پاکستان کی نئی حکومت: امیدیں اور مسائل

پاکستان کی نئی حکومت: امیدیں اور مسائل

عمران خان کے نعرے تو کافی دل موہ لینے والے تھے، عملی سیاست میں ان نعروں کا پاس رکھنے کے لئے انہیں پاکستانی عوام کی مسلسل حمایت کی ضرورت ہوگی اور اگر وہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے کچھ اہم قدم اٹھا لیں اور ملکی ضروریات کو ان کی فطرتی راستوں سے پورا کریں تو بیرونی دباؤ بھی زيادہ مؤثر نہیں ہوگا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر تجزیاتی ویب گاہ کے مطابق، پاکستان ان ہی اسلامی ممالک میں سے ایک ہے جو ایران کا پڑوسی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ آبادی کے لحاظ سے پہلے تین بڑے مسلم ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلق گوکہ کبھی کبھی بیرونی آندھیوں سے پھیکا پڑ جاتا ہے لیکن راقم کا اپنا خیال تو یہ ہے کہ ان تعلقات کو دشمنی کی حد تک لے جانا کسی بھی مستکبر ملک یا اس کے کسی کٹھ پتلی حکمران یا کسی اسرائیل نواز تکفیری دہشت گرد ٹولے کے بس کی بات نہیں ہے۔
بالفاظ دیگر ایران اور پاکستان کے درمیان اشتراکات اتنے ہیں، اور تاریخی لحاظ سے ان کے درمیان نہایت گہرے تعاون کے واقعات اتنے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے دشمنی کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا۔
بیرونی آندھیوں میں سے بعض مغربی ہوتی ہیں اور بعض عربی ہوتی ہیں اور ان آندھیوں کے اثرات کا دارومدار البتہ اندرون ملک حکمرانوں کے رویوں پر ہوتا ہے۔
جہاں تک ہمیں معلوم ہے مسٹر نواز شریف، گذشتہ انتخابات میں شرکت کا ارادہ ہی نہیں رکھتے تھے لیکن بنی سعود اور انگریز شاہی نے انہیں ایسا کرنے کی دعوت دی تھی تا کہ اپنے مقاصد حاصل کرسکیں اور جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ان کا پانچ سالہ دور خطے میں بھی اور دنیا کی سطح پر بھی بہت اہم واقعات رونما ہوئے جن میں پاکستان کے کردار کو مد نظر رکھ کر شریف خاندان کو ایک بار پھر پاکستان کا اقتدار دیا گیا تھا۔ امریکہ میں ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد امریکہ نے اپنا اصل چہرہ بے نقاب کیا اور سب سے پہلے اپنے دوستوں کو نشانہ بنانا شروع کیا اور پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے خلاف تلوار سونت لی جو ماضی میں امریکہ کے ساتھ تزویری شراکت کے دعویدار تھے یا پھر اس کے خواہشمند تھے، لیکن ٹرمپ صاحب نے سب کے سپنے چکنا چور کر دیئے، بدعنوانی کے الزام میں نواز شریف کو گھر بھیج دیا گیا جو بعدازاں گرفتار بھی ہوئے، اور خارجہ پالیسی کے سلسلے میں پاکستان کے موقف میں بےمثل سی تبدیلی دیکھنے کو ملی؛ جبکہ موجودہ نامزد وزیر ا‏عظم تو کافی عرصے سے پاکستان کے استقلال اور خودمختاری کی بات کررہے تھے اور انہیں بھی زیادہ بہتر موقع میسر آیا کیونکہ ان کو تو امریکہ کی بےوفائیوں کے اثبات کے لئے بہت موٹا ثبوت مل چکا تھا۔
حالیہ انتخابات میں عمران خان کو پارلیمان میں اکثریت ملی ہے جس کی حمایت اور مخالفت میں اندرون اور بیرون ملک مختلف تبصرے سامنے آرہے ہیں اور تبصروں میں ایک اہم اور مشترکہ نکتہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ “عمران خان کو پاک فوج کی حمایت حاصل ہے” اور پاکستان جیسے ملک میں فوج کی حمایت بہرصورت ایک جماعت کے لئے بہت اہمیت رکھتی ہے اور اگر فوج اپنی مرضی مسلط نہ کرے اور اسے کام کرنے دے اور اس کے اپنے ارادے نیک ہوں تو وہ جماعت حکومت بنا کر بہتر انداز سے ملکی معاملات کو منظم کرسکے گی۔ اور پھر وہ جماعت خودمختاری، پڑوسیوں اور اپنے روایتی دوست ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پر یقین رکھتی ہو تو اس سے ملک بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ دریں اثناء ان انتخابات کو اس لحاظ سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ تیسرا موقع ہے، جب بغیر کسی فوجی مداخلت کے پارلیمانی حکومت قائم ہو گی۔
عمران خان کی تحریک انصاف اب مخلوط حکومت بنانے کی پوزيشن میں ہے لیکن پاکستان میں اس سے پہلے حکومتوں کے اثرات باقی ہیں جن کا علاج کرنا تحریک انصاف کے لئے درپیش مسائل میں سے ایک ہے؛ ملکی معیشت اور بجلی نیز ایندھن کا بحران بھی سامنے ہے، عوامی زندگی کو بہتر بنانا بھی عمران خان کے انتخابی نعروں میں سے ایک تھا، جو بجائے خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ امن و امان کی صورت حال ابتر ہے اور حالیہ انتخابات کے دوران کوئٹہ سمیت متعدد علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں ۱۸۰ افراد مارے گئے ہیں، چنانچہ انتہاپسندی بھی نئی حکومت کے لئے ایک چیلنج سمجھی جارہی ہے جبکہ اس سے پہلے عمران خان کا موقف اس حوالے سے کبھی بھی شفاف نہیں رہا ہے، گوکہ اس سے پہلے وہ پاکستان کا اقتدار سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ ادھر دنیا بھر میں دہشت گردی کو بطور اوزار استعمال کرنے والے امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں قائم یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے ایشیا سینٹر کے معید یوسف نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں کہا ہے کہ “دہشت گردانہ کاروائیاں پاکستان کے سیاسی استحکام کے لیے خطرہ نہیں ہیں”، اور اس عجیب موقف کو الگ سے زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل نواز حکومت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی بھی زيادہ شفاف نہیں رہی ہے، یمن پر سعودی یلغار ہو یا شام میں اسرائیل اور عرب حکمرانوں کا ملا جلا موقف ہو، یمن پر سعودی یلغار ہو یا فلسطین اور قدس کے حوالے سے یہودی ریاست کو رعایتیں دینے کے سلسلے میں بنی سعود سمیت عرب حکام کی ٹرمپ نوازی ہو، یا ایران کی سستی گیس کی پاکستانی سرحد تک پہنچنے والی پائپ لائن یا ایران کے خلاف مغربی پابندیوں کا ساتھ دینے کا مسئلہ ہو، پاکستان کا موقف کبھی بھی ایک بڑے اور آزاد و خود مختار اسلامی ملک کے شایان شان نہیں رہا ہے؛ چنانچہ داخلی مسائل کے علاوہ خارجہ پالیسی میں اصلاحات ـ جو عمران خان کی انتخابی مہم کی کامیابی کے بنیادی نعروں میں شامل تھیں اور ان نعروں نے ان کی کامیابی میں کردار کیا ہے اور عملی جامہ پہنائے جانے کی صورت میں یہ اصلاحات پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود میں کردار ادا کریں گی ـ بھی نئی حکومت کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عمران خان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حامی رہے ہیں اور امریکہ جو بجائے خود عملی طور پر افغان طالبان سے کئی مواقع پر مذاکرات کرتا رہا ہے، عمران خان کے موقف کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جس کی بنا پر امریکہ کی طرف سے بھی انہيں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عمران خان کو افغانستان کی جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی کردار پر کڑی تنقید کے حوالے سے امریکی مخالفت کا بھی سامنا ہوگا جبکہ وہ پاکستان میں چین کی بالادستی کے بھی مخالف رہے ہیں۔ اور پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری پر ان کی تنقید کو اندرونی طور پر بھی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اور پھر عمران کو پارلیمان میں غالب اکثریت حاصل نہیں ہے چنانچہ مخلوط حکومت بنانے کی صورت میں ان کی اپنی پوزیشن کمزور ہوگی اور مضبوط اپوزیشن کا سامنا بھی ہوگا، جس میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی شامل ہونگی اور انہیں اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے سلسلے میں مسائل کا سامنا ہوگا اور امریکہ اور اس کے عرب حواریین اپوزیشن کے ذریعے بھی اپنا دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے اور مشرق وسطی کے سلسلے میں پاکستان کی سابقہ پالیسی کی تبدیلی میں بھی اور چین اور ایران سمیت پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی بحالی اور اپنی تزویری ضروریات کو پڑوسیوں سے پورا کرنے کے سلسلے میں بھی، رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بہرصورت، عمران خان کے نعرے تو کافی دل موہ لینے والے تھے، عملی سیاست میں ان نعروں کا پاس رکھنے کے لئے انہیں پاکستانی عوام کی مسلسل حمایت کی ضرورت ہوگی اور اگر وہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے کچھ اہم قدم اٹھا لیں اور ملکی ضروریات کو ان کی فطرتی راستوں سے پورا کریں تو بیرونی دباؤ بھی زيادہ مؤثر نہیں ہوگا، بایں ہمہ عمران خان کی عملی سیاست کے سلسلے میں بہت کچھ کہنا اس وقت قبل از وقت ہے، صرف اتنی امید کی جاسکتی ہے کہ نئی حکومت پاکستانی عوام کے لئے بھی، عالم اسلام کے لئے بھی اور جنوبی ایشیا کے لئے بھی اچھی حکومت اور نئے وزیر اعظم اچھے وزیر اعظم بن کر ثابت کرے۔
اس امید کے ساتھ کہ عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف اپنے نعروں اور دعؤوں اور وعدوں پر عمل کرتے ہوئے، “دنیائے سامراجیت کے آگے دنیائے اسلام کے اگلے مورچے «ایران» اور ۲۲ کروڑ مسلمانوں کے مسکن «پاکستان»” کے درمیان کا روایتی دوستانہ تعلق اور تعاون بحال کرنے میں مثبت کردار ادا کرتے ہوئے سابقہ حکومتوں کی غفلتوں کا ازالہ کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram