ایرانو فوبیا امریکی آمدنی کا ذریعہ!؛

ایران کا سامنا کرنے کے لئے عرب نیٹو کا قیام یا عرب خزانے لوٹنے کا منصوبہ

ایران کا سامنا کرنے کے لئے عرب نیٹو کا قیام یا عرب خزانے لوٹنے کا منصوبہ

امریکی حکام نے حال ہی میں ایک سے زيادہ مرتبہ کہا ہے کہ ان کے عرب حکمرانوں سے مذاکرات ہوئے ہیں اور واشنگٹن خلیج فارس کی عرب ریاستوں نیز مصر اور اردن کے ساتھ سیکورٹی اور سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ وہ ایران کے اثر و رسوخ کا راستہ روک سکے!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ نے گذشتہ تین سال کے عرصے میں ـ اور بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد ـ خلیج فارس کے عرب ممالک ـ بالخصوص بنی سعود کی قبائلی ریاست سے ـ کھربوں ڈالر اسلحہ فروخت کرنے یا پھر امریکہ میں سرمایہ کاری کرانے کے بہانے بٹور لئے ہیں۔  لیکن ٹرمپ نے گویا قسم کھائی ہے کہ عرب خزانے مکمل امریکہ منتقل کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے چنانچہ انھوں نے سنی عرب نیٹو کے قیام کے مردہ منصوبے میں دوبارہ شیطانی روح پھونکنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ چنانچہ ایک طرف سے لیبیا، فلسطین، شام، عراق اور مصر میں شرانگیزیوں نیز یمن کی جنگ پر کھربوں ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں تو دوسری طرف سے مسٹر ٹرمپ عرب نیٹو کے قیام کا خواب دکھا کر باقیماندہ عرب پیٹرو ڈالرز لوٹنے کے سپنے دیکھنے لگے ہیں۔ یہ اس لئے کہنا پڑ رہا ہے کہ عرب ممالک اور ان کے کٹھ پتلی حکمرانوں کو بخوبی معلوم ہے کہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لئے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ایران اور اس کی پالیسیوں میں ان ممالک کے خلاف نہ تو کوئی سازش ہورہی ہے، نہ ہی ایران عربوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے بدترین دشمن کا یہ دشمن (ایران) کوئی فرقہ وارانہ عزائم رکھتا ہے اور اگر وہ نیٹو عربی نیٹو بنائیں بھی اس کی کوئی افادیت نہیں ہوگی جس طرح کہ اس سے پہلے 34، پھر 39 اور پھر 41 ملکوں کے ناقص الخلقہ بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی مر چکا تھا جبکہ اس کی پوری قیمت امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت مغربی ممالک وصول کرچکے تھے، اس بار بھی اس سے بہتر کوئی نتیجہ ہاتھ نہیں آسکے گا۔
گوکہ اس نے عربی نیٹو کے قیام کے اپنے سے اعلان کے بعد کہا ہے کہ اس قوت کا مقصد علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کے فروغ کو روکنا ہے! لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے لالچی صدر تو عربی گائے کو دوہنا چاہتے ہیں اور وہ اس بہانے عرب ریاستوں کو بلیک میل کررہے ہیں وہ بہت کم تھوڑے عرصے بعد، کیونکہ کچھ ہی عرصہ بعد وہ ان ممالک سے نہایت وسیع پیمانے پر مال بٹور چکے ہیں؛ ڈاکہ پڑا ہے دن دہاڑے وہ بھی دوسری تیسری مرتبہ گھر کے مالک کہلوانے والے ڈاکو سے رعایتیں لینے کی امید سے خاموش تماشائی ہیں!
امریکی حکام نے حال ہی میں ایک سے زيادہ مرتبہ کہا ہے کہ ان کے عرب حکمرانوں سے مذاکرات ہوئے ہیں اور واشنگٹن خلیج فارس کی عرب ریاستوں نیز مصر اور اردن کے ساتھ سیکورٹی اور سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ وہ ایران کے اثر و رسوخ کا راستہ روک سکے!
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ میزائل ڈیفنس اور فوجی مشقوں نیز فوجی تربیت اور انسداد دہشت گردی جیسے شعبوں میں اور علاقائی معاشی و سفارتی تعلقات کی حمایت کے سلسلے ان عرب ریاستوں کے ساتھ اپنے تعاون کو تقویت پہنچانا چاہتا ہے۔
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکہ "عرب نیٹو" کے مردہ منصوبے کو ایران کی سرگرمیاں روکنے کی غرض سے دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ اس اتحاد کے ابتدائی ڈھانچے کو ـ جو عارضی طور پر "مشرق وسطی تزویری اتحاد" کہلائے گا، ـ 11 اور 12 اکتوبر کو واشنگٹن میں ہونے والی نشست کے دوران ـ زير بحث لایا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اس منصوبے پر ـ جو کہ نیٹو کا عربی نسخہ ہوگا ـ کئی مہینوں سے غور ہورہا ہے۔
ایرانوفوبیا کے امریکی منصوبے کے تسلسل میں نام نہاد عرب نیٹو کے مقاصد جو بھی ہوں، مذکورہ ریاستوں کے ڈھانچے اور سیاسی و عسکری نیز افرادی وزن کو دیکھ کر، کچھ زیادہ کامیاب اتحاد تو نہیں ہوسکتا لیکن حقیقت مسلم یہ ہے کہ اس کا غیر اعلانیہ لیکن بہت ہی آشکار مقصد یہ ہے کہ امریکہ جو ان ممالک کو ایران سے خوفزدہ کرکے کئی مرتبہ زور زبردستی ہتھیار بیچ کر لوٹ چکا ہے، ایک بار پھر انہیں لوٹنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے بنی سعود کے ساتھ اپنے مسلط کردہ آخری سودے میں 460 ارب ڈالر کا معاہدہ منعقد کیا جن میں سے 350 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے نام پر جزیرۃ العرب کے عوام کے خزانے سے امریکہ منتقل ہونگے اور 110 ارب ڈالر کے عوض امریکہ بنی سعود کو ہتھیار فروخت کرے گا اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا اور مہنگا سودا تھا۔
گوکہ یہ بات بھولنا بھی شاید درست نہیں ہے کہ ٹرمپ نے اس سال مارچ کے مہینے میں سعودی ولیعہد ایم بی ایس کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ "سعودی عرب بہت مالدار ملک ہے چنانچہ ہمارے ملک کو اس کے ساتھ ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے معاہدوں کے سلسلے میں پر امید ہونا چاہئے"۔
اور پھر ٹرمپ نے اپریل میں کہا تھا کہ "مشرق وسطی کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو امریکی حمایت کے بغیر ایک ہفتے تک بھی قائم رہنے کے اہل نہیں ہیں اور یہ کہ ان کے ملک نے گذشتہ 18 برسوں کے عرصے میں مشرق وسطی میں ساتھ ٹریلین ڈالر خرچ کئے ہیں چنانچہ صاحب ثروت ممالک کو چاہئے کہ امریکہ کے ان اخراجات کو برداشت کریں"۔
قطر کو خلیج فارس تعاون کونسل کے بحران میں ـ جو کہ امریکہ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا ـ امریکہ کے ساتھ 12 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کرنا پڑے۔ تا کہ ٹرمپ جو امارات اور سعودیہ سمیت خلیج فارس کی عرب ریاستوں کو ایرانی خطرے سے خوفزدہ کرکے دوہ رہے ہیں ـ قطر سے بھی اپنی حمایت کی قیمت وصول کرسکیں۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ چھ ممالک کے ایٹمی معاہدے سے الگ ہوکر ایران کو الگ تھلگ کرنے کی سازش بنائی تو انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو انھوں نے "عربی نیٹو" کی تجویز پیش کی؛ جس کے بعد انھوں نے ایران کو دھمکی دی کہ ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر بیرل تک پہنچائیں گے جس کے بعد ایران نے نہایت شدید رد عمل دکھایا اور پھر بھی انہیں شکست ہوئی، چنانچہ عربی نیٹو سے گوکہ ممکن ہے کہ عرب ریاستوں کے خزانے مزید خالی ہوجائیں لیکن عربی نیٹو پیدائش سے قبل ہی مرنے والے معاہدے سے زیادہ کچھ نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram