امریکی منصوبوں کی شکست اور اسرائیل کی الٹی گنتی شروع

امریکی منصوبوں کی شکست اور اسرائیل کی الٹی گنتی شروع

ایسے حالات میں جب ارادے جاگ چکے ہیں اور موت کا خوف ختم ہو چکا ہے، چمکتے سورج کی طرح واضح ہے کہ کیوں ولی امر مسلمین امام خامنہ ای صدی کی ڈیل کی شکست اور ناکامی کا دعوی کر رہے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اگست ۱۹۹۳ء میں جب فلسطین اتھارٹی کے سربراہ یاسر عرفات ناروے میں خفیہ طور پر اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابین سے مذاکرات میں مصروف تھے تاکہ اسرائیل کو فلسطین اتھارٹی کی سربراہی میں فلسطینی حکومت تسلیم کر لئے جانے پر راضی کیا جا سکے تو وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ دس سال بعد جب فرانس کے ایک ملٹری اسپتال میں ان کی زندگی کا خاتمہ ہو گا تو ان کا میزبان ملک اعلان کرے گا کہ وہ ان کی موت کے بارے میں تحقیق کی اجازت نہیں دے سکتا اور اسی طرح سوئٹزرلینڈ کی جانب سے انجام پانے والی اس تحقیق پر خاموشی اختیار کرے گا جس کے نتائج سے ظاہر ہوتا تھا کہ یاسر عرفات کے بدن میں اتنی مقدار میں زہریلا مادہ “پولونیم” موجود تھا جو انہیں قتل کرنے کیلئے کافی تھا۔ یہ موت ان کیلئے انتہائی تحقیر آمیز تھی جن کی کسی زمانے میں شائع ہونے والی تصاویر میں ہمیشہ ان کے ہاتھ میں اسلحہ نظر آیا کرتا تھا۔

جب یاسر عرفات نے اوسلو میں ایک اہم اور فیصلہ کن راہ حال پانے کی امید میں تنظیم آزادی فلسطین، پی ایل او کے سابق سربراہ احمد شقیری کا یہ کلیدی جملہ پس پشت ڈال دیا کہ “سیاسی بات چیت ہر گز فلسطین کو آزاد نہیں کرے گا بلکہ فلسطین کی آزادی کا واحد راستہ مسلح جدوجہد ہے” تو ایران میں ان کے دوست ایسی ہی توقع رکھتے تھے۔ لیکن یاسر عرفات، جو ۱۷ برس کی عمر میں انقلاب فلسطین کے ہیرو عبدالقادر الحسینی جیسی شخصیات کے ہمراہ ۱۹۴۷ء اور ۱۹۴۸ء کی جنگوں میں شرکت کر چکے تھے اور آئندہ جنگوں میں رائے عامہ میں فلسطینی مجاہدین کے کمانڈر کے طور پر معروف ہو چکے تھے، نے ہتھیار پھینک کر زیتون کی شاخ مقبوضہ فلسطین کے غاصب حکمرانوں کو تحفے میں دی اور ان سے وعدہ کی وفاداری کی امید قائم کر لی۔

اوسلو معاہدہ دونوں فریقوں کیلئے مساوی نتائج کا حامل نہیں تھا۔ فلسطینیوں کو جو کچھ حاصل ہوا وہ ایسی حکومت تھی جسے مغربی کنارے کے ۸۰ فیصد سے کم حصے اور مقبوضہ فلسطین کے ۲ فیصد سے کم حصے پر خودمختاری حاصل تھی۔ فلسطینیوں کو دی گئی سرزمین کو اس انداز میں تقسیم کیا گیا کہ وہ یہودی بستیوں اور اسرائیلی فوجی علاقوں کے درمیان حصے بکھڑے بن کر رہ گئی۔ مزید برآں، یہودی بستیوں کا پھیلاو، فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی حکام کا ناجائز قبضہ، قدرتی ذخائر، سرحدی گزرگاہوں اور چیک پوسٹوں کو اپنے کنٹرول میں لینا وہ اقدامات تھے جن سے ثابت ہو گیا کہ فلسطینیوں کو دیئے گئے تمام وعدے محض فریبکاری تھی۔ اوسلو معاہدے میں اسرائیل نے وعدہ کیا تھا کہ اسرائیلی فوجی غزہ اور مغربی کنارے (۱۹۶۷ء میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے) سے پیچھے ہٹ جائیں گے، یہودی بستیوں کا پھیلاو روک دیا جائے گا، فلسطینی قیدی آزاد کر دیئے جائیں گے وغیرہ۔ اسی طرح یہ بھی وعدہ کیا گیا کہ یہ تمام اقدامات پانچ برس میں مکمل کر لئے جائیں گے لیکن آج ۲۵ برس گزر جانے کے بعد بھی غاصب صہیونی رژیم نے اوسلو معاہدے کی شقوں پر عمل نہیں کیا جبکہ حتمی مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔

اوسلو معاہدے کا نتیجہ تنظیم آزادی فلسطین کی جانب سے غاصب صہیونی رژیم کے خلاف مزاحمت اور مسلح جدوجہد ترک کر دینے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ لیکن دیگر فلسطینی تنظیموں جیسے حماس اور اسلامک جہاد نے پی ایل او کی جانب سے اسرائیل سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی پالیسی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔ یوں عمل کے میدان میں فلسطین اتھارٹی اسلامی مزاحمتی گروہوں کے خلاف اسرائیل کے ہاتھ میں ایک موثر ہتھکنڈے کے طور پر تبدیل ہو گئی۔ فلسطین اتھارٹی کے تحت سرگرم سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر جہادی گروہوں کے افراد کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ حتی کئی افراد کو گرفتاری کے دوران شہید کر دیا گیا۔ اسرائیل کی غاصب

صہیونی رژیم کو اوسلو معاہدے کا ایک اور فائدہ بھی ہوا جو مقبوضہ فلسطین کو یہودیانے کا موقع فراہم ہونا تھا۔ اسرائیلی حکومت نے بہت بڑے پیمانے پر فلسطینی سرزمین میں یہودیوں کو بسانا شروع کر دیا اور قدس شریف کو بھی اپنی حریص نگاہوں سے محفوظ نہ رکھا۔

عوام کو قانع کرنے اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کے بہانے اوسلو معاہدہ کی عارضی نوعیت اس بات کا باعث بنی ہے کہ یہ معاہدہ ہر گز دائمی معاہدے میں تبدیل نہ ہو سکے اور اس مسئلے کا مقابلہ کرنے کیلئے اس معاہدے میں کوئی شق موجود نہیں ہے۔ اب جبکہ اوسلو معاہدے پر فریقین کی جانب سے دستخط کئے جانے کو بیس برس کا عرصہ بیت چکا ہے، اسرائیلی حکمران ایک مناسب فریم ورک کے فقدان کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے آزادانہ انداز میں اور جس جگہ چاہیں کسی محدودیت کے بغیر آبادکاری میں مصروف ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں یہودی بستیاں ۱۹۹۳ء کی نسبت دو گنا ہو چکی ہیں۔ اوسلو معاہدے کی ایک اہم شق بیت المقدس یا صہیونی حکام کی اصطلاح کے مطابق یروشلم سے متعلق تھی۔ اس شق میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل امن مذاکرات مکمل ہونے تک بیت المقدس کی سرزمین اور حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ لیکن اوسلو معاہدے کی تدریجی موت کے سائے تلے اور پانچ سالہ وعدے کی اہمیت کم ہو جانے کی وجہ سے اسرائیلی رژیم مشرقی بیت المقدس میں اپنی مرضی کے قوانین لاگو کر رہا ہے اور دس میٹر اونچی دیوار کی تعمیر اور دسیوں چیک پوسٹیں ایجاد کر کے اسے شہر کے دوسرے حصوں سے علیحدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

بیت المقدس میں اسرائیلی اقدامات پر کسی قسم کا کنٹرول موجود نہیں۔ انہیں اقدامات کی بدولت اب تک بیت المقدس میں مقیم ہزاروں فلسطینی اپنی رہائش سے محروم ہو چکے ہیں۔ اسی طرح مقدس مقامات خاص طور پر مسجد اقصی سے متعلق بھی اسرائیل کے دشمنانہ اقدامات جاری ہیں۔ اگرچہ فلسطینیوں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی پر دیوار تعمیر کئے جانے کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں شکایت کر رکھی ہے لیکن جیسا کہ توقع کی جا رہی ہے اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کیلئے اس عدالت کے فیصلے اور حکم کی کوئی اہمیت نہیں اور وہ اپنے غیر قانونی اقدامات جاری رکھے گا۔ دوسری طرف اوسلو معاہدے کی برکت سے فلسطین کے حامی دس عرب ممالک نے اسرائیل کا وجود تسلیم کر لیا اور اس کے ساتھ فوجی، تجارتی اور سیاسی تعلقات بھی قائم کر لئے۔ انہیں مذاکرات کی مدد سے اسرائیل نے عرب اسلامی ممالک سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی بھی کوشش کی۔

اب جبکہ اوسلو معاہدے کی موت سب پر واضح ہو چکی ہے اور حتی فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس بھی ایک سازش کرنے والے چہرے کے طور پر معروف ہو گئے ہیں تو فلسطین کی مرکزی کانگریس کے “قدس فلسطین کا ہمیشگی دارالحکومت” کے عنوان سے اجلاس نے اوسلو معاہدے کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی ہے۔ ایسے حالات میں جب فلسطینیوں کو غاصب صہیونی رژیم کے مقابلے میں مسلح کاروائیاں انجام دینے کا کھلا موقع مل چکا ہے، “صدی کی ڈیل” نامی نئے معاہدے کی آوازیں گونجنے لگی ہیں۔ اس کی کئی شقیں وہی اوسلو معاہدے والی شقیں ہیں۔ اوسلو معاہدے کے تحت غزہ اور مغربی کنارہ ایک اکائی کا حصہ ہیں لیکن غاصب اسرائیلی حکومت نے دونوں علاقوں کا رابطہ منقطع کر رکھا ہے جبکہ غزہ کی بندرگاہ اور ہوائی اڈے کو بھی تباہ کر ڈالا ہے۔ اب صدی کی ڈیل نامی نئے معاہدے کے تحت اہل غزہ کو بندرگاہ تعمیر کرنے کی اجازت دینے کا وعدہ دیا جا رہا ہے۔

صدی کی ڈیل نامی معاہدے کی پیشکش امریکہ نے پیش کی ہے۔ امریکہ وہی ملک ہے جس نے جب بھی اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف عالمی اداروں میں اعتراض کیا گیا

تو ہمیشہ اس کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ اب تک امریکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اسرائیل کے خلاف فلسطین کے حق میں پیش ہونے والی ۴۳ قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ اس قدر بھی آسان نہیں جس کا تصور موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کر رہا تھا۔ غیور فلسطینی عوام نے غضبناک جمعے اور حق واپسی مارچ جیسی کمپینز چلا کر اور اس مقدس جدوجہد میں ہزاروں شہید اور زخمی پیش کر کے امریکہ اور اس کے پٹھو عرب ممالک کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کرنے کا اعلان کیا اس دن سے آج تک غزہ میں یہ احتجاج پورے زور و شور سے جاری ہے جو انتہائی نتیجہ خیز ثابت ہوا ہے اور امریکہ کی پوری حکمت عملی جام ہو کر رہ گئی ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں غاصب صہیونی رژیم کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کی جھڑپوں کی شدت اور وسعت اس قدر زیادہ ہے کہ اسرائیلی فوج انفنٹری ڈویژن ۱۶ کی بھرپور جنگی مشقیں انجام دینے پر مجبور ہو گئی۔ اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ وہ غزہ پر قبضہ کرنے کی مشق کر رہی ہے تاکہ اس طرح خود کو طاقتور ظاہر کر سکے۔ لیکن دوسری طرف اسرائیلی فوجی ماہرین غزہ کے خلاف اسرائیل کی کسی بھی نئی جنگ کو شدید اسٹریٹجک غلطی قرار دے رہے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ جنہیں اس سے پہلے غزہ کے خلاف ۳۳ روزہ جنگ کا تجربہ بھی حاصل ہے نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے خلاف کوئی بھی نئی جنگ نہ صرف بے فائدہ ثابت ہو گی بلکہ اسرائیل کو اس کے “نقطہ آغاز” کی جانب واپس پلٹا دے گی۔

دوسری طرف عالمی سطح پر مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح دنیا کے اکثر ممالک نے امریکہ کی جانب سے مسئلہ فلسطین سے متعلق “صدی کی ڈیل” نامی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ لبنان، شام اور یمن میں اسلامی مزاحمتی بلاک کو شاندار فوجی کامیابیاں نصیب ہو چکی ہیں۔ امریکہ کو شام اور یمن میں شدید ترین ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہ سب عوامل مل کر صدی کی ڈیل نامی منصوبے کے تعطل کا شکار ہو جانے کا باعث بنے ہیں۔ آج سب بخوبی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ جب ۱۹۸۳ء میں یاسر عرفات نے مسلح جدوجہد چھوڑ کر مذاکرات کا راستہ اپناتے ہوئے سب سے پہلے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے یہ کہا: “آج میں ایک ہاتھ میں زیتون کی شاخ پکڑے اور دوسرے ہاتھ میں آزادی کی راہ کیلئے بندوق لئے آیا ہوں۔ ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے زیتون کی شاخ میرے ہاتھ سے نکل جائے” تو انہوں نے اسٹریٹجک غلطی کا ارتکاب کیا۔ فلسطینی سرزمین پر زیتون کے درخت باقی رہنے کا واحد راستہ غاصب صہیونی رژیم سے مذاکرات سے امیدیں وابستہ نہ کرنا تھا اور اپنے ہاتھ میں موجود اسلحہ کی مقدار میں اضافہ کرنا تھا۔

آج فلسطینیوں کی نگاہیں اوسلو اور کیمپ ڈیوڈ جیسے معاہدوں پر نہیں لگی ہوئیں۔ وہ اپنے وطن واپسی کی باتیں کر رہے ہیں اور اس راہ میں ہزاروں شہید پیش کرنے پر بھی تیار نظر آتے ہیں۔ فلسطینیوں کی یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ ان کی حتمی فتح قریب ہے اور ٹرمپ ٹرمپ کی آوازوں سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک با تجربہ انقلابی مجاہد کے بقول عام شہریوں کی قتل و غارت حکمرانوں کی عاجزی اور بے بسی کی علامت ہے۔ ایسے حالات میں جب ارادے جاگ چکے ہیں اور موت کا خوف ختم ہو چکا ہے، چمکتے سورج کی طرح واضح ہے کہ کیوں ولی امر مسلمین امام خامنہ ای صدی کی ڈیل کی شکست اور ناکامی کا دعوی کر رہے ہیں۔ وہ عملی طور پر اسلامی مزاحمتی بلاک کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں اور پورے یقین سے امریکی منصوبوں کی ناکامی، غاصب صہیونی رژیم کی نابودی اور مقبوضہ فلسطین کی آزادی کی خبر دے چکے ہیں۔

بقلم: محمد مہدی اسلامی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram