اردوگان کی ایران کی طرف واپسی؛

امام خامنہ ای سے اردوگان کی ملاقات کا پیغام

امام خامنہ ای سے اردوگان کی ملاقات کا پیغام

سات سال گذرنے کے بعد، اس وقت لگتا ہے کہ علاقائی صورت حال کے سلسلے میں ایران اور ترکی کا موقع ماضی سے کہیں زيادہ ایک دوسرے کے قریب تر اور زیادہ مشابہ ہوچکا ہے یہاں تک کہ ترکی بھی ایران کے منظور نظر ماڈل کے قریب پہنچ چکے ہیں اور وہ بھی علاقے کے ممالک کی سرزمینی سالمیت اور عوامی عزم و ارادے کی محوریت پر زور دینے لگے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ چھ یا سات سال قبل علاقے میں نئی صورت حال سامنے آنے کے بعد دو محاذ ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف سے ایران تھا جس کا ساتھ محاذ مزاحمت کے رکن ممالک دے رہے تھے۔ اس محاذ کی تزویری حکمت عملی یہ تھی کہ علاقے کے ممالک کی سالمیت بہرصورت محفوظ ہو؛ یہ محاذ مقدرات کے تعین کو ہر قوم کا حق سمجھتا تھا اور دوسرے ممالک کے نفوذ اور اثر و رسوخ کی مخالفت کررہا تھا۔ اسی بنا پر ایران نے شام کی قانونی حکومت کی پشت پناہی کی اور شام سمیت علاقے کے ممالک کی تقسیم کی بھرپور مخالفت کی۔ یہ محاذ تقسیم کے منصوبے کی ناکامی کو محاذ مزاحمت کی تقویت سمجھتا تھا۔
 
۔ علاقائی صورت حال کے سلسلے میں ترکی کی غلط حکمت عملی
دوسری جانب ترکی، سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک تھے جن کی حکمت عملی شام کی تقسیم اور بشار الاسد کی برطرفی پر مرکوز تھی۔ اس کے باوجود کہ نئی صورت حال سے قبل ایران اور شام کے ساتھ ترکی کے تعلقات دوستانہ تھے، لیکن یہ ملک پہلے ہی سے ہارے ہوئے کھیل کا حصہ بنا۔ وہ ابتداء ہی سے امریکی حمایت یافتہ محاذ کی طرف بڑھا اور اعلانیہ طور پر شام کے سلسلے میں مغرب کی پالیسیوں کی حمایت کی۔ سنہ 2013 میں اس وقت کے وزیر اعظم رجب طیب اردوگان نے شام کے خلاف نہایت سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ شام میں کوسوو کی طرح بین الاقوامی مداخلت کی ضرورت ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ شام میں ایسی محدود مداخلت ـ جو بشارالاسد کی برطرفی پر منتج ہو ـ انقرہ کو راضی نہیں کرسکے گی اور ہمارا اصل مقصد یہ ہے کہ بشار الاسد کو شام چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔
انھوں نے ستمبر 2013 میں کہا تھا کہ بشار الاسد کی برطرفی انقرہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ایک سال بعد وہ اپنے پرانے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے اور اس بات کے قائل تھے کہ ترکی کی ترجیح شام کے قانونی صدر بشار الاسد کی برطرفی ہے۔
ترک افواج نے شاہ سلیمان کے مزار کے محاصرے کی غیر حقیقی بہانے پر پچاس ٹینکوں کے ساتھ شام کی سرزمین پر جارحیت کا ارتکاب کیا۔
ترک صدر کی شام پالیسی حالیہ مہینوں تک بھی جاری رہی ہے اور اپریل 2017 میں شام کے شہر میں ہونے والے مشکوک کیمیاوی حملے کے بہانے، دنیا کے پہلے سیاسی راہنما کے طور پر، شام پر امریکی حملے کی حمایت کی۔
 
۔ ٹھیک سات سال بعد ۔۔۔
ان عجیب و غریب ترک پالیسیوں کے عروج پر مارچ 2015 میں اردوگان نے رہبر انقلاب امام سید علی خامنہ سے ملاقات کی۔ رہبر انقلاب نے دوٹوک الفاظ میں بیان کیا: "ہماری مسلسل تاکید یہی ہے کہ مسلم ممالک کبھی بھی مغرب اور امریکی پر اعتماد کرکے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے، اور آج سب بڑے وضوح کے ساتھ علاقے میں مغربی اقدامات کے نتائج کو ـ جو کہ اسلام اور خطے کے لئے نقصان دہ ہیں ـ دیکھ رہے ہیں"۔ (7/4/2015)
حقیقت یہ ہے کہ علاقائی سطح پر ترک حکومت کی غلطیوں کے عروج کے وقت، ایران نے کئی بار انقرہ کے حکمرانوں کو ان کی غلط پالیسیوں کی یاددہانی کی کوشش کی، گوکہ انھوں نے کبھی بھی ان یاددہانیوں کو لائق اعتنا نہیں سمجھا۔
اب البتہ صدر ترکی جناب اردوگان نے علاقے کے حالات کو شاید کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے، وہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اور صہیونی ریاست مغربی ایشیا کے ممالک کی تقسیم پر بضد ہیں، چنانچہ انھوں نے ایک بار پھر ایران کا دورہ کیا اور (بدھ 4/10/2017 کو) امام خامنہ ای سے ملاقات کی۔ انھوں نے اپنے دورے سے قبل اعلان کیا تھا کہ "میرے دورہ ایران کا مقصد، ایران کے ساتھ اعلی سطحی تزویری تعاون کے سلسلے میں منعقدہ نشست میں شرکت کرنا ہے، ہم شمالی عراق کے سلسلے میں بات چیت کریں گے اور ایک سنجیدہ حکمت عملی (Roadmap) لے کر وطن واپس آئیں گے"۔
انھوں نے رہبر انقلاب کے ساتھ دیدار میں بھی بڑے شفاف لب و لہجے میں کہا: "ناقابل انکار شواہد اور دستاویزات سے ثابت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کردستان کے سلسلے میں ایک عام مفاہمت [General agreement] تک پہنچ چکے ہیں۔ اور مسعود بارزانی نے ریفرینڈم منعقد کرکے ناقابل معافی خطا کا ارتکاب کیا ہے"۔
اردوگان نے کہا: "امریکہ، فرانس اور اسرائیل علاقے کے ممالک کو تقسیم کرکے پیش آمدہ صورت حال سے اپنے حق میں فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں؛ وہ شام کے لئے بھی یہی منصوبہ رکھتے ہیں اور ایران ـ ترکی اتحاد اور دونوں ممالک کا "واحد عزم" اس سلسلے میں بہت اہم ہے"۔
یعنی یہ کہ
سات سال گذرنے کے بعد، اس وقت لگتا ہے کہ علاقائی صورت حال کے سلسلے میں ایران اور ترکی کا موقع ماضی سے کہیں زيادہ ایک دوسرے کے قریب تر اور زیادہ مشابہ ہوچکا ہے یہاں تک کہ ترکی بھی ایران کے منظور نظر ماڈل کے قریب پہنچ چکے ہیں اور وہ بھی علاقے کے ممالک کی سرزمینی سالمیت اور عوامی عزم و ارادے کی محوریت پر زور دینے لگے ہیں۔
بے شک اس موضوع کو علاقائی صورت حال کے بہتر ادراک کے سلسلے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram