سہ فریقی سربراہی اجلاس، تہران؛

سلطان اردوگان کا چہرہ دو تاریخی آئینوں میں

سلطان اردوگان کا چہرہ دو تاریخی آئینوں میں

اردوگان اصرار کررہے تھے کہ ـ اب جبکہ انسانیت دشمن اور یہودی ریاست کے تنخواہ خورو تکفیری دہشت گردوں سے شام کے صوبہ ادلب کی آزادی کے لئے مجوزہ کاروائی کی آمد آمد ہے ـ تین ممالک کے سربراہان اپنے مشترکہ بیانیے میں نہ صرف جنگ بندی کی درخواست کریں بلکہ جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کریں؛ وہ بھی ایسے حال میں کہ شامی افواج ایران اور روس کی مدد سے اپنی مٹی پر دہشت گردوں کا کام تقریبا تمام کرنے کی منصوبہ بندی کئے ہوئے ہے!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر پیوٹن کی فیصلہ کن مخالفت اور صدر روحانی کا دانشمندانہ انداز تلخیص، باعث بنا کہ اردوگان سہ فریقی سربراہی اجلاس کے مشترکہ بیانیے پر دستخط کریں، جس میں نہ صرف "جنگ بندی" کا تذکرہ نہیں ہوا بلکہ اس میں جبہۃ النصرہ اور دوسری دہشت گرد تنظیموں میں شامل، ان کے کل پرانے رفقائے کار کے لئے یہ جملہ بھی قرار دیا گیا کہ وہ فوری طور پر ہتھیار ڈال دیں۔
ایران، روس اور ترکی کے صدور کے سہ فریقی اجلاس کے آخری مناظر بہت دلچسپ اور ـ اسی اثناء میں ـ بہت عبرت آموز تھے۔
اردوگان اصرار کررہے تھے کہ ـ اب جبکہ انسانیت دشمن اور یہودی ریاست کے تنخواہ خورو تکفیری دہشت گردوں سے شام کے صوبہ ادلب کی آزادی کے لئے مجوزہ کاروائی کی آمد آمد ہے ـ تین ممالک کے سربراہان اپنے مشترکہ بیانیے میں نہ صرف جنگ بندی کی درخواست کریں بلکہ جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کریں؛ وہ بھی ایسے حال میں کہ شامی افواج ایران اور روس کی مدد سے اپنی مٹی پر دہشت گردوں کا کام تقریبا تمام کرنے کی منصوبہ بندی کئے ہوئے ہے!
صدر پیوٹن نے جنگ بندی کے بارے میں اردوگان کے مسلسل مطالبے کے آگے ـ یہ کہہ کر کہ اس اجلاس میں کوئی بھی دہشت گردوں کا نمائندہ نہیں ہے ـ دو ٹوک موقف اپنایا اور صدر روحانی نے بہت دانشمندانہ انداز سے مذاکرات کا خلاصہ پیش کیا جس کے باعث جناب اردوگان سمیت تین سربراہوں نے ایک ایسے بیانیے پر دستخط کرلئے جس میں نہ صرف جنگ بندی کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا بلکہ صدر روحانی کی تجویز پر بیانیے میں ـ جناب اردوگان کے پرانے اخوانی و غیر اخوانی دوستوں اور ـ النصرہ فرنٹ و دیگر تکفیری جماعتوں کو غیر مسلح کئے جانے پر مبنی عبارت کا اضافہ کیا گیا۔
مذاکرات کا یہ حصہ اسلامی جمہوریہ ایران کے نیوز چینل نیز ترکی، روس اور دوسرے ممالک کے ٹیلی ویژن چینلوں سے براہ راست نشر کیا گیا۔  
سب نے صدر روحانی اور صدر پیوٹن سے صدر اردوغان کے بےسود مطالبات اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے؛ اور اجلاس کا نتیجہ اور آخری بیانیہ بھی۔ اگلا عینی نتیجہ ادلب کی قطعی آزادی اور انسانیت کُش تکفیریوں کی نابودی کی صورت میں اگلے چند دنوں یا زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں میں سب کے سامنے برآمد ہوگا، اور لوگ اسے دیکھیں گے اور سنیں گے۔
اب آپ اپنے ذہنی دنیا میں بحران شام کی تصاویر اور خبروں کے بیچوں بیچ ذرا چھ یا سات سال قبل تک قہقرائی سفر کریں اور دیکھ لیں جناب سلطان اروگان کے مستانہ وعدوں اور آتشیں دھمکیوں کو ۔۔۔ ایک ہفتہ بعد، ایک ماہ بعد، دو ماہ بعد، تین ماہ بعد ۔۔۔ دمشق میں اخوانی سلطنت کے قیام کے نعروں کو ۔۔۔ ذرا یاد کریں۔
آپ کو یاد ہوگا جب عثمانی سلطنت کا نقیب کہلوانے کے شوقین سلطان رجب طیب اردوگان کس طرح ہر روز شام کے صدر ڈاکٹر بشار الاسد اور ان کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے، شام پر فوجی چڑھائی، اور اس ملک پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے اور کس طرح مسلح دہشت گرد جنگجؤوں کی اعلانیہ حمایت کررہے تھے؟ آپ کو یاد ہوگا جب جناب سلطان ہر روز اسد حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے نئی تاریخ متعین کرتے تھے اور ان کے حامی اخبارات "جدید عثمانی سلطنت" کے قیام کی نوید دے رہے تھے؟ آپ کو یاد تو ہوگا کہ جناب سلطان اپنے دو پڑوسی ملکوں کے بارے میں کچھ اس انداز سے اظہار خیال کرتے تھے کہ گویا شام اور عراق کو انھوں نے ترکی کا حصہ بنا لیا ہے؟
اب جبکہ آپ اپنے سمعی و بصری ذہن (Audiovisual mind) کو آپ 2011ع‍ تک لے گئے ہیں، تاریخ سے رجوع کے راستے میں سیاہی کے لشکر داعش کے عروج کے دنوں میں اس سے وابستہ ذرائع ابلاغ کی رجزخوانیوں کی طرف بھی رجوع کریں جب اس نے موصل پرقبضہ کرلیا تھا، بغداد اس کے محاصرے میں تھا اور شام کی تقریبا نصف سرزمین اس کے کنٹرول میں تھی اور شام اور عراق پر عنقریب کے قبضے کے دعوے کررہی تھے اور دنیا بھر میں اس کی ہُلڑّ بازیوں کو اہمیت دی جاتی تھی؛ آپ بھولے تو نہیں ہونگے جب مقبوضہ شہروں کے مرکزی میدانوں اور چوراہوں میں انسانوں کے قتل کی نت نئی روشوں کے لئے نمائشیں لگائی جاتی تھیں اور درندوں کے شبیہ داعشی ایران سمیت اطراف کے ممالک اور بغداد، نجف اور کربلا کے بعد تہران پر قبضے کے منصوبوں اور  پاکستان، افغانستان اور ہندوستان پر قبضے کے لئے "دولۃ الاسلامیہ فی خراسان" اور دولۃ الاسلامیہ فی الہند" نامی شعبے بنانے کا  کے اعلانات کیا کرتے تھے۔
سات ستمبر 2018ع‍ کو لیکن وہی اردوگان اور داعش سمیت ان ہی ٹولوں کے وہی حامی، تہران میں وہ پرانے دھمکیاں، وعدے اور نعرے بھول چکے تھے؛ گویا وہ تسلیم کرچکے تھے کہ ان کے بھیجے ہوئے ٹولے شام اور عراق پر قبضہ نہیں کرسکے ہیں، بس ایک علاقہ بنام ادلب ان کے قبضے میں ہے، چنانچہ وہ اس بار "التجا" کررہے تھے کہ بھائیو! بس بھی کرو، ادلب کو اپنے حال پر چھوڑو اور اس کی طرف مت جاؤ۔
یہ البتہ الگ بات ہے کہ مغرب بھی اور مغربی کے علاقائی وابستے بھے، بڑے دھڑلے سے حکومت شام اور روس اور ایران سے مطالبہ کررہے ہیں اور حتی کہ حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں کہ وہ ادلب کو دہشت گردوں کے قبضے میں رہنے دیں، اور یہ بھی الگ بات ہے کہ کس قدر شرمناک ہے کسی ملک کے سربراہ کے لئے کہ وہ کسی ملک کے سربراہ اور افواج سے مطالبہ کرے کہ وہ اپنا ایک علاقہ دشمن کے ہاتھوں میں رہنے دیں ورنہ تو کیا ہوگا۔۔۔
بہر حال جہاں تک سلطان انقرہ، جناب سلطان اردوگان کا تعلق ہے تو وہ وہی سلطان اردوگان ہیں، 2011ع‍ والے، ان کی خواہشیں، آرزوئیں، مفادات اور علاقائی مقاصد و اہداف بالکل وہی ہیں، ان کے سلطنت عثمانیہ کے احیاء کے خواب بھی وہی ہیں اور اگر آج وہ پرانے رعب اور دبدبے کو ترک کرنے پر مجبور ہیں تو اس کا سبب وہ واقعہ ہے جو روئے زمین پر، بیچ میدان میں، حالیہ برسوں میں رونما ہوا ہے۔
بےشک ایک عظیم منصوبہ شام لایا گیا، بساط جنگ بچھائی گئی، جس کے چار کونے امریکہ، برطانیہ، فرانس اور یہودی ریاست کے قابو میں تھے، سرزمین شام اور جناب ڈاکٹر بشار الاسد کی حکومت نیز عراق کی ارضی سالمیت کو درمیان میں رکھا گیا، بنی سعود، بنی نہیان، بنی صباح، بنی خلیفہ اور بنی ثانی نیز سلطان بن سلطان رجب طیب ادوغان کو اس بساط پر کھیلنے کی دعوت دی گئی؛ ہدف شام اور عراق کو کئی ٹکڑوں میں تبدیل کرنا قرار پایا اور بساط پر مصروف عمل کھلاڑیوں سے کہا گیا کہ وہ ان دو ملکوں کے حصے بخرے کرنے کے بعد لبنان اور ایران کو اپنی تھالی میں پائیں گے؛ مگر رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالی) نے نہایت حکیمانہ پالیسی اپنا کر، اندرونی اور بیرونی مخالفتوں کی پروا کئے بغیر، ان کی بساط الٹ دی، اور مدافعین حرم نے قربانیوں کی لازوال مثالیں قائم کرکے اس پالیسی کو عملی جامہ پہنایا؛ اور صورت حال یہ ہے کہ اب بساط کے مغربی اور یہودی مالکین کو بھی اور اس پر پیسہ خرچ کرنے والے عرب قبا‏ئلی ریاستوں ـ بشمول جناب سلطان اردوگان ـ کو بھی کو بھی لینے کے دینے پڑ رہے رہے؛ اور ان سب کو آج اسی کیفیت کا سامنا ہے جو ٹی وی اسکرین پر جناب سلطان پر طاری ہوتی ہوئی دکھائی دی۔
اب اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس اجلاس میں دو افراد کی کمی شدت سے محسوس ہوئی: سید حسن نصر اللہ اور جنرل قاسم سلیمانی۔
جنرل قاسم شاید تہران کے اجلاس کے وقت کہیں ادلب کے گرد و نواح کے کسی آپریشن کمانڈ روم میں جناب سلطان کی التجا برائے جنگ بندی کو سن کو مسکرا رہے ہونگے اور حزب اللہ کے انتہائی زیرک اور ہوشیار و دانشور کمانڈر جناب سید حسن نصراللہ بھی شاید محرم کی آمد پر حزب اللہ کے مجاہدین کے اجتماع سے خطاب کرنے کی تیار کررہے ہونگے، جس میں وہ شام کی جنگ کے بعد کی کامیابیوں ـ یعنی یمنی عوام کی فتح کاملہ اور حرمین پر غاصبانہ قبضہ جمانے والے قبیلہ بنی سعود کے زوال کا وعدہ دیں گے۔
بقول مشہور: آسیاب بہ نوبت است... ترجمہ: گندم پسوانا باری باری ۔۔۔ یا پھر "باری باری سب کی باری آئے گی"
http://fna.ir/bofh5z
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram