ کرنے کی سازش میں بھی ناکام ہوچکی ہے، یمن پر تھونپی ہوئی جنگ میں بھی وہ اپنے خلاف یمنیوں کا غیظ و غضب ٹھنڈا کرکے اس ملک کو نیست نابود کرانے میں بھی ناکام ہوچکی ہے (اور اس کے سعودی گماشتے نگلتی ہوئی دلدل میں دھنس چکے ہیں)، ایران کے آگے کیونکر کھڑی ہوسکتی ہے؟
انجانوں کے بیچ نیتن یاہو کی شیخیاں ہر اسٹیج پر دہرائی جارہی ہیں لیکن علاقے کی اقوام کے اندر مکتب مزاحمت کے فروغ کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکی ہیں/ نہیں بن سکیں گی۔
ہائے افسوس ایک طاقت پر، دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت ـ جو مقروض اس لئے ہے کہ اگر یہودیوں نے کبھی ڈھانے کا فیصلہ کیا تو کوئی رکاوٹ نہ ہو ـ سجدہ ریز ہے ایک چھوٹی سی جعلی ریاست کے سامنے، یہاں تک کہ امریکہ میں کوئی بھی ایسا طاقتور شخص آپ کو نظر نہیں آئے گا جو یہودی ریاست کی حمایت نہ کررہا ہو اور یہودی ریاست کی حمایت سے طاقتور نہ بن گیا ہو۔ آیپیک ایک یہودی لابی ہے جس کے اراکین میں یہودیوں سمیت طاقت اور نام و نمود کے شوقین عیسائی بھی دکھائی دے سکتے ہیں، اور اس کے باقاعدہ اراکین کی تعداد 100000 افراد تک پہنچتی ہے۔ یہ لابی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تمام تر اندرونی، مقامی اور عالمی پالیسیوں میں اثر و رسوخ بڑھانے اور یہاں کی قانون سازی کے عمل پر مکمل طور پر اثرانداز رہنے کے لئے امریکیوں سے بٹورے جانے والے فنڈز میں سے کروڑوں ڈالر خرچ کرتی ہے۔۔۔ عجب ہے ایک بڑی طاقت کے لئے کہ امریکہ کی آبادی میں قوم یہود کی آبادی کا تناسب صرف 2 فیصد ہے۔ مناسب تو یہی ہے کہ امریکی خواب (American Dream) پر یقین رکھنے والے امریکیوں اور بیرون ملکیوں کو تو سوگ منانا چاہئے اس خواب کا بھی اور امریکہ کا بھی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ان دنوں امریکہ اور اس کے چیلوں کی آہ و فریاد کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ خوفزدہ ہوچکے ہیں اور مزاحمت اسلامی ترقی کی منزلیں طے کررہی ہے، چنانچہ جو لوگ امریکہ اور اسرائیل کے کہنے پر ان دو کی دوستی کا بھروسہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، بہتر ہے کہ ذرا سوچ لیں اور دیکھ لیں کہ ان کی سرزمینوں کو خون میں کس نے نہلایا ہؤا ہے؟ کون چاہتا ہے کہ عرب دنیا ان کی نیابت میں لڑ لڑ کر نیست و نابود ہوجائے؟ کس نے ان کی سرزمینوں پر قبضہ کررکھا ہے؟ پھر وہ دوست کیونکر بن سکتے ہیں؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram