نہ ہو گی تم سے تنظیم گلستاں ۔۔۔!

نہ ہو گی تم سے تنظیم گلستاں ۔۔۔!

کسی اور دل جلے نے سوشل میڈیا پر مودی کی طرح پوچھا ہے کہ ’کانگریس نے ساٹھ سال میں کیا کیا ہے ؟ اور پھر خود ہی جواب دیا ہے کہ ’اُس عرصے میں لوگ انصاف کے لیے ججوں کے پاس جاتے رہے ہیں ‘لیکن مودی جی نے تو صرف تین برسوں میں یہ’کارنامہ کر دکھایا کہ سپریم کورٹ کے جج انصاف کے لیے عوام کی عدالت میں آگئے ہیں ! ‘‘

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ 

بقلم: عالم نقوی

نیتن یاہو کے دورہ بھارت پر ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ ملک اور دنیا کو خالق انسان اور انسانیت کے دائمی دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بہر حال و بہر صورت ایک نیا انقلاب درکار ہے وہ بھی با ایمان ، صالح ،خداترس اور انسان دوست قوتوں کا لایا ہوا انقلاب جو موجودہ ظالم ، خود غرض اور منافق سیاسی طاقتوں کے بس کی بات نہیں ۔ عالم انسانیت کے دشمن صہیونی دجالوں کے ظالم اور قاتل دوستوں اور بہی خواہوں ٹرمپوں ،یاہوؤں ،مودیوں اور شاہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیا ہے اِن سب کا اور اُن کےسبھی حامیوں اور مددگاروں کا انجام ایک جیسا ہوگا ۔

و سیعلموا لذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۔۔!

رویش کمار نے لکھا ہے کہ (سپریم کورٹ کے) چار (بہادر اور با ضمیر) ججوں کی باتوں کے مطابق سپریم کورٹ (مودی) سرکار کے دباؤ میں ہے ،تو ذرا سوچئے ،کہ میڈیا ،الکشن کمیشن ،انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ ،انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ ، سی بی آئی،پولیس اور نچلی عدالتوں کے ملازم اور اہل کار ’سرکار ‘ کے کتنے دباؤ میں ہوں گے ! آسانی سے سمجھا سکتا ہے (بشرطیکہ) آپ سمجھنا چاہیں ۔

کسی نے سوشل میڈیا پر بابا صاحب بھیم راؤ امبید کر کا ایک برسوں پرانا بیان نقل کیا ہے کہ ’’ وہ سبھی لوگ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں جمہوریت خطرے میں ہے ،سن لیں کہ ملک میں جمہوریت تھی ہی کب ؟ یہاں تو ہمیشہ’برہمنو کریسی‘ رہی ہے ‘‘۔

سپریم کورٹ کے جس جج نے امت شاہ کو قتل، ،اغوا اور دھوکہ دھڑی وغیرہ کے مقدمے سے بری کر دیا تھا اُنہیں سبکدوش ہوتے ہی بطور انعام کرالا کی گورنری مل گئی اور جس نے انصاف کا دامن ہاتھ سےنہیں جانے دیا اُسے موت کی آغوش میں دھکیل دیا گیا ۔

ٹویٹر پر سابق وزیر اعظم شری منموہن سنگھ کا یہ بیان بھی گشت کر رہا ہے کہ ’’(سی بی آئی کے ) جج لویا ،سہراب الدین (فرضی) انکاؤٹر معاملے کی سنوائی کر رہے تھے جس میں ملزم(بی جے پی کے صدراور وزیر اعظم مودی کے دست راست )امت شاہ تھے ۔جج کی (نہایت مشتبہ اور مشکوک حالات میں ) موت ہوئی اور امت شاہ بری ہوگئے ! کوئی ثبوت نہیں ہے مگر ایک جج کی موت پر بھی کوئی سوال نہ ہو اور ( اس کی ) بیوی اور بیٹے کو ڈرا دیا جائے کہ وہ سب کے سامنے آکر بولنے کی ہمت نہ کر سکیں ۔کیا یہی ویویکا نند کا بھارت ہے ؟ ۔۔۔اب سمجھ میں آیا کہ تڑی پار کو کلین چٹ کیسے ملی اور کیسے مودی جی بے گناہ ثابت ہوئے ۔جو بک گیا وہ بچ گیا ،جو نہیں بکا وہ جسٹس لویا کی طرح مارا گیا ۔(البتہ ) ان چار ججوں کا ضمیر ابھی زندہ ہے(لیکن )اب (گودی ) میڈیا(میں ) ان کی کردار کشی ہوگی ! ‘‘

کسی اور دل جلے نے سوشل میڈیا پر مودی کی طرح پوچھا ہے کہ ’کانگریس نے ساٹھ سال میں کیا کیا ہے ؟ اور پھر خود ہی جواب دیا ہے کہ ’اُس عرصے میں لوگ انصاف کے لیے ججوں کے پاس جاتے رہے ہیں ‘لیکن مودی جی نے تو صرف تین برسوں میں یہ’کارنامہ کر دکھایا کہ سپریم کورٹ کے جج انصاف کے لیے عوام کی عدالت میں آگئے ہیں ! ‘‘

   رویش کمار نے تو این ڈی ٹی وی انڈیا پر اپنے مشہور شو میں صاف کہہ دیا ہے کہ ’’اگر یہ کیس کھلا تو امت شاہ کو پھانسی ہونا یقینی ہے ‘‘!

اور اب ذرا شری نیلم دتا سے سپریم کورٹ کے برہمن چیف جسٹس کی کہانی بھی سن لیجیے جن کے خلاف ملک اور سپریم کورٹ دونوں کی تاریخ میں پہلی بار عدالت عظمیٰ ہی کے چار چار سینیر ججوں نے عوام کے سامنے آکر اپنی شکایتوں کو طشت از بام کر دیا ہے ! شری دتا اپنی فیس بک سائٹ پر لکھتے ہیں کہ ’’یہ اڑیسہ کے ایک بے زمین برہمن ایڈوکیٹ دیپک مشرا کی کہا نی ہے جنہوں نے حکومت اڑیسہ سے ایک بے زمین برہمن کے طور پر تھوڑی سی زرعی زمین دیے جانے کی درخواست کی تھی جسے منظور کرتے ہوئے انہیں بلا تاخیر دو ایکڑ زرعی زمین الاٹ کر دی گئی تھی ۔آج وہی(۲۸ اگست ۲۰۱۷ سے تاحال ) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں جن کے خلاف انہیں کے ساتھی چار سینئیر ججوں کو عوام کے سامنے آکر عدالتی بے ضابطگیوں سے پیدا شدہ مسائل رکھنے پر مجبور ہونا پڑا ہے   !

اُن کے دادا پنڈت جی بی مشرا (پیدائش ۱۸۸۶وفات ۱۹۵۶)نے ۱۹۱۲ میں کلکتہ یونیورسٹی سے اسوقت ایم اے کیا تھا جب دلت ،بہوجن ،آدیواسی بچو ں کے لیے پرائمری اسکولوں تک کے دروازے نہیں کھلے تھے۔۱۸۶۶ میں بھیانک قحط پڑا تھا جس میں اڑیسہ کی ایک تہائی آبادی موت کا شکار ہو گئی تھی ۔لیکن پنڈت جی بی مشرا کی فیملی پوری طرح محفوظ رہی تھی !شری نیلم دتا نے اپنے طویل مضمون کے اختتام پر جی بی مشرا کی تین نسلوں کی برہمنو کریسی کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ’’دیپک مشرا ذات پات کے بے جا تفوق کی حکمرانی والے نظام کے منفی نتائج کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں جس سے آج ملک جوجھ رہا ہے ۔ انہوں نے اپنے دادا کے نام پر قائم اسکول سے اپنی زندگی اس وقت شروع کی تھی جب دلت وہی پیشہ اختیار کرنے پر مجبور کیے جاتے تھے جو ان کے باپ دادا کرتے چلے آرہے تھے اور آدیباسی بچوں کو بھکمری سے محفوظ رکھنا ایک زندہ مسئلہ تھا ۔یہی وہ ہندستان ہے جسے ہمیں تمام مستتضعفین فی الہند کے لیے عزت کے ساتھ جینے اور رہنےکے لائق بنانا ہے!کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں ؟ فھل من مدکر ؟        

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram