ریت کی سلطنت پر پتنگوں کا حملہ؛ (1)

کھلونا جہاز نے سعودی ولیعہد کی نیندیں اڑا دیں

کھلونا جہاز نے سعودی ولیعہد کی نیندیں اڑا دیں

ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کو دیر گئے ریاض کے محلے الخزامی میں شدید فائرنگ کا تبادلہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پر چھا گیا اور سوشل میڈیا پر “الخزامی میں فائرنگ” کے عنوان سے نشر ہونے والے ہیش ٹیگ نے دھوم مچا دی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ کے مطابق، کل رات کے وقت ریت کی بادشاہت کے دارالحکومت ریاض میں الخزامی نامی محلے میں واقع قصر بادشاہی کے اندر اور باہر شدید فائرنگ کے تبادلے نے عالمی ذرائع کو مصروف کردیا اور کچھ ویڈیو کلپس کے ساتھ متعدد تصاویر بھی شائع ہوئیں جن سے نامعلوم فریقین کے درمیان باقاعدہ جنگ کی صورت حال سامنے آرہی تھی لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا جہان پر تسلط جمانے اور علاقے کے طاقتور ملکوں کو دھمکیاں دینے کے پہاڑے سیکھنے والے بادشاہ اور “انجانوں کے بیچ شیخیاں بگھارنے والے” ولیعہد کو ریاض سے دور کہیں فضائیہ کے اڈے میں پناہ لینے اور امریکی گارڈز کی حفاظت میں دینے کی خبریں کچھ زیادہ حیرت انگیزی رہیں۔ کچھ ذرائع نے اسے فوجی بغاوت کا نام دیا، کچھ نے اندرون خانہ شہزادوں کی لڑائی قرار دیا اور کچھ نے کہا کہ یہ ہزاروں شہزادوں کو اپنے دشمنوں کی صفوں میں کھڑے کردینے والے ولیعہد محمد بن سلمان پر قاتلانہ حملہ قرار دیا۔ کچھ ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ بن سلمان نے کئی چچا زاد بھائیوں کو محل میں ایک اجلاس کے وقت قتل کروایا ہے جس کے بعد کئی خودکش ڈرونز قصر شاہی کی فضا میں دھماکوں سے اڑا دیئے گئے ہیں اور آخر کار امریکیوں نے ریاض کی سیکورٹی اپنے ہاتھ میں لی ہے۔۔۔

سعودی ذرائع نے دربار سعود سے ہمآہنگ ہوکر خاموشی اختیار کی اور ریاض کی پولیس نے ایک گھنٹے تک فائرنگ کے تبادلے کے بعد صرف اتنا کہا کہ “کچھ نہیں ہؤا صرف کھلونا ڈرون تھا جو سیکورٹی زون میں داخل ہؤا تھا اور شاہی گارڈز کو ایک گھنٹے تک اس پر فائرنگ کرنا پڑی تھی، بس اب خیر خیریت ہے”۔ ادھر اسی وقت وزارت داخلہ نے کوئی وضاحت کرنے کے بجائے صرف اتنا کہا کہ “بغیر لائسنس چھوٹے ڈرونز کی پرواز کا نیا قانون بہت جلد منظور کرایا جائے گا”۔

لیکن کچھ یہ بھی کہا کہ آل سعود نے حقائق کو چھپا دیا ہے اور مغربی ذرائع نے بھی ان کا ساتھ دیا ہے ورنہ بات کچھ اور تھی جس کی پردہ داری ہے۔

اس واقعے کے سلسلے میں کچھ اہم نکات:

– فائرنگ وسیع تھی، ایک گھنٹے تک جاری رہی، اور ایک ہیلی شاٹ کو گرانے کے لئے ایک گھنٹے تک اتنی وسیع فائرنگ کی ضرورت نہیں پڑتی یا شاید اس پر فائرنگ کی ضرورت ہی نہ تھی جب ثابت ہوچکا تھا کہ “یہ ایک کھلونا ڈرون تھا”۔

– الخزامی کے محلے میں اگر فائرنگ ایک چھوٹے ڈرون کو مار گرانے کے لئے تھی تو فائرنگ کا رخ ہوا کی طرف کیوں نہیں تھا اور فائرنگ دبی دبی کیوں تھی اور دو طرفہ جھڑپ کیوں معلوم ہورہی تھی؟

– اگر ڈرون یا ہیلی شاٹ تھا تو حالات پر قابو پانے کے لئے ہیلی کاپٹر کیوں نہیں آئے جو علاقے کی نگرانی بھی کرسکتے تھے؟

– اگر فائرنگ ایک ہیلی شاٹ یا کھلونا ڈرون کے گرانے کے لئے تھی تو شاہ سلمان کو ٹرک میں قصر شاہی سے نکال کر ایک فوجی اڈے میں کیوں منتقل کرنا پڑا جبکہ ایسی صورت میں قصر شاہی بہترین پناہگاہ کا کردار ادا کرسکتا تھا؟

– قریب سے دیکھنے والے سعودی شہریوں نے ولیعہد کے محل میں فائرنگ کے تبادلے کی خبر دی اور قریب سے ویڈیو کلپ لے کر شائع کئے، کیوں؟

بہرصورت، جو بھی تھا، مذکورہ رات آل سعود کے بوڑھے بادشاہ اور نوجوان ولیعہد پر بہت سخت گذری اور اس واقعے کے پیغامات بہت بامعنی تھے، جیسے:

– اگر مان لیں کہ ہیلی شاٹ تھا تو آل سعود سے کہیں گے کہ تم ایک کھلونے کو کنٹرول نہيں کرسکتے ہو، اور ایک کھلونا تمہاری نیندیں اڑا سکتا ہے اور گرم اور نرم بستر چھوڑ کر گرم اور مرطوب پناہگاہوں یا مورچوں میں پناہ لینے پر مجبور کرسکتا ہے؛ تو تصور تو کر کہ تم نے اہل یمن کو تین سال سے ممنوعہ اسلحوں اور میزائلوں کا نشانہ بنا بنا کر کس حال سے دوچار کیا ہوگا کتنے میلین آدمیوں اور عورتوں اور بچوں کا کیا حال ہوتا ہوگا، کیا حال ہوتا ہوگا اس ماں کا جس کو راتوں کے اندھیرے میں موت کی نیند سلاتے ہیں؟

– تصور تو کرو اے کاغذی طیارے کی اڑان سے آشفتہ حال ہونے والی ریت کی بادشاہت کے وارثو! تم جو آج ایک ہیلی شاٹ کی پرواز سے اتنے پریشان ہوئے کہ بعض عرب ذرائع نے بادشاہ اور ولیعہد کے یہودی ریاست بھاگنے تک کی خبر چھاپ دی، تو اگر کبھی محاذ مزآحمت کے دیو ہیکل میزائلوں نے تمہارے محلات کا راستہ دیکھ لیا تو تمہارا کیا حال ہوگا؛ برداشت کرسکو گے؟

– اے سعودیو! بھولے تو نہیں ہو نا کہ یہی ایک ہفتہ قبل جنابان کے بڑے آقا نے سب سے مہنگے، سب سے بڑے، سب سے ہوشیار، سب سے خوبصورت اور سب سے ہولناک اور ایک نقطے تک کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل شام بھجوانے کا اعلان کیا اور پھر یہ میزائل بھجوا بھی دیئے، لیکن ابھی سورج طلوع بھی نہیں ہؤا تھا کہ صدر بشار اسد اپنا بریف کیس لے کر معمول کے مطابق پریزیڈنسی میں حاضر ہوئے نہ تو ڈرے سہمے ہوئے تھے نہ چہرے کی رنگت بدلی تھی؛ لیکن سعودیوں کے اپنے دعوے کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ایک کھلونا ڈرون ہی قصر شاہی کی فضا میں ظاہر ہوا تھا لیکن بادشاہ سلامت کو فوجی مورچوں میں چھپنا پڑا گویا کہ ریاض ایٹمی حملے کا نشانہ بنا ہے!! اتوار کو بھی کوئی خیر خبر نہیں ہوئی کہ شاہ اور ولیعہد اور دوسرے اور تیسرے کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں؟ اور کسی نے یہ نہیں بتایا کہ رات کو ہؤا کیا تھا؟

جی بھائی … جان لو کہ بڑائی صرف زبانی کلامی حاصل نہیں ہؤا کرتی، دو سو باتیں نصف کردار کے برابر بھی نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram