کشمیریوں کی اوقات۔۔!

کشمیریوں کی اوقات۔۔!

کشمیر اور کشمیری تو اس وقت بھی تھے جب تمہارا خواب و خیال بھی نہ تھا۔ کشمیری تو ساڑھے پانچ ہزار کی تاریخ کے حامل ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک سازش کا شکار ہو کر اپنی ریاست ٹکڑوں میں تقسیم کر بیٹھے اور اسکے بعد آج تک ایسے ہی بدزبان ،بدتہذیب ،بدطنیت و بد اخلاق لوگوں کے ہاتھوں مشق سخن بنے ہوئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

تحریر:سیّد تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
اندھی محبت میں گرفتار آنکھوں کے کھلنے کے بعد کافی دنوں سے حقیقی دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے میں آسانی ہوگئی ہے، اور یہ موقع اس وقت ملا جب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی ایک پریس کانفرنس کو میڈیا کی جانب سے مبینہ طور پر سیاق و سباق سے ہٹ کر اور توڑ مروڑ کر پیشکر کے  ایک خطرناک سروے کا آغاز کروایا گیا جسکے نتائج پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو پاکستان کا خواب دینے والے کشمیریوں کا حشر ایسا ہو گا ایسا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔لازوال محبت کے رشتے میں بندھے کشمیریوں کو بعض پاکستانی سیاستدانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے کشمیریوں کو انکی اوقات یاد دلا دی اور انکے  اخلاق، کردار اور رویے کے بارے میں بتایا گیا۔ کوئی کہتا ہے کہ ان کشمیریوں کی اوقات اور حیثیت کیا ہے جو یہ کشمیر پر بات کریں، کوئی کہتا ہے کہ انکی شکلیں دیکھو،  کوئی کہتا ہے انکے کرتوت دیکھو، کوئی کہتا ہے یہ غدار ہیں، کوئی کہتا ہے یہ ذلیل ہیں ، کوئی کہتا ہے انہیں جوتے مارو ، کوئی کہتے ہوئے سُنا گیا کہ یہ کھاتے اور پیتے کس کا ہیں انکی مجال کہ یہ بات کر سکیں۔الغرض  سرِ عام کشمیری لیڈر شپ کے کردار اور رویے گنے گئے اور انکو انکی کریڈیبلٹی، مینٹیلٹی اور ورتھ بتائی گئی کہ ایک صوبیدار میجر ان کو کان سے پکڑ کر اقتدار سے اتارنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔ حتی ٰ کہ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ مشرقی پاکستان بھی کشمیر کی وجہ سے بنگلہ دیش بنا۔ الغرض کشمیری قوم اور اسکی لیڈر شپ کی حیثیت، عزت اور مرتبے کے بارے میں لفظ بہ لفظ بتا کر کشمیریوں کو یہ واضح پیغام دیا گیا کہ کشمیریوں کو پاکستان سے محبت ثابت کرنے کے لئے ان کے ساتھ الحاق کی بات کرنی ہوگی ورنہ اگر وہ اپنے ملک کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی بات کریں گے تو انکو اسی طرح ذلیل وخوار کیا جائے گا۔ شتر بے مہار میڈیا ہاؤسزکی آپس کی لڑائی نے ایک ایسی بحث کا آغاز کیا جسکے ویڈیو کلپ کو انڈین میڈیا نے لیا اور ایسا پروپیگنڈہ شروع کیا جس نے ایک عام سے معاملے کو اور زیادہ حساس بنا دیا اور اسکا خمیازہ کشمیری قوم کو پاکستانی سیاسی رہنماوں کی گالیوں کی صورت میں مل رہا ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر پر تنقید کرنے والے بھارتی کشمیر کی اسمبلی ممبران جن میں انجینئر رشید اور غلام النبی کی گفتگو ہندستانی میڈیا پر ایک بار سن لیتے تو شائد انہیں سمجھ آتی کہ اظہار رائے کیا ہوتا ہے اور آئین ہندوستان کے تحت حلف اٹھا کر پاکستان کے حق اور اسکے ساتھ جانے کی بات کس طرح کی جاتی ہے لیکن انہیں کسی بھی صورت اسطرح کے القابات سے نہیں نوازا جاتا  جسطرح وزیراعظم آزادکشمیر کیساتھ طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے۔ شائد یہ اسطرح کا رویہ ہی تھا جس کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر شیخ عبداللہ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ '' شکر ہے ہم پاکستان میں نہیں، ورنہ یہی حشر ہوتا۔۔!''اس سارے واقعے کے بعد مجھے کچھ تاریخی واقعات یاد آئے جنہیں حرف بہ حرف لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب شہاب نامہ میں لکھتے ہیں  ' کہ پچاس کی دہائی میں ایک کابینہ کا اجلاس ڈھاکہ میں تھا، اس میں کسی عمارت کے  واش روم کے لئے کچھ لوازمات کا بجٹ منظور ہو رہا تھا، تو ڈھاکہ والوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے لئے بھی اسی بجٹ کی منظوری دی جائے، مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک محترم نے کہا بنگالیوں کو کیا ضرورت ہے واش روم کی ،وہ تو درختوں کے پیچھے فارغ ہو جاتے ہیں، قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ اس وقت بنگلہ دیش کی پہلی اینٹ رکھ دی گئی تھی۔۔! 

پاکستانی سیاسی اشرافیہ کا عملی رویہ دیکھ کر شائد کشمیری سیاستدان بھی اپنے مستقبل سے آگاہ ہو گئے تھے اور اسی بنا پر'' میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ مرحوم جو پاکستان کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر الحاق کے زبردست حامی تھے لیکن جب انیس سو چونسٹھ میں آزادکشمیر آئینی ارتقاء کے مراحل سے گزر رہا تھا  اور آزاد کشمیر کو نام نہاد آئین کا لالی پاپ دے کر بے دست و پا کیا جا رہا تھا تو مولانا محمد یوسف شاہ کہہ اٹھے کہ  ' آج اگر رائے شماری ہوتی ہے تو آزادکشمیر کے لوگ انڈیا کو ووٹ دیں گے اور مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان کو'' کیونکہ دونوں اپنی اطراف کی حکومتوں کے رنگ ڈھنگ دیکھ چکے ہیں۔ اسی طرح کے رویے اور اسکے رد عمل کی عکاسی دو ہزار دس میں بی بی سی  نے اپنی ایک رپورٹ کے ذریعے کی جس میں یہ بتایا گیا کہ چوالیس فیصد کشمیری مکمل آزادی چاہتے ہیں۔ بدقسمتی سے نوے فیصد پاکستانی بھائیوں کی کشمیر کے بارے میں معلومات انتہائی ناقص رہیں اور وہ اسکی تاریخی حیثیت سے بھی بالکل ناواقف رہے۔  انہیں یہ بھی علم نہیں کہ پاکستان کا آئین ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک جمہوری طریقے کی حمایت کرتا ہے اور اس کا حق دیتا ہے کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور اگر پاکستان کے ساتھ رہتے ہیں تو ان کا پاکستان سے تعلق کیا ہوگا ، وہ بھی ریاست کے عوام ہی طے کریں گے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل چھ کا حوالہ دینے والے شائد آئین کا آرٹیکل ١ یک دیکھنا بھول جاتے ہیں جس میں پاکستان کی جغرافیائی حد بندی کا ذکر ہے ۔ آرٹیکل ١ یک کے تحت پاکستان کی جغرافیائی حد بندی میں کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہی نہیں لہذا کشمیر و گلگت بلتستان پر آئین پاکستان لاگو ہی نہیں ہوتا اسلئے قانون کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے مجھے وزیراعظم آزاد کشمیر پر آئین پاکستان کے آرٹیکل چھ کا مطالبہ ایک مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں لگتا۔ اپنی مرضی کا کشمیر چاہنے والے اس حقیقت سے بھی نابلد ہیں کہ اقوام متحدہ کی قرادادیں پاکستان اور ہندوستان کو ریاست جموں و کشمیر کے عارضی انتظامی کنٹرول کا جواز عطا کرتی ہیں، اور یہی قراردادیں  یہ کہتی ہیں  کہ کشمیری عوام کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ چاہیں تو پاکستان کے ساتھ رہیں، ہندوستان کے ساتھ رہیں یا اپنی آزاد حیثیت میں ایک آزاد ملک کے طور پر رہنے کا فیصلہ کریں۔ پاکستان اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کانہ صرف دستخط کنندہ ہے بلکہ ہمیشہ سے ان قرادادوں پر عمل درآمد کے مطالبے کا سب سے بڑا وکیل رہا ہے۔ سو ایک ایسی بات جسے حکومت پاکستان ہر فورم پر مانتی ہے اس پر واویلہ صرف تاریخ سے نابلد لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ اسی طرح قانون آزادی ہند انیس سو سنتالیں کے تحت بھی پرنسلی اسٹیٹس کو مندرج  بالا تینوں آپشنز میں سے کوئی سا بھی آپشن چننے کا حق حاصل ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کے ساتھ طوفان بدتمیزی برپا کرنے والے لوگوں کو یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ تنازع کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کے ووٹوں سے ہونا ہے  اور وہی الحاق ، آزادی یا خود مختاری  پر بات کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور اس میں بنیاد بننے والے وزیراعظم اور انکا ووٹ بھی شامل ہے۔ کشمیر تو ابھی تک منقسم و متنازعہ ہے جسکا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے اور آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کی قرادادوں میں رائے شماری کے ذریعے کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ محفوظ رکھتے  ہیں،جو کہ  پاکستان کے آئین کی دفعہ دو سو ستاون میں درج ہے۔تو لہذا تاریخ سے نابلد بعض پاکستانی سیاستدانوں کی جانب سے اپنی مرضی کا فیصلہ کشمیری قوم پرزبردستی مسلط کرنا سراسر پاکستانی آئین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی صریحاََ خلاف ورزی ہے، اور ایسے لوگوں کے خلاف آئین ِ پاکستان سے انحراف پر مقدمات قائم ہونے چاہئیں۔

یاد رہے کہ اسوقت کے صدر آزاد کشمیرغازی ملّت سردار محمد ابراہیم خان نے بھی آٹھ جولائی انیس سو اڑتالیس کو اقوام متحدہ کے کمیشن کے چیئرمین کو لکھے گئے خط میں بھی کہا تھا کہ '' میں یہ واضع کردینا چاہتا ہوں کہ آزادکشمیر حکومت کوئی ایسا تصفیہ قبول نہیں کرے گی جس میں یہ فریق نہ ہو اور یہ کہ اگر پاکستان جموں و کشمیر کے مستقبل  کے بارے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے تاہم یہ آزاد کشمیر حکومت کو نہ ہی پابند کرسکتا ہے اور نہ ہی انہیں کسی ایسے راستے پر ڈال سکتا ہے جسکی انہوں نے پیشگی منظوری نہ دی ہو''۔ حالیہ سروے کے نتیجہ میں اچھا ہوا کہ ہمیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کا موقع ملالیکن کشمیریوں کو انکی  اوقات بتانے والے  یہ مت بھولیں کہ کشمیر اور کشمیری تو اس وقت بھی تھے جب تمہارا خواب و خیال بھی نہ تھا۔ کشمیری تو ساڑھے پانچ ہزار کی تاریخ کے حامل ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک سازش کا شکار ہو کر اپنی ریاست ٹکڑوں میں تقسیم کر بیٹھے اور اسکے بعد آج تک ایسے ہی  بدزبان ،بدتہذیب ،بدطنیت و بد اخلاق لوگوں کے ہاتھوں مشق سخن بنے ہوئے ہیں۔پاکستانی اشرافیہ کو  یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ایک کشمیری وزیراعظم رام چندرا کاک نے مہاراجہ کے حکم پر  پنڈت نہرو جیسے لیڈر کو کوہالہ کسٹم چیک پوسٹ پر ریاست میں داخل ہونے پر گرفتار کر کے اسوقت  ریاست بدر کردیا تھاکہ  جب پنڈت جواہر لعل نہرو اور بیرسٹر آصف علی  نے کشمیر میں شیخ عبداللہ کے ڈیفنس کونسل کے طور پر داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔۔!اگر کشمیریوں کیساتھ رویہ ایسا ہی رہا تویہ  اب ریاست کے وزیراعظم کا اختیار ہے کہ ماضی کی کشمیری روایات کو قائم رکھتے ہوئے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لئے اس طرح کے کسی شر پسند کو ریاست میں داخل ہونے پر گرفتاری کا حکم جاری کریں۔دوسری جانب یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ جب تک کشمیری  قیادت لاحاصل و لا یعنی و معنی توقعات اور سہاروں پر بھروسہ کرتی رہے گی ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں، ایسی حوصلہ افزائی ہوتی رہے گی اورجب تک کشمیری اپنی اوقات میں نہیں آئیں گے تو  انہیں ''گولیاں اور گالیاں''  ملتی رہیں گی۔ایک  عرصہ سے اپنے آپ کو بائی برتھ  اور بائی چوائس پاکستانی کہلوانے  والی کشمیری لیڈر شپ بھی کاش اپنی ذمہ داریوں کا بھی احساس کر جاتے اور اقتدار کی خاطر پوری ریاست کا تشخص داؤ پرنہ  لگایا تو آج پوری کشمیری قوم کو یہ حزیمت نہ اٹھانا پڑتی۔ کشمیری لیڈر شپ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی عزت ، وقار اور منصب کا خیال رکھیں تاکہ مستقبل میں'' پہاڑی بکرا اور ذلیل آدمی '' جیسی باتوں سے بچا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram