حقیقت میں دھشتگرد کون؟ ہم یا آپ

حقیقت میں دھشتگرد کون؟ ہم یا آپ

لیکن ہمیں اتنا تو حق حاصل ہے کہ ہم تمام اہل مغرب اور اہل امریکہ سے یہ سوال پوچھیں کہ کیا وہ مسلمان تھے جنہوں نے صلیبی جنگیں وجود میں لائیں اور چار ملین مسلمانوں اور یہودیوں کو تہہ تیغ کیا؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ کی رپورٹ کے مطابق عصر حاضر میں میڈیا اور سائبر اسپیس کی ترقی نے انسانی زندگی کو انتہائی درجہ تک متاثر کر دیا ہے۔ بلکہ اگر یوں کہیں کہ میڈیا ہی وہ ایسا خطرناک اور موثر ترین آلہ کار ہے جو لوگوں کی فکروں کو جس سمت موڑنا چاہے موڑ دیتا ہے تو جھوٹ نہیں ہو گا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے سربراہوں یا دوسرے لفظوں میں یورپ اور امریکہ کے حکمرانوں نے میڈیا کی اس حیرت انگیز ترقی اور اس کے گہرے اثرات سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانوں کی فکروں پر اپنا مکمل قبضہ جما لیا ہے اور ان کے افکار کو جو رخ دینا چاہا وہ دے دیا ہے۔
خاص طور پر مغربی دنیا میں تو یہ چیز نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ اہل مغرب کے ذہنوں پر کس قدر استعماری میڈیا کا قبضہ ہے۔ جس کی واضح مثال یہ ہے کہ مغربی میڈیا میں اس چیز کو خوب ہوا دی جاتی ہے کہ مسلمان اہل مغرب کے دشمن ہیں۔ وہ کرہ ارض پر سب بڑے دھشتگرد ہیں۔ اور اس کے برخلاف اہل یورپ متمدن، ترقی یافتہ، صلح پسند اور سنجیدہ قسم کے لوگ ہیں۔
لیکن ہمیں اتنا تو حق حاصل ہے کہ ہم تمام اہل مغرب اور اہل امریکہ سے یہ سوال پوچھیں کہ کیا وہ مسلمان تھے جنہوں نے صلیبی جنگیں وجود میں لائیں اور چار ملین مسلمانوں اور یہودیوں کو تہہ تیغ کیا؟ کیا یہ مسلمان تھے جنہوں نے یروشلم میں خون کی ندیاں بہائیں؟ کیا یہ مسلمان تھے جنہوں نے پہلی اور دوسری عالمی جنگ چھیڑ کر لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جانوں کا ضیاع کیا اور افریقہ میں اپنی سلطنت کے قیام کے لیے ۵۰ ملین انسانوں کو قربانی کی بھینٹ چڑھایا؟ کیا یہی مغربی معاشرہ نہیں تھا جس نے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں کروڑوں انسانوں کو اپنا غلام بنا کر انسانیت پر ظلم و ستم کی انتہا کی؟
کیا آپ اس بات کو نہیں مانتے کہ دھشتگردی ایک عالمی عنصر ہے اور مسلمانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں؟
مغرب تو ہمیشہ مسلمانوں کے انتہا پسند گروہوں جیسے داعش، القاعدہ، طالبان وغیرہ کی مثال دیتا ہے حالانکہ مغربی سماج اس بات سے غافل ہے کہ ان دھشتگرد ٹولیوں کو وجود میں لانے والے خود مغربی حکمران ہیں۔ اور دوسری جانب ان گروہوں میں شامل مسلمان بھی صرف انگشت شمار ہیں اور وہ مسلمان بھی صرف نام کے مسلمان ہیں جو یا تو چند پیسوں پر بک چکے ہوتے ہیں یا ان کا برین واش کیا گیا ہوتا ہے۔ اور حقیقی مسلمان ان ٹولیوں کی شدت سے مخالفت کرتے اور انہیں دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔
اور پھر اگر چہ یہ دھشتگرد مسلمان ٹولیاں انتہا پسند ہیں لیکن ان کے جرائم امریکہ اور مغرب کے جرائم کے ساتھ برابری نہیں کر سکتے جو انہوں نے عراق، افغانستان اور دیگر مسلمان نشین علاقوں میں جرائم کئے ہیں۔ اگر کوئی میزائل مغرب سے مسلمانوں کی طرف داغا جاتا ہے تو اس کے حوالے سے وہاں کے لوگوں کے ذہنوں پر فضلہ خور میڈیا کے ذریعے پہلے سے ہی یہ چھاپ چڑھا دی جاتی ہے کہ مسلمان اس بات کے حقدار ہیں کہ انہیں صرف میزائلوں اور توپوں کا ہی نشانہ بنایا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram