روس اور اس کے حلیفوں نے شامی فضا کو بلاک کردیا/ تل ابیب کی رسوائی عیاں

روس اور اس کے حلیفوں نے شامی فضا کو بلاک کردیا/ تل ابیب کی رسوائی عیاں

کہا جاسکتا ہے کہ ایرانی وزیر دفاع کے دورہ دمشق اور فوجی معاہدے پر فریقین کے دستخطوں کا ایک اہم ترین نتیجہ وہ عظیم نقصان ہے جو اسرائیلی وزیر اعظم کو مل چکا ہے اور اس نے نیتن یاہو کا ذہنی اور فکری توازن چھین لیا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ہفتے کے روز [۲۵ اگست ۲۰۱۸ع‍] روس نے بحیرہ روم میں عظیم فوجی مشقیں سرانجام دیں؛ روس اور شام نے ماسکو سے واشنگٹن اور مغرب کو انتباہات دیئے اور شام کی فضا کو کسی بھی قسم کے فضائی یا میزائل حملوں کا سد باب کرنے کے لئے بند کردیا۔ جس کے بعد واشنگٹن جارحانہ حالت سے دفاعی حالت میں چلا گیا اور تل ابیب کو تزویری رسوائی کا سامنا کرنا پڑا؛ یہودی ریاست کو اپنی تاریخ میں پہلی بار اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہونا پڑا ہے؛ اور نیتن یاہو اس ناقابل حل مخمصے سے نکلنے کی ناکام کوشش کررہا ہے، ایسا مخمصہ جس سے وہ، ایرانی وزیر دفاع کے دورہ دمشق اور علاقائی اور بین الاقوامی توازن کے اوپر اس کے گہرے اثرات کے بعد، دوچار ہوچکا ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ ایرانی وزیر دفاع کے دورہ دمشق اور فوجی معاہدے پر فریقین کے دستخطوں کا ایک اہم ترین نتیجہ وہ عظیم نقصان ہے جو اسرائیلی وزیر اعظم کو مل چکا ہے اور اس نے نیتن یاہو کا ذہنی اور فکری توازن چھین لیا ہے اور اس کو ـ مورخہ ۲۸ اگست ۲۰۱۸ء کو معاہدے پر دستخطوں کی گھڑی سے لے کر ۲۸ اگست ۲۰۱۸ء کی شام تک ـ مکمل بےہوشی کی کیفیت سے دوچار کیا اور اس کی زبان دو دن بعد کھلی۔
خاص کر اس وقت، جب ہمیں معلوم ہوا کہ ایرانیوں نے شامی عوام کو اس کے دفاعی ڈھانچے کی تعمیر نو کی پیشکش کے ضمن میں، انہیں ایرانی ساختہ جدید ترین “کوثر” لڑاکا طیاروں کا ایک اسکواڈرن دینے کی بھی پیشکش کی ہے؛ اور جیسا کہ مہمان ایرانی وزیر دفاع کے ساتھیوں نے واضح کیا، یہ طیارے کسی بھی قسم کی اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنے کے لئے شامی فضائیں بند کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
جیسا کہ، ہر وہ شخص جو شام کے میدان میں تیزی سے بدلتے حالات کی روشنی میں ـ ایرانی وزیر کے دورے کو قریب سے دیکھنے والا کوئی بھی شخص اس یقین تک پہنچتا ہے کہ شام اور ایران کا معاہدہ، عملی طور پر، غاصب یہودی ریاست کی تزویری صورت حال کے لئے ایک عظیم بھونچال سے کم نہیں تھا۔ جس کے نتیجے میں یہ ریاست تزویری لحاظ سے رسوا ہوکر رہ گئی اور اس کی حقیقت مکمل طور پر کھل گئی۔ یعنی یہ غاصب یہودیوں کی نام نہاد جعلی ریاست کو درپیش تزویری صورت حال ایک المیئے سے کم نہیں ہے اور اس کا ثبوت بہت سادہ سا ہے، بایں معنی کہ غاصب ریاست کی تزویری گہرائی مغربی کنارے میں واقعے طول کرم سے لے کر تل ابیب تک، صرف ۱۲ کلومیٹر ہے جبکہ شام کی تزویری گہرائی دمشق سے تہران تک ـ یعنی تقریبا ۲۰۰۰ کلومیٹر ـ تک پہنچ چکی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بحیرہ روم میں تعینات امریکہ کے چھٹے بحری بیڑے کے ساتھ ساتھ عرب ممالک میں تعینات تمام امریکی اور مغربی فضائی اور بحری بیڑے آسانی سے اسرائیل کی سلامتی کا تحفظ کرنے پر قادر نہیں ہیں۔
جو لوگ ایران اور شام کے فوجی معاہدے کا تزویری ادراک رکھتے ہیں، وہ بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ اس معاہدے کو روس “دعائے خیر” بھی حاصل رہی، اگر ہم نہ کہیں کہ یہ معاہدہ روس، ایران، شام اور حزب اللہ کی ہمآہنگی سے منعقد ہوا ہے؛ اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صدر پوٹین نے اس معاہدے پر دستخطوں کی حمایت کرکے، میثاق مزاحمت میں شامل تمام فریقوں کے ساتھ اپنے مختلف النوع رابطوں کی روشنی میں ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
یعنی یہ کہ روس نے اس معاہدے کے حوالے سے اپنے حمایتی موقف کے ذریعے، اس بات کی ضمانت دی ہے کہ اگر تین ممالک [امریکہ، برطانیہ اور فرانس] یا جارح اتحاد میں یہودی ریاست کی شمولیت کی صورت میں، چار جارحین میزائل یا فضائی حملے کریں، تو اس صورت میں میدان جنگ میں لڑنے والے شام، ایران اور حزب اللہ کے دستوں کی فضائی پشت پناہی کرے گا؛ جیسا کہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ شام فوجی معاہدے کے سلسلے میں روس اور اس کے صدر کا موقف ایران نیتن یاہو کا یہ جھوٹا دعوی طشت از بام ہوگیا ہے کہ “اس نے ماسکو کے مکرر در مکرر دوروں میں صدر پوٹین کے ساتھ خفیہ معاہدے کئے ہیں اور اس کا یہ دعوی بھی جھوٹا ثابت ہوا ہے کہ روس نے اس کو ـ ایرانی فوجی مشیروں کو مقبوضہ جولان کی سرحدوں سے دور رکھنے کے حوالے سے ـ ضمانتیں دی ہیں؛ اور یہ جو اس نے کہا ہے کہ ایرانیوں کی شام میں موجودگی کے بارے میں روس اور امریکہ کے درمیان سمجھوتہ ہوا ہے، یہ دعویٰ بھی نہ صرف صحیح نہیں ہے بلکہ یہ نتین یاہو کے خواب ہائے پریشان ہیں۔
روس، ایران، شام اور حزب اللہ نے معاہدے پر دستخطوں کے لئے ایک خاص وقت کا تعین کیا تھا تاکہ ۹ ستمبر ۲۰۱۸ع‍ کو تہران میں منعقدہ نشست میں ایران اور روس کے صدور کے لئے ایک اضافی حکمت عملی فراہم کی گئی ـ جو اکڑ شاہ اردوغان کی اکڑ بازیوں کو کم کردے گی کیونکہ انہیں بھی اب فوجی تعاون کے بہت اہم معاہدوں اور “صوبہ ادلب” کی آزادی کے سلسلے میں میثاق مزاحمت کے تمام فریقوں ـ بشمول روس، ایران، شام اور حزب اللہ ـ کے مربوط دباؤ کا سامنا ہے جبکہ ادلب اس وقت اردوگان کے اعوان و انصار کے قبضے میں ہے جن میں ۱۴۰۰۰ افراد ایسے بھی ہیں جو ترک شہری ہیں یا ان کے پاس ترکی کی شہریت اور پاسپورٹ ہے۔
مذکورہ بالا حقائق، سے یہی سمجھ آتا ہے کہ علاقے میں بڑی طاقتوں کے درمیان کوئی جھڑپ کا امکان ناپید ہوچکا ہے، جیسا کہ اس قسم کی کسی بھی جھڑپ کا سد باب کرنے کے لئے تمام تسدیدی اقدامات انجام پا چکے ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر، ہمیں یقین ہے کہ ان دوروں، معاہدوں اور جنگی مشقوں سے یکطرفہ امریکی پالیسیوں کے مقابلے میں عالمی محاذ مزاحمت کی پیشقدمی کو تقویت ملے گی اور امریکی ـ اسرائیلی شکست خوردہ محاذ کے مقابلے فاتح محاذ مزاحمت کی تزویری پیشقدمی ـ جو حلب کی آزادی سے شروع ہوچکی ہے ـ میں مزید اضافہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد صادق الحسيني
مترجم: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram