یہودی ریاست داعش آئیڈیالوجی کی اعلانیہ پرچارک!

یہودی ریاست داعش آئیڈیالوجی کی اعلانیہ پرچارک!

امریکی مجلّے “لوب لاگ LobeLog” نے لکھا: گوکہ مشرق وسطی میں یہودی ریاست کے حامی ملک نے داعش کے خاتمے کا عہد کیا ہے لیکن یہ ریاست اسی انتہاپسند تکفیری ٹولے کی آئیڈیالوجی کا پرچار کررہی ہے!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  عرب ـ امریکی مرکز کے نائب سربراہ “عمر بدار” نے (سوموار مورخہ (۱۸ جون ۲۰۱۸) کو اپنی رپورٹ بعنوان “اسرائیل داعش کے نظریات و عقائد کا اعلانیہ پرچار کررہا ہے” میں لکھا: انسانیت کے خلاف جرائم کے سلسلے میں اسرائیل کی دہشتناکیاں عرصہ دراز سے ثابت ہوچکی ہيں؛ عام لوگوں کو انسانی ڈھال بنانا، عوامی رہائشی علاقوں پر کلسٹر بم برسانا، صحافیوں کو قتل کرنا وغیرہ، اسرائیل کے جرائم اور قسی القلبی کے چند ہی نمونے ہیں اور یہ ریاست اس سلسلے میں کسی قانون یا اخلاقی ضابطے کو مد نظر نہيں رکھتی۔

ایران کے خلاف داعش کی لفاظیاں دہرانا

گذشتہ ہفتے یہودی ریاست کے فوجی ترجمان ‘آویخائے ادرعی’ (Avichay Adraee) نے ٹویٹر پر عربوں کے لئے ایک دو حصوں پر مشتمل مضحکہ خیز ویڈیو پیغام نشر کیا اور شیعہ مکتب کے خلاف نہایت تند و تیز لب و لہجے میں داعشی محققین کے الفاظ و عبارات کا بےتحاشا استعمال کرکے سنی عربوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف متحد ہوجائیں۔ اگر لمحہ بھر سوچا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک طرف سے اسرائیل کا حامی امریکہ مشرق وسطی میں داعش کی بیخ کنی کا عہد کرچکا ہے لیکن اسرائیلی ریاست دوسری طرف سے اس ٹولے کے نظریات کی ترویج میں مصروف ہے۔ بالفاظ دیگر ادرعی کی ویڈیو فرقہ واریت کو ہوا نہيں دیتی بلکہ اسلام کے قدیمی متون سے اپنے مطلب کی تفسیر و تاویل نکال کر انتہا پسند مسلمانوں کو شیعہ مکتب کے خلاف اشتعال دے رہی ہے۔

ادرعی کہتا ہے: کیا تم نے اپنے مذہبی علماء کے مکتوبات کو نہیں پڑھا جو تمہیں ایران کی طرف کے شیطانی خطرات سے خبردار کررہے ہیں؟

ادرعی کے الفاظ میں علماء سے مراد وہ فرقہ پرست افراد ہیں جو داعش کی آئیڈیالوجی کے اصل بانی ہیں جن میں اٹھارہویں صدی عیسوی کا مبلغ محمد بن عبدالوہاب، بھی شامل ہے جس نے اپنی مرضی سے اسلام کی تشریح کا اہتمام کیا اور اسلام سے نہایت ناقابل برداشت مفاہیم اپنے پیروکاروں کے سامنے رکھ لئے۔ ادرعی نے اس شخص کے اقوال نقل کرتے ہوئے دعوی کیا کہ شیعہ یہود و نصاری سے زیادہ اسلام کے لئے خطرے کے باعث ہیں۔

بعدازاں ادرعی نے ۱۳ صدی کے مولی ابن تیمیہ کے اقوال کو نقل کرتے ہوئے کہا: شیعہ خطرہ، وہی خطرہ ہے جس کا آج ایران کی طرف سے اظہار ہورہا ہے؛ اور شیعہ جھوٹے اور منافق ہیں اور اسلام کی تباہی کے اسباب فراہم کریں گے۔

ادرعی نے دینی اسکالر بن کر یہ بھی کہا کہ “جو بھی ملک ایران کے ساتھ اتحاد قائم کرے گا اسے دنیا میں بھی سزا ہوگی اور موت کے بعد بھی عذاب سے دوچار ہوگا!!”۔

مشرق وسطی میں فرقہ پرستی کی ترویج

اگرچہ یہودی ریاست کے ترجمان کا، اسلامی متون کا حوالہ دے کر مسلم دینیات کے بارے میں اظہار خیال اور یہ کہ ایران کے متحد ممالک کو آخرت میں کس قسم کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا! بہت عجیب ہے لیکن اس کا تعلق ان کوششوں سے ہے جو اس وقت مشرق وسطی میں فرقہ پرستی کے فروغ کے لئے بروئے کار لائی جارہی ہیں۔ یہ تناؤ ۲۰۰۳ میں عراق پر امریکی یلغار کے بعد وسیع سطح پر قتل و غارت کا باعث بنا اور بعدازاں شام کی جنگ میں یہ سلسلہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ فرقہ پرستی اس علاقے کے لئے ایک بڑے اور خونی مسئلے میں تبدیل ہوئی ہے تاہم اسرائیلی ریاست اس کو ایک مناسب اوزار سمجھتی ہے اور اسے ایران اور حزب اللہ کے خلاف استعمال کررہی ہے۔ گوکہ یہودی ریاست کی طرف سے ایران فوبیا کی ترویج کا سلسلہ نیا نہیں ہے لیکن اس ریاست کی طرف سے فرقہ پرستی کی ترویج ایک نئی روش ہے جس کے لئے اس ریاست نے حالیہ عشروں میں کافی کوششیں کی ہیں، وہ اس لئے کہ شیعہ ایران اور شیعہ حزب اللہ نے اسرائیل کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے، علاقے کی اقوام کے اندر اسرائیل پر عدم اعتماد کی فضا قائم کی ہے اور اسرائیل کی طرف سے نام نہاد امن کی کوششوں کے افسانے کے طشت از بام اور اس سلسلے میں اس کی چالوں کو بےاثر کردیا ہے۔

یہودی ریاست کی طرف سے فرقہ پرستانہ تشدد کو ہوا دیئے جانے کے ساتھ ساتھ، اس وقت ایران کے خلاف “اسرائیل اور سنی عرب اتحاد” کی باتیں ہورہی ہیں اور اس ریاست کو توقع ہے کہ خلیج فارس کی ریاستوں کے ساتھ تعاون بڑھا کر اس اتحاد کو استحکام ملے گا۔

قابل ذکر ہے کہ عرب رائے عامہ اس سلسلے میں دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے: کچھ لوگ اسرائیل کے ساتھ اتحاد کو فلسطینی سرزمین سے اسرائیلیوں کے انخلا سے مشروط کرتے ہیں اور کچھ لوگ ہر صورت میں بھی اسرائيل کے ساتھ اتحاد کے خلاف ہیں۔

۹۸ فیصد سعودی باشندے ایران کے خلاف یہودی ریاست کے ساتھ اتحاد کے خلاف ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق عرب امارات کی ۱٪ آبادی اور سعودی عرب کی ۲٪ آبادی ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔

اب جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہودی ریاست کی طرف سے داعشی آئیڈیالوجی کے پرچار اور اس کے ہاتھوں غزہ میں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم پر اپنی آنکھیں بند کرلی ہیں؛ امریکی سینٹ نے اس حوالے سے مستقل جائزے کے احکامات جاری کئے ہیں اور ہدایت جاری کی ہے کہ اگر کچھ افراد یا یونٹیں غیر مسلح عوام کو نشانہ بنانے کے لئے اقدام کریں تو انہیں “لیہی لاز” (۱) امریکہ کی طرف کی تربیت اور جنگی سازوسامانی کی وصولی سے محروم ہوجائیں گے۔

ادھر امریکی کانگریس نے بھی ایک قانونی مسودہ پیش کرکے یہودی ریاست کی فوج کے ہاتھوں فلسطینی بچوں سے ناجائز فائدہ اٹھائے جانے کے سلسلے میں اس ریاست کی پشت پناہی کی ممانعت کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱ لیہی لاز یا لیہی اصلاحات (The Leahy Laws or Leahy amendments) امریکہ کے داخلی قوانین ہیں جو امریکی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کو ان بیرونی حلیف سیکورٹی یونٹوں کو فوجی امداد دینے سے منع کرتے ہیں جو انسانی حقوق کو پامال کرتی ہیں اور انہیں سزا نہیں دی جاتی۔

* “لوبلاگ” ویب سائٹ (Loblag)، مشرق وسطی کے سلسلے میں امریکی پالیسیوں پر تجزیاتی رپورٹیں لکھنے والے کہنہ مشق صحافی “جم لوب (Jim Lobe) کے نام سے ماخوذ ہے۔ حم لوب ہی اس ویب سائٹ کے ایڈیٹر ہیں۔ یہ ویب سائٹ ۲۰۱۵ میں امریکی سفارتی آکادیمی کی طرف سے آزاد رپورٹوں اور تجزیوں کے شعبے میں منعقدہ “آرتھر راس” ایوارڈ (“Arthur Ross” Award) میں اول رہی۔ اس ویب سائٹ نے اپنا کام ۲۰۰۸ سے شروع کیا تھا اور اس کا اصل مقصد ایران کے سلسلے میں واشنگٹن کی طرف سے اخذ شدہ پالیسیوں کا تجزیہ کرنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram