خود مختار قیدی، بے اختیار آزاد اور ہم

خود مختار قیدی، بے اختیار آزاد اور ہم

یہ فلسطین کے آزاد قیدی جیالے بازوئے قاتل سے یوں تو نہ جانے کب سے جوجھ رہے ہیں اور ان کی سرشت میں یہی ہے ان کی نسلیں اسی کارزار میں پروان چڑھ رہی ہیں سوچنا ہمیں ہے کہ وہ قیدی ہو کر بھی اپنے محبوس کر دینے والے مجرموں و قاتلوں سے دست بگریباں ہیں لیکن ہم کہاں ہیں؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آج بیت المقدس ،الخلیل ، غزہ اور فلسطینی سرزمین کے دوسرے شہروں میں لوگوں کو قید کر دیا گیا ہے،اُنہیں خود اُن کے گھروں میں اُن کے خون سے نہلایا جا رہا ہے ،پوری  ڈھٹائی کے ساتھ اب تو ہزارہا سال کے تمدن کو تاراج کرنے کے منصوبہ پر عمل درآمد بھی ہو رہا ہے اور ببانگ دہل اعلان کر دیا کہ بیت المقدس اسرائیل کا دار الحکومت ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں اس کے رد عمل کی صورت میں ۵۷ اسلامی ممالک اپنے سربراہان مملکت کو بتوں کی طرح نام نہاد  کانفرس میں سجا کر ایک دوسرے کی  پوجا کر کے اٹھ گئے ، کسی زمانہ میں عظیم اسلامی سلنطت، کے احیاء کے دعوے دار بس یہ کہہ کر چپ ہو گئے کہ اگر امریکہ نے بیت المقدس کو پایتخت قرار دیا تو ہم اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیں گے اب تک تو بہت کچھ ہو جانا چاہیے تھا لیکن  جیسا ہمیشہ ہوتا آیا وہی پھر ہوا اور سامراج کو پتہ ہے اسلامی ممالک کے غباروں کی ہوا نکل چکی ہے یہ کسی کام کے نہیں  یہ تو ایک منظر  ہے مسلمانوں کے بے اثر رد عمل کا دوسری طرف ایک پوری فلسطینی قوم ہے جو تنہا و اکیلی ہے انکے ساتھ کوئی کھڑا ہے تو بس ایران و حزب اللہ  جنہیں بجائے حمایت و حوصلہ افزائی کے دھمکیوں اور پابندیوں کا سامنا ہے اور سارے اسلامی ملک بتوں کی صورت خاموش کھڑے ہیں  جبکہ دوسری طرف  نہتے فلسطینی احتجاج کر رہے ہیں  اور جان دے رہے ہیں ، کیا بیت المقدس سے صرف انہیں کا تعلق ہے؟  امریکہ کے خبیث  اقدام کی مخالفت کی ذمہ داری بس انہیں کی ہے؟ جبکہ وہاں کے حالات کسی سے ڈھکے چھپے بھی نہیں ہیں  ہر طرف موت کے سیاہ بادل ہیں، کبھی  بموں کے پھٹنے کی آواز تو کبھی  میزائلوں کے دغنے کے بعد کے مناظر ، اپنے بچوں کو  احتجاج  کے لئے بھیجنے والے والدین اپنے ہی گھروں میں اپنے جوان بیٹوں کے داغ میں فرش غم  بچھائے ہوئے ہیں، کھانے پینے کی قلت ہے، سب بھوک کا سامنا کررہے ہیں اور صہیونیوں نے پوری فلسطینی قوم کا اقتصادی محاصرہ کیا ہوا ہے! مصر کی گزر گاہ رفح بند ہے کہ کہیں غزہ میں رہتے ہوئے لا الہ کا نعرہ لگانے والے آزاد و حریت پسندوں تک کچھ دوائیں نہ پہنچ سکیں جن سے زخمییوں کا مداوا ہو سکے کہ زخموں سے خون رسنا ضروری ہے کہ ان بے چاروں کو پتہ چلے کہ جو اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہیں کہ چارہ ساز خدا نہیں امریکہ و اسرائیل و انکے گماشتے ہیں لیکن یہ کیا ہے کہ ان آزاد زخمیوں کا خون جتنا زیادہ بہتا ہے اتنا ہی اللہ اکبر کا نعرہ سرخ اور سرخ تر نظر آتا ہے، اور نہ صرف زخمیوں کی چارہ سازی کرتا ہے بلکہ  ایک ایسا دائرہ بھی ترسیم کرتا ہے جس میں ان کو قید کرنے والے خود مختار قیدی نظر آتے ہیں اور قیدیوں کا بہتا ہوا لہو انکی آزادی کا ترجمان بن جاتا ہے ۔

زخم جب فریاد کرتے ہیں تو گولیاں بے بس ہو جاتی ہے لہو کی دھار جب بجلی کی طرح کوندتی ہے تو توپ کے دہانے اپنے وجود سے نکالے گئے سیاہ و مہیب بادلوں میں خود کو چھپا لیتے ہیں کہ عزم کے مقابل اسلحوں سے سجی رزم شکست سے عبارت ہے ۔ ایسے میں حق پرستوں کے بربط دل سے بس یہی آواز آتی ہے:
؎            سرفروشی کی تمنا پھر ہمارے دل میں ہے
             دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

یہ فلسطین کے آزاد قیدی  جیالے بازوئے قاتل سے یوں تو نہ جانے کب سے جوجھ رہے ہیں  اور ان کی سرشت میں یہی ہے ان کی نسلیں اسی کارزار میں پروان چڑھ رہی ہیں  سوچنا ہمیں ہے کہ وہ قیدی ہو کر بھی اپنے محبوس کر دینے والے مجرموں و  قاتلوں سے دست بگریباں ہیں لیکن ہم کہاں ہیں؟ اپنے ملک میں ہماری اوقات کیا ہے؟  دشمن کی صحیح شناخت نہیں تو کیا خود ہی خود سے جھوجھیں، اپنوں ہی کا کالر پکڑ کے انہیں اپنا دشمن قرار دیں جو ہماری ٹیڑھی فکر کو نہ مانےاس کی فکر کو بیمار اور خود کو عقل سلیم کا وارث کہیں؟و…

آج بیت المقدس کو اسرائیل کا پایتخت بنانے کے  اس  ہنگامی دور میں  جہاں ضروری ہے کہ  ہم اپنے ان برادران ایمانی کے ساتھ کھڑے ہوں جنکا ہم پر دینی اور انسانی حق ہے وہیں  خود احتسابی کا ایک بہترین موقع بھی ہے کہ اپنے ملک میں خود کو ایک قوم کی صورت تلاش کریں کہ ہم کہاں ہیں؟ ۔

جہاں تک بات قبلہ اول کی ہے تو یہ  نہ صرف  دنیا بھر کے ہم جیسے دیگر مسلمانوں کا دوسرا حرم ہے بلکہ فلسطین کے ان بیسیوں لاکھ مسلمانوں کی اصل سرزمین ہے جنہیں عالمی استکبار نے غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں آج سے 70سال پہلے سنہ 1948 میں اپنے وطن سے جلاوطن کرکے، صہیونیوں کے حوالے کر دیا تھا ۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ عالمی استکبار و یہودیوں کے  اس شیطانی ظلم کا نشانہ صرف مسلمان ہی نہیں عیسائیوں کو بھی بننا پڑا ہے سنہ 47 کے پہلے حملے میں ہی ساٹھ ہزار عیسائیوں کو  اپنے ملک و وطن کو چھوڑنے  پر مجبور کیا گیا ۔یہی نہیں سنہ 1950 میں تمام بین الاقوامی  قوانین کو پامال کرکے صہیونیوں نے مغربی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت اعلان کرکے یونائٹڈ نیشن کی قرارداد کا بھی کھلم کھلا مذاق اڑایا ہے یہ  پورا معاملہ خود اپنے آپ میں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ  صہیونی حکومت صرف فلسطینیوں یا مسلمانوں کی مجرم نہیں پوری بشریت کی مجرم ہے ۔ تاریخ انسانیت کے اس  آشکار و بڑے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا نہ صرف ہمارا بلکہ پوری بشریت کا انسانی فریضہ ہے۔  ہماری ذمہ داری تو اس سے بڑھ کر ہے ہم سب کو تو اپنے مشترک دشمن کے مقابل متحد ہونا ہے  ۔ہم سب کو مل جل کر اسرائیل کی نیل سے فرات تک کی  آرزو کو خاک میں ملانا ہے ۔فلسطین کے محروم و مظلوم  بے یاور و مددگارنہتے عوام ، صہیونیوں کے پنجۂ ظلم میں گرفتار لاکھوں مرد وعورت ،بوڑھے ، بچے اور جوان  اپنے ہی گھر سے بے گھر  اپنی مظلومیت کے ساتھ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا رد عمل کیا ہوگا تو دوسری طرف زندانوں میں رہتے ہوئے  ان کا زندہ ضمیر بظاہر آزادوں کو قیدی  بنائے سکہ کے اس رخ کو پیش کر رہا ہے جسے دنیا نہیں دیکھنا چاہتی  اور یہی سے ان خود مختار قیدیوں کے لئیے ہماری ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ ذرا اپنا محاسبہ تو کرو غلیل و پتھروں کے سوا کچھ نہیں لیکن ہماری غیرت دینی و ہماری ایمانی حمیت کا تقاضا ہے کہ ہم توپوں کے آگ اگلتے دہانوں کے سامنے ڈٹ جائیں اور بظاہر آزاد لیکن اپنے پورے وجود کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑی قوم کو احساس دلائیں کہ حقیقت میں آزاد تم نہیں ہو بلکہ ہم ہیں کہ تمہارا ضمیر پابند سلاسل ظلم و جور ہے جسے نہ کھوکھ جلی ماں کے دکھ کا پتہ ہے نہ اجڑے سھاگ کے درد کا احساس اور نہ ہی شعلوں میں جھلس کر خاک ہو جانے والے خانہ و کاشانوں کا۔ تم تو اپنے بل پر اپنا گھر بھی نہیں بنا سکتے اتنے بڑے غلام ہو کہ دوسروں سے ان کا حق چھینتے ہو اور پھر بھی سوچتے ہو تم آزاد ہو  ان فلسطینوں کے مقابل یقینا عمل احتساب بہت سخت ہوگا کہ جنکی غیرت و حمیت کے کچھ چھینٹے ہی ہم جیسے نام کے مسلمانوں کے دامن میں آ گئے ہوتے تو انتخابات و الیکشن کے دور میں این و آں کی غلامی نہ کرتے ہوئے اپنی مجموعی طاقت سے ہندوستان کی تاریخ رقم کرتے کہ ہم آزاد و خود مختار ہیں تو کیوں کسی کا دامن پکڑیں جو ہمارے شرائط و اصولوں کو مانے ہم اس کا ساتھ دیں گے کہ قرآن نے اصولوں کے سایہ میں جینے کا ہنر ہمیں سکھایا ہے لیکن افسوس کہ اجتماعی شعور تو درکنار بسا اوقات اجتماعی ضروریات سے بھی ہم آشنا نہیں  کاش مکتب کربلا کے جانباز سپاہی روح اللہ  خمینی کی اس بات کی گہرائی  تک ہم پہنچ سکیں جسےآپ نے قدس ڈے سے متعلق دئے جانے والے بیان میں فرمایا تھا ، آپ نےیوم قدس کی مناسبت سے جو کچھ فرمایا تھا آج بھی ضرورت ہے کہ اسی کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھا جائے:  یوم قدس ایک عالمی دن ہے یہ دن صرف قدس سے مخصوص نہیں بلکہ عالمی سطح پر  پوری دنیا  کے مستکبرین  دنیا بھر کے مستضعفین کے مقابل ربرو ڈٹ جانے کا دن ہے یہ تمام سامراجی طاقتوں کے خلاف کمزوروں اور محروموں کی دائمی جنگ و پیکار کا دن ہے ، ان تمام قوموں کی جدو جہد اور مقتل سجانے کا دن ہے  جو امریکہ اور اس کے ہم جھولیوں و ہم قبیلوں کی زیادتیوں کا شکار ہیں اس دن بڑی طاقتوں سے مقابلے کے لئے مستضعفین کو لیس ہوکر دشمنوں کی ناک خاک میں رگڑ دینا چاہیے  ۔”

؎

مل کے جو ساتھ چلے ریت ہماری ہوگی

گر نہیں آج تو کل جیت ہماری ہوگی

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram