پٹرو ڈالر دے کر آبرو خریدنا محال / ٹرمپ کے طعنے کب تک قابل برداشت ہیں؟

پٹرو ڈالر دے کر آبرو خریدنا محال / ٹرمپ کے طعنے کب تک قابل برداشت ہیں؟

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست میسیسیپی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: میں نے سعودی بادشاہ کو خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ "ہم تمہاری حفاظت کرتے ہیں کیونکہ تم امریکی حمایت کے بغیر ممکن ہے کہ دو ہفتوں تک بھی نہیں جی سکوگے؛ چنانچہ تم اپنے فوجی اخراجات میں اضافہ کرو"۔ [اور مزید امریکی ہتھیار خریدو]۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو جب بھی سعودی پٹروڈالروں کی طلب ہوتی ہے تو وہ دوستانہ لب و لہجہ استعمال کرنے کے بجائے بنی سعود کو طعنے دیتے ہیں، ان کی تذلیل کرتے ہیں اور ان کو اپنی اوقات دلاتے ہیں۔ اور حالیہ چند دنوں میں تو انھوں نے دو مرتبہ سعودی قبیلے کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نہایت غیر مہذب لہجے میں توہین کی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ "کیا سعودی عرب پھر بھی جھوٹی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر معذرت خواہانہ رویہ جاری رکھے گا جبکہ 1945 سے جاری روایتی اتحاد کچھ زیادہ پائیدار نظر نہیں آرہا ہے؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار [30 ستمبر 2018] کے دن سعودی بادشاہ  سلمان بن عبدالعزیز کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کرکے دو طرفہ مسائل کا جائزء لیا۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ٹرمپ نے سلمان پر تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لئے دباؤ بڑھا دیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست میسیسیپی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: میں نے سعودی بادشاہ کو خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ "ہم تمہاری حفاظت کرتے ہیں کیونکہ تم امریکی حمایت کے بغیر ممکن ہے کہ دو ہفتوں تک بھی نہیں جی سکوگے؛ چنانچہ تم اپنے فوجی اخراجات میں اضافہ کرو"۔ [اور مزید امریکی ہتھیار خریدو]۔
مئی  2017 میں ٹرمپ نے ریاض کا دورہ کیا اور شاہ سلمان کو مجبور کیا کہ 110 ارب ڈالر کے اسلحے کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کریں۔ لیکن وہ اس پر راضي نہیں ہوا اور سعودیوں کو مجبور کیا کہ امریکہ میں پانچ کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں اور پھر جب اس سال مارچ کے مہینے میں ایم بی ایس (ولیعہد محمد بن سلمان) نے واشنگٹن کا دورہ کیا تو ٹرمپ نے استقبال کے وقت ان سے سیاسی اور ابلاغیاتی طور پر غلط فائدہ اٹھایا۔ ٹرمپ نے ایک مضحک اور غیر مناسب نمائش میں کچھ جدولیں کیمروں کے سامنے پیش کیں جن میں دو طرفہ سودوں کی تفصیلات درج تھیں۔
واشنگٹن ـ ریاض کی روایتی مفاہمت کا خاتمہ!!! / سعودی عرب ٹرمپ کی توہینوں اور طعنوں کا کیا جواب دے گا؟
امریکی صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کی موجودگی میں خلیج فارس کی عرب ریاستوں سے اپنا مطالبہ دہرایا اور کہا: ہم نے مشرق وسطی میں سات ہزار ارب ڈالر خرچ کئے ہیں لیکن کچھ حاصل نہيں کرسکے ہیں۔ وہاں صاحب ثروت ممالک ہیں جنہیں آپ [فرانسیسی صدر] بخوبی جانتے ہیں اور انہیں یہ اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے اور ہم انہیں مجبور کریں گے کہ اپنے فوجیوں کو شام روانہ کریں اور ہم اپنے فوجی شام سے اپنے گھروں کو پلٹا دیں گے۔
ٹرمپ سلمان اور بن سلمان کے نازک حالات سے بخوبی آگاہ ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ باپ بیٹے نے پورے انڈے ان ہی کے لئے ایک ہی ٹوکری میں رکھ لئے ہیں اسی لئے ارادی طور پر ان کی تذلیل سے دریغ نہیں کرتے اور کئی کئی بار کیمروں اور ذرائع ابلاغ کے سامنے بن سلمان اور سعودی عرب کے لئے "دوہنے" کا لفظ استعمال کرتے رہے ہیں۔
اس سے پہلے بھی ٹرمپ نے اپنے انتخابی کیمپین میں سعودی عرب کو "شیردار گائے" کا خطاب دیا تھا اور کہا تھا کہ "سعودی عرب ایسی شیردار گائے ہے جس کے پاس جب تک کہ سونا اور ڈالر ہو، تو ہم اس دوہتے رہیں گے اور جب اس کا دودھ ختم ہوجائے تو اس کو ذبح کریں گے۔
اخبار "القدس العربی" نے لکھا ہے کہ "سعودی عرب مالی وعدوں کے لحاظ سے سعودی عرب ٹرمپ کے لئے پسندیدہ ہدف میں تبدیل ہوچکا ہے؛ یہاں تک کہ امریکی صدر بین الاقوامی گفتگو کی معمولی ترین مقبول سطح کو بھی ملحوظ رکھنے کے بھی پابند نہیں ہیں؛ وہ اعلانیہ طور پر ایسے لب و لہجے کا استعمال کرتا ہے جس میں توہین، تمسخر اور دھمکی جیسے عناصر یکجا نظر آتے ہیں"۔
واشنگٹن میں ایک عرب ذریعے نے امریکی کانگریس کے ایک رکن کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے "العہد ویب گاہ" کو بتایا: "ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بن سلمان سے بات چیت کرنے کے بعد اپنے کارکنوں سے کہا ہے کہ «کرسیوں، صوفوں اور ہر ہر اس چیز کو خوب دیکھیں جس پر بن سلمان بیٹھے ہیں یا جنہیں انھوں نے ہاتھ لگایا ہے، اور اگر کوئی جوں وغیرہ پائی گئی تو صاف کرلیں»
امریکی ـ سعودی مفاہمت کا سابقہ مرحلہ "تیل کے بدل حمایت" کے عنوان سے مشہور تھا۔ یہ مرحلہ 1945ع‍ میں اس وقت شروع ہوا جب سعودی بادشاہ عبدالعزیز ابن عبدالرحمن امریکی بحری جہاز کے عرشے پر امریکی صدر فرینکلین روزویلٹ (Franklin D. Roosevelt) سے ملے تھے۔ اور یوں امریکہ خلیج فارس کی ریاستوں میں، برطانوی سامراج کے میراث خوار کے طور پر ابھرا اور بنی سعود کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطروں سے نمٹنے کا ذمہ دار ٹہرا۔
اس کے باوجود اس مرحلے میں سعودیوں نے اپنے تیل اور تیل کے کنؤوں نیز زیر زمین وسائل کو امریکہ کی تحویل میں نہیں دیا تھا اور تیل سے حاصل ہونے والے ڈالروں کو اسلحے کے معاہدوں اور مختلف قسم کا سازوسامان اور خدمات خرید کر امریکی خزانے کی نذر کیا جاتا تھا اور پھر سعودی ریاست کے اندر کے بہت سے سیاسی اور مذہبی حلقے امریکہ کے ہمہ جہت تسلط کے خلاف تھے۔ لیکن آج صورت حال بالکل مختلف ہے۔
حمایت بمقابلہ تیل، کی پالیسی، بارک اوباما کے دوسرے دورے میں تزلزل کا شکار ہوئی اور بنی سعود نے خطے میں نیابتی جنگوں کا آغاز کرکے امریکی ضروریات سے بہت آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا شروع کیا۔ یہ جنگیں بطور خاص شام، عراق اور یمن میں لڑی گئی اور لڑی جارہی ہیں۔ اوباما کا خیال تھا کہ سعودی پالیسیوں میں ایسے تضادات پائے جاتے ہیں جو بنی سعود کے اندرونی شکست و ریخت کا سبب بن سکتی ہیں اور امریکہ سعودیوں کی ان پالیسیوں کی حمایت نہیں کرسکتا چنانچہ اوباما نے بنی سعود سے مطالبہ کیا کہ اپنی حکمرانی کی روشوں کو بدل دیں اور اندرونی سطح کی اصلاحات کا اہتمام کریں۔
ٹرمپ کی بلیک میلنگ؛ "سالمیت چاہتے ہو تو تیل کو نیلام کردو"
ٹرمپ نے اوباما کی روش کو الٹ دیا اور کہا: سعودی حکمران اپنے امن و سلامتی کے لئے جو اسلحہ امریکہ اور مغربی ممالک سے خریدتا ہے، وہ ناکافی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ سعودیوں کو اپنی آمدنیاں مغرب کے حوالے کرکے امن و سالمیت ملنا ممکن نہیں ہے بلکہ انہیں چاہئے کہ سعودی تیل کی پیداوارا گھٹانے اور بڑھانے کا مکمل اختیار دینا ہوگا تاکہ وہ منڈی کی ضروریات کے پیش نظر خود فیصلہ اور اقدام کرسکیں۔ یہ مطالبہ اس لئے تھا کہ ٹرمپ ایران کے تیل پر پابندی لگانا چاہتے تھے۔ ان کی یہ بھی کوشش تھی کہ اوپک کا مکمل خاتمہ کریں تا کہ اگر کسی وقت تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بحران معرض وجود میں آئے تو وہ مغرب کی عملی حمایت کرسکیں۔
ٹرمپ سعودیوں سے چاہتے ہیں کہ اخراجات کو براہ راست ادا کریں جس کی وجہ سے سعودی ریاست اندرونی معاشی بحران کا شکار ہوسکتی ہے۔ بنی سعود نے اندرونی بجٹ میں تیل کا توازنی تخمینہ فی بیرل 87 ڈالر ہے اور اگر تیل کی قیمت میں کمی آئے تو انہیں اپنے بجٹ میں خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ 2008ع‍ میں سعودی عرب کا فاضل بجٹ 155 ارب ڈالر تھا لیکن 2018ع‍ میں اس کو 60 ارب ڈالر سے زائد بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔
محمد بن سلمان نے بجٹ خسارے سے بچنے کے لئے سرکاری اخراجات میں 30 ارب ڈالر کی کمی کردی ہے اور آرامکو تیل کمپنی کے 5 فیصد حصص بھی فروخت کرکے 30 ارب ڈالر مزید کمانا چاہتے ہیں [گوکہ اباجان نے حصص کی فروخت پر پابندی لگائی ہے کیونکہ ان حصص کو نیویارک میں فروخت کرنے کا منصوبہ تھا اور سلمان بن عبدالعزیز کو خدشہ تھا کہ یہ رقم کہیں امریکی عدالتوں کے ہاتھ لگ کر 9/11 کا شکار امریکیوں کے درمیان بطور تاوان نہ بانٹی جائے]۔
بن سلمان کے یہ تمام اقدامات نجد و حجاز کے غریب طبقے کو مزید دشواریوں میں دھکیل رہے ہیں کیونکہ سعودی شہزادے تین کی مالکیت میں اپنی حصے کی رعایتیں چھوڑنے سے اجتناب کررہے ہیں۔
ٹرمپ نے ایم بی ایس کو یاددہانی کرائی ہے کہ سعودی عرب کو حاصل امریکی حمایت کی قیمت ان سینکڑوں ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہے جو سعودیوں نے اب تک امریکہ کی جیب میں انڈیل دیئے ہیں۔ ٹرمپ کی ایک آنکھ آرامکو کمپنی کی نیویارک میں نیلامی پر لگی ہوئی ہے جس کی مالیت 2000 ارب ڈالر ہے، وہ یہ خطیر رقم سعودیوں کے ہاتھ سے نکالنے کے لئے منصوبہ بندی کئے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس رقم کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار انہیں دے دیا جائے۔ اور یہ بھی امکان ہے کہ ٹرمپ اس سے بھی آگے بڑھنا چاہیں اور سعودیوں کو عالمی بینک اور امریکی بینکوں سے قرضہ لینے پر آمادہ کریں اور یوں عرب ممالک کے درمیان کے اس عظیم بجٹ کا مکمل خاتمہ کریں۔ [لگتا ہے کہ ٹرمپ کو صاحب ثروت سعودی ریاست کے خاتمے کا مشن سونپا گیا ہے]۔
ٹرمپ سعودیوں کی توہین کرتے ہوئے انہیں دوست بھی قرار دیتے ہیں اور جسٹا کے قانون کی طرف کبھی اشارہ نہیں کرتے جو ایک بار پھر سعودی عدالتوں میں سرگرم ہوچکا ہے اور 11 ستمبر 2001ع‍ کے واقعے کے 2500 ہلاک شدگان اور 20 ہزار زخمیوں نیز نقصان پانے والے اداروں کا نقصان سعودی آمدنی سے پورا کرنے کے درپے ہے اور ان نقصانات کی مالیت کئی سو ارب ڈالر ہے۔
اس کے باوجود، ٹرمپ سعودی حکمرانی کے اندرونی تضادات کے حوالے سے ـ جو کہ سعودی حکمرانی کو خطرات سے دوچار کررہے ہیں ـ اس ریاست کی کوئی حمایت نہيں کرتے؛ بلکہ وہ تو اس ریاست کے اندرونی تضادات کو ہوا دے رہے ہیں۔ ٹرمپ حتی کہ بیرونی خطرات کے سامنے بھی سعودیوں کی حمایت نہيں کرتے بلکہ بنی سعود کو خطے کے ممالک کو دھمکیاں دینے کی ترغیب دلاتے ہیں۔ ٹرمپ صرف ایک حوالے سے بنی سعود کی حمایت کرتے ہیں اور وہ ہے یمن پر جارحیت، یمن کا قتل عام اور اور بھوکا پیاسا رکھنا اور بیماریوں میں مبتلا کرنا۔
سعودی جب ٹرمپ سے ملتے ہیں تو وہ ان کی ایران دشمن باتیں سن کر خوش ہوتے ہیں لیکن بھول جاتے ہیں کہ ٹرمپ نے اپنے انتخابی کیمپین میں کئی بار انہیں 11 ستمبر کے واقعے میں ملوث قرار دیا تھا اور ان پر دہشت گرد ٹولوں کی حمایت کا الزام لگاتے رہے تھے اور کہا تھا کہ "سعودی وہی بزدل ہیں جو اپنا پیسہ داعش کو دے دیتے ہیں"، اور ہاں! امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلیری کلنٹن کے فاش شدہ ایمیل پیغامات میں بھی یہ امریکی اعتراف بخوبی عیاں ہے کہ "سعودی عرب اور قطر خفیہ طور پر داعش سمیت دہشت گرد ٹولوں کی مالی مدد کرتے ہیں اور انہیں سامان رسد پہنچاتے ہیں"۔
علاوہ ازیں اسلام کی سعودی تفسیر محدود، خشک اور متعصبانہ ہے اور سعودیوں نے پٹروڈالروں کی مدد سے اسی تفسیر کو پوری دنیا میں فروغ دیا ہے جس کے نتیجے میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں انتہاپسند تنظیمیں معرض وجود میں آئی ہیں جو ہزاروں دہشت گردوں پر مشتمل ہیں اور وہ کسی وقت بھی اور کہیں بھی کاروائی کرسکتے ہیں اور یہ سب حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ ٹرمپ ـ یا امریکہ ـ کے ساتھ سعودیوں کا ہنی مون بہت دیر تک جاری نہیں رہ سکتا اور شیردار گائے کا دودھ خشک ہوجانے کی علامتیں بھی بڑی واضح ہوچکی ہیں اور جب امریکہ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اس گائے پر اٹھنے والے اخراجات اس سے حاصل ہونے والے دودھ سے زیادہ ہوچکے ہیں، تو وہی لوگ اسے ذبح کریں گے جو اس کا دودھ دوہتے رہے ہیں۔
https://fa.alalam.ir/news/3813426
ٹرمپ نے سعودی بادشاہ سلمان سے سعودی عرب کی سلامتی کی قیمت ادا کرنے کا مطالبہ اس وقت کیا تھا جب [واشنگٹن پوسٹ کے مطابق] سلمان نے ان سے درخواست کی کہ "مشرق وسطی کے ایک ملک میں خاص قسم کے ٹھکانوں پر خفیہ طور پر حملہ کریں"، جس کے جواب میں ٹرمپ نے ابتدائی طور پر 4 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے اس ٹیلیفونک گفتگو میں سلمان کی توہین کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram