شام پر ممکنہ امریکی حملہ اور مزاحمتی محاذ کا غیر معمولی جواب

شام پر ممکنہ امریکی حملہ اور مزاحمتی محاذ کا غیر معمولی جواب

لبنانی اخبار نے رپورٹ دی ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل اور شام کے صدر جمہوریہ نے حالیہ دنوں ٹیلفونی گفتگو یا براہ راست ملاقات کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام پر ہونے والے ممکنہ حملے کے حوالے سے غیر معمولی فیصلہ لیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، شامی فوج اور اس کے اتحادی دھشتگردوں کے خلاف آخری آپریشن یعنی ادلب سے دھشتگردوں کا مکمل صفایا کرنے کے لیے تیار ہو رہے ہیں اس لیے کہ ادلب تکفیری دھشتگردوں کا آخری ٹھکانا ہے اور اس ٹھکانے کی نابودی کے ساتھ شام سے دھشتگردوں کا صفایا ہو جائے گا۔
لبنان کے اخبار ’’الثبات‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اندرونی مشکلات اور ان کے برملا ہوئے جنسی اسکینڈلز کی وجہ سے روز بروز دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اسی وجہ سے وہ عام افکار کو ایک غیر ملکی جنگ کی طرف موڑنا چاہتے ہیں وہ ایک مرتبہ پھر شام پر حملہ کرنے کے لیے فرانس اور برطانیہ کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ امریکی عسکری تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ فوجی اقدام انتہائی سخت اور بہت جلد ہو گا اور شام کے کئی اہم فوجی مراکز کو حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ روس میں موجود اسرائیلی سفارتخانے سے ریلیز ہوئی معلومات کے مطابق، اگر شام کے شہر ادلب پر حملہ کیا گیا تو اسرائیلی جنگی طیارے بھی اس میں شامل ہوں گے جبکہ روس نے تل ابیب کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اسرائیل کو غیر معمولی جواب دریافت کرنا پڑے گا اور شام و لبنان کے زیر قبضہ علاقوں کو بھی واپس دینا پڑے جائے گا۔
لبنانی اخبار نے مزید لکھا ہے کہ ایسے حال میں شام کی فضائیہ مکمل طور پر ہر ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے، روس کی فوج بھی جو ۲۰۱۵ سے اب تک شام میں مسلسل اضافہ ہوتی جا رہی ہے سب سے زیادہ اس ملک میں غیر ملکی فوج ہے امریکی حملہ کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کرے گی اور علاقے میں موجود امریکی اڈوں کو نابود کر کے دم لے گی۔
الثبات اخبار نے مزید لکھا ہے کہ ایران بھی فوری طور پر اس میدان میں کودنے کے لیے پر تول رہا ہے اس نے گزشتہ ہفتے اپنے وزیر دفاع کو ایک عسکری وفد کے ہمراہ دمشق بھیج کر اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ایران اور شام کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق، ایران اپنے میزائل شام میں منتقل کر رہا ہے اور اپنے نئے ساختہ جنگی طیارے ’’کوثر‘‘ کے ذریعے اس میدان جنگ میں کودنے کی مکمل تیاری رکھتا ہے۔
لبنانی اخبار نے اپنی رپورٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ اگر امریکہ شام پر حملے کی حماقت کرتا ہے تو اس بار صرف امریکی ٹھکانوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا جائے گا بلکہ صہیونی ریاست بھی ہماری جوابی کاروائی کا ٹارگٹ ہو گی۔ دوسری جانب ماسکو میں اسرائیلی سفارتخانے سے انکشاف ہوئی معلومات کے مطابق تل ابیب نے اس بار غیر معمولی فیصلہ لیا ہے کہ جس کے بارے میں شام کے صدر جمہوریہ ’’بشار الاسد‘‘ نے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل ’’سید حسن نصر اللہ‘‘ کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں شام پر ممکنہ حملے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے کسی بھی حماقت کا مزاحمتی محاذ ایسا جواب دے گی جو تمام سیاسی تدبیروں اور منصوبوں سے بالاتر ہو گا اور جس سے صہیونی ریاست کو ہمیشہ کے لیے پچھتانا پڑ جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram