سعودی ریاست کی یہودی ریاست سے دوستی کے اہم اسباب

سعودی ریاست کی یہودی ریاست سے دوستی کے اہم اسباب

سعودی عرب کی ترکی اور ایران کے ساتھ حالیہ برسوں بڑھتی کشیدگی، ایران کا علاقے میں اثر و رسوخ اور دوسری جانب شام کے مسئلے میں ترکی ایران اور روس کا باہمی اتحاد، اس بات کا باعث بنا ہے کہ سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ سے گٹھ جوڑ کر کے اس سہ فریقی اتحاد کا مقابلہ کر سکے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ کے مطابق، ترکی نے جب سے قطر، ایران اور روس کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سے قرار دیا ہے تب سے ریاض اور آنقرہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور سعودی عرب یہودی ریاست سے پائی جانے والی دوستی میں مزید استحکام کی کوشش کر رہاہے۔
مصر کے دورے پر بن سلمان کی ترکی پر تنقید
بن سلمان نے اپنے حالیہ مصر دورے پر الشروق اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ترکی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے شر کا مرکز قرار دیا یہاں تک کہ ترکی پر الزام عائد کیا کہ وہ دوبارہ اسلامی خلافت تشکیل دینا چاہتا ہے۔
اگر چہ بعد میں آنقرہ میں سعودی سفارتخانے نے اعلان کیا کہ بن سلمان کی شر کے مرکز سے مراد اخوان المسلمین اور دیگر انتہا پسند ٹولے تھے لیکن بہر حال بن سلمان کی ان باتوں نے سعودیہ اور ترکی کے درمیان بڑھی کشیدگی پر پیٹرول چھڑک دیا۔
ترکی کے ایران اور قطر کے ساتھ دوستانہ تعلقات سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی کا دوسرا سبب ہیں۔
ترکی شام کے بحران کو حل کرنے اور شمالی شام میں موجود کُرد فورس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مجبور ہے کہ قطر، ایران اور روس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے خاص طور پر اس وجہ سے کہ اس وقت ۳۵ لاکھ سے زیادہ شامی باشندے ترکی میں پناہ گزیں ہیں۔
علاوہ از ایں، سعودی عرب ترکی کی طرف سے مصری صدر عبد الفتاح السیسی کے خلاف موقف اختیار کرنے اور اخوان المسلمین کی حمایت کا اعلان کرنے سے بھی ناراض ہے جس زمانے میں قاہرہ نے اخوان المسلمین کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اس دور میں اس گروہ کے اراکین نے استنبول میں پناہ حاصل کی تھی اور یہ بات سبب بنی کہ ترکی اور قاہرہ کے تعلقات بھی خراب ہو جائیں۔
ایران اور روس کےساتھ روابط بڑھانا ترکی کے فائدہ میں ہے
دوسری جانب ترکی کے مغربی ممالک سے تعلقات میں سردی آ جانے اور یورپی یونین میں شمولیت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد ترکی کے لیے واحد راستہ یہ بچتا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تعلقات کو محفوظ رکھے خاص طور پر جب ترکی نے ایران کے ایٹمی معاہدہ کو کامیابی سے ہمکنار ہوتے دیکھا تو اس کی یہ خواہش بڑھ گئی کہ وہ ایران سے تجارتی روابط کو مضبوط بنائے۔
مسئلہ فلسطین اور قدس کے حوالے سے سعودی عرب اور ترکی کے اختلافات
ترکی اور سعودی عرب کے درمیان دوری کا ایک سبب امریکی کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنا ہے اس معنی میں کہ سعودی عرب ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران مخالف ہر رویے کی تصدیق کرتا ہے نتیجۃ اس نے قدس کے مسئلے میں نہ صرف امریکہ کے موقف کی مخالفت نہیں کی بلکہ اس کی ہاں میں ہاں بھر دیا اور اس کے عملانے کے لیے کششیں شروع کر دیں۔
اس کے علاوہ ریاض، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سازباز مذاکرات کے ذریعے صلح برقرار کرنے کی کوشش میں بھی مصروف ہے اور فلسطینی رہنماؤں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ منصوبہ “صدی کی ڈیل” کے بارے میں نرمی کا ثبوت دیں۔
یہ وہ مسائل ہیں جن کے پیش نظر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ دوستانہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کی سعی کر رہا ہے لیکن اس راہ میں سعودی عرب کے سامنے کچھ رکاوٹیں ہیں جن کو دور کرنا اس کے لیے اتنا آسان نہیں ہے ان رکاوٹوں میں سے ایک دنیا کے مسلمانوں کے نزدیک سعودی عرب کی عزت و آبرو کا خاک میں مل جانا ہے جس کی مثال بن سلمان کے امریکی جریدے اٹلانٹک کو دیے گیے حالیہ انٹرویو کے بعد عالم اسلام کا رد عمل ہے جس میں اکثر اسلامی ممالک نے بن سلمان کے موقف کو سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان سب کے باوجود سعودی عرب کی اسرائیل سے قربت کا جو اہم سبب ہے وہ تہران اور آنقرہ کی دشمنی ہے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور اسرائیل کے علاوہ کوئی بھی دوسرا ملک ایران کو اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتا اور نہ ہی ایران کے خلاف کسی قسم کی محاذ آرائی کے لیے تیار ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر عالم اسلام کو غور کرنا ہو گا اورعقل و درایت کے زیر سایہ اس حوالے سے ٹھوس موقف اپنانا ہو گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram