ایک بھگوان نما شیطان کی کارستانیاں

ایک بھگوان نما شیطان کی کارستانیاں

بہر کیف جہاں اندھے عقیدت مندوں کے لئے گر میت سنگھ کی کتابِ زندگی چشم کشا ہے، وہاں ان نقلی پیروں، ڈھونگی باباؤں، مذہبی سرما یہ داروں، یوگیوں اور جوگیوں، راہبوں اور راہباؤں،مذہب کے نام پر خاندانی بالا دستی قائم کرنے والوں کے لئے بھی عبرت آموز ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

بقلم: فدا حسین بالہامی۔۔۔بالہامہ
کہنے کو تو موجودہ دور مذہب بیزاری کے دور سے جانا جاتا ہے لیکن حقائق کی روشنی میںدیکھا جائے تو اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ انسانی سوچ پر مذہب کے نمایاں اثرات رہے ہیں اور انسانی سماج کی تشکیل اور فعالیت میں بھی مذہبی عقیدت اور رسم و رواج کا کافی عمل دخل رہا ہے۔ بلا تامل کہا جا سکتا ہے کہ انسان چاہے کتنا بھی جدیدیت کی طرف گامزن ہو وہ کبھی بھی مذہبی عقائد سے کلی طور پر بے نیاز نہیں ہوسکتا ہے بلکہ زمانہ جتنا آگے کی اور بڑھتا جائے گا  معنویت اور روحانیت کی  طلب بھی اتنی ہی زیادہ بڑھتی جائے گی۔خاص طور سے مشرقی معاشروں میں مذہب کو روح کی حیثیت حامل ہے۔اس وجہ سے مذہبی رہنماووں کو بھی مشرقی معاشرے میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔یہاں کی معاشرت میں ان کا سکہ خوب چلتا ہے ۔ان کے تئیںعوامی اعتماد و حمایت کا موازنہ دیگر طبقوں سے کیا جائے تو نمایاںفرق نظر آئے گا۔ یقینا ایک مخصوص قسم کی عقیدت ان کے ساتھ عام لوگوں کو وابسطہ ہوتی ہے۔اس عقیدت و احترام سے بعض اوقات سوئِ استفادہ بھی کیا جاتا ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ استحصال کا ذریعہ وہی چیز بن سکتی ہے کہ جس کا چلن ہو۔یہی وجہ ہے کہ جہاں اصلاح پسند اور انقلابی رہنماووں نے وقتاً فوقتاً مذہبی جذبہ کو استعمال کر کے عالم ِانسانیت کی کایا پلٹ کے رکھ دی ،وہاں استحصالی عناصر نے مذہب اور مذہبی عقیدت کے تئیں انسانی جذبہ کو اپناالو سیدھا کرنے کا ایک ذریعہ بنایا۔واضع رہے یہ استحصالی عناصر کسی خاص مذہب کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے ہیں۔ چنانچہ مسلمانوں میں ملائیت ، ہندووں میں برہمن اِزم یا جدید اصلاح میں بابااِزم اور عیسائیوں میں پوپ اِزم اس کی چند ایک صورتیں ہیں۔نیز مذکورہ استحصال کے بھی ایک کئی ایک روپ ہے ۔کہیں اسی جذبہ کے غلط استعمال سے قتل و غارت گری کا بازار گرام کیا جاتا ہے اور کہیں اسی کی وساطت سے جنسی تلذذ حاصل کیا جاتا ہے، کہیں اس کی آڑ میں خاندانی راج پاٹ کی چولیں مضبوط کی جاتی ہے اور کہیں پیری مریدی کے سلسلے کو دوام بخش کرپیر نما ٹھگ اپنے سیدھے سادھے مریدوں کو ٹھگ رہے ہیں۔ایسے’’ مذہبی سرمایہ داروں ‘‘ کی خاصی تعداد ہر جگہ ہرسماج میں موجود ہے جس نے مذہب کو حصولِ زر ، جلب ِمنفعت اور حصولِ اقتدارکا ذریعہ بنایا اور ایک بڑا اثاثہ جمع کیا ۔
بلاشبہ مذہب ہوا و ہوس پر قدغن لگانے اور نفسِ امارہ کو رام کرنے کا ایک موثر ترین ذریعہ ہے لیکن ان سادھو نما ٹھگوں کی اس وقت دنیا میں کمی نہیں ہے کہ جو روحانیت اور آستھا کو نفسانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بناتے ہیں۔تعجب کی بات یہ ہے کہ ایسے دنیا پرست ترکِ دنیا کا درس دیتے تھکتے نہیں ہیںاور موہ مایا (حب ِجاہ و دولت)کے جال سے نکلنے کی تدبیریں بتانے والے مایا اور حب دنیا کی چلتی پھرتی مورتیاں ثابت ہوتے ہیں۔ ان ہی چلتی پھر تی مورتیوں میں سے ایک مورتی ریاست ہریانہ کے ایک بہت ہی بڑے ڈیرے یعنی مذہبی پرچار کے ایک اڈے سے برآمد ہوئی ۔یہ مذہبی مرکزڈیرا سچا سودا کے نام سے مشہور ہے اور اس مورتی کا نام گرمیت سنگھ عرف رام رحیم ہے۔گرمیت سنگھ  ۱۹۹۰ ء میں اس آشرم کا سربراہ بن گیا۔پورے ہندوستان میں چالیس آشرموںکے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی اس کے کئی ایک آشرم ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ گرمیت کے قریباً ۵ کروڑ عقیدت مند دنیا بھر میں موجود ہیں۔ دراصل یہ اندھی عقیدت یا اندھ وشواس ہی ہے جو اس جیسے شیطان صفت انسانوں کو بھگوان کا درجہ دیتی ہے اور جب ایک شیطان بھگوان کی گدی سنبھالے تو وہی کچھ ہوتا ہے جو ایک عرصے سے ڈیرا سچا سودا آشرم میں ہو رہا تھا۔ایسا ہرگز نہیں کہ اس ڈھونگی بابا جیسے شاطر افراد کو اپنی حقیقت کا احساس نہیں ہوتا ہے ،البتہ مریدوں کی ساد ہ لوحی اور بے جا عقیدت ان کے ضمیر کی آواز کو دبا دیتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ’’پیراں نمی پرند مریداں می پرانندـ‘‘ یعنی پیر ہوا میں نہیں اڑتے ہیں ،البتہ مرید انہیں اُڑاتے ہیں۔دوسری چیز جو ان جیسے بد قماش لوگوں کو کچھ بھی کر گزرنے اور کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ کرتاہے وہ یہ کہ انہیں صاحب اقتدار و صاحب رسوخ افراد کی جانب ہر قسم کی حمایت حاصل ہوتی ہے ۔  نقلی بابا گرمیت سنگھ کو بھی انہی دو چیزوں نے لے ڈوبا اور ان کے سہارے اس نے ایک عالی شان جاگیر کھڑی کر دی ۔یہ جاگیر سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی زمین پر مشتمل ہے جس میں اس بابا کا غار نما محل ہے جہاںہر قسم کا سامانِ عیش و عشرت پایا جاتا ہے۔ بابا کے دیگر بے شمار اثاثوں کی مالیت بے حد و حساب ہے۔اس انوکھے اور جدید سادھو کے شوق بھی عام سادھوؤں سے بالکل نرالے تھے۔کھیل کود ،گانا بجانا،فلمیں بنانا ،نئے نئے ڈیزائین کے ملبوسات پہننا،بائک اورجدید سہولیات سے لیس گاڑیاں چلانا اس کے چند ایک روزمرہ مشغلے تھے۔اس کے پاس دسیوں ایسی جدید اور آرام دہ گاڑیاں ہیں جن میں کچھ گاڑیوں کی قیمت سولہ کروڑ سے اٹھارہ کروڑتک ہے۔ عیش و عشرت کے ساتھ ساتھ بابا نے پورے ملک میں اپنا رعب و دبدبہ بھی قائم کیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ ہریانہ اور پنجاب میں حکومت کسی کی بھی ہو حکم اسی سادھو کا چلتا تھا۔ ان دو ریاستوں کے بڑے بڑے سیاست دان حتیٰ کہ ریاستی وزیر بھی اس کے سامنے جبہ سائی کو باعث سعادت جانتے تھے۔ ۲۰۱۵ ء میں’’ انڈین ایکسپرس‘‘ کے ذریعے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق رام رحیم ملک کے سو موثرترین اور طاقت ور ترین افراد میں شامل تھا۔بظاہر یہ آشرم آستھا اور عقیدت کا مرکز تھا لیکن اس کے روحِ رواں گر میت کی سیاہ کرتوت جو فاش ہوئیں تو یہ آشرم ایک گورکھ دھندے کا اڈہ نکلاجہاں اس رنگیلے سادھو کی بادشاہت قائم تھی۔ اس کے اشاروں پر وہاں کاپورا نظام چلتا تھا۔ سینکڑوں رضاکاروں بشمول دوسو نو (۲۰۹) سادھویاں یہاں اپنے گرو کی خدمت پر مامور تھیں۔ اس سادھو نما شیطان نے گویا اپنے خاص رہائش کو حرم سرا بنارکھا تھا ۔ان خواتین کے علاوہ کسی کو بھی بابا کے خاص کمرے تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ یہ ڈھونگی بابا نہ صرف جنسی ہوس کا رسیا تھا بلکہ اس پر الزام ہے کہ اپنی حقیقت کو پوشیدہ رکھنے کے لئے اس نے کچھ افراد کو قتل بھی کروایا۔ایسے میں اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ظاہری اعتبار سے اس نے کروڑوں افراد کو یہ فریب دیا تھا کہ وہ ایک روحانی شخصیت ہے اور اپنے اصل نام کے ساتھ رام رحیم جوڑکر یہ باور کرایا کہ وہ مذہبی منافرت سے بالا تر ایک ایسی آئیڈیا لوجی کو فروغ دینے میں مصروف ہے کہ جس میںہر مذہب کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ یہ فریبی تین اعتبار سے خود کو نہایت ہی محفوظ سمجھ رہا ہوگا۔ اول یہ کہ اس نے نہایت ہی عیاری کے ساتھ اپنے آپ کو ایک روحانی اور کرشماتی شخصیت کے طور سادہ لوح عقیدت مندوں سے منوا لیا تھا۔دوم: اسی نام پر اس نے اربوں مالیت کا اثاثہ جمع کیا تھااور امیر ترین افراد میں شامل تھا۔ سوم یہ کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر اس کا رعب و داب کافی چلتا تھا۔ بالفاظِ دیگر فرعون کی طاقت ،قارون کی دولت اور بلعم بعورکی فریب خوردہ روحانی شخصیت ایک ہی قالب میں مجتمع ہوگئی تھی۔ اس قسم کے شاطرافراد کی دشمنی مول لینا ایک عام انسان کے لئے خطرے سے خالی نہیں ہوا کرتی ہے ۔بلا شبہ اس کام کے لئے غیر معمولی جرأت و ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی جرأت کا اظہارمیں ایک لڑکی نے کیا جو اسی آشرم میںایک سادھوی کی حیثیت سے رہ چکی ہے اور خود بھی اس جنسی درندے کے ہوس کا شکار ہو گئی ہے۔مذکورہ خاتون نے ۲۰۰۲ء اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری کو ایک خفیہ خط لکھا جس میں اس خاتون اور ڈیرا سچا سودا میں قیام پذیر دیگر خواتین کے ساتھ ہو رہی گوناگوںزیادتیوں کی روداد لکھی گئی تھی۔اسی خط نے بابا گرمیت کا اصلی چہرہ مہر ہ سامنے لایا۔ مگر جرأت ِ اظہار کا اس خاتون کو بھاری قیمت چکانا پڑی ۔ اس کا بھائی رنجیت سنگھ جو خود بھی اسی آشرم میں بطورِ خدمت گزار کام کر رہا تھا ،کو اس جرم میں قتل کیا گیا کہ اس نے بہن کے ساتھ مل کر بابا کے خلاف علم بغاوت بلند کی ۔یہاں پر اس خط کے چند ایک چیدہ چیدہ اقتباس پیش کئے جاتے ہیں تاکہ اندازہ ہو جائے کہ کس طرح مذہب اور معنویت کے نام بھی ایک گھناؤنا کھیل کھیلا جاتا ہے ۔ یہ خاتون اپنے اس خط میں وزییرِ اعظم سے مخاطب ہو کر ر قم طراز ہے۔ 
’’میں گزشتہ پانچ سال سے آشرم میں ایک سادھوی کی حیثیت سے رہ رہی ہوں۔ میرے ساتھ اور بھی دسیوں خواتین سولہ سے اٹھارہ گھنٹے یہاںخدمت میں مصروف رہتی ہیں۔ہمارا وہاں جنسی استحصال کیا جارہاہے۔میں ایک پڑھی لکھی لڑکی ہوں، میرے گھر والے گرمیت سنگھ رام رحیم کے اندھے بھگت (عقیدت مند) ہیں۔انہی کے کہنے پر میں ڈیرا سچاسودا سرسا ہریانہ میں ایک سادھوی کی حیثیت سے رہنے لگی۔
ڈیرے میں آنے کے دو سال بعد ایک بار مجھ سے بابا کی ایک خاص سادھوی نے کہا کہ مہاراج تجھے بلا رہے ہیں ۔ اس بات پر میں خوشی سے پھولے نہیں سمائی کہ پہلی بار مجھے پرمہاتما نے بلایا ہے لیکن جب میں بابا کے خصوصی کمرے میں گئی تو وہاں کے ماحول کو دیکھ کر میرے پیروں کے نیچے زمین کھسک گئی۔بابا بیڈ پر بیٹھا تھا ،اس کے ہاتھ میں ٹی ،وی کا ریموٹ اور سرہانے پرریوالور (REVOLVER) رکھا ہوا تھا اورسامنے لگے ٹی،وی پر فحش مناظر رقصاں تھے ۔
اس (گرمیت سنگھ)نے مجھے بیڈ پر بیٹھنے کا حکم دیااور کہا کہ جب تم یہاں سادھوی بن کر آئی تھی اسی وقت تو نے اپنا جسم و جاںمجھے سونپ دیا تھا۔یہ کہہ کر وہ مجھ سے دست درازی کرنے لگا۔ جب میںنے اپنی ناموس کو بچانے کے لئے مزاحمت کی تواس نے کہاکہ میں بھگوان ہوں اور تجھ پر میرا مکمل اختیار ہے۔ میں چاہوں تو تمہاری جان بھی لے سکتاہوں۔ جب میں نے یہ کہا کہ کیا خدا بھی ایسا کام کر سکتا ہے ؟تو اس نے جواب میں کہا کہ بھگوان کرشن کے ساتھ بھی تین سو سٹھ(۳۶۰) گوپیاں تھیں جن کے ساتھ وہ پریم لیلا کیا کرتے تھے۔اس نے مجھے ڈرایا دھمکایا اور میں بے بس ہو کر اس کے ہوس کا شکارہوگئی۔
مہاراج کی ہدایات کے مطابق سفید کپڑے پہننا،سر پر دوپٹا رکھنا،کسی مرد کی جانب آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا،اور مردوں سے دس فٹ کی دوری پر رہنا ہم(سادھو یوں) کے لئے لازمی ہے۔بظاہر ہم دیویاں ہیں مگر اصل میں ہماری حالت بازاری عورتوں سے مختلف نہیں ہے۔
ایک مرتبہ جب میں نے اپنے گھر والوںسے کنایتاً کہا کہ ڈیرے میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ جب بھگوان کے پاس رہتے ہوئے تجھے ٹھیک نہیں لگ رہا ہے تو پھر کہاں پر ٹھیک ہوگا۔ تمہارے ذہن میں برے خیالات گردش کرنے لگے ہیں۔‘‘
یہ خط ان مریدوں اور اندھے عقیدت مندوں کے لئے بھی چشم کشا ہے کہ جو روحانی کمالات کے دعویٰ دار ہر شخص کی باتوں میں اپنا سب کچھ اس پر لٹانے کے لئے تیار رہتے ہیں ۔یہ ایک قلم کی سیاہی تھی کہ جس نے ایک خود ساختہ ’’مہان آتما‘‘ کے سیاہ کارنامے فاش کر دئے اور اس قلم کا ساتھ ایک اور قلم نے دیا ۔یہ قلم ایک فرض شناس اور بے باک صحافی رام چندر چترپتی کا تھا۔ رام رحیم اور ڈیرا سچا سودا کی اصل حقیقت سامنے لانے میں اس نے کلیدی رول نبھایا۔ وہ ’’پوراسچ ‘‘ کے نام سے اخبار نکالتے تھے ۔ پورا سچ میں ڈیرے اور گرمیت سنگھ کے حوالے سے سچائی مسلسل چھپتی رہی جس سے گرمیت سنگھ اور اس کے حوالیوں موالیوں کی نیندیں اڑ گئیں۔ چترپتی کو کافی ڈرایا دھمکایا گیا لیکن وہ خوف زدہ ہوئے ،نہ لالچ میں آگئے، یہاں تک کہ اسے ۲۴ ستمبر ۲۰۰۲ ء کو گولی مار کر ابدی نیند سلا دیا گیا۔ بالآخر پندرہ سال بعد ان دو تحریروں نے رنگ لایا اور سی ،بی، آئی پنچکلاہ عدالت نے گرمیت سنگھ رام رحیم کو مجرم قرار دیااور جنسی زیادتی کے دو الگ الگ معاملوں میں دس دس سال کی قید کی سزا سنائی۔بیس سال قید کی سزاسن کر خود کو بھگوان کہنے والا گرمیت سنگھ حواس باختہ ہو کر عدالت کے فرش پر بیٹھ گیا اور دھاڑیں مار کر رونے لگا۔
مذہب اور روحانیت کے نام پر عیاشی کا اڈہ کھولنا قابلِ مذمت فعل شنیع ہے مگر اس سے بھی شرمناک امر یہ ہے کہ رام رحیم کے ہزاروں ماننے والے عدالت کے فیصلہ پر سیخ پا ہوگئے۔ انہوں نے توڑ پھوڑ کی اورچند ہی گھنٹوں میںکروڑوں کی سرکاری و غیرسرکاری املاک کو آگ لگا کر پھونک ڈلا۔احتجاج اس شدت کا تھا کہ جوابی کاروائی میں قریباً چالیس افراد کی جانیں گئیںاور سینکڑوں افراد زخمی ہو گئے۔گویا ان ساون کے اندھوں کو اپنے گرو کے متعلق ہریالی کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتااور وہ سب اسی غلط راہ وروش پر گامزن ہیںجس میں کہنے والے کہتے ہیں ۔کہ ’’پیرِ من خس است اعتقادِ من بس است ‘‘یعنی میرا گرو اور پیر خس و خاشاک کی مانند نہایت ذلیل شخص ہی سہی مگر پھر بھی اس کے تئیں میرا اعتقاد کافی وشافی ہے۔بلوائیوں کایہ کہناکس قدر مضحکہ خیز ہے کہ ان کا بابا بے قصور ہے۔حالانکہ بابا کے ساتھ ناانصافی کے امکانات نفی کے برابر تھے ۔اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے اس کے پاس تمام وسائل موجود تھے۔دولت، شہرت، اثرو رسوخ، عوامی حمایت کے ہوتے ہوئے بھی عدالت کسی کو خواہ مخواہ کیسے قصور وار ٹھہرا سکتی ہے؟
بہر کیف جہاں اندھے عقیدت مندوں کے لئے گر میت سنگھ کی کتابِ زندگی چشم کشا ہے، وہاں ان نقلی پیروں، ڈھونگی باباؤں، مذہبی سرما یہ داروں، یوگیوں اور جوگیوں، راہبوں اور راہباؤں،مذہب کے نام پر خاندانی بالا دستی قائم کرنے والوں کے لئے بھی عبرت آموز ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان افراد کے لئے بھی حوصلہ افزا ہے کہ جو اس قسم کے افراد کے استحصال کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بابا گر میت سنگھ جیسے ڈھونگی باباؤں ، نقلی پیروں، جعلی دریشوں اور مذہب واخلاق جیسے مقدس نام پر شیطانیت چلانے والوں کے چہرے بے نقاب کئے جائیں تاکہ کوئی صاف دل اور نیک نیت انسان رنگے سیاروں سے فریب نہ کھائے ۔
Email: fidahussain007@gmail.com
فون نمبر9596465551
 .......................
242

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram