''اسامہ سے پانامہ اور پھر اقامہ''

''اسامہ سے پانامہ اور پھر اقامہ''

نواز شریف کو بچوں سمیت نہ کرپشن کی سزا ملی اور نہ بد دیانتی کی۔ یہ سزا تو سویلین بالادستی قائم کرنے اور خارجہ پالیسی آزاد و خود مختار بنانے کی کوشش اور اپنے پڑوسیوں سے پرامن تعلقات پیدا کرنیکے جرم میں ملی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

بقلم؛  سیّد تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ  
اٹھائیس جولائی کی حبس زدہ صبح ایک خونی شام کا پیغام اور درختوں کے ساکت پتے اس طوفان کے آثار بتا رہے تھے جو گزشتہ رات منصفوںکی جانب سے جاری کاز لسٹ  کے  بطن  میں پل رہا تھا۔کیس تین منصفوںنے سنا مگر جب فیصلہ پانچ کی جانب سے سنانے کا اعلان کیا گیاتو یہ فیصلے سے پہلے فیصلہ تھا۔ تماش بینوں کے ہجوم کے سامنے کمرہ نمبر ایک میں''وقار''  اور ''عظمی ''کے باہمی ''دائمی تعلقات'' کا اعلان کیا گیا۔  اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لئے '' آٹا گوندھتے ہوئے ہلتی کیوں ہے ''  قانون کا سہارا لیا گیا۔استبدای عدالت میں بیٹھے بھیڑ کی اون کی ٹوپی پہنے  ہوئے منصفوں نے بھیڑ چال چلتے ہوئے نظریہ ء کدورت کے تحت حوالداروں کی سیتا وائٹ کے  بطن سے پیدا ہونے والے ناجائز بچے کو قانونی حیثیت دی۔عدل کے ایوان میں'' خوف کے  سائے'' میں بیٹھے منصفوں نے نااہلی کا شاہکار فیصلہ'' پڑھ'' کر سناتے ہوئے نواز شریف کو جھوٹا اور چال میں نقاہت ، زبان میں لکنت اور اندر سے باغی جاوید ہاشمی کو سچا ثابت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آپ مرد مومن ضیاء الحق کے تقوی کے پیمانے پرپورا نہ اُترتے ہوئے صادق اور امین نہیں رہے۔اس فیصلے اور اسکی تاویلات کرنے والوں پر حیرت اس لئے نہیں ہوتی کہ جو عدلیہ ایک بغاوت کرنے والے کے حق بغاوت کو '' بارہ صفر''  کی اکثریت سے  قانوناََ جائز قرار دے سکتی ہو وہ آخر '' پانچ صفر''  کی اکثریت سے جمہوری وزیر اعظم کو ایک مضحکہ خیز بنیاد پر  '' تا حیات غیر صادق اور امین ''  قرار دے کر '' انصاف کا بول بالا'' کیوں نہ کر سکتی۔؟ بظاہر تو یہ کہانی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے عمران خان کی پانامہ پیپرز پر آئینی درخواست کو غیر سنجیدہ قرار دیکر واپس کرنے سے شروع ہوئی اور پھر اسی درخواست  پر کروڑوں لوگوں  کے منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کے پانچ ججوں کے فیصلے پر ختم ہوئی۔لیکن درحقیقت یہ کہانی اس سے بھی کہیں پہلے شروع ہوچکی تھی۔ کہانی نواز شریف  کے وزیراعظم بننے اور سابق آمر پرویز مشرف پر غداری کامقدمہ چلانے سے شروع ہوئی، پھر الیکشن دھاندلی کی تحریک کے ذریعے دھرنے سے ملک کے نظام مفلوج کرنے کاموڑ آیا ، ڈان لیکس نامی خبر سہارا لینے کی کوشش کی گئی  تو کبھی ایک ٹویٹ کی گئی اور جسے بعد ازاں طویل سرد جنگ لڑ کر واپس لینا پڑا۔ عدالتی فیصلہ مجھے انیس سو ننانویں کے دور میں لے گیاجب ٹرک قومی ٹی وی کی عمارت اور وزیر اعظم ہاؤس کے دفتر میں اچانک داخل ہوئے تھے۔اور پھر  اٹک قلعے کی فصیلوں کے پیچھے من پسند عدالت  لگا کر چودہ برس قید، دو کروڑ جرمانہ اور اکیس برس کے لئے نااہل قرار دیئے جانے کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔لیکن اس بار دھرنے سے آغازہوا، ڈان لیکس سے دباؤ بڑھایا گیا، اور پھر ناکامی پر سفارشوں اور پرویز مشرف کے پی سی او پر حلف لیکر جج بننے والے منصفوں  کا سہارا لیکر ایک منتخب وزیر اعظم کو اس کی '' اوقات'' دکھائی گئی۔اب کی بار وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں انتہائی اونچی ہو چکی تھیں اور انہیں پھلانگنے کے لئے مطلوبہ وسائل میسر نہ ہو سکنے پر ایک ایسی سپریم کورٹ کے پچھواڑے سے مطلوبہ مقام تک رسائی کا راستہ اختیار کیا گیا جسکاصحن دھرنے کے دوران ایک عرصہ تک شلواریں لٹکانے اور حمام کے کام آتا تھا۔جرم کی نوعیت  اتنی شدید تھی کہ قانون کی کتابوں میں اسکی کوئی تعریف و تشریح نہ مل سکی اور پھر اس جرم کو ثابت کرنے کے لئے قانون کی کتابوں، عدالتی فیصلوں کا نہیں بلکہ  بڑی بڑی لغات یعنی ڈکشنریوں کا سہارا لیا گیا  اور وہاں لکھی وضاحتوں کو کافی سمجھا گیا۔ہمیں بتایا گیا کہ اربوں بلکہ کھربوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے، لیکن نااہلی اس بات پر کی گئی کہ دوبئی میں قائم ایک کمپنی  جس سے وہ تنخواہ لے سکتے تھے اور نہیں لی اور نہ لینے والی تنخواہ کو اثاثے میں ظاہر نہیں کیا لہذا پاکستان کے مشہورِ زمانہ ''گارڈ فادر اور سسیلین مافیا''  کو سپریم کورٹ نے دبئی میں تنخواہ جو وصول نہ کی ، اسے چھپانے کے جرم میں پکڑ لیا  اور انہیںکرپشن یا فراڈ کے جرم میں نہیں بلکہ تنخواہ نہ لینے کے جرم میں برطرف کردیا گیا۔  ''انصاف ''کرنے والوں کے لئے وصول نہ کی جانے والی تنخواہ کو  اثاثہ  ثابت کیا جانا کوئی اتنا آسان کام نہ تھا اس کے لئے انہوںنے قانون کی بڑی بڑی ڈکشنریوں کا سہارا لے کراسے ثابت کیا ۔کسی نے کیا خوب کہا  کہ''سیلسین مافیا '' کے خلاف جو خوفناک  ثبوت سامنے آیا ،اس رونگٹے کھڑے کرنے اور دل کو ہلا دینے والے ثبوت کا  نام ہے '' اقامہ''۔  تقریباََ ڈیڑھ سال سے پاناماکا ڈنڈھورا پیٹنے کے بعد پھر  بلآخر خفیہ اداروں والی جے آئی ٹی اور عدلیہ کو  وزیر اعظم کے خلاف اقامہ ملاجس کی بنیاد پر پاناما کیس منتج ہوا۔واقعی جناب اقامہ تو اسامہ سے بھی بڑی دریافت ہے۔ شائد اسی لئے تو اسامہ بن لادن ملنے کے بعد کوئی نااہل نہیں ہوا اور اقامہ کی دریافت کے بعد وزیراعظم کی نااہلی منتج ہوئی۔ مان لیتے ہیں کہ اسامہ بن لادن اور اقامہ دونوں ہی پہلے سے ہمارے پاس نہیں تھے۔ اسامہ کو امریکہ  نے دریافت کیا اور اقامہ کو'' بظاہر'' جے آئی ٹی نے۔ ویسے وکی لیکس میں جو کچھ آشکار ہوا اسکے بعد تو کسی نئی دریافت کی ضرورت ہی نہیں تھی۔''یاد آیااس پاناما سے پہلے ایگزیکٹ کمپنی کا سکینڈل بھی تھا جس پر کالے بوٹوں اور کوٹوں نے اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ گونگا ہونے میں ہی غنیمت جانی تھی۔ کیونکہ اس کمپنی کے پیچھے قوتوں کا ہاتھ دیکھ کر ''عظمی اور عالیہ''  اس معاملے میں '' وقار'' سے پھڈا نہیں مول سکتی تھیں۔ اقامہ دریافت کرنے والوں کواس دھرتی سے وفاداری کا حلف لیکر دبئی میں رقص کرنے والوں  اور سپہ سالاروں کی نظروں سے اوجھل رہ کر پراپرٹی ڈیلر بننے والوں کے بارے میں کوئی ثبوت بھی نہ ملا۔ جنہوں نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کروایا اور عدالت میں بیٹھ کر اپنے مالکان کو تعمیل حکم کی نوید سنائی انکی صداقت اور امانت کے درجے کا تعین نہ کرسکے۔مہینوں میں اربوں کمانے والے ارسلان اور اسکے ابوسمیت پی سی او کے تحت حلف لینے والے منصفوں،طیارہ سازش کیس والوں اور احتساب کے نام پر چند ماہ کے وعدے پر اقتدار پر قبضہ کرنے والے بوٹو ں اور انہیں قانونی حیثیت دینے والے کوٹوں والوں کے لئے صادق اور آمین کی شرطکا تعینکون کریگا ۔؟کیا جمہور اور جمہوریت کو شکست دیکر پاکستانیوں کے ووٹو ںکو سیاہ چرمی بوٹوں کے ایماء پر آہنی ہتھوڑے تلے کچلنے والوں کو بھیکسی نے پوچھا یا  یا یہ صرف عوامی نمائیندوں کے لئے تھا۔؟ لوگ جان چکے ہیں کہ کون اپنے نمائندے کو بوقت رخصت گارڈ آف آنر اور عوام کے نمائیندے کو اسکی اوقات اورحیثیت دکھاتااور سبق سکھاتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمزسے لیکر گا رڈین اور بلومبرگ تک عالمی میڈیا بتا رہا ہے کہ نواز شریف کی اربوں کی کرپشن صرف دس ہزار درہم میں کیسے تبدیل ہوئی ۔؟ قوم جانتی ہے کہنواز شریف کا قصور یہی ہے کہ وہ ایک سیکیورٹی اسٹیٹ کو  ویلفیئر اسٹیٹ بنا کر اس خطے کے ڈیڑھ ارب انسانوں کی بھوک اور ننگ کو ختم کرنا چاہتا تھا لیکن سیکیورٹی کے نام پر سالانہ دو سو ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کو یہ بالکل بھی قابل ِ قبول نہ تھا ۔ نواز شریف کو بچوں سمیت نہ کرپشن کی سزا ملی اور نہ بد دیانتی کی۔ یہ سزا تو سویلین بالادستی قائم کرنے اور خارجہ پالیسی آزاد و خود مختار بنانے کی کوشش اور اپنے پڑوسیوں سے پرامن تعلقات پیدا کرنیکے جرم میں ملی۔ یہ سزا اٹھارہ سال پہلے بھی اس ملک کو ساتویں اٹیمی قوت بنا کر قوموں کی دنیا میں عزت و وقار کیساتھ جینے اور سر اٹھا کر چلنے کے جرم میں دی گئی تھی اور آج پھر ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے اورپاک چین اقتصادی راہداری جیسا عظیم انقلابی منصوبہ شروع کرنے پر دی گئی۔ یہ سزا انہیں ملک کے طول و عرض میں سڑکیں بنانے اور بڑے شہروں کو موٹر وے سے لنک کرنے، غریبوں کے لئے ہیلتھ کارڈ کا اجراء ، آسان شرائط پر نوجوانوں کو قرضے جاری کرنے،گوادر پورٹ ، انڈس ہائی وے ، عدلیہ کی بحالی ، اٹھارہویں ترمیم، متفقہ این ایف سی ایوارڈ،  انفارمیشن ٹیکنالوجی ، معاشی خود کفالت،نئیڈیم بنانے بجلی گھروں کے قیام،، ملک کے بڑے شہروں میں بس سروس،ایکسپورٹ میں اضافہ، فائبر انفراسٹرکچر، موبائل فون ٹیکنالوجی،  دہشت گردی میں کمی، بیروزگاری اور مہنگائی میں کمی،  توانائی کے بڑے منصوبے شروع کرنے، گوادر سے کاشغر تک موٹر ویز کی تعمیر، کشمیر کے بجٹ کو دوگناکر کے اسے اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل کرنا،  ملک میںآئین و قانون کی بالا دستی اوراداروں کی مضبوط کرنے اور ملک میں استحکام لانے کے جرم میں دی گئی۔  لیکنتاریخ گواہ ہے کہ اٹک قلعے کی فصیلوں کے پیچھے من پسند عدالت  لگا کر فیصلہ کروانے اورسزاسنانے والے بھی رسوا ہوئے تھے اور  اب کی بار کینگرو کورٹ والے بھی وہ ذلیل و رسواہو نگے۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram