اکابرین کے خواب

اکابرین کے خواب

اللہ کے دین و شریعت کو خوابوں پر چلتا دیکھ کر یہ سوچتا ہوں کہ رسول پاک محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پاکستانی مولویوں کے خواب میں ہی کیوں آتے ہیں ، باقی دنیا کے مولویوں کو یہ شرف کیوں حاصل نہ ہو سکا۔؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

تحریر:  سیّد تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ    
چونکہ مولوی صاحبان، پیران ِ عظام اور محدثین کرام ہمیشہ سچے ، افضل اور ایمان کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں اس لئے اُنکی زبان مبارک سے نکلی ہوئی کوئی بات توہین ِ توحید و رسالت کے زمرے میں نہیں آتی، میں چونکہ ایمان کے اس اعلیٰ درجے پر فائز نہیں اس لئے میری تحریر میں کوئی توہین کا پہلو نکلے تو میںاللہ اور اُسکے رسول اکرم ۖ سے پیشگی معافی کا طلبگار ہوں اور امید ہے کہ صاحبان ِ تقوی ٰ بھی مجھے معاف فرمائیں گے۔ بغیر کسی تمہید کے مولوی صاحبان، پیران ِ عظام اور محدثین کرام کے حسب ِ توفیق خواب، بشارتیں اور احکامات پیش خدمت ہیں۔مولانا فضل الرحمن فرماتے ہیں کہ ''میں نے سوتے وقت خواب میں حضرت آدم علیہ السلام سے ٹیلیفون پر بات کی، حضرت آدم علیہ السلام نے مجھے کہا، امن چاہتے ہو تو صبر کرو، پھر کچھ دیر کے لئے فون پر خاموشی رہی لیکن لائن کٹی  نہیں، سوچا اگر میں مسلسل خاموش رہا تو بے ادبی ہو گی، اس لئے پھر سلام کیا، تو جواب ملا ، امن کے لئے  انتظار کرو۔۔!''  مولانا خادم رضوی فرماتے ہیں کہ میںتقریر کے بعد تھکا ہارا ہو ا سو رہا تھا کہ '' خواب میں جن آگئے اور انہوں نے بڑی بڑی بلیوں کی شکلیں اپنائی ہوئی تھیں، میں سمجھ گیا کہ یہ جن ہیں، میں نے ان سے کہا کہ تم  لوگ انسان کے بچے ہو، شرم نہیں آتی ۔؟ کیوں آئے ہو۔؟ جنوں نے جواب دیا کہ ہمیں معاف کردیںغلطی ہوگئی۔ ہم تو آپ سے ملاقات کے لئے آئے ہیں، تو میں نے ان سے کہا کہ ملاقات کا کوئی ٹائم ہوتا ہے، آدھی رات کو کون سی ملاقات ہوتی ہے۔؟ اس پر وہ معافیاں مانگنا شروع ہوگئے اور آپس میںلڑنا شروع  ہوگئے۔۔!''  مولانا جلال الدین بغدادی نے مولانا خادم رضوی کے فضائلمیں دھرنا شرکاء سے  کرتے ہوئے کہاکہ  '' سرکار دوعالم  نے مجھے خواب میں آکر حکم دیا کہ  دھرنے والے بابے  مولانا خادم رضوی  سے ملتے رہا کرو وہ ہمارا منظور ِ نظر ہے۔ یہ بھی ارشاد ہوا کہ اس بابے کو دیکھنا ہماری زیارت کے برابر ہے۔۔!''پیر صاحب سیال شریف خواجہ حمید الدین  اپنے  عقیدت مندوں سے جو انکے آگے آگے ڈھول بجا کر آرہے تھے، سے فرماتے ہیں کہ'' میں آپکو بند نہ کر سکا، پھر قسم اٹھا کر ڈھول بجانے اور سننے کو نبی پاک کی سنت قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے حضور حضرت شیخ الاسلام قمر الدین ڈھول سننا پسند نہیں کرتے تھے۔ میں نے حضور شیخ الاسلام کی زبانی سنا کہ ڈھول سے مجھے الجھن و گھبراہٹ ہوتی تھی لہٰذا میں اسے نہیں سننتا تھا۔ ایک دن دوپہر کو کھاناکے بعد میں سو گیااور خواب میں دیکھتا ہوں کہ نبی پاک صلی اللہ  علیہ و آلہ وسلم  تمام اُمت کو بخشا کر لے جا رہے ہیں  اور آگے آگے  ڈھول بجتے جا رہے ہیں۔  حضور بڑے خوش ، بڑی محبت کی نگاہ سے میری طرف دیکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ  قمر الدین اپنے غلاموں کو سنبھال لیا ہے۔ میں نے فرمایا غریب نواز، سارے غلام حاضر ہیں، حضور نے فرمایا کہ دیکھ لینا کہ کوئی رہ جائے۔۔!''  غازی تنویر احمد قادری صاحب  اپنے ناراض قائدین میں جلد اتحاد کی دعا کرتے  ہوئے فرماتے ہیں  کہ ''  میں نے غازی ممتاز قادری کو خواب میں دیکھا کہ ''  انہوں نے قبلہ ڈاکٹر آصف جلالی صاحب کی بھی پگڑی پہنی ہوئی تھی اور امیرالمجاہدین کی بھی پگڑی پہنی ہوئی  اور فرمایا کے اُنکے ہاتھ تھام لو، سن کر بہت خوشی ہوئی۔۔! ''  مولانا الیاس عطاری صاحب فرماتے ہیں کہ  انہیں '' غازی ممتاز قادری  شہید کی فجر کی نماز کے بعد خواب میں زیارت ہوئی، غازی صاحب  دعوت اسلامی کے مدنی قافلے میں تھے۔ میں ایک جگہ کسی دوکان میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں غازی صاحب کے ساتھ دو اسلامی بھائی اور تشریف لائے، غازی صاحب داعی بن کر نیکی کی دعوت دے رہے تھے، مسکراتا چہرہ ، سر پر سبز عمامہ شریف، سفید سوٹ زیب ِ تن کیا ہوا تھا ، ماشاء اللہ بہتر روحانی منظر تھا۔۔''  مولانا الیاس عطاری صاحب نے اپنی کتاب '' منے کی لاش '' میں صوفیت سے لبریز کتابوں کے حوالے سے دس بارہ واقعات کو ذکر کیا۔ یہ سارے واقعات اس پہ  مبنی ہیں کہ ''پیر صاحب اللہ کی طرح اور بغیر اللہ کے جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ مصیبت سے نجات دلا سکتے ہیں، اولاد دے سکتے ہیں، مردے کو زندہ کر سکتے ہیں، قبر کا عذاب دور کر سکتے ہیں، قسمت میں لکھی برائی مٹا کر نیکی میں تبدیل کر سکتے ہیں ، یہاں تک کہ پیر سے بیعت ہونے والے یا پیر کی مجلس میں حاضر ہونے والے یا پیر کا کھانا کھانے والے یا پیر کی فقط زیارت کرنے والے کے عذاب کو دور کر دیا جاتا ہے۔ یہی نہیں پیر کے سایہ میں رہنے والے کوئی مرید جہنم میں نہیں داخل کیا جائے گا۔ ۔! '' عطاری صاحب  ' '  ا رشادات غوث اعظم   ''کے تحت لکھتے ہیں کہ '' پیر صاحب فرماتے ہیں میں نے دروغہ جہنم سے استفسار کیا ، کیا جہنم  میں میرا کوئی مرید بھی ہے۔؟ انہوں نے جواب دیا، نہیں ۔  آپ نے مذید فرمایا ، مجھے اپنے پروردگار کی عزت و جلال کی قسم ۔!  میرا دست ِ حمایت میرے مرید پر اس طرح ہے جس طرح آسمان زمین پر سایہء کناں ہے۔ اگر میرا مرید اچھا نہ ہو تو کیا ہوا، الحمدللہ عزو جل میں تو اچھا ہوں۔ ۔!''عطاری صاحب  '' ستر بار احتلام ''  کے تحت لکھتے ہیں کہ '' سرکار ِ بغداد حضور غوث اعظم نے فرمایا ، رات کے واقعہ سے مت گھبراؤ ، میں نے رات لوح ِ محفوظ پر نظر ڈالی تو تمہارے بارے میں ستر مختلف عورتوں کے ساتھ زنا کرنا مقدر تھا۔ میں نے بارگاہ ِ  الہٰی عزو جل میں التجا کی کہ وہ تیری تقدیر کو بدل دے اور ان گناہوں سے تیری حفاظت فرمائے، چنانچہ ان سارے واقعات کو خواب میں احتلام کی صورت میں تبدیل کردیا گیا۔۔!''مدنی مذاکرے میں ایک مدنی بھائی فرماتے ہیں کہ '' بدعقیدگی نے ہمارے  خاندان میں اپنے پنجے گاڑھ رکھے تھے،  میں بھی تذبذب کا شکار تھا کہ کونسا گروہ سیدھے راستے پر ہے۔ ایک رات پریشانی کے عالم میں دعا کی کہ اے اللہ  مجھے  صحیح عقیدے اپنانے کی توفیق عطا فرما۔ رات کو سو گیا، سر کی آنکھیں بند ہوئیں دل کی آنکھیں کھل گئیں، شہد سے میٹھے میٹھے آقا کا دیدار ہو گیا۔  قریب ہی دو نورانی چہرے والے دو بزرگ موجو د تھے۔ ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کرکے نبی پاک  ۖنے فرمایا یہ احمد رضا ہیں انکے مسلک کو اپنا لو، پھر دوسری ہستی  کی طرف کچھ اس طرح فرمایا یہ  الیاس قادری  ہیں انکے مرید ہو جاؤ۔!''مولانا طارق جمیل مشہور اینکر پرسن وسیم بادامی کے پروگرام میں کال کر کے  فرماتے ہیں کہ '' میرے دوست نے کال کر کے مجھے خواب سنایا ہے کہ اسے تاجدار رسالت کائنات  علیہ السلام  خواب میں فرما رہے  ہیں کہ طارق جمیل کو کہہ دو کہ تمہارا دوست جنید جمشید میرے پاس آگیا  اور اللہ نے اسے بخش دیا۔۔!''طارق جمیل فرماتے ہیں کہ  وہ ایک روز عصر کی نماز پڑھ کر نکلے تو ایک نوجوان میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ طارق جمیل  ہیں؟ میں نے کہا جی،  آپ نے کیسے پہچانا اور آپ کہاں کے ہو۔؟  اس نوجوان نے جواب دیا  کہ ''میں جنوبی افریقہ سے تعلق رکھتا ہوں ، آپ کے ساتھ مجمع دیکھا تو پوچھا کہ یہ کون جا ر رہا ہے۔۔؟  تو مجھے بتایا گیا کہ یہ پاکستان کے طارق جمیل ہیں ۔۔'' نوجوان نے کہا کہ  میں آج عصر کی نماز پڑھنے پہلے آگیا تو مجھے بیٹھے بیٹھے نیند آگئی ، میں نے خواب میں اللہ کے نبی  ۖ کی زیارت کی ، آپ ۖ نے مجھے فرمایا کہ طارق جمیل کو میرا سلام پہنچا دو،  تو میں نے یہ کام کردیا۔۔!'' مولانا طارق جمیل ہی فرماتے ہیں کہ '' خواب میں  اپنے گاؤ ں میںدیکھا  کہ '' میں اور قائد اعظم'' اسلامو ''  تانگے والے کے ساتھ تانگے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔  تانگے والا جناح کو گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ پاکستان بنوایا ، ہمیں لٹوایا اور ہمیں  برباد کردیا اور قائد ِاعظم  جواب میں کہہ رہے ہیں کہ  پاکستان اپنے لئے نہیں مسلمانوں کے لئے بنایاتھا۔ اِسکے بعد قائد اعظم تانگے سے اتر گئے  ، میں نے ان سے پوچھا قبر میں کیا حال ہے، قائد اعظم نے کہا کہ مجھے ایصال ثواب ہو رہا ہے، بہت آرام سے ہوں۔!'' پیر عدنان شاہ قادری عطاری اپنا خواب سناتے ہوئے  فرماتے ہیں کہ '' میری تمام علماء کرام ، مفتیان ِ عظام، عوام اہلسنت ،  غازی ممتاز قادری کے جانساروں کے لئے خصوصی سرکار ِ دوعالم ، نور ِ مجسم،شاہ ِ  بنی آدم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خصوصی پیغام ، یہ سرکار کا پسینہ مبارک میرے پاس موجود ہے، قسم کھاتا ہوں اس پسینہ مبارک کی کہ جو کہوں گا سچ کہوں گا ۔ الحمد للہ کل رات میرے آقا ، مدینے کے تاجدار  نبیوں کے سلطان، رحمت عالم صلی ٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اس آل پر خصوی کرم فرمایا، کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غازی ممتاز قادری  کا ہاتھ پکڑ کر  اپنے ساتھ اِنکو لیکر آ رہے ہیں، اور کہتے ہیں کہ  غازی ممتاز قادری کے جانثاروں کو یہ پیغام پہنچاؤ کہ انکی قبر کو قبر مت بنانا، انکی قبر کو مزار بنانا، اور انکا گنبد ، گنبد ِ خضرا جیسا بنانا، سرکار نے فرمایا کہ غازی ممتاز قادری کی شہادت کو اللہ رب العزت نے اپنی پاک بارگاہ میں قبول کر لیا ہے۔۔!''  کہتے کہ ''ممتاز قادری کی قبر کو قبر مت بنائیںاور انکی قبر کو چالیسویں سے پہلے پہلے مزار شریف کی شکل دیں اور اُسکا گنبد، گنبد ِ خضرا جیسا بنائیں ، کیوں کہ یہ میرے آقا ، میرے نانا، نور مجسم، شاہِ  بنی آدم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آپ تما م عوام اہلسنت کو آرڈر ہے۔۔!''ایک مولانا صاحب کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ '' ان کی قطب الاقطاب کے عہدے پر ترقی کی فائل پر اللہ میاں نے خود دستخط  فرمائے اور نبی اکرم ۖ  اور دیگر بڑے بڑے انبیائے کرام   اور پیر صاحبان اس عظیم موقع پر موجود تھے ۔''ایک اور مولانااپنا خواب یوں بیان کرتے ہیں کہ '' ان کے خواب میں حضرت عائشہ  تشریف لائیں جو اس بات کی طرف اشارہ  تھا کہ آپ اپنی فلاں کمسن شاگردہ سے شادی فرمالیں۔!'' لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز نے اپنا خواب بیان کرتے  ہیںکہ ''  مجھے نبی پاک ۖ  اور بہت سے بزرگوں نے خواب میں حکم دیا کہ آپ لال مسجد سے نفاذ شریعت محمدی کا آغاز کریں ۔!''مولانا طاہر القادری کے خواب بھی بہت مشہور ہیں۔وہ  فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ۖ کو خواب میں دیکھا اور حضور ۖ نے فرمایا کہ ''  میں پاکستان سے جارہا ہوں ، یہاں کی دینی جماعتوں اور مولویوں سے ناراض ہو کر،میںنے التجا کی حضور نہ جائیں۔ حضور  نے فرمایا اچھا تم کہتے ہو تو سات دن کے لئے رک جاتا ہوں۔ مگر میرے ٹکٹ اور کھانے پینے کا انتظام  تم نے کرنا ہے۔  میں نے عرض کی حضور میں نوکر۔ خواب میں آقا کریم ۖ نے یہ بھی فرمایا کہ طاہر۔! تم منہاج القرآن بناؤ ، میں خود تشریف لاؤ گا۔''مولانا طہر القادری  خوابوں میں ہی مختلف اماموں اور محدثین کی کلاسز بھی اٹنیڈ کرتے رہے اور حضور نبی کریم ۖ کی اپنے بارے بشارتیں بھی بتاتے رہے۔  وہ فرماتے ہیں کہ '' انہوں نے عالم ِ رویا میں امام ابو حنیفہ  سے انیس سال تعلیم حاصل کی، اسی طرح انہوں نے حضور غوث اعظم سے تعلیم حاصل کرنے کا بھی بتایا۔ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ۖ  نے انہیں خواب میں یہ بھی بتایا کہ تمہاری عمر میری جتنی ہوگی ، یعنی تریسٹھ سال۔ جس پر انہوں نے کہا، حضور ۖ میں عمر میں بھی آپکی برابری نہیں کر سکتا، اسے کم کر دیں، حضور ۖ نے ارشاد فرمایا ، ٹھیک ہے تم باسٹھ سال کی عمر میں وفات پاؤ گے۔'' وہ علیحدہ بات کہ قادری صاحب کی عمر باسٹھ سے اوپر ہوئے بہت وقت گزر گیا لیکن ابھی تک زندہ ہیں، لیکن وہ ہوش و ہواس میں ہیں کہ نہیں یہ انہیں یا اُنکے مریدیں کو معلو م ہو گا۔!طاہر القادری صاحب کی عالم رویا '' خوابوں '' میں آئمہ اور محدثین سے کلاسز لینے کی گواہی معروف کالم نگار جناب عطا الحق قاسمی صاحب نے بھی دی۔ قاسمی صاحب فرماتے ہیں کہ '' میں نے یہ بات آج تک چھپا کر رکھی تھی تاہم آج انکشاف کر رہا ہوں اور قادری صاحب کو شائد یاد  ہو کہ امام ابو حنیفہ سے حصول تعلیم کے دوران میں اُنکا کلا س فیلو تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ امام ابو حنیفہ اکثر بھری کلا س میں قادری صاحب کو مرغا بنا کر اُنکی کمر پر مولانا طاہر اشرفی کو لاد دیا کرتے تھے جس پر اُنکی چیخیں نکل جاتی تھیں۔ دراصل یہ جھوٹ بولتے تھے اور کئی دفعہ بلا وجہ بھی بولتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے امام صاحب  سے کہا  کہ آپ کو علم ہے  میں حضرت  امام حسین علیہ السلام کی معیت میں یزیدی لشکر کے خلاف لڑا تھا اور شہادت کا درجہ پایا تھا۔ اس بار قادری صاحب کی یہ بات سن کر امام ابو حنیفہ   غصے میں  نہیں آئے  بلکہ انہوں نے مُسکرا کر کہا  '' شہادت کا درجہ پانے کے بعد پھر تم زندہ کیسے ہوئے '' جس کا ترت جواب  قادری صاحب نے یہ دیا  '' آخر حضرت عیسی علیہ السلام بھی تو قیامت کے قریب دوبارہ تشریف لائیں گے'' ۔ اس پر اما م  نے ایک بار پھر قادری  صاحب کو مرغا بننے کو کہا  اور مولانا طاہر اشرفی کو انکی کمر پر بٹھا دیا ۔'' اللہ کے دین و شریعت کو خوابوں پر چلتا دیکھ کر  یہ سوچتا ہوں کہ رسول پاک محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  صرف پاکستانی مولویوں کے خواب میں ہی کیوں آتے ہیں ، باقی دنیا کے مولویوں کو یہ شرف کیوں حاصل نہ ہو سکا۔؟ میں حیران ہوں کہ پاکستانی ہی دنیا میں وہ واحد قوم ہے جو مولویوں اور پیروں کے خواب سن کر اور ان پر عمل کر کے جنت جانا چاہتی ہے باقی  مسلمان کیوں نہیں۔؟ گستاخی معاف ہو تو سوچ رہا ہوں کہ ایسا کیوں ہے کہ مولویوں کے خواب میں سب کچھ آتا ہے سوائے انسانیت کے۔''آپ'' سے کہنے اور آپکو سنانے کو میرے حاضر سٹاک میں ابھی اتنا کچھ باقی ہے کہ  اگر سب کہہ اور سنا ڈالوں مگر  شرم آتی ہے مگر حیرت ہے کہ '' آپکو'' کیوں نہیں آتی اور کبھی آئے گی بھی نہیں۔۔۔! آخر میں عرض ہے کہ آج سے دو مہینے پہلے پاکستان میں ختم ِ نبوت کو نعوذ باللہ خطرہ تھا اور اسلام بھی خطرے میں تھا۔ پھر خادم رضوی ،، آصف جلالی،، پیر سیالوی  اور مولانا طاہر القادری  آئے اور آج  الحمدللہ ختم ِ نبوت بھی محفوظ  اور اسلام بھی محفوظ ۔۔۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
We are All Zakzaky
telegram