سعودی عرب میں جاری اصلاحات اور امام کعبہ صالح الطالب کی گرفتاری

سعودی عرب میں جاری اصلاحات اور امام کعبہ صالح الطالب کی گرفتاری

سعودی عرب میں جاری اصلاحات سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب نام نہاد علما کو اسلامی شعایر کی مخالفت کا حکم دیا جائے گا اور یہ ایمان فروش ملا ایسا کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچائیں گے اس حوالے سے امام کعبہ ڈاکٹر صالح الطالب کی گرفتاری ایسے ہی حالات کی آمد کے اشارے دے رہی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب میں اصلاحات کے نام پر اسلام کو برباد کرنے کے منصوبے پر عمل ہو رہا ہے اس سے پہلے سعودی حکمران منافقت سے کام لیتے تھے اور اپنے شدت پسندانہ نظریات کو اسلام کا نام دیتے تھے لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے اب سعودی حکمرانوں کے امریکہ نامی کعبے میں ایک ایسے شخص کے ڈیرے ہیں جس کو اسلام ایک آنکھ بھی نہیں بھاتا سعودی حکمرانوں کے اس رہبر کا نام مسٹر ٹرمپ ہے جس نے صدر بنتے ہی مسلمانوں کے خلاف نا صرف زہر اگلنا شروع کیا بلکہ بعض مسلمان ملکوں کے لوگوں کے امریکہ سفر پر پابندی بھی عائد کر دی یہی نہیں کوئی ایسا دن نہیں جاتا جب ٹرمپ اسلام کے خلاف ہرزاہ سرائی نہ کرتا ہو۔لیکن اسلام اور مسلمانوں کے بدترین دشمن نے جب پہلا رسمی غیر ملکی دورہ کیا تو سعودی عرب کا انتخاب کیا جہاں اسے غیر معمولی حد تک اطاعت و غلامی کا یقین دلایا گیا یہی وہ وقت تھا جب سعودی حکمرانوں نے سعودی عرب سے اسلام کو ختم کرنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا اس دورے میں تمام اسلامی روایات کا جنازہ نکالا گیا۔

اس کے بعد ولی عہد کی ہدایت پر اصلاحات کے نام پر شیطنت کا وہ سیلاب آیا جس کو روکنا اب کسی کے بس میں نہیں رہا اس لئے کہ سعودی حکمران تو شروع دن سے ہی اسلام اور اسلامی تعلمیات سے عاری تھے جبکہ اسلام کے نام پر جو بعض پابندیاں سعودی عرب میں رائج تھیں ان سے عام لوگ کسی حد تک متاثر ہوتے تھے جب اصلاحات کا ڈرامہ شروع ہوا تو اسلامی تعلیمات سے عاری سعودی شہریوں نے بھی جشن منایا کہ اب وہ بھی اپنے حکمرانوں کی طرح ہر طرح کی مذہبی پابندی سے آزاد ہو کر اپنی من مانی کر سکیں گے اس مقصد کے لئے ملک بھر میں جوا خانوں، شراب خانوں کا جال بچھا دیا گیا جس پر فطری طور پر عیاش عام سعودیوں نے بھی جشن منایا ایسے حالات میں یقینا علما آواز حق اٹھاتے ہیں۔

میں نے علما کی بات کی ہے سعودی عرب میں علما تھے ہی کہاں سب علما کے نام پر دھبہ تھے اس لئے چاہیئے تو یہ تھا کہ اسلام مخالف اقدامات پر اسلام کے ٹھیکیدار آواز اٹھاتے لیکن اس کے بر عکس یہ سرکاری مولوی بنفس نفیس شراب خانوں اور جوا خانوں کے افتتاح کرنے لگے کیونکہ اسی صورت میں ہی ان کی بقا تھی یہ وہ نام نہاد علما ہیں جن کو کل کلاں سر عام شراب نوشی جیسے قبیح کاموں کا بھی سعودی بادشاہ حکم دیں تو یہ انسان نما درندے حکم کی تعمیل میں دیر نہیں لگائیں گے۔

سعودی عرب میں جاری اصلاحات سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب نام نہاد علما کو اسلامی شعایر کی مخالفت کا حکم دیا جائے گا اور یہ ایمان فروش ملا ایسا کرنے میں ذرا بھی نہیں ہچکچائیں گے اس حوالے سے امام کعبہ ڈاکٹر صالح الطالب کی گرفتاری ایسے ہی حالات کی آمد کے اشارے دے رہی ہے یہ صالح الطالب کوئی معمولی مولوی نہیں ہے بلکہ سعودی حکمرانوں کا قابل اعتماد بندہ سمجھا جاتا تھا لیکن اس شخص نے اپنے جمعہ کے خطبہ میں حرام کاموں سے اجتناب کرنے کی بات کی جس کے بعد سعودی ولی عہد کے براہ راست حکم پر اسے گرفتار کر لیا گیا ہے یاد رہے یہ وہی امام کعبہ ہے جو سعودی شاہوں کا خصوصی پیغام لے کر پاکستان آیا تو ایک مخصوص مکتب فکر کے لوگ اس کے فضآئل پڑھتے نہیں تھکتے تھے لیکن آج جب یہی شخص گرفتار ہوا ہے تو پورے ملک میں سے کسی ایک بھی سچے پکے مسلمان کی آواز نہیں نکلی آواز نکلے بھی کیسے اگر گرفتاری کے خلاف کوئی بولا تو سعودی بادشاہ ناراض ہو جائیں گے۔

ویسے بھی صالح الطالب کی گرفتاری پر کوئی نہیں بولے گا اس لئِے کہ سعودی دین فروش مولویوں کی تاریخ یہی رہی ہے کہ یہ لوگ شاہوں کے دین پر عمل پیرا رہے ہیں کچھ ہی دنوں میں صالح الطالب کو جب گھر کے عیش یاد آئیں تو وہ سعودی شاہوں کے اصلاحاتی اسلام پر ایمان لے آئیں گے اور پھر سب ہنسی خوشی اٖصلاحاتی اسلام کے قصیدے پڑھتے نظر آئیں گے۔

تحریر ایلیا شمسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram