عبدالباری عطوان:

نیتن یاہو جنرل سلامی کا مشورہ سنجیدہ لے لے

نیتن یاہو جنرل سلامی کا مشورہ سنجیدہ لے لے

مشہور عرب اخبار نویس “عبدالباری عطوان” نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار “رای الیوم” میں لکھا: ایران اور حزب اللہ اسرائیلی خطرے کے مقابلے میں زبردست تسدیدی قوت کے حامل ہیں، چنانچہ ہم یہودی ریاست کے وزیر ا‏عظم نیتن یاہو کو مشورہ دیتے ہیں کہ ایران کی سپاہ پاسداران کے نائب کمانڈر انچیف جنرل سلامی کے اس مشورے کو سنجیدہ لے لے کہ “بحیرہ روم میں تیرنے کی تربیت حاصل کرو”۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، رای الیوم کے چیف ایڈیٹر اور مشہور عرب تجزیہ نگار “عبدالباری عطوان” نے اتوار کے روز اپنی یادداشت میں لکھا:
جنرل سلامی نے صوبہ اصفہان کے بسیجیوں سے خطاب کے دوران نیتن یاہو کو مشورہ دیا کہ بحیرہ روم میں تیرنا سیکھ لے کیونکہ مستقبل میں اس کے پاس سمندر کی طرف بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
اس بامعنی دھمکی نے بہت سوں کو حیرت میں ڈال دیا، گوکہ یہ کوئی نئی دھمکی بھی نہیں تھی اور اس سے پہلے حزب اللہ لبنان نے بھی اسرائیلیوں کو مشورہ دیا تھا کہ برے دن آنے کی صورت میں سمندر کی طرف بھاگ کھڑے ہوں، کیونکہ مقبوضہ سرزمینوں میں تعینات غاصبوں پر جب حزب اللہ کے میزائلوں کی بارش شروع ہوگی تو ان کے پاس فضائی اور زمینی راستوں سے بھاگنے کا موقع میسر نہیں ہوگا۔
ادھر سعودیوں نے حالیہ چند دنوں میں یہودی ریاست کے سامنے کسی قسم کا موقف اپنانے کے بجائے، لبنان اور بطور خاص حزب اللہ کو جنگ کی دھمکی دی اور ساتھ ہی ان کے حلیف نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک بار پھر مضحکہ خیز ناٹک رچا کر ایران کی ایک متروکہ عمارت کی تصویریں دکھا کر دعوی کیا کہ “یہ ایران کی خفیہ ایٹمی سرگرمیوں کا مرکز ہے” نیز دعوی کیا کہ حزب اللہ نے بیروت کے ہوائی اڈے کے قریب میزائل تیار کرنے کے تین ورکشاپ اور ذخیرے قائم کئے ہوئے ہیں۔ جس کے بعد یہودی ریاست کے چینل ۱۰ نے وٹسپ کے ذریعے ہزاروں پیغامات لبنانی صارفین کو بھجوا کر خبردار کیا کہ ان کے گھر میزائلوں کے ان ذخائر کے قریب واقعے ہیں جس کے جواب میں لبنانی وزیر خارجہ جبران باسیل نے ۶۷ بیرونی سفارتکاروں کی ایک ٹیم کے ساتھ جاکر مذکورہ علاقوں کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ نیتن یاہو نے ہمیشہ کی طرح پھر بھی جھوٹ بولا تھا۔
نیتن یاہو اپنے جھوٹے دعوے سے بخوبی واقف تھا ورنہ جس طرح کہ اس نے ۱۸ مہینوں میں شام پر ۲۰۰ حملے کئے ہیں، لبنان پر بھی حملہ کرتا اور اگر ممکن ہوتا تو ایران کے خفیہ ری ایکٹر پر بھی حملہ کرتا۔
حقیقت یہ ہے کہ نیتن یاہو حزب اللہ کی میزائل قوت سے بری طرح خوفزدہ ہے اور اسی بنا پر وہ لبنان کے کسی بھی علاقے پر حملہ کرنے سے پہلے سوچتا ہے اور ہزاروں بار سوچنے کے بعد وہ ایسا کوئی حملہ کرنے کی جرات نہيں کرسکا ہے۔
ایرانی جنرل [سلامی] کی بات صحیح ہے اور یہودی ریاست پر حملے کے لئے حزب اللہ کو ۸۰۰ کلومیٹر یا ۲۰۰۰ کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں کی ضرورت نہيں پڑے گی بلکہ اس کے لئے، اسرائیل کی نابودی کی غرض سے، ۳۰۰ کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل اور ہزاروں ڈرون کافی ہیں۔
ادھر شام نے طیارہ شکن و میزائل شکن S 300  روسی سسٹم خرید لیا ہے جو حزب اللہ کے تحفظ کے لئے بھی کافی ہیں کیونکہ ایس ۳۰۰ کے میزائل ۲۵۰ کلومیٹر تک کے علاقے کو تحفظ دیتے ہیں اور یہودی ریاست کے طیاروں کو لبنان کی فضا میں داخل ہونے سے قبل ہی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
یہودی ریاست کے جرنیلوں نے خود بھی بارہا اعتراف کیا ہے کہ ان کا آئرن ڈوم  (Iron Dome) میزائل شکن و طیارہ شکن نظام حزب اللہ کے حیفا، تل ابیب، نہاریا، عکا، ایلات اور دیمونا کی طرف داغے جانے والے ہزاروں میزائلوں کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہے۔
اب جبکہ حزب اللہ اور ایران کی تزویری میزائل صلاحیت نے ہہترین انداز سے علاقے میں فوجی توازن قائم کرلیا ہے اور شام کی حکومت نے اپنی سرزمین کا ۹۰ فیصد حصہ [امریکہ، یہودی ریاست، ترکی، امارات، قطر اور یورپی ممالک کے حمایت یافتہ] دہشت گردوں سے آزاد کرالیا ہے، ہم نیتن یاہو کو مشورہ دیتے ہیں کہ جنرل سلامی کے مشورے پر سنجیدگی کے ساتھ، عمل کرے، کیونکہ ایران مذاق نہیں کررہا ہے اور نیتن یاہو اور اس کی ریاست کے جبر اور بدمعاشی کا دور گذر چکا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۳


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram