سید جیکاک سے سید صادق تک

شیرازی تکفیری فرقہ، تشیع کے سینے پر انگریز کا لگایا ہؤا رستا زخم

شیرازی تکفیری فرقہ، تشیع کے سینے پر انگریز کا لگایا ہؤا رستا زخم

لندن میں شیرازی فرقے کے چند کرائے کے تخریب کار برطانوی پولیس کی موجودگی میں ایک سفارتخانے پر حملہ آور ہوئے؛ اور اس تشہیری پتلی تماشے کو ایک سفارتخانے کے خلاف غیر قانونی جارحانہ اقدام سے زیادہ وسیع تناظر میں دیکھنا چاہئے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تقریبا 70 سال قبل دوسری جنگ عظیم میں ایک اجنبی مرد ـ جو مقامی لوگوں سے کسی قسم کی شباہت نہیں رکھتا تھا ـ بصرہ سے جنوبی ایران میں داخل ہؤا اور بختیاری قبائل میں سے “موری” قبیلے کے پاس پہنچا۔ اس شخص نے اس قبیلے کے لئے گلہ بانی کا کام شروع کیا۔ موری قبیلہ خوزستان اور چہار محال صوبوں کے درمیان کوچ کرتا رہتا تھا: سردیوں میں خوزستان جاکر بسیرا کرتا تھا اور گرمیوں میں چہارمحال کی طرف پلٹ آتا تھا۔

اس شخص نے اپنے آپ کو اندھے اور بہرے شخص کے عنوان سے متعارف کرایا تھا اور سات سال تک موری قبیلے کی گلہ بانی میں مصروف رہا۔ اور جس طرح کہ وہ بالکل خاموشی سے آیا تھا بالکل خاموشی سے غائب ہوگیا۔

یہ شخص مسٹر جیکاک کہلاتا ہے۔ انٹیلجنس سروس کا ایجنٹ۔۔۔ سات سالہ خاموشی اور سات سالہ بلااجرت مشقت کی بنا پر اب وہ مزید گلہ بان یا گڈریا نہیں رہا تھا بلکہ عابد و زاہد شخص میں تبدیل ہوچکا تھا، بختیاریوں سے بھی زیادہ بختیاری، بن چکا تھا۔

اس کی کرامات یہ تھیں کہ عصا کے اشارے سے اس کے جوتے اس کے سامنے سیدھے ہوجاتے تھے، اور آگ اس کی داڑھی جلانے سے قاصر تھی؛ سادہ دل قبائلی کیا جانتے تھے کہ مقناطیس بھی پایا جاتا ہے اور غیر محرق یا ناسوز (Firproof) مواد بھی دستیاب ہے۔

اس قدر لوگوں نے برطانوی جاسوس کے کشف و کرامات کے مظاہر دیکھے کہ اس کا نام “سید جیکاک” پڑا۔۔۔۔ اس طرح کے واقعات ہمارے ہاں کوہاٹ، پنجاب کے مختلف شہروں، کوئٹہ اور کراچی اور حتی کے قبائلی علاقوں میں نیز بھارت کے مختلف شہروں میں ہندوؤ‎ں، بدھ مت کے پیروکاروں، سکھوں اور مسلمانوں کے بیچ بہروپ بدل بدل کر اپنا کام چلاتے رہے ہیں۔ افغانستان میں آسٹریلوی مسٹر وید کو شینواری خان، سید، ملک وغیرہ کے ناموں سے مختلف شہروں میں امان اللہ خان کا تختہ الٹنے کے لئے استعمال کیا گیا؛ یا پھر انگریزوں نے علمائے دیوبند کو اپنے آدمیوں کے طور پر برصغیر سے افغانستان میں داخلے کی اجازت دے دی تا کہ انگریزی مقاصد کے لئے کام کریں اور افغانی دانشوروں کے بقول ان ایجنٹوں نے 100 سال گذرنے کے باوجود ابھی تک افغانوں کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا۔

انیسویں صدی عیسوی میں ۔۔۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ایرانی جنوبی علاقوں کی عملی حکمرانی سید جیکاک کے ہاتھ میں تھی، اس کا مشن یہ تھا کہ علاقے سے نکل کر لندن روانہ کئے جائے والے تیل کے راستے میں کبھی کوئی رکاوٹ نہ ابھرے!! اس نے ایک پیر و مرشد کی حیثیت سے “طلوعی” (یا تولوئی یا سروشی) نامی فرقے کی بنیاد بھی رکھی تھی اور یہ فرقہ جیکاک کی فوج اور پولیس کا کردار ادا کرتا تھا۔

ذاتی زندگی میں جیکاک تارک دنیا تھا اور اس کے انگریز ساز فرقے کی تعلیمات میں بھی ترک دنیا کو اولیت حاصل تھی، دنیاوی امور ان کے ہاں بالکل بےوقعت تھے، مٹی کو بےقدر و قیمت سمجھتا تھا اور تیل کو ایک بےوقعت مادہ سمجھتا تھا۔

تیل کی صنعت قومیائے جانے کی تحریک چلی تو مسٹر جیکاک نے ایک مشہور شعرگونہ جملہ افواہ عامہ پر رائج کردیا جس کو طلوعی فرقے کے افراد خیمہ بہ خیمہ جاکر لوگوں کے لئے پڑھتے تھے جو کچھ یوں یوں تھا:

تو کہ مہر علی مین دلتہ

نفت ملی سی چنتہ

(تم جو حب علی(ع) دل میں رکھتے ہو، قومیایا ہؤا تیل کس لئے چاہتے ہو؟)

گذشتہ سال 16 فروری کو امریکی کانگریس نے ایران کے سیاسی اور سلامتی امور کے بعض امریکی ماہرین کو “ایران زیر نگرانی” (Iran on Notice) کے زیر عنوان ایک سماعتی نشست میں شرکت کی دعوت دی، تو انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے کچھ تجاویز پیش کیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کو کچھ ہی عرصہ گذرا تھا اور وہائٹ ہاؤس ایران کے خلاف اپنی نئی حکمت عملی کی تدوین میں مصروف تھا۔

اسکاٹ موڈیل (Scott Modell) بھی ان افراد میں سے تھا جس نے اپنی آراء ایک عملیاتی منصوبے (Operational plan) کے ضمن میں بیان کی تھیں۔

ماڈل سی آئی اے میں تیرہ سال تک کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہے اور عرصہ دراز سے سی آئی کے خصوصی کاروائیوں کے شعبے سے منسلک رہا ہے اور شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا سمیت مشرق وسطائی ممالک ـ بالخصوص افغانستان ـ میں مختلف قسم کی مہمات سر کرتا رہا ہے۔ وہ انگریزی اور فارسی کے علاوہ پرتگالی اور ہسپانوی زبانوں پر بھی عبور رکھتا ہے۔ افریقہ میں ایک ہی ملک کو تیل کے ذخائر کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا ہے جس کا نام لیبیا ہے جہاں موڈیل کے قدموں کے نشان واضح ہیں، جہاں تیل ہو وہاں موڈیل ہے۔

اور ہاں لگتا ہے کہ مغربی جاسوسوں کی تیل سے دلچسپی جِبِلّی (Instinctive) اور جینیاتی (Genetic) ہے جو سی آی کے کارکنوں کو اپنے اینگلوسیکسن (Anglo-Saxons) اسلاف سے ورثے میں ملی ہے۔ موڈیل توانائی سے متعلق

ریپڈان اینرجی گروپ (Rapidan Energy Group) نامی کمپنی کا ناظم انتظامی (Managing Director) ہے جو توانائی ـ بالخصوص تیل ـ کے سلسلے میں جنوب مغربی ایشیا میں سرگرم عمل ہے۔

موڈیل نے ایک سات نکاتی مکمل عملیاتی منصوبہ ایران کا سدّ راہ اور مقابلہ کرنے کے سلسلے میں پیش کیا۔ یہاں تک کہ علاقے میں کم ہی کوئی ایسا واقعہ رونما ہؤا ہوگا جو موڈل کے منصوبے پر منطبق نہ ہو۔

موڈيل اپنے منصوبے کے نکتہ نمبر 6 میں لکھتا ہے: ایرانی ماڈل ایک قسم کی دینی حکمرانی ہے جو ایک عالم دین کو سیاسی اقتدار کی چوٹی پر متعین کرتی ہے، حالانکہ عراق میں علماء دین کی روایتی تفسیر کے قائل ہیں اور یہ تفسیر کہتی ہے کہ عالم دین کو سیاست سے الگ تھلگ ہونا چاہئے۔

دیکھ لیجئے سوشل میڈیا پر اپنے لوگوں کی تشریحات، سوالات اور شبہات جو ایران اور عراق کے حوالے سے پیش کرتے ہیں اور ولایت فقیہ کے سلسلے میں بیان کرتے ہیں، یا ولایت فقیہ کے تعدد اور چند گانگی کے بارے میں پیش کرتے ہیں، یا قومیتوں کو دین پر مقدم رکھتے ہیں اور اندازہ لگائیں کہ ان حضرات کے الفاظ موڈیل کے منصوبے کا حصہ ہیں جان بوجھ کر یا انجانے میں یا نہیں؟؟؟

موڈیل اس شق میں مزید کہتا ہے: ہمیں اپنے عرب حلیفوں [سعودی عرب، مصر، امارات، قطر وغیرہ] کو ترغیب دلانا ہوگی کہ وہ نجف کو ایک قابل برداشت روایتی دینی تشریح کے طور پر تسلیم کریں اور نرم روی سے اس کی حمایت کریں، یہ مسئلہ امریکہ کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے۔

موڈیل کہتا ہے: ہمیں آیت اللہ صادق شیرازی جیسے چہروں کو آگے لانا پڑے گا تا کہ وہ ولایت فقیہ کے مد مقابل آ کھڑے ہوجائیں اور عراق میں ایسے افراد کو مراجع تقلید کے طور پر تسلیم کرنا اور کرانا پڑے گا اور ان کی ترویج کرنا پڑے گی جو قابل برداشت شیعہ تفکر کے حامی ہوں، مغرب اور اسرائیل کے خلاف دشمنانہ بہت کم اور بےضرر جذبات رکھتے ہوں اور سیاست میں بہت کم مداخلت کریں۔

لندن میں شیرازی فرقے کے چند کٹھ پتلیوں کے تشہیری پتلی تماشے کو ایک سفارتی مرکز کے خلاف غیر قانونی جارحانہ اقدام سے کچھ زیادہ وسیع تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ بہت ہی بَھول پن ہوگا اگر کوئی گمان کرے کہ یہ حملہ برطانوی حکومت کے جاسوس ایجنسیوں کے کارکنوں اور بعض شعبوں کی حمایت کے بغیر انجام پایا ہے؛ ایک ثبوت یہ کہ برطانوی پولیس نے انہیں کئی گھنٹوں تک سفارتخانے کی عمارت پر حملوں کی کھلی اجازت دی اور رات گئے اعلان کیا کہ کئی دہشت گرد گرفتار ہوئے ہیں لیکن دوسرے ہی روز یہ بھی اعلان ہؤا کہ انہیں رہا کردیا گیا ہے۔

حملہ آوروں کے سامنے عالمی سفارتی قوانین کے برعکس، کسی قسم کی کوئی روکاٹ نہیں تھی، وہ بڑی آسانی سے برطانوی پولیس کی نظروں کے سامنے حملے کررہے تھے۔ پولیس اس ابلاغیاتی اور تشہیری پتلی تماشے میں پوری طرح کرائے کے حملہ آوروں کا ہاتھ بٹا رہی تھی، اور لندن کے حمایت یافتہ تمام کے تمام ذرائع ابلاغ اس پتلی تماشے کی لمحہ بہ لمحہ روئیداد براہ راست نشر کررہے تھے۔ اور پھر بیرونی ہدایات کے مطابق حملہ آور عمارت سے بحفاظت باہر نکلتے ہیں اور گرفتار کئے جاتے ہیں اور دوسرے دن رہا کئے جاتے ہیں۔ ہؤا نا پتلی تماشا!!
شیرازی فرقہ، یا وہی انگریزی شیعہ، داعش اور النصرہ کا ہی کردار ادا کررہا ہے وہ سنی مذہب کو اپنا دستاویز بناتے ہیں یہ شیعہ مذہب کو، وہ بھی اسلام کو ایک پرتشدد مذہب کے طور پر متعارف کراتے ہیں، یہ بھی؛ انگریزی شیعوں کو جو ٹاسک دیا گیا ہے اس میں کسی مرجع تقلید کو ـ عراق سے لے کر ایران تک اور لبنان تک ـ نہیں بخشا جاتا، یہ فرقہ تشیع کو ایک غیر معقول، متشدد اور تکفیری مذہب کے عنوان سے متعارف کرانا چاہتے ہیں؛ شیعہ انقلابیت اور ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کو ـ جو عاشورا 61 ہجری سے شروع ہوچکی ہے ـ گرا کر خرافات اور غیر دینی اعمال میں بدل دینا چاہتے ہیں، دنیا کے زندہ ترین مذہب کو مردہ مذہب کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں: قمہ زنی، زنجیر زنی، فرقہ وارانہ تکفیری رویوں، آگ پر چلنا، امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو ہدف حسینی بنا کر پیش کرنا اور مقصد حسینی کو اذہان اور افکار سے مٹا دینا اور عزاداری کے اہداف کو نابود کرنا، شیعیان اہل بیت کو اہل بیت کے حرم کے دفاع سے دور رکھنے کی کوشش کرنا، عزاداری میں نت نئی روشیں اختراع کرکے شیعہ نوجوانوں کو دفاع حرم جیسے عظیم فریضے سے غافل کرنے کے سلسلے میں اسرائیل اور آل سعود کا ہاتھ بٹانا، مزاحمت تحریک کے خلاف تشہیری مہم میں آل سعود اور یہودی ریاست کے منصوبوں پر عملدرآمد کرنا اور کرانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔

امریکہ اور اسرائیل آل سعود کو استعمال کرکے علی الاعلان شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں تو اگر ہمیں اس کے پس پردہ عوامل کا اندازہ لگانا مشکل ہے تو اسی اعلانیہ امریکی اسرائیلی موقف کو دیکھ کر انداز لگانا بڑا آسان ہوجاتا ہے کہ شیعہ اور سنی کی جنگ کا فائدہ صرف اور صرف یہود و نصاری کو مل رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعتقادی اور تزویری حکمت عملی قرآن کریم کے احکامات اور زمینی حقائق پر مبنی اور امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل جیسے ظالم و خونخوار دشمنوں کے مقابلے میں شیعہ سنی اتحاد اور یکدلی اور یکجہتی پر استوار ہے؛ اور اس کی معاندت میں شیرازی تکفیری فرقہ امریکی ـ برطانوی ـ یہودی ایجنڈے کے عین مطابق اپنی پوری قوت کو میدان میں لا چکا ہے جو شیعہ مکتب کے اصولوں کو پامال کرکے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے میں شیعہ مکتب کا نمائندہ بن کر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ایجنڈے کے عین مطابق ایک طرف سے وہابی فرقہ دوسری طرف سے شیرازي فرقہ، جو مل کر دشمنان اسلام کی تباہ کن گاڑی کو ایندھن فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

انگریزی شیعہ امریکی سنی کی طرح، مسلم برادران کو کافر قرار دے کر وہ ہاتھ اور وہ صدا امریکی اور صہیونی جارحوں کے خلاف بلند ہونے کے بجائے، تشیع اور تسنن کی باہمی پیکار میں اٹھانے کے درپے ہیں۔

یہ شیعہ کہلوانے پر مصر ہیں اور دنیا بھر میں واحد شیعہ حکومت کے خلاف لندن کا ساتھ دے رہے ہیں، اس کو انگریزوں نے ـ وہابی فرقے کو امریکہ اور برطانیہ کے فراہم کردہ چینلوں کی طرح ـ متعدد سیٹلائٹ چینلز فراہم کردیئے ہیں، یہ فرقہ اپنی نفرت انگیز صدا بی بی سی نامی سینگے سے بھی بآسانی نشر کرتا ہے۔

جس وقت آیت اللہ العظمی میرزا سید محمد حسن شیرازی نے انگریزوں کی ٹوبیکو کمپنی کے قضیئے میں تنباکو کا استعمال حرام کرکے انگریزوں کی ناک خاک پر رگڑ لی؛ اور امام روح اللہ خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے بقول “میرزائے شیرازی رضوان اللہ تعالی علیہ کی اسی آدھی سطر نے ہمارے ملک کو اجنبیوں کے حَلقُوم سے خارج کردیا”۔

بہرحال آیت اللہ العظمی شیرازی کے فتوے کے نتیجے میں انگریزوں کی شکست فاش کے بعد سے وزارت نو آبادیات [موجودہ MI6] نے “لندنی مولوی” پالنے کے منصوبے پر کام شروع کیا اور آج یہ سلسلہ چلتے چلتے “لندنی مرجع” کے نقطے تک پہنچ چکا ہے۔

شیعہ مکتب عاشورا، مرجعیت، ولایت فقیہ اور انتظار امام مہدی کی برکت سے زندہ اور پائندہ ہے اور ہمیں ان سب کی ضرورت ہے اور یہ سب ہمارے پاس ہیں، لیکن یہ سب بوڑھے سامراج اور نئے سامراج یعنی امریکہ اور برطانیہ کے پاس نہیں ہیں چنانچہ وہ جعل سازی کے راستے پر گامزن ہوکر جعلی مبلغ، جعلی مولوی اور جعلی مرجع بنانے پر اتر آتے ہیں، انہیں ایسا مرجع چاہئے جو خارجی پالیسی میں اس کا ہاتھ بٹائے، امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھوں مسلم ممالک پر قبضے کی مخالفت نہ کرے، دہشت گردی کے مقابلے میں مظلوم مسلم اقوام کی حمایت نہ کرے بلکہ خرافات کو دفاع اور جہاد کے متبادل کے طور پر پیش کرے، “عَلَم کو زمین پر گرا رہنے دو اور امریکی ساختہ تلواریں اپنے سر پر دے مارو”، فلسطین پر جعلی یہودی ریاست کے قبضے کو نظرانداز کرے۔ انسانیت ساز مکتب عاشورا سے قمہ زنی اور زنجیر زنی سے متعلق تمام امور کو چھوڑ کر اس سے خودزنی اور اپنا خون گرانے کا مطلب لیا کرے، بجائے اس کے کہ علمی انداز سے مکتب کا دفاع کرے اور مکتب کے لئے نظریں فراہم کرے، گالی گلوچ اور توہین و بےحرمتی کے ذریعے دوسروں کی دل آزاری کو مقصد تبلیغ گردانے، ایسا مرجع نہ تو استکبار اور آمریت و استبدادیت کے لئے خطرناک نہیں ہے بلکہ امریکہ اور برطانوی ان کے لئے لندن، واشنگٹن اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں میں ان کے دفاتر کھلوا دیتے ہیں اور ان کی حفاظت کرواتے ہیں، جبکہ ان ممالک میں تشیع کی دشمنی ایک اعلانیہ رجحان ہے۔

جب انٹیلجنس سروس کا مسٹر جیکاک سید جیکاک بن کر صاحب کشف و کرامات بن سکتا ہے اور علاقے کے بعض ممالک میں انگریز جاسوس مولوی اور مفتی بن کر وقت کی حکومت کو کافر قرار دے کر عوامی بغاوت کے اسباب فراہم کرتے ہیں، تو پھر اس میں کیا تعجب ہے کہ انگریزی مکتب کے شیعہ بیٹھ کر ملکہ برطانیہ کے لئے شجرہ نسب تیار کریں اور اس کو سیدہ اور بنی ہاشم کی پوتی ثابت کرنے کی کوشش کریں!!!

خطے میں برطانیہ کی ناک خاک پر رگڑی گئی ہے چنانچہ وہ تلافی کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں، لندن میں ایرانی سفارتخانے پر حملہ ایک احمقانہ اور رذیلانہ منظرنامے کا حصہ تھا جس نے شیرازی فرقے کو فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ اس کے چہرے سے نقاب اتارا اور جو اس فرقے کی حقیقت نہیں جانتے تھے، وہ بھی اب پوچھنے لگے ہیں کہ برطانیہ تو تشیع اور اسلام کا دشمن ہے پھر شیرازی فرقے کے ساتھ اس کے تعلقات ایک ہی خاندان کے افراد کی مانند کیوں ہیں؟

ایم آئی6 کے کرتے دھرتے شاید ابھی تک دوسری عالمی جنگ کے بعد کے ایام میں جی رہے ہیں جبکہ سید جیکاک اور اس جیسے دوسرے مکار جاسوسوں کا دور گذرچکا ہے، شیعہ نوجوان واقعی ہوشیار ہیں وہ استکباری طاقتوں کے ہتھکنڈوں کو جانتے ہیں اور ان کے دھوکے میں نہیں آتے۔

ترجمہ و تکمیل: فرحت حسین مہدوی

منبع: جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram