نیا وزیر اعظم نیا پاکستان، عبد الباری عطوان کا اہم تجزیہ

نیا وزیر اعظم نیا پاکستان، عبد الباری عطوان کا اہم تجزیہ

عرب دنیا کے معروف تجزیہ نگار ’عبد الباری عطوان‘ نے ’رای الیوم‘ میں شائع کردہ اپنی یادداشت میں پاکستان کے نئے وزیر اعظم ’عمران خان‘ کی سادہ زیستی اور امریکہ کی پیروی ٹھکرانے کو عرب حکمرانوں کے لیے سبق آموز قرار دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عبد الباری عطوان نے پاکستان کے حالیہ انتخابات اور عمران خان کے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے کے بارے میں تحریر کی گئی اپنی یادداشت میں یوں تجزیہ کیا ہے:
’’امریکہ اور مغربی ممالک پاکستان میں عمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد مسلسل پاکستان کے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کرکٹ کے سابق بلے باز، فاسد حکمران نواز شریف کو قید کی زنجیروں میں جھکڑ کر وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہوئے ہیں۔ مغربیوں کی جانب سے پاکستان کے حالات میں حالیہ تبدیلیوں کو اہمیت دینے کی ایک وجہ یہ ہے کہ عمران خان غریب طبقے کی طرف توجہ دے رہے ہیں کہ جو پاکستان کی آبادی کی اکثریت کو تشکیل دیتا ہے۔
انہوں نے گھوٹالے اور مالی فساد سے مقابلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا اور حکومتی اداروں میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی، وہ خودکفا ہونا چاہتے ہیں اور امریکہ کی پاکستان پر دائمی اجارہ داری کو خاتمہ دینا اپنا بنیادی مقصد سمجھتے ہیں۔
عمران خان نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ہی اپنی سیاسی اور ذاتی زندگی میں منفرد آئیڈیل پیش کرنے کی ٹھان لی انہوں نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کی حلف برداری کے فورا بعد اپنی شاہانہ زندگی جو ان کے لیے مد نظر رکھی گئی تھی سے دستبرداری اختیار کر کے اس کو ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا اور وزارت عظمیٰ کے نوکروں چاکروں کے ایک لشکر سے صرف دو باڈی گارڈ کو اختیار کیا۔ محافظین کی ٹیم جس میں اس سے قبل ۵۲۴ افراد شامل تھے کو اپنے لیے مختص کرنے سے انکار کر دیا۔ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کے خوبصورت اور شاہانہ محل میں زندگی بسر کرنے کے بجائے، ایک چھوٹے سے گھر میں زندگی گزارنے کو ترجیح دی اور بکتر بند اور اینٹی بلٹ گاڑیوں کو بیچ کر ان کا پیسہ عوام پر خرچ کرنے کا حکم دے دیا۔
پاکستان کے نئے وزیر اعظم بیت المال کی حفاظت اور استقامتی معیشت پر مبنی پالیسیوں پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ عمل میں لا کر مسلمان معاشرے کی تعمیر نو کریں وہ ملک میں پائی جانے والی غربت کو دور اور عالمی بینکوں کے قرضوں کو کم کرنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں وہ قرضے جو سابق وزرائے اعظم نے عالمی بنکوں سے لے کر اپنے ذاتی مفادات پر خرچ کئے اور گپھلے اور گھوٹالے کئے۔
خود کفائی، روزگار کی فراہمی، اندرونی سرمایہ کاری، مالیات اور ٹیکس کے سسٹم کو چالو کرنا خصوصا سرمایہ دار لوگوں کو ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کرنا، پاکستان کے نئے وزیر اعظم کی سیاسی پالیسیوں کا خلاصہ ہے۔
عمران خان کا اہم ترین مقصد پاکستان کو امریکہ کی غلامی سے آزادی دلانا ہے گزشتہ حکمرانوں کی پالیسیاں اس بات کا باعث بنیں کہ پاکستان امریکہ کی کٹھ پتلی ریاست بن کر کبھی افغانستان سے بھڑ پڑے اور کبھی ہندوستان سے۔
میں عمران خان کو اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں اقتصادیات پڑھ رہے تھے اور سیاسی سرگرمیاں انجام دینے میں مصروف تھے۔ وہ عالم اسلام کے مسائل بالخصوص مسئلہ فلسطین پر پورے استحکام سے عمل پیرا ہوں گے اور اس مسئلے میں ان کے اہلیہ بھی ان کا بھرپور تعاون کریں گے۔ ان کی اہلیہ محترمہ عراق کے خلاف امریکی جنگ، غزہ پٹی اور جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی سخت مخالف ہیں۔ انہوں نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ عمران خان کے سیاست میں قدم رکھنے کے بعد پاکستان میں سادہ زندگی بسر کریں اگر چہ وہ کھربوں کے مالک تاجر باپ کی بیٹی ہیں۔
عمران خان چاہتے ہیں پاکستان کے کھوئے ہوئے وقار کو دوبارہ لوٹائیں اس ملک کی عظمت کو علاقے میں اسلامی طاقت اور آزاد حکومت کے عنوان سے دوبارہ اجاگر کریں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا قدم جو انہوں نے اٹھایا وہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی مخالفت تھی۔ وہ چاہتے ہیں ریاض کے بعد تہران کو ایک اسلامی دار الحکومت کے عنوان سے اپنے غیر ملکی دوروں کا مقصد قرار دیں۔ در حقیقت وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان دو اسلامی ملکوں کو یہ پیغام دیں کہ وہ فرقہ واریت کے مخالف ہیں وہ اسلام کو فرقہ واریت اور نسل پرستی سے بالاتر دیکھنا چاہتے ہیں۔
اے کاش ہمارے عرب رہنما رنگ برنگے محل بنوانے، اور تفریحی کشتیاں اور خصوصی جہاز رکھنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے بجائے تھوڑا سا عمران خان سے سبق حاصل کر لیتے کہ وہ کس طرح پاکستان کی ترقی اور پیشرفت کے لیے کوشاں ہیں۔ کاش وہ بھی اپنے ملکوں کی کھوئی ہوئی عظمت کو لوٹانے پر غور کرتے، کاش وہ بھی اپنے نظام حکومت میں خودمختاری کا ثبوت دیتے اور کاش وہ بھی اپنے ملکوں میں غریبوں اور نادروں پر تھوڑی سی توجہ کرتے۔
۹۰ کی دہائی کے اوائل میں، میں نے یاسر عرفات کے ساتھ ہندوستان کا دورہ کیا، اس موقع پر ہم  ہندوستان کے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی سے ملاقات کے لیے ان کے گھر پر گئے، میں نے اس ملاقات میں راجیو گاندھی کی سادہ زیستی کا قریب سے مشاہدہ کیا ان کے معمولی گھر اور محدود وسائل زندگی نے مجھے انتہائی حیرت میں ڈال دیا۔ وہ کسی شاہانہ محل میں زندگی نہیں گزار رہے تھے ان کے پاس ہم نے جاہ و حشم نہیں دیکھا ان کے پاس نوکروں کی قطار ہم نے نہیں دیکھی ان کے گھر میں کروڑوں ڈالروں کے پینٹنگ بورڈز نہیں دیکھے ۔۔۔
عمران خان پاکستان میں، مہاتیر محمد ملائیشیا میں، عرب نوازوں کے مقابلے میں بر سر اقتدار آئے ہیں یعنی یہ دو لیڈر نجیب عبد الرزاق اور نواز شریف کو عوام کا مال لوٹنے اور مالی فساد کے جرم میں سلاخوں کے پیچھے بند کر کے اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ بلکہ ایک حقیقت ہے۔ عرب حکمران نہ صرف خود مالی فساد میں ڈوبے ہوئے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس فساد میں مبتلا کرنے، قومی سرمایوں کو لٹانے اور بیت المال کو برباد کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔
میں آپ لوگوں (عربوں) سے گزارش کرتا ہوں کہ آج سے پاکستانیوں، ہندوستانیوں اور ایشیائی ممالک کے باشندوں کو حقارت کی نگاہ سے مت دیکھنا۔ انہوں نے اپنی قومی عزت و آبرو کو قومی اقتدار کے ذریعے حاصل کر لیا ہے انہوں نے فاسد رہنماؤں کو زمین بوس کر دیا ہے۔ اگر جہان عرب کی صورتحال یہی رہی جو ہے تو بہت نزدیک ایشیائی ممالک ’آقا‘ ہوں گے اور ہم عرب ان کے ’نوکر‘۔ کیا کوئی عرب حکمران ہے جو یہ سبق سیکھے، صرف چند روز باقی بچے ہیں‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram