عالمی اور علاقائی سیاست میں سنی بنی سعود اور شیعہ ایرانیوں کا کردار؛ لمحۂ فکریہ

عالمی اور علاقائی سیاست میں سنی بنی سعود اور شیعہ ایرانیوں کا کردار؛ لمحۂ فکریہ

ٹرمپ کی مستکبرانہ اور متکبرانہ دعوت مذاکرہ کے جواب میں ایران کا رد عمل ٹرمپ، یہودی ریاست اور ـ سیاست اور ثقافت و تہذیب کی ابجد سے ناواقف، ـ سعودی لڑکے "محمد بن سلمان [جو ایم بی ایس کہلوانا پسند کرتا ہے] ـ کے منہ پر ایک زوردار اور بہت بڑے بڑے آہنی مُکّے کے مترادف تھا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مراکشی قلمکار نے اپنے ایک مضمون میں ایران اور سعودیہ کے کردار کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا: سعودیوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک دورے کے عوض 500 ارب ڈالر کی خطیر دینا پڑی ایرانیوں نے غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش ٹھکرا دی۔

ڈاکٹر احمد الحسنی الادریسی نے لکھا ہے:
ٹرمپ نے "قرن الشیطان" کی سلطنت کا دورہ کیا اور اس دورے کی شرط یہ تھی کہ حجازی عوام کے خزانے سے 500 ارب ڈالر کی خطیر رقم ان کی جیب میں ڈال دی جائے۔ یہ واقعہ مئی 2017ع‍میں رونما ہوا؛ ٹرمپ نے ہی 30 جولائی 2018ع‍کو ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات کا عندیہ دیا اور اس ملاقات کے لئے درہم و دینار یا ڈالر وغیرہ وصول کرنے کی شرط بھی نہیں رکھی؛ لیکن ایرانی حکام نے 24 گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ان کا ایسا جواب دیا جو ایران پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتا اور نہ ہی ایران اس کے عوض کوئی وعدہ دیتا ہے جس طرح کہ عرب ممالک ـ بالخصوص خلیج فارس کی عرب ریاستوں ـ پر مسلط بونے اور کٹھ پتلی، اور حکمران ـ جب بھی امریکیوں سے کچھ کہنا چاہتے ہیں یا ان کی بات سن رہے ہوتے ہیں، انہیں امریکہ کو کچھ وعدے ضرور دینا پڑتے ہیں اور کچھ ذمہ داریاں ضرور قبول کرنا پڑتی ہیں۔
ایرانی اہلکاروں نے ـ جو اپنے آپ پر، اپنے ایمان پر اور اپنی قوم پر اعتماد کامل رکھتے ہیں، اور اپنے مقدرات کو کسی صورت میں کسی اور کے سپرد کرنے کے قائل نہیں ہیں اور اپنی استقامت پر یقین رکھتے ہیں ـ عقلاء اور حکماء کا جواب دیا اور ٹرمپ سے کہا:
"حالیہ معاہدے کے مطابق، جس پر آپ کے پیشرو اوباما نے دستخط کئے ہیں، ان ہی کی طرح ـ کسی کمی بیشی کے بغیر ـ اس کا احترام کریں، بین الاقوامی قراردادوں، معاہدوں اور کنونشنوں سے مت کھیلیں اور ان میں ہیراپھیری اور دستبرد سے باز رہیں؛ ان ہی بین الاقوامی معاہدوں ميں 5+1 اور ایران کے درمیان طے شدہ معاہدہ بھی شامل ہے۔ جس پر عملدرآمد کے بعد ہی ہم اس پوزیشن میں ہونگے کہ اقوام متحدہ کے منشور نیز بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہ کر اس بات کا جائزہ لیں کہ کونسی چیز دہشت گردی کے خلاف جنگ نیز عالمی اور علاقائی امن کے لئے، مطالعے اور مذاکرے کے لئے مناسب ہے"۔
بنی سعود کی بادشاہت نے امریکہ کو 500 ارب ڈالر اس لئے نہیں دیئے کہ امت اسلامی کا کوئی مسئلہ حل ہو یا مسلمانوں کے کسی دکھ کا علاج کیا  جائے، یا غریب مسلمانوں کی مدد کی جائے اور مسلم ممالک میں امن و سلامتی کو یقینی بنایا جائے، یا فلسطین کو یہود کے قبضے سے نجات دلائی جائے، یا روہنگیا کے مسلمانوں کو بدھ مت کے داعشیوں کے ہاتھوں نسل کشی سے بچایا جائے، بلکہ مقصد یہ تھا کہ فلسطینی "سنی مسلمانوں" سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے پیکر پر یہ ابدی گھاؤ ہمیشہ کے لئے باقی رہے، غصب شدہ قبلہ اول اور فلسطین کی آزادی سے چشم پوشی کی جائے، قدس شریف غاصب یہودی ریاست کے ابدی دارالحکومت میں بدل جائے اور مسلمانوں کا موجودہ قبلہ بھی یہودی جارحیتوں کی زد میں آجائے، بنی سعود کی حکومت یمن کے بیگناہ مسلمانوں بالخصوص یمنی بچوں اور خواتین کا قتل عام جاری رکھ کر یمن پر قبضہ جما سکے اور بن سلمان اپنی گیدڑ بھبکیوں کو جامۂ عمل پہنا کر منافقین خلق (MKO) کو 2019ع‍کے عشرہ فجر کے جشن سے پہلے تہران پہنچا سکے ۔۔۔ البتہ بنی سعود کو فلسطین کی حد تک کچھ کامیابی ہوئی گوکہ فلسطینی مجاہدین اور عوام کی جدوجہد اور چوتھی انتفاضہ تحریک نیز وطن واپسی تحریک نے صدی ڈیل کے تحت  یہودی سعودی جڑواں ریاستوں اور امریکہ کا مشترکہ خواب بھی خطرے میں ڈال دیا ہے اور حماس نے تو اس کی شکست کا بھی اعلان کر دیا ہے جبکہ یمن پر قبضہ اور دہشت گردی کی تہران منتقلی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ممکن ہی نہیں رہا۔
ٹرمپ کی مستکبرانہ اور متکبرانہ دعوت مذاکرہ کے جواب میں ایران کا رد عمل ٹرمپ، یہودی ریاست اور ـ سیاست اور ثقافت و تہذیب کی ابجد سے ناواقف، ـ سعودی لڑکے "محمد بن سلمان [جو ایم بی ایس کہلوانا پسند کرتا ہے] ـ کے منہ پر ایک زوردار اور بہت بڑے بڑے آہنی مُکّے کے مترادف تھا، وہ نادان لڑکا جو ٹرمپ کو سینکڑوں ارب ڈالر دے کر آج بھی مذموم، مسترد، کچلے ہوئے، اداس اور راندہ درگاہ شخص کی طرح امریکی میزائلوں کے انتظار میں بیٹھا ہے جو اس کی خواہش کے مطابق تہران کو نشانہ بنائیں گے؛ جبکہ اس کے بھائیوں، باپ اور چچاؤں اور دوسرے اہل قبیلہ نے ایسے ہی اربوں ڈالر امریکہ کو دے کر عراق، شام، یمن، لیبیا، صومالیہ اور سوڈان کو تباہ و برباد کروایا۔ ایم بی ایس نے اتنی عظیم رقم  دے کر اللہ کی رضا اور عرب عوام کی خوشنودی کے بجائے وائٹ ہاؤس (جو بلیک ہاؤس کہلانا زیادہ مناسب ہے) میں مختصر مدت کے لئے مقیم شخص کی خوشنوی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے؛ جبکہ اللہ کی رضا عوام کی رضا اور عوام کی رضا اللہ کی رضا ہے۔
ایران کے حالیہ رد عمل نے ہمیں تہران میں امریکی جاسوسی کے گھونسلے پر ایرانی طلبہ کی 444 روزہ قبضے اور بعث پارٹی کے صدام کے توسط سے امریکہ اور خلیج فارس کے عرب حکمرانوں کی مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے آگے ایران کی ناقابل فراموش استقامت کی یاد دہانی کرائی۔
بہر حال جن لوگوں کا موقف اصولی ہوتا ہے اور وہ تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر اپنے موقف کا تحفظ کرتے ہیں وہی کامیاب اور فاتح ہیں ۔۔۔ اور سوال یہ ہے کہ کیا وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ خلیج فارس کے عرب خود تنقیدی کی طرف پلٹ آئیں، اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے خاتمے منتج ہونے والی نئی پالیسی اپنائیں؟ کیا اب بھی وہ وقت نہيں آیا کہ وہ پورے خطے کی تعمیر و ترقی کے بارے میں سوچنا شروع کریں اور تعلیم و تربیت، صحت و حفظان صحت، سیاحت، فلاح و بہبود کے شعبوں میں علاقے کے عوام کی خدمت کے اسباب فراہم کریں اور "سب کے دشمن اسرائیل" کے مقابلے میں علاقے کے امن و سلامتی کے تحفظ کے لئے اقدام کریں؟
..........
بقلم: ڈاکٹر احمد الحسنی الادریسی – مراکش
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
http://wilayah.info/ar/?p=92105
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram