ریت کی سلطنت پر پتنگوں کا حملہ (2)؛

کیا سعودی شاہ کو خونی بغاوت سے گذرنا پڑا ہے؟

کیا سعودی شاہ کو خونی بغاوت سے گذرنا پڑا ہے؟

سعودیوں کی پریشان رات، کیا ہفتے اور اتوار کی درمیان رات کے دوران سعودی بادشاہ کو ایک خونی بغاوت سے گذرنا پڑا ہے؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی بادشاہ اور ناتجربہ کار ولیعہد کو نہایت پریشانی سے گذرنا پڑا، اور سعودی شاہی محل میں شدید فائرنگ کے بارے میں سوشل میڈیا پر متضاد خبروں نے بیرونی فضا کو آشفتہ حالی سے دوچار کیا؛ لگتا تھا سعودی عرب میں ایک خونی بغاوت کا آغاز ہوچکا ہے۔ گوکہ 24 گھنٹے گذرنے کے بعد بھی سعودی سینسر کی وجہ سے ابھی صحیح صورت حال کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔

رات گئے ایک ویڈیو کلپ نے سائبر اسپیس میں دھماکہ کردیا، ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ سلمان بن عبدالعزیز کے قصر شاہی میں فائرنگ ہورہی ہے۔

بعد میں معلوم ہؤا کہ سلمان اور ان کا بیٹا محمد بن سلمان قصر الخزاعی سے ریاض میں فضائیہ ایک اڈے میں منتقل کیا گیا ہے، شاید اس لئے بھی کہ بوقت ضرورت نامعلوم مقام کی طرف پرواز کے لئے یہاں سے زیادہ آسانی سے طیارہ میں بیٹھا جاسکتا ہے!

حکمران سعودی قبیلے کے مخالفین نے ٹویٹر پیغامات کی بوچھاڑ کردی اور زور دیتے رہے کہ جناب بغاوت ہوچکی ہے، لیکن سعودی حکومت اور شام سے جھوٹی خبروں پر گھنٹوں نشر کرنے والے العربیہ سمیت سعودی ذرائع ابلاغ ہی نہیں بلکہ قطری الجزیرہ نے بھی بامعنی خاموشی اختیار کرلی تھی؛ سیکورٹی اہلکار بولے بھی تو دیر سے بولے، اور ان کے رد عمل میں تاخیر اتنی تھی کہ بغاوت کی خبر مزید سنجیدہ نظر آنے لگی۔

دو گھنٹے بعد ریاض کے پولیس چیف شاید کسی خفیہ مقام سے یا پھر فضائیہ کے اڈے ہی سے! بول اٹھے اور کہا کہ الخزامی میں واقع العوجا نامی قصر شاہی میں فائرنگ کی خبر کی تصدیق کرتے ہیں لیکن کوئی خاص بات نہیں تھی، ایک ہیلی شاٹ قصر شاہی کی فضا میں داخل ہؤا جو تصویر برداری کی صلاحیت بھی رکھتا تھا جس کو پولیس نے فوری طور پر [یعنی ایک گھنٹے کی فائرنگ کے بعد] مار گرایا، اب بس خیر خیریت ہے اور قصر نشین بالکل صحیح اور سالم ہیں!

اگر ہم مان بھی لیں کہ بس ایک ہیلی شاٹ آیا اور فائرنگ ہوئی اور ہیلی شاٹ مار گرایا گیا اور یہ بھی مان لیں کہ گوکہ فائرنگ زمینی تھی اور ظاہرا دو طرفہ تھی، لیکن نشانہ وہی چھوٹا ڈرون تھا، تو پھر کچھ نکات بہت اہم ہیں:

1۔ ماجرا کیا تھا؟

ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کے حادثے سے معلوم ہؤا کہ سعودی عرب میں سلامتی کا مسئلہ نہایت حساس اور زد پذیر ہے؛ اور شاہ اور پسر شاہ کی شیخیوں کے باوجود، کسی بھی وقت خطرات کے سامنے گھٹنے ٹیک سکتی ہے۔ سعودی قبائلی حکومت کی سلامتی کی یہ زد پذیری الظہران میں عرب ممالک کے اجلاس کے چند ہی روز بعد سامنے آئی۔ ظہران کانفرنس کے انعقاد کے لئے انتظام ریاض میں ہؤا تھا لیکن انصار اللہ کے ممکنہ میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر اسے ظہران منتقل کرنا پڑا اور وہ بھی در حقیقت سلامتی کے لحاظ سے ریت کی بادشاہت کی زد پذیری کا ثبوت تھا۔ مستعار اور درآمد ہونے والی طاقت کے نعروں سے سلامتی حاصل نہیں ہؤا کرتی۔

2۔ ممکنہ بغاوت:

سعودیوں نے دو گھنٹے تاخیر سے اس واقعے پر رد عمل ظاہر کیا جس سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ ہیلی شاٹ والا افسانہ ایک غیر ماہرانہ بہانہ جوئی کے بغیر کچھ نہیں ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ کوئی ڈرون یا ہیلی شاٹ قصر شاہی کی حدود میں داخل ہؤا تھا، تو یہ بات بڑی عیاں ہوجاتی ہے کہ ریاض کے اس محلے میں ڈرون یا ہیلی شاٹ کا داخلہ اور شاہ اور ولیعہد کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کرنا، کیا اتنا آسان ہے؟ اور کیا اس کا واقعی کسی بغاوت سے تعلق نہيں تھا جس کے لئے سیکورٹی کے لئے نصب کے راڈار پہلے سے خاموش کرائے گئے تھے؟

ایک سعودی صارف نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا کہ یہ ایک جعلی منظرنامہ تھا جو سعودی بادشاہ اور ولیعہد کے خلاف بغاوت کی طرف مائل افراد کا سراغ لگانے کے لئے تیار کیا گیا تھا! اور اگلے اوقات میں گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

ادھر غاص یہودی ریاست کے ایک اخبار نے “یروشلم پوسٹ” نے لکھا کہ کچھ ذرائع نے فائرنگ کے تبادلے کے مقام کی تصاویر اور ویڈیو کلپ شائع کرکے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ یہ ملک سلمان کے خلاف ایک بغاوت کا منصوبہ تھا اور سعودی بادشاہ کو بھی ان کی رہائشگاہ سے منتقل کیا گیا ہے۔

3۔ شاہ سلمان کے اندرونی اور بیرونی مخالفین:

دنیا جانتی ہے کہ سعودی عرب کے نوجوان، ناتجربہ کار اور ناعاقبت اندیش ولیعہد کے اندرون و بیرون ملک دشمن کسی بھی سعودی حکمران کے دشمنوں سے کہيں زیادہ ہیں؛ جن میں معزول شہزادے، شاہی خاندان کے گرفتار افراد، فلسطینی کاز کے حامی مسلمان ـ جو بن سلمان کو یہودی ریاست کا ایجنٹ سمجھتے ہیں جو ناجائز اور غاصب یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کا خواہاں ہے ـ نیز اندرون ملک بےشمار عوام اور وہابی علماء اور ولیعہد کے علمانی رجحانات کے مخالفین بھی شامل ہیں اور بیرون ملک اپوزیشن راہنما بھی جو سعودی قبائلی نظام کے سرے سے خلاف اور عوام کے جمہوری حقوق کے خواہاں ہیں اور یمنی مجاہدین بھی جنہوں نے عہد کیا ہے کہ بن سلمان کو چین کی نیند نہیں سونے دیں گے۔

4۔ نجد و حجاز کے بےچارے عوام

سعودی معاشرہ ایک بند معاشرہ ہے اور وہاں کی اصل خبریں ابھی تک شائع نہیں ہوسکی ہیں۔ لیکن اگر سلمان اور بن سلمان کے خلاف بغاوت ہوئی ہو اور وہ اس بغاوت کو کچل سکے ہوں تو سلمان اور بن سلمان کی جان کی حفاظت کے بہانے، سعودی عوام کو آل سعود کی طرف کے دباؤ میں مزید شدت آنے کی توقع کی جاسکتی ہے اور دوسری طرف سے برطانیہ، فرانس اور امریکہ سمیت اسلحہ فروخت کرنے والوں کو مزید فرصت ملے گی کہ سعودی عوام کے تیل سے حاصل ہونے والے ڈالروں سے اپنی جیبیں مزید بھر لیں، اپنی معیشتوں کو سنبھالا دیں اور اپنی کمپنیوں کو مزید آباد کریں۔

منبع: جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram