معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم پر نہیں۔۔!

معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم پر نہیں۔۔!

مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فرمان کو پڑھ کر بھی اندازہ کر لینا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ''معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم پر نہیں۔۔!''

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

بقلم: سیّد تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
اپنے زوال پذیر اور ظالم سماج کو دیکھ کر  ممتاز شاعر، ادیب اور دانشور محترم تبسم نواز وڑائچ صاحب کی نظم'' ہذیان '' یاد آتی ہے۔ وہ کہتے  ہیں کہ ''اس شہر ِ بے چراغ میں، قریہء بے امان میں، خلق ِ بد زبان میں، عصر ِ بد گمان میں، ظلم ہے اور بہت زیادہ ظلم،  جہالت ہے اور  از  حد زیادہ ، بے بسی و بے کسی ہے مگر ناقابل ِ بیاں، منافقت ہے اور ناقابل ِ برداشت،  بے حسی ہے مگر سوچ سے بڑھ کر، کمینگی ہے روایت کی طرح ، شہوت ہے عادت بن کر،  بت پرستی ہے عبادت بن کر، ضمیر فروشی ہو یا دین فروشی، عدل فروشی ہو یا کذب بیانی، سب جنس ہائے پستی و زوال پذیری فراواں ہیں، اگر نہیں ہیں تو وہ ہیں، خدا خوفی و بلند ظرفی و کشادہ روئی، خدا پرستی و دین پرستی، مسجدیں ہوں یا مدرسہ و مکتب، سب فرقہ و مسلک کے  اکھاڑے ہیں، تنگ نظری و انتہا پسندی کی تربیت گاہیں ہیں، علم و دانش کی قتل گاہیں ہیں، جہاں ذہانت زندانی ہے، علم و دانش مجرم ہیں، حریتِ فکر مقتول ہے، سوچ مذبوح ہے ، ہاں دہشت دندناتی پھر رہی ہے، اور معصومیت بدن دریدہ ہے، حیوانیت محترم ہے، انسانیت ذلیل و رسوا ، اصول سر بریدہ ہیں، آئین و قوانین لرزیدہ ہیں، اخلاق ترسیدہ ہیں،  شرافت حیران و سراسیمہ، جبکہ بے غیرتی و بے حسی و بزدلی دستور العمل ہے، اب وقت ِ ندائے حی علی خیر العمل ہے۔۔!!''  ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں سماج ہیجان کا شکار اور پورامعاشرہ ابتر حالت میں بدمست زوال کی جانب گامزن ہے۔ جہاںسوچوں میںدہشت، وحشت  اور درندگی غالب آچکی ہے، خدا فریبی اور خود فریبی کی لعنت کے ماروں نے اپنی طرح یہاں کا نظام بھی تباہ کر دیاہے، مفلسی نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مہیب سائے پھیلے ہوئے ہیں، عوام اور حکومت اور ریاست سب کے  مفادات آپس میں ٹکراتے ہیں، سڑکوں، گلیوں، بازاروں اور چوک چوراہوں میں شرمناک کہانیوں کا باب لکھا ہے،تعلیمی نظام فرسودہ ، غیر معیاری اور طبقاتی تقسیم پر قائم ہے،تعصب اور رجعت پسندی اور جھوٹی تاریخ دماغون میں ٹھونسی جا رہی ہے، جنونیت حالت رقص میں ہے،ملا ؤں کے فتوی انکے کمانے کا ذریعہ ہیں اور وہ جسکو بھی چاہیں جنت میں داخل کردیں اور جسکو چاہیں کافر کے ریڈی میڈ فتوے سے جہنم  رسید کردیں یا واجب القتل قرار دیں، محراب و منبر میں تسبیح تو پھرتی ہے پر دل نہیں پھرتا،جہاں ناموس کے رکھوالے جھوٹے ، دین سمجھانے والے ظالم،  رحمت دو عالم کا پیغام پھیلانے والے  بے رحم، دین کو سمجھانے والے دین سے دور، قرآن پڑھنے اور پڑھانے والے قرآنی تعلیمات سے کوسوں دور، جہاں کے مسلمانوں نے اسلام کو پانچ وقت کی نماز  اور تسبیح  کے دانوں میں سمیٹ کر صراط مستقیم  کے بجائے اک دائرہ  میں حرکت پذیر کر رکھا ہے۔ جہاںخدا کے لئے سر کٹانے کوتو ہرکوئی حاضر ہے لیکن سر جھکانے کے لئے تیار نہیں،نبی کریم کا نام سن کر جھومتے ہیں لیکن انکا حکم سنتے ہی گھوم جاتے ہیں، مولوی خدا اور بندے کے درمیان حائل ہے اور سادہ لوح مسلمان خدا کی قدرت سے زیادہ مولوی کے فتوی کے قائل ہیں، لوگوں نے جنت میں خوبصورت حوروں کی خواہش میں لوگوں کی زندگیاں جہنم بنا رکھی ہیں۔جہاں کے بسنے والوں مسلمانوں کے نبی خود اپنی توہین کرنے والوں کو معاف کردیں لیکن یہاں توہین مذہب و رسالت کا غلط استعمال کر کے  سچ کو الزام کے دبیز پردوں میں دبا دیا جاتا ہے۔ جہاں زندہ بندے کو روٹی کھلانے والا کوئی نہیں لیکن مرے ہوئے کے نام پر دیگیں بانٹی جاتی ہیں، زندہ انسان کی کوئی قدر و قیمت نہیں لیکن  مرنے کے  بعد اسکی یاد ستاتی ہے اور پھر اسے عرش پر پہنچا دیا جاتا ہے۔جس معاشرے میں قربانی کرنے کی سنت موجود ہے لیکن حلال روزی کمانے کافرض یاد نہیں، جنکا اپناپڑوسی مسکین و لاچار ہے لیکن خدا کی تلاش میں وہ خانہ خدا جاتے ہیں، جہاں تعلیم تودی جاتی ہو لیکن معاشرہ  تربیت سے کوسوں دورہے،جہاں کے مسلمانوں نے عبادت کا قرآنی مفہوم  ہی بدل کر رکھ دیا ہے، جہاںمعاشرہ بے حس  اور ذہنی گراوٹ کا شکار،  اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز  حیوانوں سے بدتر کردار کے حامل ہو چکے ہوں، دو رکعت کے امام   قوم کی امامت کا  منصب سنبھالے بیٹھے ہیں،حق کے نام پر باطل غالب ہے، سہمی ہوئی حوروں کے پیچھے وحشی ملا دوڑ رہے ہیں، نسلوں کی تربیت کرنے والے معاشرے کے تین اہم کردار  مدرسے کے استاد، مسجد کے مولوی، اور درگاہ کے پیر کا دماغ جنسی ہوس سے بھرا ہوا ہے،مسلمان کہلانے والے ماؤں کی گودیں اجاڑنے اور لاشیں پامال کرنے والے بن چکے ہیں، مذہب جنونیوں اور انصاف ظالموں کے ہاتھ میںہے،معاش پر بدمعاش قابض ہیں، عورت اور مرد کے درمیان مثبت اور مہذب رشتہ قائم نہیں اورعورت صرف مرد کا نکتہ شہوت بن کر معاشرے میں زندہ درگور ہوتی ہے۔ایسا معاشرہ کہ جہاں چار سال کے معصوم بچے سے لیکر نوے سال کے ضعیفوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جہاں بنت حو اکی عزت  سرِ بازار  نیلام ہوتی ہے تو کہیں اسکے پاؤں میں پازیب ڈال کر محفل کی شان کو چار چاند لگوائے جاتے ہیں۔ ماں کہلانے والی ریاست درندگی دیکھتے ہوئے بھی خاموش ہے۔  یہ وہ ملک ہے جہاں روزانہ چھ عورتیں اغواء ، چھ قتل، چار ریپ، تین خود کشی کرتی ہیں،جہاں مُردوں کے ساتھ بدفعلی اور انکے کفن اتارے جاتے ہیں، جانوروں کی عصمتیں  محفوظ نہیں، کسی صدمے کی وجہ سے دماغی توازن کھو کر سڑکوں پر پھرنے والی عورت کو بھی حاملہ کرنے والے درندے موجود ہیں، معصوم بچوں کیساتھ ریپ ہوتا ہے اور انکی لاشیں کوڑے دانوں سے ملنا معمول ہے، انصاف کے متلاشی خود نشان عبرت بن رہے ہیں،انصاف طلب کرنے والے کو انصاف کے '' گھر '' میں  '' گاہک'' سمجھا جاتا ہے اوران گاہکوں سے  انصاف نہیں بلکہ  '' فیصلے ''  کی قیمت وصول کی جاتی ہے، جس نظام میںفیصلے کرتے ہوئے انصاف کو نہیں  بلکہ قانون کو دیکھا جاتا ہے،  ظالموں کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے عجیب و غریب منطق و دلائل پیش کئے جاتے ہیں ،صاف ، واضح اور قطعی شہادتوں  کے باوجود بھی جرم ثابت کرنا محال ہو چکا ہے، دانشور طبقہ دماغ سے سوچنے کی بجائے پیٹ سے سوچتا ہے،جہاںریاست کے اندر ریاست بنانے والے عدالتوں سے رہائی پا لیں، کالعدم جہادی اور مذہبی منافرت پھیلانے والے دہشت گردوںاور اسّی ہزار سے زائد پاکستانیوں کے قاتلین اور فوجیوں کے سروں کو کاٹ کر  ان سے فٹ بال کھیلنے والے وحشی درندوں کو قومی دہارے میں لانے کے بہانے عام معافی، اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے اور  سچ بولنے والوں کو لاہوت و لامکان پہنچادیا جاتا ہے۔جس ملک میں مقتول کی والدہ  عدالت میں یہ بیان دیتی ہے کہ  ' ' میں نے اپنے بیٹے  کے قاتلوں کو معاف نہیں کیا ، لیکن میں کیس بھی نہیں لڑنا چاہتی،  میری بیٹیاں جوان ہیں اور مجرم بااثر ہیں۔!!''ہماری ایک سوشل اینڈ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ اوربلاگر  بہن گل زہرہ رضوی  اس حالت ِ زار پر کچھ یوں لکھتی ہیں کہ''آپ اس ڈھکن قوم کی کس کس بات پر ماتم کریں گے۔۔؟ قاتل، ظالم، کرپٹ حکمرانوںپر،سیاستدانوں کی مفاد پرستی پر، تعلیمی نظام اور اسکی خامیوں پر، قانون کے رکھوالوں پر، مدرسوں، تکفیریوں پر، میڈیا انڈسٹری پر، اپنے آس پاس کی اخلاقی بدحالی پر، اپنی تہذیب و تمدن کے لُٹنے پر، غربت، جہالت، بیروزگاری پر،  انسان کی کھال منڈھے درندوں پر، دہشتگردی پر، قاتل کو ہیرو بنانے پر یا احمدی جے آئی ٹی سربراہ کو نامنظور کرنے والی سوچ پر۔ جہالت کی جس روش پر ہمارا معاشرہ گامزن ہے ، وہاں خیر کی اُمید کرنا عبث ہے۔ یہاں آوے کا آوے ہی بگڑا ہوا ہے۔ یہاں چپڑاسی سے لیکر بابو تک  اور منیجر سے لیکر جی ایم تک اور مزدور سے لیکر مل اونر تک اور گھر سے لیکر گلی، محلے، میدان تک یعنی جڑوں سے لیکر سرے تک ہر چیز کو ایک میجر ری ویمپ کی ضرورت ہے۔ یہ ایسی بدقسمت صورتحال ہے کہ ایک وقت مظلوم کسی اور فریم ، کسی اور مقام کا ظالم بھی ہے۔ موجودہ  عوام اور اُنکی نسل اور اُنکی گود میں موجود نسل تو اپنی خو  نہیں بدلے گی تو یہ تربیت، یہ ری ویمپ دنوں کا نہیں، مہینوں کا نہیں، عشروں کا سفر ہے جو پتہ نہیں شائد کبھی طے ہوگا بھی یا نہیں۔''ساحر لدھیانوی نے اس زوال پذیراور ظالم معاشرے کی حقیقت کو بے پردہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ '' ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں ، ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں۔۔''  مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فرمان کو پڑھ کر بھی اندازہ کر لینا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ''معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم پر نہیں۔۔!''
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram