شام پر جرائم پیشہ ٹرائیکا کی جارحیت(۱)

مجھے دھوکہ ہؤا/ ٹرمپ کا شام پر ناکام حملہ

مجھے دھوکہ ہؤا/ ٹرمپ کا شام پر ناکام حملہ

میں نے مختلف شواہد کی بنیاد پر دو مضامین لکھے جن میں میں نے ٹرمپ اور ان کے معاونین حتی کہ کانگریس کے اراکین اور دفاعی کمیٹی کے سربراہ تک کی مخالفت کو اپنے تجزیئے کی بنیاد بنایا تھا اور لکھا تھا کہ امریکہ شام پر حملہ نہیں کرے گا لیکن ٹرمپ کے امریکہ کے اگلے لمحے کی پیشنگوئی بھی گویا ممکن نہیں ہے جس کی وجہ سے امریکیوں کو بھی کافی تکلیف ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مجھے ہی نہیں امریکی کانگریس میں دفاعی کمیٹی کے سربراہ اور کانگریس کے کئی اراکین نیز برطانوی وزیر ا‏عظم کو بھی دھوکہ ہؤا اور شاید روسی صدر کو بھی، کہ ٹرمپ شاید حقائق کا ادراک کرکے اور نقصان اور فائدے میں جمع اور تفریق کرکے، حملے سے پسپا ہوگئے ہیں؛ نیز برطانیہ کی وزیر ا‏عظم اور فرانس کے صدر نے بن سلمان سے میزائلوں کے بابت اربوں ڈالر لے کر اب خوش ہورہے ہیں کہ ایک گولی چلائے بغیر مفت ڈالروں کے مالک بن گئے ہیں لیکن ٹرمپ پر دباؤ تھا یہودی ریاست کا بھی، سعودی حکمرانوں کا بھی اور اندرونی سطح پر ایگلز یا ولچرز گروپ کے بدنام زمانہ جنگ پسند جان بولٹن کا بھی اور ہاں 2013 کی اعلان کردہ جنگ سے اوباما انتظامیہ کی پسپائی کے بعد دوسری مرتبہ کی پسپائی کی خفت سے بچنا بھی تھا۔ تین ویٹو پاورز نے 100 میزائل داغے 30 لگ گئے 70 فضا میں ہی شام کے میزائل دفاعی سسٹم کا نشانہ بن کر تباہ ہوئے۔ جن ٹھکانوں کو میزائل لگے انہیں پہلے ہی خالی کیا جا چکا تھا جس کی وجہ سے عمارتوں کی ویرانی کے سوا کوئی نقصان نہیں ہؤا۔
میرے صارفین و قارئین کو شکوہ کرنے کا حق ہے کہ میں نے لکھا تھا کہ ٹرمپ پسپا ہوچکا تھا جو کئی شواہد کو بنیاد بنا کر لکھا گیا تھا مگر شواہد دیکھ کر عمومی صورت حال کا صحیح اندازہ اس صورت میں ممکن ہے کہ حالات منطق اور عقل کے دائرے میں ہوں، کسی خاص میدان کے کھلاڑی کسی خاص اخلاقی اور انسانی قاعدے کی پیروی کررہے ہوں اور میدان میں آنے والے کھلاڑیوں کا دماغی توازن بھی درست ہو اور ان کا ماضی اور حال بھی معقولیات کے دائرے میں رہا ہو ورنہ تو آپ صحیح پیشنگوئی نہیں کرسکیں گے۔
ہر روز نئے اخلاقی اسکینڈلز کا سامنا کرنے والے جناب ڈونلڈ ٹرمپ جو امریکیوں کے جہل کے نتیجے میں صدر بنے ہیں، نہ تو دماغی توازن رکھتے ہیں، نہ کسی اخلاقی ضابطے اور منطقی قاعدے کی پیروی کرتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی معقول ماضی کے مالک ہیں چنانچہ ان کی کسی بات باور نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اس کی ہر بات بہت جلدی بدل سکتی ہے۔
امریکی اسٹبلشمنٹ میں شاید کچھ لوگ بہت خوش ہونگے کہ انھوں نے ایک ناعاقبت اندیش شخص کو صدر بنا کر بڑا تیر مارا ہے اور اس کو ایک اوزار کے طور پر استعمال کرکے دنیا والوں کو خوفزدہ کرنا ممکن ہوگا وہ بھی ایسے وقت میں کہ امریکی طاقت حقیقتا زوال پذیر ہوچکی ہے اور اس کے میزائل حتی اس کی ناک تک کا تحفظ کرنے سے بےبس اور اپنی خفت زائل کرنے سے عاجز ہیں جیسا کہ دمشق اور حمص پر ان کے کل کے حملے سے واضح ہؤا۔
میں نے مختلف شواہد کی بنیاد پر دو مضامین لکھے جن میں میں نے ٹرمپ اور ان کے معاونین حتی کہ کانگریس کے اراکین اور دفاعی کمیٹی کے سربراہ تک کی مخالفت کو اپنے تجزیئے کی بنیاد بنایا تھا اور لکھا تھا کہ امریکہ شام پر حملہ نہیں کرے گا لیکن ٹرمپ کے امریکہ کے اگلے لمحے کی پیشنگوئی بھی گویا ممکن نہیں ہے جس کی وجہ سے امریکیوں کو بھی کافی تکلیف ہے۔
کانگریس کی کمیٹی برائے مسلح افواج کے سینیئر رکن ایڈم سمتھ نے ٹرمپ کے دوسرے ٹویٹ پیغام کے بعد مجھ جیسوں کی طرح یہی سمجھ لیا تھا کہ وہ حملہ نہیں کریں گے چنانچہ انھوں نے ٹرمپ کو سہارا دینے کے لئے بھی اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے بھی، شام پر حملے کی مخالفت کی اور کہا کہ ٹرمپ کے عجیب و غریب ٹویٹ پیغامات نے امریکہ کے دوستوں اور دشمنوں کو پریشان کردیا ہے؛ امریکی حملے سے شامی عوام کو کوئی فائدہ نہيں پہنچے گا؛ ہم نے عراق پر امریکی حملے سے سیکھ لیا ہے کہ یہ حملے کسی ملک کے عوام کے حالات کو بہتر نہیں کرتے۔
کانگریس کے کچھ نمائندوں نے ناراضگی کا اعلان کیا کہ یہ حملہ ٹرمپ نے کانگریس کو بائی پاس کرکے انجام دیا ہے گوکہ کچھ دوسرے اس لئے معترض تھے کہ امریکہ کو ان حملوں سے کوئی فائدہ نہیں ملا اور محاذ مزاحمت کی پیشقدمی پھر بھی جاری رہی۔
واضح رہے کہ غوطہ شرقیہ کا علاقہ مغربی جارحیت کے چند ہی گھنٹے بعد سعودی نواز جیش الاسلام نامی دہشت گرد تکفیری ٹولے سے مکمل طور پر آزاد کرالیا گیا۔

تحریر: فرحت مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram