پاک امریکہ تعلقات کا پس منظر و پیش منظر

پاک امریکہ تعلقات کا پس منظر و پیش منظر

وقت کی ضرورت ہے کہ ہم افغانستان سے متعلق اپنی عشروں پرانی پالیسی میں تبدیلی کریں، اپنی داخلہ اورخارجہ پالیسی کے خد و خال واضح کریں،روس ، چائینہ، ایران ، ترکی سے مضبوط دوستی کے رشتے قائم کریں،امریکہ سے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

بقلم: سیّد تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
امریکی صدر کا ٹویٹ ایک پالیسی ٹویٹ ہے اور یہ٢٠١٨ء کے آغاز میںامریکی پالیسی کی تبدیلی اور پاکستان، امریکہ تعلقات کے حوالے سے حیرت انگیز قسم کی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سال کے پہلے ہی روز پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران ٣٣ بلین ڈالر امداد کو حماقت قرار دینا، امداد کے بدلے میں پاکستان کی جانب سے جھوٹ  اور دھوکا ملنا  اور پاکستان کے کردار کو ڈبل گیم قرار دینا،  اور پھر پاکستان کو امداد کی فراہمی روکنے کا اعلان کر کے ٢٥٥ ملین ڈالرز یعنی ٢٨ ارب روپے کی فوجی امداد پر پابندی لگا دینا،سنگینیء حالات کی جانب واضح اشارہ ہے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف کا سخت جواب اور تاریخ میں پہلی بار کسی امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کہ احتجاج ریکارڈ کروایاگیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ  نے قومی سلامتی کے خلاف کوئی کام کیا تو فیصلہ ریاست کرے گی اور جواب عوامی امنگوں کے مطابق دیا جائے گا۔ کور کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں حالات کا جائزہ لیا گیا۔ چین اور ترکی نے اس صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی،  ڈی جی ایم او،ڈی جی آئی ایس پی آر سمیت وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیرداخلہ اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی اور ملک کی سول وعسکری  قیادت نے مشترکہ مؤقف اپناتے ہوئے امریکی صدر کے بیان کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ اپنے وسائل اور معیشت کی قیمت پر لڑی، پاکستانی قوم نے دہشتگردی کیخلاف مثالی اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا اوران قربانیوں اور شہدا ء کے خاندانوں کے دُکھ درد کا مالی قدر سے موازنہ کرنا ممکن نہیں۔ اگرچہ موجودہ امریکی انتظامیہ نے یقینی طور پر پاکستان کے حوالے سے انتہائی سخت رویہ اپنایا ہے لیکن اوباما اور بش انتظامیہ نے بھی مسلسل پاکستان سے د ہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں ڈو مور کا مطالبہ کیا تھا،اور یہ حکومتیں بھی پاکستان کے کردار کے متعلق اس شبہے کا شکار تھیں کہ پاکستان ان کے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو  یوں لگتا ہے کہ مستقبل میں اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ پاکستان کو اب مسلسل عالمی سطح پر تنہا کیا جائے گا، یو ایس ایڈ میں بھی کمی سمیت ورلڈ بینک، ایشائی بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں کی طرف سے بھی پاکستان کی مدد کا سلسلہ کم اور معاشی اور دفاعی امدا د میں مزیدپابندیاں لگائی جائیں گی۔ مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی آڑ میں ڈراؤن اٹیک اور ایبٹ آباد طرز کے آپریشن بھی خارج از امکان نہیں۔ امریکہ کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اگر دیکھا جائے تو وہ قیام پاکستان سے لیکر اب تلک  غلطیوں اور امریکی مفادات کے تحفظ سے بھر ی پڑی ہے  اور بد قسمتی سے ہمارے حکمران اور پالیسی ساز ادارے اس بے توقیری کے خود ذمہ دار ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کی غلطیوں کی ایک طویل فہرست ہے۔امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے ١٩٥٤ء میں ساؤتھ ایسٹ  ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن  (سیٹو) کے نام سے کمیونزم کا راستہ روکنے کے لئے ایک فوجی اتحاد بنایا گیا جس میں امریکہ ، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، فلپائن اور تھائی لینڈ کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی اس میں شامل ہوا حالانکہ ہندوستان  اس میںشامل نہیں تھا ۔ ١٩٥٥ء میں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (سینٹو) کے نام سے بننے والے اتحاد میں پاکستان بھی برطانیہ ، ترکی، ایران، عراق اور بعد میں شامل ہونے والے امریکہ کے ساتھ شامل تھا۔ان فوجی اتحادوں کے بعد  ١٩٦٠ء  میں جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت نے بڈ ائر بیس سے امریکہ کے جاسوس طیاروں کو پرواز کی اجازت دی۔سابقہ سوویت یونین کی جانب سے مار گرائے جانے والے جاسوس طیارے کے پائلٹ گیری پاور نے  پیرا شوٹ سے چھلانگ لگاکر جان بچائی اور گرفتاری پر اس کے انکشاف کے بعد دنیا کو پتہ چلا کہ پاکستان نے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کر رکھے ہیں۔  ١٩٦٥ء  کی جنگ میں  ہمارے  فوجی اتحادی امریکہ نے ہمارا ساتھ نہیں دیا بلکہ ہماری امداد بھی بند کردی۔ ١٩٧١ء کی جنگ میں امریکی بحری بیڑے کے انتظار میںڈھاکہ ڈوب گیا۔ ١٩٧٤ء میں ہندوستان کے ایٹمی دھماکے جواب میں جب  پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے  ایٹمی پروگرام شروع کیا تو امریکی صدر جمی کارٹر نے بھٹو کو ایٹمی پروگرام بند کرنے کے لئے زور ڈالنا شروع کر دیا اور بھٹو کے انکار پر امریکی سی آئی اے نے پاکستان میں ایک بھٹو مخالف اتحاد بنوایا، ایجی ٹیشن شروع کروا کر جنرل ضیاء الحق کے ذریعے مارشل لاء لگوا دیااور پھربعد ازاںفوجی آمر اور مذہبی جماعتوں کی ملی بھگت سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے کر پاکستان مین انتہا پسندوں کے ہاتھ مضبوط کر دئیے۔آزادی کے فوراََ بعد امریکیوں کی تقلید میں پاکستان میں بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان  پر پچاس کے عشرے میں جبکہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)  پر ستر کے عشرے میں پابندی لگا ئی گئی جس سے انتہا پسند دائیں بازو کے نظریات کو فروغ حاصل ہوا جسکا ثمر آج ہمارے سامنے ہے۔ ١٩٧٩ء میں افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کی مداخلت کے بعد جنرل ضیاء الحق کی مدد سے پاکستان کو عملاََ امریکی سی آئی اے اورعالمی جہادی تنظیموں کا بیس کیمپ بنا دیا گیا۔  پاکستان نے دس سال تک افغانستان میں روسی فوج کے خلاف جنگ کو اپنی  جنگ سمجھ کر لڑا اور آخر کار اس جنگ نے سوویت یونین کو اتنا کمزور کردیا کہ اس کے  ٹوٹنے سے دنیا میں طاقت کا توازن ختم ہو گیا۔ ١٩٨٠ ء میں امریکہ کی سوویت یونین جنگ سے قبل پاکستان ایک اعتدال پسند ملک تھا۔ اس جنگ سے پاکستان کو پچاس لاکھ سے زائد مہاجرین، بندوق ، منشیات کلچر، دہشت گردی، انتہا پسندی ،فرقہ واریت اور مذہبی جنونیت ورثہ میں ملی ۔ ہزاروں غیر ملکی امریکہ کی جنگ کے لئے پاکستان میں ٹریننگ کے لئے بھیجے گئے۔ اسامہ بن لادن بھی ان میں سے ایک تھا  جسے مبینہ طور پر نائن الیون کا ماسٹر مائینڈ کہا جاتا ہے۔ نائن الیون کے بعد جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے فوجی اڈے، بڈھ بیر اور شمسی ائیر بیس امریکیوںکے حوالے کر دیئے۔ جنرل مشرف کی مدد کے بغیر افغانستان سے طالبان کو نکالنا ناممکن تھا،  امریکہ نے ڈبل گیم کرتے ہوئے  پاکستان کی مدد سے افغانستان سے طالبان کو نکال کر وہاں  ہندوستان کو لا بٹھایا لیکن ہمارے پالیسی ساز اس دوہرے معیار کو نہ سمجھ سکے۔تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے ہر فوجی ڈکٹیٹر دور میں اسکی مدد کی ، اسکے عرصہ اقتدار کو دوام بخشا اور معاشی اور فوجی امداد میں اضافہ کیا۔ لیکن ہر منتخب  جمہوری حکومت کی امداد میں کئی گناہ کمی  اور اسکے خلاف سازشوں میں غیر جمہوری قوتوں کی مدد کی۔  ہیروشیما، ناگا ساکی، شام، عراق، افغانستان اور لیبیا جیسی مہم جوئیوں کی تاریخ لکھنے والا ملک آج ہماری گزشتہ چالیس سال کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کر رہا۔امریکی صدر یہ بھول گئے کہ افغانستان میں امریکہ کی لگائی ہوئی آگ کے باعث ہزاروں پاکستانی شہید ہو ئے اور پاکستان  نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں پیش کیں اُسکی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی لیکن اسکے بدلے میں آج پاکستان کو اس کے ماضی کے کردار کے حوالے سے سراہنے کی بجائے دھتکارا جارہا ہے۔امریکی صدرنے پاکستان کو ٣٣بلین ڈالرز دینے کا دعویٰ کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ٣٣ ارب ڈالرز کے مقابلہ میں پاکستان کا نقصان  ١٢٣  ارب ڈالرز کا ہوا ہے۔پاکستان کے زمینی و فضائی رستے جو امریکی استعمال کرتے  رہے ان کے معاوضے کو کہیں ذکر نہیں کیا جارہا اور ان سروسز کے معاوضے کو امداد بنا دیا گیا۔  اس ساری صورتحال میںہمیں آج امریکی کردار کے ساتھ ساتھ اپنا کردار بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ریمنڈ ڈیوس کی کتاب  ''کرائے کا فوجی ''  پڑھیں تو جس طرح اس نے پاکستانی جیل میں گزارے ایام اور سیاسی و سفارتی  بحران کی کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے شرمناک حد تک پاکستانی سیاستدانوں، پولیس، انٹیلی جنس، سول ملٹری  اسٹیبلشمنٹ کا ذکر کیا، بحیثیت پاکستانی ہر لفظ پہ احساس حقارت ، شرمندگی اور بے بسی کے تازیانے رسید ہوتے ہیں ۔ ہمیں اس حقیقت کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام لگانے کی بنیادی وجہ صرف افغانستان نہیں جہاں وہ جنگ ہار رہا ہے  بلکہ اُسے اصل غصہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور چین پاکستان اقتصادی راہداری اورر وس کو گرم پانیوں تک رسائی دینے کی پیشکش  اور ایران کے ساتھ تعلقات بحال کرنے پر ہے۔ امریکہ ،پاک چین راہداری یعنی سی پیک کو تیزی سے تکمیل کے مراحل کی جانب بڑھتا ہوا دیکھ کر تلملا رہا ہے۔ وہ پاکستان کو امریکی اثر و رسوخ سے نکلتا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتا دیکھ کر سیخ پا ہو رہا ہے۔ امریکی سفارخانہ منتقل کرنے اور اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف  پر بھی امریکہ خاصا ناراض ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم افغانستان سے متعلق اپنی عشروں پرانی پالیسی میں تبدیلی کریں،  اپنی داخلہ اورخارجہ پالیسی کے خد و خال واضح کریں،روس ، چائینہ، ایران ، ترکی سے مضبوط دوستی کے رشتے قائم کریں،امریکہ سے تعلقات کا ازسر نو جائزہ لیں اور برابری کی سطح پر اور ملکی مفاد میں ان سے بات کریں، ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل  میںکسی پراکسی وار کا حصہ نہ بنیں اورایک آزاد و خود مختار اور غیر ت مند ریاست بن کر دنیا میں عزت و وقار سے جینے کا عزم کریں اسی میں ہماری اور ہمارے ملک کی بقاء ہے۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram