امریکہ یہ بھول چکا ہے کہ ایران میں جمہوری حکومت ہے: رای الیوم

امریکہ یہ بھول چکا ہے کہ ایران میں جمہوری حکومت ہے: رای الیوم

رای الیوم نے ایران میں حالیہ واقعات اور مظاہروں کے افراتفری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا: فطری بات ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جو شام اور علاقے کے دوسرے حصوں میں ایران سے شکست کھا چکے ہیں ، ایران میں جاری مظاہروں کی حمایت کر رہے ہیں ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  فلسطینی محرر  زھیر اندرواس نے  بین الاقوامی عربی روز نامے "رای الیوم "میں ایران میں امریکی اور اسرائیلی انقلاب کے عنوان سے اپنی ایک یاد داشت میں تاکید کرتے ہوئے کہا  ایران میں حالیہ اعتراضات کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی حمایت  لوگوں کی مطالبات کی بازیابی کے بجائے حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے ہے۔

اس رپورٹ میں آیا ہے: اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کہ جو سر سے پیر تک  فساد اور رشوت میں ڈوبا ہوا ہے ،  قطعا ایران فوبیا میں مبتلا ہے  اور  ایران خلاف نسل پرستی کی بیماری مبتلا ہے  کیونکہ  یہ علاقے میں سامراجی اور صہیونی سوچ ، اور عربوں کی بڑی قدرت بننے کی سوچ کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے ،  اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ  ایران ایٹمی توانائی حاصل کر چکا ہے بلکہ ایران   بیلسٹک میزائیلوں اور دیگر ہتھیاروں کی تولید جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ  اپنا دفاع کیا جا سکے اور اور واشنگٹن ، تل ابیب اور ریاض کی دھمکیوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکے ۔

محرر نے مزید لکھا: اسرائیلی حکومت کی اسٹریٹیجک ارزیابی کی بنیاد پر کہ  کہ جو سال 1948 میں  فلسطینی عوام کی تباہی کے ساتھ جدید تاریخ کی سب سے بڑی جنایت کاری پر تعمیر کی گئی تھی  حزب اللہ ایران کے دوستوں کے عنوان سے تل ابیب کے دشمنوں میں سر فہرست ہے  اور حماس تیسرے نمبر پر ہے اسی وجہ سے  ایران کو تباہ کرنا  علاقے میں امریکہ ، اسرائیل اور اس کے حمایتوں کے اسٹریٹیجک  مقاصد میں سے ایک ہے۔

ایران کے دشمن علاقے میں اس کی کامیابیوں کے خلاف  متحد ہیں
اندرواس نے تاکید کی:  جمہوری اسلامی ایران کے دشمنوں کے لئے یہ بات ایک آفت ہے کہ حالات ان کے مطابق نہیں بدل رہے ہیں ، ایران نے مشرق وسطیٰ میں سیاسی اور فوجی فتوحات حاصل کی ہیں ، اور  ایران کا شام میں اپنے اتحادی کی مدد کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے۔

 انہوں نے مزید کہا: اس بنا پر اگر  تل ابیب شامی صدر بشار الاسد کو سرنگون کرنے میں کامیاب ہو جاتا  تو وہ ایران پر شدید فوجی حملہ کرتا ، اسرائیل ایران کے خلاف دھمکیوں میں اضافہ کرتا ہے ، لیکن پہلے کے بر خلاف  یہ سرکش ملک  باتیں زیادہ اور کام کم کر رہا ہے ، ایران کو سرنگوں کرنے کی دھمکیوں  پر نہ ہزاروں سال پہلے عمل ہوا تھا اور نہ ہوگا۔

محرر نے تصریح کرتے ہوئے لکھا: لہٰذا یہ بات طبیعی ہے کہ اسرائیل ایران میں جاری اعتراضات  میں بولے ، اور نیتن یاہو نے تاکید کی  لوگ تہران کے سامراجی نظام سے آزادی کے خواہاں ہیں  اور اس حکومت کی سرنگونی کے بعد ایرانی اور اسرائیلی عوام بہترین دوست میں تبدیل ہو جائیں گے  اور باعث تعجب نہیں ہے کہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان اعتراضات کی حمایت کی  اور سعودی عرب بھی  ان اعتراضات  کے  سہارے اپنے چوٹی کے دشمن سے چھٹکار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے کہ  اسرائیل جن میں سے نہیں ہے ۔

امریکہ کے لئے ایرانی حکومت کی بربادی معنا رکھتی ہے  نہ کہ عوام کے مطالبات

رای الیوم نے لکھا: ایرانی احتجاجات کے ساتھ امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب کی حمایت  نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ ایرانی عوام جس کو ٹرمپ نے کچھ مہینے پہلے دہشت کہا تھا اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی  بلکہ وہ احتجاجات کے حامی ہیں کہ  جو ایران کے فوجی نظام کے خلاف ہیں کہ جو امریکہ کی نا ہنجاریوں کا مقابلہ کرنے کی جرات رکھتا ہے  اور امریکہ ان کو پہلوی حکومت کی طرح اپنا تابعدار بنانا چاہتا ہے ۔

محرر نے کہا:  امریکی حکومت بھول چکی ہے کہ ایرانی حکومت جمھوری ہے  اور صدر کا  انتخاب مستقیما عوام کی جانب سے کیا جاتا ہے   نہ کہ شاہی فرمان کے مطابق ، اور بین الاقوامی ناظرین ایران کے انتخابات کی شفافیت کی تائید کرتے ہیں ؛ اس بنا  پر  حکومت کے خلاف عواامی سوچ کو بھڑکانا ان اعتراضات کے تابوت میں آخری کیل کے طور پر ثابت ہوا  کہ احتجاجیوں میں بہت سے لوگوں نے  قومی ورثے کو نقصان پہنچایا تاکہ ثابت کر سکیں کہ ان کا ھدف  حکومت کا تختہ الٹنا  اور ایران میں شام کا نقشہ پیش کرنا ہے  یعنی ابتدا میں پر امن احتجاجات کا جھانسہ دے کر ہزاروں یا چہ بسا لاکھوں جھادیوں کو اس ملک میں لوگوں کو اس سامراجی حکومت سے نجات دلوانے کے لئے وارد کر دیا جائے  تاکہ اس ملک جیسے مقاومتی مورچے کو تباہ کرنے کے بعد فرصت سے فائیدہ اٹھاتے ہوئے حزب اللہ سے مقابلہ کیا جائے کیونکہ تل ابیب لمبی مدت تک حزب اللہ کی دھمکیوں کو برداشت نہیں کر سکتا  بالخصوص حزب اللہ کی میزائیلی طاقت کہ جو اسرائیلی اعتراف کے مطابق اسرائیل کے ہر فوجی اور غیر فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنانے کی طاقت رکھتی ہے۔

اب اس مقام پر کہ جہاں  بزبان خود نیتن یاہو اقوام عالم کی آزادی اور حقوق کا خیر خواہ ہے تو انہیں یہ محاورہ یاد ہونا چاہئے کہ جن کے گھر شیشے کے ہوں انہیں دوسروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہئیں ؛   ایک سرکش حکومت کہ جس نے اب تک   سیکیورٹی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ساٹھ سے زیادہ قراردادوں پر عمل نہیں کیا ہے  اور 70 سالوں سے  فلسطینی عوام پر قابض ہے  اور ہر گھنٹے  وحشیانہ مظالم کا مرتکب ہوتا ہے اور جو لوگ اس کے قبضے میں ہیں  انہیں بین الاقوامی قوانین کی رعایت کئے بغیر منظم طریقے سے سرکوب کرتا ہے۔

عربوں کو غزہ  کی حمایت کرنی چاہئے
محرر نے مزید لکھا: یہاں مغرب سے عربوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ غزہ پٹی کا علاقہ کہ جو 10 سال سے صہیونی فوج کے محاصرے میں ہے ، تاریخ کے سب سے بڑے قید خانے میں تبدیل ہو چکا ہے  اور اس کی اقتصادی اور اجتماعی حالت  ایک انسانی نسل کی تباہی کی نشاندھی کر تی ہے   یہ واقعات عربی اور اسلامی ممالک کی شرمناک اور مجرمانہ  خاموشی کے سائے میں وقوع پذیر ہو رہے ہیں  جب کہ یورپی ممالک صرف دکھاوا کرتے ہیں  اور  غزہ میں رہ رہے 20 لاکھ سے زیادہ فلسطینی انسانوں پر سے محاصرہ ختم کرنے کے متعلق کچھ نہیں کر رہے۔

اندرواس نے تاکید کی: دنیا یہ بات جان لے کہ اسرائیل ، جو عرب آمروں کے درمیان واحد جمھوری حکومت کا دعویٰ کرتا ہے  وہ   گرین لائین کے عنوان سے ہر طرف سے فلسطینیوں کے خلاف فوجی محاصرہ تنگ کرنا چاہتا ہے۔  اس ملک کی پارلیمنٹ ہر ہفتے فلسطینیوں کو نقصان پہنچانے کے لئے قانون سازی کرتی ہے   سرزمین فلسطین کے اصلی مالک کو جو ابھی  تک اپنے علاقوں میں رہتے ہیں اور اس میں سے 20 ٪ آبادی فوجیوں پر مشتمل ہے کہ در واقع وہ خود اپنے وطن فلسطین میں زندگی بسر کر رہے ہیں نہ کہ اسرائیل میں ان نسل پرستانہ قوانین کا مقصد فلسطینیوں کو کسی دوسرے ملک میں منتقل کرنا ہے  کیونکہ  فلسطین کی اس بڑی آبادی کو بے گھر کرنا ماضی کی طرح قابل اجرا نہیں ہے۔

محرر نے مزید کہا: ضروری ہے کہ ہم ملت فلسطین کے بیٹوں کے عنوان سے اس ناقابل  یقین حقیقت کو قبول کریں کہ امریکہ متکبر ہے  جیسے کہ فلسطینی  انقلاب کے تجزیہ نگار شھید جورج حبش نے کہا:  چونکہ امریکہ ، اسرائیل اور اس کے دوست کہاں ہیں ہمیں خود کار طریقے سے ان کی پناہ گاہوں میں داخل ہونا چاہئے کیونکہ یہ دونوں ممالک  عربی ممالک کو شکست دینے اور ان پر سامراجیت اور صہیونیت کو تھونپنے کے لئے کام کر رہے ہیں  اور لاکھوں عربوں اور مسلمانوں کے قاتل ہیں ۔

رپورٹ کے آخر میں رای الیوم نے لکھا:  ایران میں  رونما ہوانے واقعات  کے سلسلے میں ہمیں اس ملک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے  اور معلم شھید جمال عبد الناصر کے  یادگار اور تاریخی قول کے مطابق  جو ہمارا دشمن ہے ہم اس کے دشمن  ہیں اور جو ہماری تائید کرتا ہے ہم اس کے دوست ہیں "لیکن خیال یہ ہے کہ ہم قوموں کی آزادی کی حمایت کرتے ہیں گناہ سے بدترین عذر ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں ، اور ہم یہ نہیں بھولیں گے کہ اسلامی انقلاب کا پہلا فیصلہ اسرائیلی سفارت خانے کی جگہ فلسطینی سفارت خانے کو قائم کرنا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram