سعودی ولیعہد کے ہاتھوں؛

فائیو اسٹار ہوٹل میں ایک فوجی جرنیل کا قتل، شہزادوں اور تاجروں پر تشدد

فائیو اسٹار ہوٹل میں ایک فوجی جرنیل کا قتل، شہزادوں اور تاجروں پر تشدد

شاہی خاندان کے اراکین اور متعدد سعودی تاجروں اور صاحب ثروت شہریوں کو ـ بدعنوانی کے خلاف سعودی ولیعہد اور ان کے باپ کی متنازعہ کاروائی کے طور پر ـ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

 اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بدعنوانی کے خلاف سعودی ولیعہد اور اس کے باپ کی مبینہ جدوجہد کے سلسلے میں نیویارک ٹائمز کی ایک تجزیاتی رپورٹ؛ سعودی نیشنل گارڈ کے سابق برخاست شدہ سربراہ متعب بن عبداللہ کا قریبی ساتھی اور سعودی افواج کا جرنیل سعودی کو ایک ایسے فائیو اسٹار ہوٹل میں قتل کردیا گیا ہے جس کو شہزادوں اور تاجروں کے قید خانے میں تبدیل کیا گیا ہے جبکہ متعدد شہزادوں اور تاجروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے؛ یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔
نیویارک ٹائمز نے لکھا: شاہی خاندان کے اراکین اور متعدد سعودی تاجروں اور صاحب ثروت شہریوں کو ـ بدعنوانی کے خلاف سعودی ولیعہد اور ان کے باپ کی متنازعہ کاروائی کے طور پر ـ تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے اہم نکات:
۔ کسی وقت کچھ تاجر تھے جنہیں سعودی معاشی دیو کہا جاتا تھا، اب ایسے کنگن کلائی میں پہننا پڑتے ہیں جن میں نصب برقی آلات کے ذریعے ان کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ کچھ شہزادے تھے جو سعودی مسلح افواج کی قیادت سنبھالے ہوئے تھے، اور ان کی تصویریں رنگین اور نہایت قیمتی رسائل و جرائد کی جلد پر چھپتی تھیں اب ایسی فورسز کے ہاں زیر حراست ہیں جن کی کمان دوسروں کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔ کچھ خاندان تھے جو مختصر سے مسافتوں کو بھی اپنے ذاتی طیاروں میں بیٹھ کر طے کرتے تھے، اب اپنے ذاتی بینک حسابات تک رسائی نہیں رکھتے اور وہ اب عام مسافر طیاروں کے ذریعے بھی سفر نہیں کرسکتے، یہی نہیں بلکہ ان کے بچوں اور بیویوں کو بھی کسی قسم کے بیرونی سفر سے روک دیا جاتا ہے۔
۔ نومبر 2017 کا مہینہ سینکڑوں سعودی شہزادوں اور تاجروں کے لئے اچھا مہینہ نہیں تھا کیونکہ انہیں بدعنوانی کے خلاف کاروائی کے ضمن میں گرفتار کرکے دارالحکومت کے فائیو اسٹار ہوٹل رٹز کارلٹن (Ritz-carlton) میں قید کرلیا گیا۔
۔ فائیو اسٹار عقوبت خانے کے زیادہ تر قیدیوں کو بظاہر رہا کردیا گیا لیکن وہ آزاد نہیں ہیں بلکہ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور اپنی مرضی سے کچھ کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں: کڑی نگرانی۔
عینی شاہدوں کی گواہی:
۔ راج ہنس کے پروں پر سونے والے، سونے کے چمچوں سے دنیا کی لذیذترین اور نرم و گرم ترین خوراکوں سے لطف اندوز ہونے والے شہزادوں کو فائیواسٹار جیل میں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کم از کم 17 شہزادوں اور تاجروں کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔۔۔ ان میں سے ایک کی حالت بہت بری تھی، اس کی گردن کو مروڑا گیا تھا اور بدن نیلا پڑ گیا تھا، اس کے جسم پر جسمانی اذيتوں کی علامتیں نمایاں تھی، اور اسے اسپتال نہیں پہنچایا جاسکا بلکہ وہیں چل بسا۔
ـ ہاں مگر یہ ساری باتیں تو ان لوگوں کی تھیں جو فائیواسٹار ہوٹل کے قیدیوں کے ساتھ بظاہر تھوڑی بہت ہمدردی رکھتے ہونگے جبکہ سعودی حکومت نے نیویارک ٹائمز کے نام ایک ایمیل میں جسمانی آزار و اذیت کے الزامات کو مسترد کردیا!!!: تشدد کرنے والے اور وہ بھی جب سعودی بھی ہوں، کیا اقرار کریں گے جسمانی تشدد کا؟
کیسے نکل سکے وہ جو فائیواسٹار قیدخانے سے نکلے؟
۔ اس اعلی قسم کے قیدخانے (The Ritz-Carlton) سے نکلنے کے لئے؛ بڑی رقوم بطور رشوت دینا پڑیں یا بطور خراج، اور تو اور اپنی قیمی املاک اور اپنی کمپنیوں کے حصص بھی ولیعہد محمد بن سلمان اور بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ہاتھ میں دے دیئے۔
۔ برقی کنگن پہننے پر مجبور ہونے والے ایک صاحب مال و منال ـ اموال و املاک کی ضبطی کے بعد ـ کاروبار تجارت میں دیوالیہ ہؤا اور شدید اداسی، طبیعت میں افسُردگی اور بددِلی سے دوچار ہؤا۔ اور اس کے ایک رشتہ دار نے اس کے حوالے سے کہا: "ہم نے تو ہر چیز انہیں واگذار کردی اور جن جن کاغذات پر ہمارے دستخط لینا چاہتے تھے، ان پر دستخط کردیئے، اب صورت حال یہ ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ جس گھر میں ہم رہ رہے ہیں، وہ بھی ہمارا ہے یا نہیں!"۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق
۔ بظاہر اس جنگ (یا بدعنوانی کے خلاف کاروائی) کی ایک بنیاد خاندانی دشمنی ہے۔ محمد بن سلمان نے خنجر سابق بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز (متوفی 2015) کے بیٹوں کی شہرگ پر رکھا ہؤا ہے، تا کہ کئی ارب ڈالر کی دولت جو وہ اپنی آبائی میراث سمجھتے ہیں، کو سرکاری خزانے (!) میں پلٹا دیں۔
نیویارک ٹائمز کے ساتھ بات چیت کرنے والے بیشتر افراد نے نام نہ لینے کی شرط پر ہی بات چیت کے لئے تیار ہوئے ورنہ تو ان کو مالی اور جانی خطروں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا!
۔ سعودی شہزادے یا کسی بھی ملک کے شہزادے تفریح اور عیاشیوں کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ چار نومبر کی رات کو مشہور سرمایہ کار اور دنیا کے گنے چنے ارب پتیوں کے زمرے میں شمار ہونے والے شہزادہ ولید بن طلال کو صبح چار بجے اپنے صحرائی خیمے میں آرام کرتے ہوئے پولیس کی نفری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کو سعودی بادشاہی عدالت (!) نے کچھ وضاحتیں کرنے کے لئے بلوایا تھا۔ وہ ریاض پہنچا تو عدالت میں کسی وضاحت کے بغیر ہی وہاں موجود مسلح افراد کے ہاتھوں گرفتار ہوکر ہوٹل رٹز کارلٹن میں بند کردیا گیا۔  
۔ ہوٹل رٹز کارلٹن میں جانے والے افراد میں ایک سعودی فوجی افسر لیفٹننٹ جنرل علی القحطانی بھی شامل تھا جو اس قیدخانے میں ہی ہلاک ہوگیا تھا۔ ایک عینی شاہد نے کہا کہ اس کی گردن مروڑی گئی تھی، لگتا تھا کہ اس کی گردن توڑ دی گئی ہو اور اس کا پورا بدن نیلا پڑ گیا تھا۔۔۔ القحطانی سعودی نیشنل گارڈ کا ساٹھ سالہ افسر تھا جو صاحب ثروت افراد میں شمار نہیں ہوتا تھا۔۔۔ چنانچہ اب یہ سوال بلا جواب رہ گیا ہے کہ اس شخص کو بدعنوانی کے خلاف کاروائی کے دوران کیوں مارا گیا؟: کیا کوئی دوسری وجہ تھی؟ اگر ہاں تو وہ وجہ کیا تھی؟ ۔۔۔ تاہم وہ سابق بادشاہ کے بیٹے اور ریاض کے سابق گورنر ترکی بن عبداللہ کا خصوصی معاون تھا؛ لگتا ہے کہ تفتیشی ٹیم اس سے اس کے سابق باس کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنا چاہتی تھی جس کے نتیجے میں اس کی جان چلی گئی۔۔۔ 2015 تک سعودی عرب کے سپید و سیاہ کے مالک عبداللہ بن عبدالعزیز کے فرزندوں کو سلمان بن عبدالعزیز کے دور میں اس کے بیٹوں کے رقباء کے طور پر دیکھا جاتا ہے چنانچہ انہیں دوسرے شہزادوں سے زیادہ شدید دباؤ کا سامنا ہے: واضح رہے کہ متعب بن عبداللہ بھی ہوٹل رٹز کارلٹن کا مہمان رہا ہے۔۔۔ ایک ڈاکٹر نے بھی نام نہ بتانے کی شرط پر نامہ نگار کو بتایا کہ جنرل قحطانی کو ہوٹل رٹز کارلٹن کے قریب ایک اسپتال منتقل کیا گیا؛ اور وہاں اس کے بدن پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔۔۔ اس کو مزید تفتیش کے لئے دوبارہ ہوٹل منتقل کیا گیا اور بعد ازاں ایک فوجی اسپتال میں اس کی موت کا اعلان کیا گیا۔۔۔ القحطانی اور سابق بادشاہ کے گھرانے سزا اور تعاقب کے خوف سے جنرل القحطانی کی موت کے بارے میں کچھ کہنے سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ سابق بادشاہ کے ایک بیٹے مشعل بن عبداللہ نے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر جنرل قحطانی کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی شکایت کی تو اسے فوری طور پر گرفتار کرکے ہوٹل رٹز کارلٹن منتقل کیا گیا: بولنا نہیں ورنہ ٹھکانہ ہوٹل رٹز کارلٹن ہی ہوگا؛ جدید ترین ہوٹل جو ہولناک ترین قیدخانے میں تبدیل کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram