اسرائیل کا بالی ووڈ میں بڑھتا نفوذ بھارتی تہذیب اور اسلامی تمدن کے لیے خطرے کی گھنٹی

اسرائیل کا بالی ووڈ میں بڑھتا نفوذ بھارتی تہذیب اور اسلامی تمدن کے لیے خطرے کی گھنٹی

جہاں بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کا راج ہے وہیں دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بھی انتہاپسندی میں کسی سے پیچھے نہیں جو اب بالی ووڈ کے ذریعے بھارتی تہذیب و ثقافت میں خاموشی سے سرائیت کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتین یاہو نے بھارت کا 6 روزہ سرکاری دورہ کیا اس دوران انہوں نے حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے لیے حکومت کی جانب سے تاج محل میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا جس میں بالی ووڈ اسٹارز نے بھی شرکت کی، نیتن یاہو نے امیتابھ بچن، اُن کے صاحبزادے ابھیشیک اور بہو ایشوریا رائے سے ملاقات کی۔
تقریب میں دیگر اداکاروں اور فلم سازوں سمیت پروڈیوسرز نے بھی شرکت کی اور اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ تصاویر بنوائیں، نیتن یاہو نے بھارتی اداکاروں کے ساتھ گروپ فوٹو بنوائی اور اُسے بھارت اسرائیل کی ’عظیم دوستی‘ کی علامت قرار دیا۔
اس ملاقات میں فلمساز کرن جوہر، امتیاز علی، رندھیر کپور، ووک اوبرائے اور سبھاش گھئی سمیت کئی بالی ووڈ اداکار شامل تھے۔
بھارتی مسلمانوں نے جب اداکاروں کی اسرائیلی وزیراعظم سے اتنی قربت دیکھی تو وہ غصے سے پھٹ پڑے اور انہوں نے مذکورہ فنکاروں کے خلاف سخت احتجاج کیا، کچھ صارفین نے آئندہ فلموں کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا۔
کہا جا رہا ہے کہ نیتن یاہو نے بالی وڈ کے ستاروں کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ ان سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو بھارتی فلم انڈسٹری سے اس قدر پیار اور دلچسپی کیوں ہے اور وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ان کے ساتھ ایک سو تیس افراد پر مشتمل اسرائیلی تاجروں کا ایک وفد بھی بھارت میں تھا۔ اس چھ روزہ دورے کے دوران انہوں نے دلی سمیت احمدآباد، آگرہ اور ممبئی جیسے شہروں کا دورہ کیا جس کے تعلق سے میڈیا میں بہت سی ملاقاتوں اور معاہدوں کا ذکر رہا۔
لیکن ماہرین کے مطابق ان میں سب سے اہم دورہ ممبئی کا ہی تھا جہاں انہوں نے ہوٹل تاج محل میں ‘شلوم بالی وڈ’ کے نام سے ایک خاص پروگرام کا اہتمام کیا۔
نیتن یاہو نے اس موقع پر اپنے افتتاحی خطاب میں بالی وڈ کے ستاروں کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ ان سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا، ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بالی وڈ کو پسند کرتی ہے اور اسرائیل کو بھی بالی وڈ سے پیار ہے۔ میں خود بالی وڈ سے پیار کرتا ہوں۔‘‘ امیتابھ بچن سمیت دیگر بالی وڈ کی شخصیات نے بھی اس تقریب سے خطاب کیا۔ تاہم بینجمن نیتن یاہو ابتدا سے آخر تک بھارت اور اسرائیل کی دوستی اور تعلقات کی ہی قسمیں کھاتے رہے۔
انہوں نے پروگرام کے اختتام پر کہا، ’’میں ان تعلقات کے حوالے سے اتنا جذباتی ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر بھارتی اور اسرائیلی شہری دونوں ملکوں کے درمیان غیر معمولی دوستی سے واقف ہو۔ اس کے لیے میرے ذہن میں ایک خیال ہے، سب سے زیادہ وائرل ہونے والی تصاویر میں سے آسکر ایوارڈ کی تقریب میں لی گئی وہ تصویر بھی ہے جس میں بریڈ پٹ سمیت کئی اہم شخصیات ایک ساتھ ہیں، تو اسی طرز پر ہم چاہتے ہیں کہ بالی وڈ کے تمام سیلیبریٹیز اور پروڈیوسرز ایک سیلفی کے لیے سٹیج پر ایک ساتھ جمع ہوں، تاکہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگ اس دوستی کو دیکھ سکیں۔‘‘ انھوں نے آسکر طرز کی ہی ایک سیلفی لی جو بھارتی میڈیا کی سرخی بنی۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب اسرائیل نے بھارت کی معروف فلم انڈسٹری کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ہو۔ ان کے اس دورے سے پہلے بھی اسرائیل بالی وڈ کو اپنی طرف راغب کرنے کی کئی کوششیں کر چکا ہے اور اسرائیل میں بالی وڈ کی فلموں کی شوٹنگ کے لیے اشتہار بھی شائع ہوئے ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں ہی بالی وڈ کے فلمسازوں پر مشتمل ایک وفد نے تل ابیب کا دورہ کیا تھا جس میں معروف فلم ڈائریکٹر امتیاز علی بھی شامل تھے۔ اس کی دعوت اسرائیلی حکومت نے دی تھی اور اہتمام اس کی وزارت خارجہ کے محکمہ ثقافت نے کیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ بالی وڈ اپنی فلمیں ان کے ملک میں بھی شوٹ کرے اور اس کے لیے انہوں نے بطور خصوصی رقم کا بھی اہتمام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ خصوصی ثقافتی رشتے قائم کرنے کی جو کوششیں ہیں اس میں بالی وڈ بہت اہم ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا، ’’میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ آئیں اور آپ کو مزید مالی امداد درکار ہو تو وہ بھی ہم مہیا کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بالی وڈ اسرائیل میں ہو۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ جو اداکار اور فلمساز نتن یاہو کے پروگرام میں شرکت کے لیے پہنچے تھے، انہیں سکیورٹی چیک پر ایک عام بالی وڈ فلم کے دورانیے سے بھی زیادہ وقت تک کے لیے قطار میں کھڑا ہونا پڑا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو بھارتی فلم انڈسٹری سے اس قدر پیار اور دلچسپی کیوں ہے اور وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟
اس حوالے سے پروفیسر مونیش الگ، جو معاشیات کے ماہر ہیں لیکن بالی وڈ کی سیاست پر ان کی گہری نظر رہتی ہے، نے کہا کہ ’’حالیہ دنوں میں اسرائیل کے تعلق سے عالمی سطح پر جو واقعات پیش آئے اس سے یہ واضح ہے کہ معاشی اور دفاعی نکتہ نظر سے مضبوط ہونے کے باوجود اسرائیل اپنی بیجا پالیسیوں کے سبب مقبول نہیں ہے بلکہ معتوب ہے اس لیے تہذیبی اور ثقافتی سطح پر اپنی مقبولیت کے وہ تمام راستوں کی تلاش میں ہے۔ اسرائیل کو معلوم ہے کہ بالی وڈ کی فلمیں سینٹرل اور جنوبی ایشیا سے لیکر مشرقی وسطی تک مقبول ہیں اور وہ اس کی مدد سے ثقافتی طور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا۔‘‘
پروفیسر مونیش کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ’’بھارت میں اس وقت ہندو قوم پرست دائیں بازو کی جماعت کی حکمرانی ہے اور نتن یاہو تو اس سے بھی آگے ہیں، تو دونوں میں نظریاتی اتحاد کمال کا ہے۔ یہ سیاست میں موقع پرستی کی بہترین مثال ہے کہ ہر صورتحال کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا جائے۔ بھارتی فلمی صنعت بھی مالی مفاد کے لیے ماضی میں موقع پرستی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ تو خاموشی سے اور بتدریج تہذیب و ثقافت میں سرائیت کرنے کی یہ ایک کوشش ہے۔ آخر فلمیں شبیہہ کو بگاڑنے اور درست کرنے میں بھی اہم رول ادا کرتی ہیں۔ تجارتی نکتہ نظر سے بھی اہم ہے اور اسرائیل اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے تو یہ ایک تیر سے تین شکار والی بات ہے۔‘‘
ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں اسرائیل کی جانب سے ایک ویڈیو بھی پیش کی گئی جس میں حیفہ، ایلات، مسادا، یروشلم اور تل ابیب کے کئی ایسے مقامات بھی پیش کیے گے جہاں فلموں کی شوٹنگ ممکن ہے۔ اسرائیل فلموں میں ان مقامات کی تشہیر سے اپنی سیاحت کو بھی فروغ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس موقع پر بینجمن نیتن یاہو نے معروف فلم ساز کرن جوہر اور اپوروا مہتا کو اسرائیل میں پہلی بار فلم شوٹ کرنے کے لیے ایک یادگار پیش کی۔
واضح رہے کہ کرن جوہر کی آنے والی فلم ’ڈرائیو‘ کا ایک نغمہ چند ماہ قبل تل ابیب میں شوٹ کیا گیا تھا۔ یہ فلم ترون منسکھانی نے ڈائریکٹ کی ہے جس میں سشانت سنگھ راجپوت اور جیکلین فرناڈیز جیسے اداکاروں نے کام کیا ہے۔ اب دیکھنا ہے یہ کہ بالی وڈ کا کون سا ہدایت کار پہلی بار اپنی فلم کا بیشتر حصہ اسرائیل میں شوٹ کرتا ہے اور وہ اسے کس انداز میں پیش کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کا راج ہے وہیں دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بھی انتہاپسندی میں کسی سے پیچھے نہیں جو اب بالی ووڈ کے ذریعے بھارتی تہذیب و ثقافت میں خاموشی سے سرائیت کرنے کی کوشش کررہا ہے جو خطے کے دیگر ممالک بالخصوص مسلمان ممالک کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Arba'een
Mourining of Imam Hossein
haj 2018
We are All Zakzaky
telegram