اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا دورہ ہند (۱)

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا دورہ ہند (۱)

عموما سربراہان مملکت ہندوستان کے پایتخت کا رخ کرتے ہیں جہاں ہندوستانی حکومت کی جانب سے انکا استقبال کیا جاتا ہے لیکن ایرانی صدر جمہوریہ نے اپنی ترجیحات میں حیدرآباد شہر کو اول درجہ پر قرار دیکر اس دورہ کو ایک الگ نوعیت دے دی ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جاثیہ کے مطابق، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہی خبروں کے مطابق آج پندرہ فروری۲۰۱۸ء مطابق ۲۷ جمادی الاولی ۱۴۳۹ ھ جمہوری اسلامی ایران کے صدرہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی رسمی دعوت پر پہنچے ہیں یوں تو تمام ہی ممالک کے سربراہان مملکت ایک دورے ملک کا دورہ کرتے ہی رہتے ہیں اور اس میں کوئی خاص بات نہیں ہے لیکن ایرانی صدر کا دورہ ، اپنے وقت اور ہندوستان کے موجودہ حالات اور بین الاقوامی منظرنامہ کے تحت بہت اہم جانا جا رہا ہے ۔
اگرچہ اس دورہ کے ظاہر میں بین الاقوامی عالمی سیاست پر مشترکہ محاذ بندی کے سلسلہ ہندوستانی سربراہوں سے ملاقات ،چاپہار بندرگارہ کے سلسلہ سے گفتگو کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے اور ہندوستان و ایران کی تجارت کے فروغ نیز اقتصادی مذاکرات و باہمی شراکت کے سلسلہ سے مسلسل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ :اپنے اس تین روزہ دور ہ میں ، چابہار بندرگاہ سمیت ان مختلف منصوبوں کے بارے میں گفتگو کریں گے جن میں پر شراکت داری میں کام کر رہے ہیں۔ایرانی میڈیا بھی مسلسل یہی خبریں نشر کر رہا ہے کہ ایرانی صدرہندوستانی رہنماؤں سے علاقائی، عالمی اور باہمی امور پر بات چیت کرینگے۔اور چونکہ ہندوستان ایران پر عالمی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل اور گیس کا بڑا خریدار رہا ہےاس لئے یہ دورہ تیل کے خریداری کے سلسلہ سے اس وقت بہت اہم ہے جب ایران امریکہ و اسرائیل ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ہاتھ دئے ایران کو دنیا سے الگ تھلگ کرنے کے درپہ ہیں اور کچھ ہی دن پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نے ہندوستان کا دورہ کیا ہے ۔
ظاہری دور پر یہ دورہ دونوں ممالک کے سرمایہ دار لوگوں کے لئے بھی کافی اہم ہے کہ چونکہ جس طرح ایرانی سرمایہ کار جدید صنعت و ٹیکنالوجی خاص کر آئی ٹی کے شعبے میں ہندوستان کے ساتھ دلچسبی رکھتے ہیں ویسے ہی ہندوستانی سرمایہ کار بھی تیل، گیس، پیٹروکیمیکل اور کیمیکل کھاد کے شعبوں میں تعاون کے سلسلہ سے ایران سے تعلقات میں دلچسبی دکھا رہے ہیں ۔
علاوہ از ایں اسلامی جمہوریہ ایران اور ہندوستان کے اسٹاک ایکسچینج میں تعاون اور مصنوعات کی خرید و فروخت کے ایک معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور دونوں ہی ممالک اس سلسلہ میں مزید تعاون کی راہوں کو تلاش کر رہے ہیں ۔ایران اور ہندوستان کے درمیان اس تجارتی معاہدے کے مطابق ہندوستانی تاجر تارکول جیسے ایرانی پیٹروکیمیکل سے متعلق دیگر مصنوعات وپروڈیکٹ براہ راست ایران کے سٹاک ایکسچینج کے بورڈ سے خرید سکتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جسےہندوستان کے اسٹاک ایکسچینج اورا سٹاک مارکیٹ نے اپنے ایک بیان میں وا ضح طور پر کہا ہے کہ ہندوستان میں ایران کے سرمائے کی منڈیوں کی نگرانی کرنیوالے سینٹر کے صدر شاپور محمدی کے دورہ ہندوستان کے موقع پر طے پایا ہے ۔اس سمجھوتے کے مطابق ایران کا تارکول اس معاہدہ کے ذریعے خریدا جاسکے گا جو ایران اور ہندوستان کے اسٹاک ایکسچینج کے مابین طے ہوگا اور یوں اس معاملے میں دلالوں کا کردار ختم ہوجائے گا چنانچہ ایرانی صدر جمہوریہ کا یہ دورہ اقتصادی و معیشتی حوالے سے بہت اہم جانا جا رہا ہے ۔
اقتصادی و معیشتی اعتبار سے صدر جمہوریہ ایران کا یہ دورہ اس لئے اور بھی اہم ہے کہ چابہار بندرگاہ میں ہندوستانی سرمایہ کاری کے سلسلہ سے ہندوستانی حکومت کے مختلف عہدہ دارن ایران کا دورہ کر چکے ہیں جن میں ہندوستانی وزیر خارجہ سوشما سوراج و ہندوستانی وزیر اعظم کی ایرانی سربراہوں سے ملاقات میں اس سلسلہ سے سنجیدہ گفتگو ہوئی ہے خاص کر ہندوستانی وزیر اعظم کے دورہ ایران پر ایران کے سپریم لیڈر و رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای سے ہونے والی ملاقات بہت اہم ہے جس میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ہندوستان کے وزیر ا‏عظم نریندر مودی اوران کے ہمراہ وفد سے ملاقات میں ایران اورہندوستان کے درمیان باہمی تعلقات کو فروغ دینے کا خير مقدم کرتے ہوئے فرمایا تھا: ایران اور ہندوستان کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے میں چابہار بندرگاہ بہت ہی اہم اور مفید ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے ہندوستان کے اقتصادی و معاشی مستقبل کو روشن قرار دیتے ہوئے کہا تھا: ایران کے پاس تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں اور دونوں ممالک اس سلسلے میں باہمی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں اس کے علاوہ چابہار بندرگاہ بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں اہم ہے کیونکہ چابہار بندرگاہ کا مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب کو ملانے میں اہم کردار ہےاور یہ بندرگاہ  دونوں ممالک کے تعلقات کو فروغ دینے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
صدر جمہوریہ ایران کے موجودہ دورہ میں ظاہر و عیاں ہے کہ ان تمام ہی مذکورہ مسائل پر گفتگو ہوگی اور اقتصادی حوالے سے دونوں ہی ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مزید گہرے روابط کے خواہاں ہونگے لیکن جو چیز اس دورہ میں ایک الگ زاویہ نظر سے قابل دید ہو سکتی ہے وہ اس دورہ کا سیاسی پہلو ہے ، یہ دورہ اس اعتبار سے بہت اہم ہے کہ جیسا کہ خبروں میں بیان کیا جا رہا ہے اور ایرانی صدرجمہوریہ کے سفر کے پروگرام کی تفصیل کو میڈیا نے بیان کیا ہے اس کے بموجب ایرانی صدر جمہوریہ سب سے پہلے ہندوستان کے تاریخی شہر حیدرآباد پہنچے ہیں ایرانی صدر جمہوریہ کے دورہ کا انداز اپنے آپ میں بہت اہم ہے کیونکہ عموما سربراہان مملکت ہندوستان کے پایتخت کا رخ کرتے ہیں جہاں ہندوستانی حکومت کی جانب سے انکا استقبال کیا جاتا ہے لیکن ایرانی صدر جمہوریہ نے اپنی ترجیحات میں حیدرآباد شہر کو اول درجہ پر قرار دیکر اس دورہ کو ایک الگ نوعیت دے دی ہے جو اس بات کی غماز ہے کہ یہ دورہ سطحی و رائج سیاست سے ماوراء ان تاریخی حقائق کی جڑوں کی نشاندہی کر رہا ہے جس میں صدیوں پرانی مشترکہ تہذیب اور سالوں پرانا عظیم تمدن کروٹیں لے رہا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram