پابندیوں کی توڑ کے لئے پابندی زدہ ممالک کا کلب بنایا جائے

پابندیوں کی توڑ کے لئے پابندی زدہ ممالک کا کلب بنایا جائے

"پابندی زدہ ممالک" کے کلب کا قیام، عالمی توازن معرض وجود میں لانے کے لئے طاقتوں کے مثبت توازن کا باعث ہوگا، اور یہ کلب کمزور کھلاڑیوں کو دنیا کے بڑے اور سامراجی کھلاڑیوں کا سامنا کرنے کے مرحلے تک، تقویت پہنچائے گا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ نے گذشتہ تین دہائیوں کے دوران، مغربی ایشیا میں، اپنی تزویری حکمت عملی کو مسلسل تبدیل کرکے، واضح کیا ہے کہ یہ ملک ولسنزم (1) اور جیکسنزم (2) کے انتخاب میں تذبذب کا شکار اور ایک واحد مکتب کے انتخاب اور اسے تقویت پہنچانے سے عاجز رہا ہے۔ یہ جو امریکہ کبھی ایک ہمہ جہت جنگ کا آغاز کرکے بزعم خود جمہوریت کے نفاذ کے لئے کوشاں ہوتا ہے اور کبھی اپنی من مانی جمہوریت کے فروغ کے لئے ـ  رائج عوامی جمہوریتوں کے خلاف ـ رنگین انقلابوں کے درپے نظر آتا ہے اور دعوی کرتا ہے کہ وہ اس طرح ایک تباہ کن جنگ کا سد باب کررہا ہے، اس حقیقت پر سے پردہ اٹھاتا ہے کہ امریکہ اپنی اہم خارجہ پالیسیوں میں عدم استحکام کا شکار ہے۔
علمیاتی (Operational) سطح پر، یا حکمت عملی کی سطح پر ایک پالیسی میں اس طرح کی لچک شاید بظاہر تخلیقیت کی علامت ہو لیکن سب سے زیادہ تخلیقی طریقہ یہ ہے کہ عام اور خاص ڈھانچے کو تخلیق کیا جائے جو مشترکہ اصولوں پر استوار ہو اور جس کا لازمہ یہ ہے کہ ثابت اور متعین اور غیر متغیر اصولوں کو اخذ کیا جائے اور ان کی اصولی تشریح کی جائے۔
امریکہ کی خارجہ پالیسی کے قطعی اصول انیسویں صدی عیسوی میں جیکسنزم کے مکتب کی بنیاد پر مرتب کئے گئے تھے جن کے تحت دنیا کے مختلف علاقوں میں فوجی مداخلت کو ایک اصول کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا اور امریکی مفادات کو تزویری منصوبہ سازی کی بنیاد قرار دیا گیا تھا؛ لیکن بیسویں صدی میں امریکہ کے اٹھائیسویں صدر ووڈرو ولسن (Woodrow Wilson) ولسنزم نامی مکتب کے بانی قرار پائے جنہوں نے اس مکتب کے ذریعے مناقب، شرافتوں اور اقدار کو امریکی مفادات کے متبادل کے طور پر اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد قرار دیا اور "جنگ" کو امریکی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانے میں اہم ترین متبادل کے طور پر، مسترد کردیا، اور جمہوریت کی بنیاد پر ـ عالمی قوتوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کو جنگ کے متبادل کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
لیکن اس اثناء میں، پابندیوں کا نظام (تاکتیکی سطح پر) خارجہ پالیسی میں کسی واحد مکتب کے انتخاب میں، اسی تذبذب اور جھجھک کو ثابت کررہا ہے۔ کبھی عراق جیسے ملک کو مختلف پہلؤوں میں پابندیوں کا نشانہ بناتا ہے تا کہ اس کو کمزور کیا جائے اور اس کی عوامی اور عسکری قوت کو فنا کرکے اس کے خلاف فوجی اقدام کر سکے اور اس ملک کی حدود کو ایک ہمہ جہت جنگ مسلط کرکے اپنے قبضے میں لیا جاسکے؛ اور کبھی ایران پر پابندی لگاتا ہے جس پر وہ حملہ کرنے سے عاجز ہے۔ پابندی اس لئے لگاتا ہے کہ ایرانی قوم اپنی حکومت کی سامراج دشمن پالیسیوں سے اکتا جائے، اور آخر کار اپنی حکومت کے مد مقابل کھڑی ہوجائے اور ایک رنگین انقلاب کا راستہ ہموار ہو اور جمہوریت کے بہانے حکومت کا تختہ الٹنے اور اکثریت کے حقوق کے حصول کا مطالبہ کرسکے، وہ اکثریت جو پابندیوں کے دوران معاشی طور پر کمزور ہوچکی ہے اور مزید سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کرنے اور پابندیوں کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔
کہنہ مشق امریکی سیاستدان، ہینری کسینگر (Henry Kissinger) کا کہنا ہے کہ "سیاست اور پالیسی سازی کا بنیادی مقصد "طاقت کا توازن اور تعادل" پیدا کرنا ہے اور امریکہ نے اسی مقصد سے بعض ممالک کے لئے پابندیوں کی پالیسی چن لی ہے، تا کہ پابندی لگا کر اور کمزور کرکے، اس قوم اور حکومت کو عالمی برادری سے الگ کرکے تنہا کر دے، تا کہ وہ قوم یا تو اپنے مثالی اہداف و مقاصد کے حصول سے پسپا ہوجائے یا پھر بہت کم اخراجات برداشت کرکے اس ملک پر فوجی چڑھائی کرکے قبضہ کیا جا سکے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ امریکہ کی "پابندیوں کے نظام" کی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا کوئی بنیادی پالیسی یا راہ حل موجود ہے؟
کیا وہ ملک جو امریکہ کی پابندیوں کا شکار ہوا ہے، پابندیوں کے اس کھیل کو اس طرح سے کھیل سکتا ہے کہ اس کی دونوں انتہاؤں میں امریکہ کی شکست مضمر ہو؟ یا پھر اسے صرف پابندیوں کے نتائج کے بارے میں سوچ بچار کرنا چاہئے، جس کا سب سے بڑا نتیجہ صرف یہ ہوسکتا ہے کہ بہت بڑی قیمت ادا کرکے پابندیوں کے بعض اثرات کو کچھ کمزور کیا جائے؟ کیا پابندیوں سے نمٹنے میں ـ جس کی بساط امریکہ بچھاتا ہے اور اس کے قواعد بھی امریکہ ہی متعین کرتا ہے ـ کھیل کو اس طرح سے آگے بڑھایا جاسکتا ہے کہ امریکہ پابندیوں سے پسپا ہونے کی صورت میں بھی اپنے آپ کو شکست خوردہ پائے اور پابندیاں جاری رکھنے پر اصرار کی صورت میں بھی، وہ ہارا ہوا کھلاڑی قرار پائے؟
اس طرح کی تزویر (strategy) کے لئے نظریۂ مقناطیسی پالیسی (magnetic policy) سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس تزویر کے مطابق، مثبت قطب اور منفی قطب کی موجودگی میں ـ جو ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہیں ـ ایک نئے رجحان کو معرض وجود میں لایا جاتا ہے جس کے وجود (اور تحفظ) کا تقاضا قطبین کے درمیان مسلسل تنازعہ ہے۔ یہاں کھیل اسی طرح آگے بڑھے گا کہ اس کا نتیجہ ہماری پسند ہی کا ہوگا؛ اور دو متضاد قطبوں کے تصادم سے اپنی پسند کا بھرپور فائدہ اٹھاکر اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھ سکیں گے۔ ممکن ہے کہ ہمارا مطلوبہ ہدف متنازعہ فریقین یا دو میں سے ایک فریق کے لئے مفید، اور اس کی طرف کی تائید و حمایت سے بہرہ ور ہو، یا نہ ہو؛ یا پھر ممکن ہے کہ ہمارا مطلوبہ ہدف متنازعہ فریقین میں سے ایک یا دونوں کے لئے نقصان دہ ہو یا نہ ہو؛ لیکن مقناطیسی پالیسی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ دو متضاد قطبوں کے درمیان تصادم اور تضاد نیا رجحان متعارف کرانے کا لازمہ ہے اور اب امریکہ نے 25 ممالک کے متعدد افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں اور یہ تصادم اور تضاد رونما ہوچکا ہے جس کو ایک عظیم موقع کی نگاہ سے دیکھا جاسکتا ہے اور اس کو پابندی زدہ ممالک کا کلب بنا کر عملی طور پر ایک سنہری موقع میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
پابندی زدہ ممالک کا کلب تشکیل دینے کا مرکزی نقطہ "معیشت" ہے اور اس کی ثقافت اور اس پر حکمفرما روح، امریکہ کی اجارہ داری اور سامراجیت کے خلاف جدوجہد سے، عبارت ہوگی۔
امریکی وزارت خارجہ کی شائع کردہ فہرست کے مطابق سنہ 2014ع‍ میں بیلاروس، میانمر، کیوبا، جمہوری جمہوریہ کانگو، ایران، سربیہ، مقدونیہ، مغربی بالکان، آئیوری کوسٹ، عراق، لبنان، لیبیا، شمالی کوریا، صومالیہ، سوڈان، شام، یمن، زمبابوے اور لائبیریا کو وائٹ ہاؤس کی طرف سے 23 امریکی قوانین کی روشنی میں پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے؛ اور بعد کے برسوں میں روس اور ترکی سمیت کئی دیگر ممالک کے متعدد افراد اور کمپنیوں کو امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
مقناطیسی پالیسی کی ایک شق یہ ہے کہ نیا رجحان کچھ اس طرح سے تیار کیا جاتا ہے کہ متنازعہ قطبین میں سے ایک قطب کو بہر صورت ہارنا پڑتا ہے؛ چاہے وہ اس تقابل اور تصادم کو چھوڑ کر پسپا ہوجائے، چاہے اس پر ڈٹا رہے۔ اگر پسپا ہوجائے تو یہ شکست کی ایک قسم ہوگی اور اگر تنازعے پر اصرار کرے تو اس کو فریق مقابل یا پھر تیسرے فریق کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کھیل کا انجام اس قطب (امریکہ) کے لئے شکست کے سوا کچھ بھی نہ ہوگا۔
نظریۂ "مقناطیسی پالیسی" کی روشنی میں "پابندیوں کے نظام" نامی مشکل کا راہ حل، متشاکل (Symmetric) طریقے سے نہیں بلکہ غیر متشاکل (Asymmetric) انداز سے، پیش کیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں اگر پابندی زدہ ممالک پر پابندی لگائی جائے تو یہ خطرہ ایک عظیم موقع میں تبدیل ہوگا؛ ایسے 25 ممالک کے کلب کو ـ جن کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہے اور جن کے پاس 80 کروڑ انسانوں کی منڈی بھی ہے ـ کو ایک غائرانہ اور دقیق حکمت عملی کے ذریعے اگلے پانچ سال کے عرصے میں کم از کم دو ارب کی آبادی تک پھیلایا جاسکتا ہے اور مزید ممالک اور اقوام و ملل کو ـ جنہیں بہر صورت سامراجی ریشہ دوانیوں سے خطرہ ہے ـ اس کلب میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ (ان شاء اللہ)
پابندی زدہ ممالک کا کلب تشکیل دیا جائے تو پابندیوں کا یہ کھیل امریکہ کے لئے دونوں صورتوں میں شکست پر منتج ہوگا۔ یہاں پابندی زدہ ملکوں کا کلب "دوسری دنیا" کہلائے گا اور امریکہ جس ملک پر پابندی لگا کر اس کو پہلی دنیا سے الگ کرے گا، وہ براہ راست دوسری دنیا ـ یعنی پابندی زدہ ممالک کے کلب ـ میں شامل ہوجائے گا اور یوں امریکہ اپنے ہی ہاتھ سے پہلی دنیا کے حجم کو کم سے کمتر اور دوسری دنیا کے حجم کو عظیم سے عظیم تر بنا دے گا؛ اور اگر پھر دوسری دنیا کا حجم بڑھنے کے خوف سے اس ملک پر پابندی لگانے کے اقدام سے پیچھے ہٹے گا تو اس سے حاصل ہونے والی شکست پابندی جاری رکھنے سے حاصل ہونے والے نقصانات کی نسبت بہت بڑی اور ہولناک ہوگی۔
"پابندی زدہ ممالک" کے کلب کی تشکیل کا مقصد دنیا میں طاقت کا توازن قائم کرنا ہے اور اس کی بنیاد میٹرنچ نظام (Metternich system) یعنی اقدار کے حوالے سے مشترکہ احساس ہوگا۔ قدر (value) یہاں سامراج کے خلاف جدوجہد ہے اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے قول کے مطابق "اگر ظالم اور مستکبر کا مقابلہ اللہ کی خوشنودی کی غرض سے نہ ہو تو بھی اس کا اپنا اجر و ثواب ہے"۔
پابندی زدہ ممالک کا کلب ایک ایسا ماحول فراہم کرسکتا ہے جس میں اگر کوئی ملک عزت نفس کے تحفظ، سامراجیت کے خلاف مزاحمت اور اپنے مثالی اہداف اور اقدار سے عدم پسپائی کی بنا پر امریکہ کے غیظ و غضب کا نشانہ بنے تو اس کی کمزوری طاقت میں تبدیل ہوجائے اور پابندی زدہ ممالک ایک دوسرے کے ساتھ عملی یکجہتی کے بدولت، ایسے طاقتور حلیف ممالک میں تبدیل ہوجائیں جو سامراجی ممالک کے اتحاد سے بہ آسانی نمٹ سکیں گے۔
میٹرنچ نظام میں ـ جس میں مشترکہ اقدار اتحاد کا سبب سمجھی جاتی ہیں ـ عالمی سطح پر توازن کی خاطر طاقتوں کے توازن کو مثبت نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ تاکتیکی نقطہ نظر سے طاقتوں کے توازن کے لئے دو جرمن اور انگریزی ماڈل پائے جاتے ہیں۔ جرمن ماڈل کے مطابق، زیادہ تر فریقوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا ایک منفی رویہ سمجھا جاتا ہے اور اس میں فریقین کے درمیان مشترکہ نقاط پانے اور دعؤوں کو معتدل کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے؛ اور دوسری طرف سے انگریزی ماڈل طاقتوں کے توازن کو مثبت نگاہ سے دیکھتا ہے جس کے تحت کمزور فریق کی حمایت کو مد نظر رکھا جاتا ہے جسے بنیادی طور پر دھمکی کے بعد عملی جامہ پہنایا جاتا ہے اور اس  ماڈل کی کارکردگی انفعالی (passive) ہے.
چنانچہ، "پابندی زدہ ممالک" کے کلب کا قیام، عالمی توازن معرض وجود میں لانے کے لئے طاقتوں کے مثبت توازن کا باعث ہوگا، اور یہ کلب کمزور کھلاڑیوں کو دنیا کے بڑے اور سامراجی کھلاڑیوں کا سامنا کرنے کے مرحلے تک، تقویت پہنچائے گا۔ اس سلسلے میں جرمن ماڈل کا تقاضا ہے کہ ایران پابندی زدہ ممالک کے کلب کے قیام کے لئے دیگر پابندی زدہ ممالک کے ساتھ رابطہ قائم کرکے، "امریکی سامراج کی مسلط کردہ پابندیوں کی مزاحمت" کے مشترکہ نقطے کی بنیاد پر، انہیں موجودہ اور امریکہ کے ترسیم کردہ عالمی برادری سے الگ کرکے، نئی عالمی برادری قائم کرے، اور اگلے مرحلے میں انگریزی ماڈل کے مطابق، دھمکی کے بعد، عملی میدان میں اترے؛ اور 5+1 (سوائے امریکہ) کو بھی اعزازی یا مبصر اراکین کے طور پر اس کلب میں آنے کی دعوت دے کر قوتوں کے اس توازن میں مثبت رویے کی بنیاد رکھے۔
اس مہم کو سر کرنے کے لئے ایک نئی عالمی برادری کے قیام کے بعد پابندی زدہ ممالک کے معاشی اور سیاسی تعلقات کو ایک بار پھر تعریف (Redefine) کیا جاسکتا ہے؛ یہاں تک کہ ایک مشترکہ زر مبادلہ یا واحد زر مبادلہ کو ڈالر کے متبادل کے طور پر سامنے لایا جائے۔ پابندی زدہ ممالک کا کلب یا نئی عالمی برادری ایک ارب انسانوں سے کچھ کم آبادی کی منڈی کی حامل ہے جو ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کو بھی اپنے کلب میں رکنیت دے سکے گی اور یوں یہ نئی عالمی برادری نئی اقوام متحدہ تنظیم کے قیام تک آگے جا سکے گی۔
اور آخری بات یہ کہ "پابندیوں کو لگام دینے کا واحد راستہ، پابندی زدہ ممالک کے کلب کا قیام ہے اور اس کلب کے قیام کے ساتھ عالمی سطح پر سامراج کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت کا نیا میدان معرض وجود میں آئے گا"۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: علی رضا فرقانی (عمومی پالیسی سازی کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے طالب علم)
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ ولسنزم: یہ امریکہ کے اٹھائیسویں صدر تھامس وڈرو ولسن (Thomas Woodrow Wilson)  (1921 – 1913) کے افکار سے ماخوذہ مکتب کا نام ہے جس میں ولسن کے چودہ اصول مندرج ہیں جن میں عالمی مسائل کے راہ حل کے طور پر جنگ کو مسترد کیا گیا ہے، عالمی قوتوں کے توازن پر زورد دیا گیا ہے اور جمہوریت کے فروغ کو جنگ سے بچنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
2۔ جیکسنزم: یہ امریکہ کے ساتویں صدر انڈریو جیکسن (Andrew Jackson) (1837 – 1829) کے نظریات سے ماخوذہ مکتب ہے جس کے بعض اصول یہ ہیں: قومی مفادات سیاست اور خارجہ تعلقات پر حاوی ہیں؛ دنیا کے دوسرے ممالک میں مداخلت ـ امریکی مفادات کے لئے ـ جائز ہے؛ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو بطور ایک بڑی طاقت، فروغ دینا چاہئے اور ضرورت پڑے تو خطرات کا مقابلہ عسکری حملے کی صورت میں کیا جائے۔
 
http://fna.ir/boem5c

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram