سوویت روس کے بعد امریکی استکبار؛

امریکہ سلطنت کے زوال کی نشانیاں آج پہلے سے کہیں زیادہ واضح

امریکہ سلطنت کے زوال کی نشانیاں آج پہلے سے کہیں زیادہ واضح

امریکی ۴۰ سال کے عرصے سے اربوں ڈالر اسلامی انقلاب کے خلاف جنگ میں خرچ کرچکے ہیں لیکن نہ صرف انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکا ہے بلکہ اسی وجہ سے اب وہ زوال کا سامنا کررہے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، منقول ہے کہ امریکہ کے اپنے وقت کے وزیر خارجہ ایالات متحدہ آمریکا ہنری کیسنجر نے کہا تھا کہ “دنیا کے حالات اور اس میں جاری تنازعات کی نوعیت دوسری عالمی جنگ سے پہلے کے حالات سے ملتی جلتی ہے؛ اور امریکہ کے حالات بھی سوویت روس کے آخری صدر میخائل گورباچوف کی صدارت کے دوران کے سوویت روس کے حالات سے ملتے جلتے ہیں”، جارج سوروس ( George Soros ) ـ جو دنیا بھر میں عوامی جمہوریتوں کی تباہی اور امریکہ نواز آمریتوں کے قیام کے لئے کوشاں ہیں ـ کا بھی یہی خیال ہے اور امریکی ڈیموکریٹ جماعت کے تزویر کار ( Strategist ) جوزف نائے ( Joseph Nye ) نے بھی پیشنگویی کی ہے کہ “امریکی سامراجیت ( Imperialism ) بہت جلد زوال پذیر ہونے والی ہے”۔
اگر ان تین تزویرکاروں کا یہ تجزیہ درست ہو تو مغرب کی لبرل اور سرمایہ دار دنیا بہت جلد نابود ہو رہی ہے “اندر سے بھی اور باہر سے بھی”۔
اس زوال اور شکست و ریخت کے آثار اور علائم غیر ملکی شرکاء کے ساتھ امریکہ کے ساتھ اس کے معاہدوں کی منسوخی سے ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ امریکیوں نے یورپیوں کے ساتھ مل کے مغربی سرمایہ داری نظام کے بچاؤ کے لئے نیٹو جیسا اتحاد قائم کیا تھا لیکن اب امریکی برملا کہتے ہیں کہ اس اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے مزید اخراجات برداشت نہيں کرسکتے۔
جو لات ٹرمپ نے اپنے شرکاء کے ساتھ کے تجارتی معاہدوں کو ماری ہے، بین الاقوامی قوانین اور اقوام و ریاستوں کے درمیان کے روابط کے لئے کسی زلزلے سے کم نہیں ہے۔
امریکی دانشور کہتے ہیں کہ امریکہ کے معاشی، سماجی اور ثقافتی ڈھانچوں کے لئے تعمیر نو کی ضرورت ہے اور اگر وہ ان ڈھانچوں کی تعمیر نو کے لئے کچھ نہ کریں تو ملک کو زوال سے پہلے ہی انتشار اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکہ کا دفاعی بجٹ ۷۱۶ ارب ڈالر ہے لیکن وہ دنیا میں اپنے امن کی بحالی سے عاجز ہے۔ افغانستان، عراق اور شام پر عالمگیریت کے نشے میں چڑھائیاں اور ناجائز یہودی ریاست کے لئے امن کی ضمانت فراہم کرنے کے لئے اس کے عظیم اخراجات عالمی امن کو کسی قسم کی مدد بہم پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے باسی امریکی ٹیکس دہندگان سے وصول شدہ رقوم کو جہان کشائی اور اپنی طویل و عریض خواہشات پر خرچ کررہے ہیں۔ جبکہ سی این این کا اعتراف ہے کہ امریکہ میں چار کروڑ ۱۰ لاکھ انسان اس قدر غربت کا شکار ہیں کہ انہیں اشیاء خورد و نوش اور دوسری ضروریات زندگی میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے مگر وائٹ ہاؤس کے حکام اربوں اربوں ڈالر مغربی ایشیا اور دنیا کے دوسرے حصوں میں استبدادی حکومتوں کو قائم کرنے پر خرچ کررہے ہیں۔ وہ ان ملکوں کی حکومتوں کا تختہ الٹنے پر ناقابل تصور اخراجات برداشت کرتے ہیں جو امریکہ کے تسلط کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں۔ امریکیوں نے حال ہی میں اپنے حمایت یافتہ حکمرانوں سے کہا ہے کہ اپنی حکومتی مشینری کے تحفظ کے اخراجات وہ خود ہی برداشت کریں۔
امریکی ۴۰ برسوں سے اسلامی جمہوریہ ایران اور ایرانی قوم کے خلاف سازشوں پر ڈالر جلا رہے ہیں لیکن نہ صرف انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکا ہے بلکہ اب خود زوال کا سامنا کررہے ہیں۔
کوئی بھی باور نہیں کرسکتا تھا کہ سوویت روس اس قدر عظیم عسکری طاقت اور مارکسی آہنی نظام کے باوجود ٹوٹ پھوٹ اور زوال سے دوچار ہوسکتا ہے۔ انھوں نے باہر سے ایک گولی چلے بغیر، اندر ہی اندر اپنی بساط خود ہی لپیٹ کر تاریخ کے عجائب گھر کے سپرد کردی۔
سوویت روس کے سربراہان بھی اپنے عوام کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے تسلط پسندی کے درپے تھے۔ وہ اپنی فوج افغانستان لے گئے اور افریقہ اور ایشیا میں تسلط پسندی کی اندھی مسابقت کے لئے اپنے فوجی روانہ کئے لیکن اندر سے ٹوٹ پھوٹ سے دوچار ہوئے۔ آج کیسنجر کہتے ہیں کہ ٹرمپ کی کیفیت سوویت روس کی سلطنت کے آخری ایام میں گورباچوف کی کیفیت سے بہت زیادہ ملتی ہے۔ ادھر صرف ہالی ووڈ امریکہ میں دولت، جبر اور فریب کی سلطنت کے بچاؤ کے لئے بہت کچھ کررہا ہے لیکن ۴۱ ملین امریکی مفلسوں میں سے حتی ایک شخص کو بھی کھانا دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔
آج امریکہ اور مغرب میں اچھی حکمرانی ( Good Governance ) کا نام و نشان تک دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ وہ سماجی، معاشی اور ثقافتی ٹوٹ پھوٹ کے اعداد و شمار کو سینسر کرتے ہیں، سماجی سرمائے کی فرسودگی کو چھپا رہے ہیں؛ یہ الگ بات ہے کہ مغربی ملکوں میں انتخابات کے ایام میں سیاسی شراکت داری کے دوران یہ فرسودگی اپنا بھیانک چہرہ دکھانے میں کامیاب ہوہی جاتی ہے۔
آرنلڈ ٹائن بی ( Arnold J. Toynbee ) کہتے ہیں: “زوال اس وقت رونما ہوتا ہے جب ایسے مسائل سامنے آئیں جنہیں حل کرنا ممکن نہیں ہوتا”۔ اور آج امریکی اپنے اندرونی اور بیرونی مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں؛ اسی بنا پر ان دنوں اپنا وقت شیخیاں بگھارنے اور شور و غل کرنے میں بسر کررہے ہیں۔
اسی بنا پر وہ اس وقت تمام بین الاقوامی معاہدوں سے نکلنے کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ امریکہ اور پانچ دوسری عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھ کر مذاکرات کرتے رہے اور ایک معاہدے پر دستخط کئے لیکن ابھی معاہدے کی روشنائی تازہ تھی کہ معاہدے کے انکاری ہوئے اور اس کو پاؤں تلے روند ڈالا۔
امریکہ واشنگٹن سے سنگاپور چلے جاتے ہیں اور شمالی کوریا کے صدر سے ملتے ہیں لیکن وہ ایک یادگار تصویر کے سوا کچھ بھی حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور شمالی کوریا کے ایٹمی خطرے کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں کر پاتے۔ وہ روسیوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں لیکن حتی ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یا یوں کہئے کہ امریکیوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے حوالے سے ایک بند گلی کا سامنا ہے اور سوال یہ ہے کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ ٹرمپ کے سیاسی سلوک کی قیافہ شناسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں اور بالخصوص ان کے صدر کے پاس رقباء اور شرکاء، حتی کہ دشمنوں کے ساتھ تعلقات منظم کرنے کے سلسلے میں کسی قسم کی معقول سوچ ـ جو ایک نئے نظریئے پر استوار ہو ـ دستیاب نہیں ہے۔
وہ دیوانگی اور جنون کی سرحد پر ہیں اور وہ قطعی زوال کے ثقب اسود ( Black Hole ) میں داخل ہونا چاہتے ہیں چنانچہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کو تہس نہس کریں اور اپنے ساتھ ڈبو دیں۔
بقول شاعر:
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
امریکیوں نے گذشتہ چالیس برسوں کے دوران مغربی ایشیا میں جو بھی منصوبہ بنایا، خاک میں مل گیا۔ وہ ایران کے خلاف اپنے تمام تر منصوبوں کی ناکامی کا سبب بخوبی جانتے ہیں، چنانچہ انھوں نے کبھی بھی اسلامی جمہوری نظام اور ملت ایران کی قوت کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے خلاف سازش اور جارحیت کے اوزار آزماتے رہے۔
اسلامی ملک ایران چند ماہ بعد پوری قوت کے ساتھ اپنے اسلامی انقلاب کی چالیسویں سالگرہ کا جشن منانے کی تیاریاں کررہا ہے۔ ایرانی عوام ان چار عشروں میں طبس کے واقعے سے لے کر آج تک، انقلاب کے تحفظ کے سلسلے میں اللہ کا طاقتور ہاتھ کو اپنے سروں کے اوپر دیکھ رہے ہیں اور انہیں اس سلسلے میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ کا پرچم صحیح و سالم حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (ارواحنا فداہ) کے سپرد کریں گے۔
یہ الگ بات ہے کہ مغرب کے بعض وہ حامی ـ جو مدعی سست گواہ چست کا مصداق ہیں ـ امریکہ کے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو ادھر ادھر لے جانے کی کوشش کررہے ہیں اور مسلم ممالک کے وہ دانشور جن کا موسم امریکہ کے موسم کے تابع ہے، اس بحث کو نام نہاد دانشورانہ حلقوں میں منحرف کرنے کی کوشش کررہے ہیں؛ وہ سمجھ رہے ہیں کہ ان روشوں کو بروئے کار لاکر اپنے آقا کے زوال کا سد باب کرسکیں گے لیکن انہیں بھی یہ تجویز دینا بجا ہوگا کہ اگر امریکہ کی اندھادھند حمایت کے عوض ان کا کچھ قرض امریکیوں کے ذمے ہے تو جلدی جاکر وصول کریں کیونکہ زوال کے بعد کوئی بھی ان کی اجرت دینے کے لئے تیار نہ ہوگا۔
محاذ مزاحمت نے امریکی زوال کی رفتار میں اضافہ کیا ہے اور امریکہ کے حامی دانشور شاید اسی بنا پر مزاحمت چھوڑ کر سازباز کی تجاویز دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کی نجات اسی میں ہے لیکن وہ در حقیقت ریاست ہائے متحدہ کے اتحاد اور امریکہ کی بقاء کی کوششیں کررہے ہیں خواہ اس راہ میں کئی مسلم اقوام اور ممالک کی قربانی ہی کیوں نہ دینا پڑے!
لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ ایران کے خلاف ٹرمپ کا موقف گھنٹوں میں نہیں تو ایک ہفتے میں ضرور بدلتا ہے؛ جب اسلام کے عظیم سپہ سالار جنرل قاسم سلیمانی نے امریکہ کو میدان میں آنے کے لئے للکارا تو ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اطالوی وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ان کی للکار پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: “میں صدر ـ جہاں اور جب بھی ممکن ہو بغیر کسی پیشگی شرط کے ـ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہوں”۔ ان کے موقف میں اتنی تیزرفتار تبدیلی سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کو مغربی ایشیا میں کسی کباب کی خوشبو محسوس نہیں ہورہی ہے اور یہ بو جو محسوس ہورہی ہے گدھے داغنے کی وجہ سے پھیلی ہوئی ہے چنانچہ وہ بھی اپنے جسم پر سوزش محسوس کرنے لگے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اداریہ روزنامہ رسالت، بقلم: محمد کاظم انبارلویی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram