اردوغزل میں سانحۂ کربلا کا علامتی اظہار

اردوغزل میں سانحۂ کربلا کا علامتی اظہار

سانحۂ کربلا اور اسکے متعلقات کا استعمال ہر عہد کی غزل میں ہوتا رہا ہے۔ جدید غزل میں پہلی بار یہ علامتیں اپنے لغوی، تاریخی اور کاروباری معنی سے نکل کر معاصر عہد کی ہولناکیوں اور دہشتناکیوں کی ترجمان ہوئیں۔ تاہم مابعد جدید غزل میں یہ علامتیں ایک تخلیقی رجحان کی حیثیت اختیار کرگئیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اردو کے کلاسیکی ادب میں سانحۂ کربلا کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے اور فضلی کی دہ مجلس جس میں امام حسینؑ اور اولاد حسینؑ کے مصائب وآلام بیان کئے گئے ہیں، کی پہلی نثری تصنیف کا شرف حاصل ہے۔ اس کے علاوہ دکنی عہد کی غزلوں اور مثنویوں میں بھی کربلا کی تلمیحات ملتی ہیں۔ گویا اردو زبان کی ابتدا ہی سے اس پر سانحۂ کربلا کی پرچھائیں نظر آنے لگتی ہیں۔ لیکن گوپی چند نارنگ نے اردو زبان کی ابتدا سے قبل ہندوستان کی دوسری زبان پر بھی سانحۂ کربلا کے اثرات کو محسوسات کیا ہے اور انہوں نے لکھا ہے کہ:
’’سرائیکی، سندھی، پنجابی، اودھی، دکنی اور بہت سی روایتوں میں ایسا ذخیرہ ملتا ہے، جس میں خون کے آنسوؤں کی آمیزش ہے۔ اردو میں صنف مرثیہ کے باقاعدہ وجود میں آنے سے پہلے دہے، نوحے وغیرہ پڑھے جاتے تھے۔‘‘
گوپی چند نارنگ کے اس اقتباس سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے کہ ہندوستانی زبانوں کی لوک روایتوں میں سانحۂ کربلا کے اثرات موجود تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اردو زبان کی ابتدا سے قبل ہندوستانی سماج پر سانحۂ کربلا کا اثر مرتب ہوچکا تھا، جس کے باعث ہندوستان کی مختلف زبانوں کی لوک روایتوں میں اس کے اثرات نفوذ کرگئے کیونکہ بقول گوپی چند نارنگ:
’’اسلام کی تاریخ میں بالخصوص اور انسانیت کی تاریخ میں بالعموم کوئی قربانی اتنی عظیم، اتنی ارفع اور اتنی مکمل نہیں ہے جتنی حسینؑ ابن علی ؑکی شہادت ہے۔ حسینؑ کے گلے پر جس وقت چھری پھیری گئی اور کربلا کی سرزمین ان کے خون سے لہولہان ہوئی تو در حقیقت خون ریت پر نہیں گرا بلکہ سنت رسولؐ اور دین ابراہیمی کی بنیادوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سینچ گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خون ایک ایسے نور میں تبدیل ہوگیا جسے نہ کوئی تلوار کاٹ سکتی ہے نہ نیزہ چھید سکتا ہے اورنہ زمانہ مٹاسکتا ہے۔‘‘
سانحۂ کربلا سے متعلق تلمیحات کا محدود استعمال کلاسیکی غزل میں مل جاتا ہے، جن کی مثالیں ممتاز حسین جون پوری نے اپنی تصنیف ’’خون شہیداں‘‘ میں فراہم کردی ہیں اور گوپی چند نارنگ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے کہ ’’واقعہ کربلا کے تاریخی حوالے کا استعاراتی اظہار غزل کی کلاسیکی روایت میں یقینا ڈھونڈا جاسکتا ہے اوراس کی تلاش سعیٔ لا حاصل نہ ہوگی۔‘‘ نیز گوپی چند نارنگ نے میر تقی میر کے شعروں کو بہ طور مثال پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’بہ ظاہر یہ عشقیہ اشعار ہیںلیکن کیا ان اشعار کی امیجری پر تاریخ کی پرچھائیں پڑتی ہوئی نظر نہیں آتی ہیں۔ـ‘‘لیکن گوپی چند نارنگ نے میر تقی میر کے علاوہ کسی بھی کلاسیکی شعراء کے یہاں سے مزید مثالیں فراہم نہیں کی ہیں۔ شاید ان کا مطمح نظر نئی شاعری میں علامات کربلا کی جستجو تھی، ورنہ وہ ان شعروں کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے جن پر کربلا کے عظیم سانحے کی چھوٹ صاف دکھائی پڑتی ہے۔
تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش
رہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی
سودا
مصحفی کرب و بلا کا سفر آسان نہیں
سینکڑوں بصرہ و بغداد میں مرجاتے ہیں
مصحفی
سینہ کوبی سے زمیں ساری ہلاکے اٹھے
کیا علم دھوم سے تیرے شہدا کے اٹھے
مومن
عشرت قتل گہ اہل تمنا مت پوچھ
عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یارب
اک آبلہ پا وادیٔ پرخار میں آوے
غالب
ان مثالوں کے باوجود سانحۂ کربلا سے متعلقات کا استعمال کلاسیکی غزل میں محدود اور روایتی معنی سے آگے نہیں بڑھ سکا تاہم استعاراتی طور پر ان تلمیحات کااستعمال بالعموم ان موقعوں پر کیا گیا ہے، جہاں حق و باطل کی آویزش ہوتی ہے یا جبرو استبداد کے تسلط کے خلاف بغاوت کے جذبات ابل پڑتے ہیں چنانچہ انگریزوں کے ظالمانہ اقتدار اور حریت پسندوں پر ان کے ظلم و ستم اور جبرو استبداد کے خلاف جب اردو شاعروں نے آواز بلند کی تو سانحۂ کربلا کے استعارے ان کے محسوسات اور واردات کے ترجمان بن گئے۔
گوپی چند نارنگ نے اس عہد کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا ہے کہ اقبال، محمد علی جوہر اور جوش اوردو شاعری میں اس رجحان کے بنیاد گزار ہیں۔ گوپی چند نارنگ اقبال کے ’’رموز بے خودی‘‘ کے شعروں کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ اقبال کی واقعۂ کربلا اور شہادت امام حسین کی نئی معنویت کی طرف سب سے پہلے بھرپور نظر گئی اور اس کا مکمل تخلیقی اظہار اقبال کے فارسی کلام میں زیادہ ہوا ہے لیکن اردو کلام میں بھی اور اس کے تعلیقات کو مرکزی اور کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اقبال کے شعروں میں تلمیحات کربلا اور اس کے متعلقات علامتی نوعیت اختیار کرلیتے ہیں اور ان شعروں کے ذریعہ اپنے عہد کے مسائل اور موضوعات کی ترجمانی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ رشید احمد صدیقی نے علی میاں ندوی کی کتاب ’’نقوش اقبال‘‘ کے دیباچے میں لکھا ہے :
’’نعت شہ کونینؐ کی طرح شہادت سید الشہداء اور سانحۂ کربلا کو اقبال نے نئی جہت، وسعت اور رفعت دی ہے اور وہ بھی اردو شاعری میں ایک اہم اور گراں قدر اضافہ ہے۔ مرثیہ خوانی اور مرثیہ نگاری کو جو اہمیت ہمارے ادب اور زندگی میں ہے اس کو اقبال نے ایک نئے تصور اور تجربہ سے آشنا کیا او رربط دیا۔ اس طور پراردو شاعری اور ادب میں مقام شبیری کی ایک نئی معنویت دعوت یا سمبل(علامت) ظہور میں آئی اور مقبول ہوئی اوروہ تصور جو نسبتاً محدود تھا لا محدود ہوگیا۔‘‘
اقبال ہی کے زیر اثر محمد علی جوہر اور جوش کے یہاں کربلا اور اس کے متعلقات کے استعمال کا رجحان آیا۔ اور انہوں نے سانحۂ کربلا کے تلمیحات میں تحریک آزادی میں روح پھونکنے اور کاروان تحریک آزادی کے راہ روؤں کے عزم و حوصلے کو بلند کرنے کیلئے اپنی شاعری میں پیش کیا۔ ہم جب ان کی شاعری کا اس جہت سے مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی شاعری کے منظر نامے پر ایسے بہت سے اشعار مل جاتے ہیں، جن میں کربلا اوراس کے متعلقات کو بیان کیا گیا ہے لیکن یہاں ان شعروں کو پیش کرکے تجزیہ کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ صرف یہ واضح کرنا ہے کہ کربلا اور اس کے متعلقات کا استعمال اقبال کے بعد آزادی کے حصول کے لیے ایک رجحان کی حیثیت اختیار کرنے لگا تھا۔ تاہم گوپی چند نارنگ کا یہ مشاہدہ قابل غور ہے کہ ـ:
’’ترقی پسندوں کے انقلابی مفاہیم کے لیے یہ حوالہ (سانحۂ کربلا) جس قدر موثر تھا، اتنے بڑے پیمانے پر ترقی پسند شاعری میں نہیں ملتا۔‘‘مگر ترقی پسندوں میں آزادی کے بعد فیض کی غزلوں اور نظموں میں ایسے پیکروں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے جس کا سلسلہ اس تاریخی روایت سے جا ملتا ہے۔ جدیدیت کے تناظر میں سانحۂ کربلا کی تلمیحات نئی معنویت کی حامل ہوگئی ہیں۔ عصر حاضر میں مجموعی انسانی صورت حال ، جو میکانیت کے فروغ میں صنعتی شہروں میں آبادی کے پھیلاؤ، سیاسی جبروتلاش میں بڑے پیمانے پر انتقال آبادی، سامراجی ریشہ دوانیاں، عالمی جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے، قدروں کے زوال اور انسانی رشتوں کے ٹوٹنے اوربکھرنے سے عبارت ہے اور اجنبیت، تنہائی، خوف کے احساسات جو ساری زندگی میں سرایت کرگئے ہیں، ان کے اظہار کے لیے یہ تلمیحات اور استعارے جدید شاعری میں متنوع انداز میں استعمال ہوئے ہیں۔ فلسفہ وجودیت کے مستند وجود کی مثال جو سید الشہداء ؑکی ذات میں دکھائی دیتی ہے، جس کی وجہ سے کربلا کے استعارے اور علامیے نئے شاعروں کے لیے زیادہ پرکشش بن گئے۔ نئے شاعروں نے سانحۂ کربلا سے متعلق تعلیقات کو بڑی فن کاری اور چابکدستی کے ساتھ برتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں تاثیر کی زبردست قوت موجود ہے۔
بس اک حسین کا کہیں ملتا نہیں سراغ
لو ہر زمیں یہاں کی ہمیں کربلا لگی
خلیل الرحمن اعظمی
سلام ان پہ تہہ تیغ بھی جنہوںنے کہا
جو تیرا حکم، جو تیری رضا جو تو چاہے
سلگتے جاتے ہیں چپ چاپ ہنستے جاتے ہیں
مثال چہرہ پیغمبراں گلاب کے پھول
مجیدامجد
ساحل تمام گرد ندامت سے اٹ گیا
دریا سے کوئی آکے جو پیاسا پلٹ گیا
              شکیب جلالی
بجھا ہے رنگ دل اور خواب ہستی کربلا ہے
کہ جیتے میں نہ مرتے ہیں یہ کیسی کربلا ہے
سروں تک آگیا آب فرات خوف دیکھو
جو پیاسوں کو ڈبودے گی یہ ایسی کربلا ہے
                ظفر اقبال
زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
کھلا نہیں کوئی در بابِ التجا کے سوا

یہ نماز عصر کا وقت ہے
یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی
                منیر نیازی
پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
کوئی مقتل کرگیا تھا مدتوں پہلے مگر
ہے درخیمہ پہ اب تک صورت تصور کون
مری چادر تو چھنی تھی شام کی تنہائی میں
بے ردائی کو مری پھر دے گیا شہید کون
                پروین شاکر
حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیں
مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں میں بیٹھے ہیں
گزرے تھے حسین ابن علی رات ادھر سے
ہم میں سے مگر کوئی بھی نکلا نہیں گھر سے
                شہریار
پانی تو اب ملے گا نہیں ریگ زار میں
موقع ہے خوب دیکھ لو دامن نچوڑ کے
دل ہے پیاسا حسین کی مانند
یہ بدن کربلا کا میداں ہے
                محمد علوی
کل جہاں ظلم نے کاٹی تھی سروں کی فصلیں
نم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلا
مدت ہوئی سینے سے نکالے ہوئے نیزے
نوک اب بھی کلیجے میں کھٹکتی ہے سناں کی
فرات جیت کے بھی تشنہ لب رہی غیرت
ہزار تیر ستم ظلم کی کمیں سے چلے
                وحید اختر
حسین پھر ہیں رواں کربلا کی سمت حسنؔ
خوشا کہ اب کے نہیں کم حسینی لشکر بھی
                حسن نعیم
ہوائے ظلم سوچتی ہے کس بھنور میں آگئی
وہ اک دریا بجھا تو سینکڑوں دئیے جلا گیا
                احمد فراز
وہ دریا پہ مجھ کو بلاتا رہا
مگر میں صف تشنگاں میں رہا
پھر مرا سر ہو قلم پھر ہو ترے ہاتھ میں تیغ
معرکہ پھر سر میداں وہی برپا ہوجائے
ہے زوال شام اک آئینہ رو منظر میں ہے
آسماں روشن ہے سارا اور لہو منظر میں ہے
            انیس اشفاق
ان شعروں میں سانحۂ کربلا اور اس کے متعلقات علامتی نوعیت کے حامل ہوگئے ہیں اور ان علامتوں کے ذریعے معاصر عہد کی صورتحال کی ترجمانی کی گئی ہے۔ اسی لئے یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کی حیثیت مذہبی روایت کی نہیں رہ گئی ہے بلکہ یہ ایک ادبی روایت بن گئی ہے۔ مثلاً وحید اختر کا درج ذیل شعر موجودہ عہد کی صورتحال کے خلاف نبرد آزما ہونے کا حوصلہ عطا کرتا ہے اورناموافق حالات میں حق کی آواز بلند کرنے کا عزم و ہمت بھی دیتا ہے۔
کل جہاںظلم نے کاٹی تھی سروں کی فصلیں
نم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلے
وحید اختر کا یہ شعر اپنی پہلی ہی قرأت میں چونکاتا ہے اور ’’نم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلے‘‘ یہ مصرعہ ہمارے دلوں کو روشن کرتا ہے اور ظلم و استبداد کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے کہ جس یزید کے دست ظلم و استبداد نے امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کے سروں کو کاٹا تھا اور ان کی آواز حق کو مٹانا چاہتا تھا لیکن امام حسینؑ اور ان کے جاں نثاروں کی شہادت کے بعد حق پرستوں اور سچ گویوں کا ایک لشکر نکل آیا۔ یعنی اس وقوع کے اندر یہ معنی موجود ہیں کہ حق کی آواز کو تھوڑی دیر کے لیے ظلم و استبداد اور قوت وطاقت کے ذریعے دبایا تو جاسکتا ہے لیکن حالات کے ٹھیک ہوتے ہی حق پرستوں اور سچ گویوں کی ایک پوری فوج حق کی سربلندی کے لیے تیار ہوجاتی ہے، جس کو کسی صورت دبایا نہیں جاسکتا ہے۔
اب شکیب جلالی کا شعر دیکھئے:
ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا
دریا سے کوئی شخص جو پیاسا پلٹ گیا

اس شعر میں سانحۂ کربلا کے اس وقوعے کی طرف اشارہ ہے، جہاں علمدار لشکر حسینی فرات پر قبضہ کرنے کے باوجود پیاسے پلٹ آئے اور یوں جناب عباسؑ نے وفاداری اور خود داری کا ثبوت دیا کہ امام حسینؑ اور ان کے بچوںکے پیاسے ہوتے ہوئے بھی پانی کیسے پی لیا جائے۔ اب اس وقوعے سے شکیب جلالی نے کس طرح نئے مفاہیم پیدا کئے ہیں کہ ساحل کا اشک ندامت سے اٹ جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دریا میں پانی نہیں ہے۔ ایک پیاسا جب ساحل سے پیاسا جاتا ہے تو ساحل پھوٹ کر رونے لگتا ہے کہ پیاسا اپنی پیاس نہیں بجھاسکا۔ ساحل کو اس قدر افسوس اورندامت ہے کہ اس کے آنسوؤں سے پورا دریا لبریز ہوگیا۔ آنسو بھی پانی ہی ہے لیکن شاعر نے کس قدر طنزیہ انداز سے کام لے کردریا کی خشکی کو ظاہر کیا ہے کہ ہر شخص اپنی پیاس بجھاچکا مگر ایک شخص ہے جو پیاسا پلٹ گیا، جس کا ساحل کو بے درملال اور افسوس ہے۔ دوسرا مفہوم یہ بھی نکلتا ہے کہ پیاسا پلٹ جانے والا شخص بجھاسکتا تھا لیکن پیاسا پلٹ کر اس نے ثابت کردیا کہ مجھ میں اتنی خود داری ہے کہ میں دریا کو پیاس کے عالم میں بھی ٹھکرا کر لوٹ سکتا ہوں۔
اس حقیقت سے انکار نا ممکن ہے کہ واقعہ کربلا کی اشاریت کو اقبال کے بعد جس شاعر نے اردو شاعری میں مستقل مزاجی اور سنجیدگی کے ساتھ پیش کیا ہے ،وہ افتخار عارف ہے، اور یہی عنصر افتخار عارف کی شاعری کی مؤثر اور منفرد قوت ہے، جو ان کے معاصرین میں اور کسی کو نصیب نہ ہوسکا۔ واقعہ کربلا کے حوالے سے آج کی زندگی، سیاسی جبر و تشدد، معاشی نا برابری اور مشیتی عہد کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کی یہی کوشش افتخار عارف کی شاعری کا اہم حوالاہ ہے، جس کی نئی شاعری میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ہے، بہ قول گوپی چند نارنگ:
’’واقعۂ کربلا اور اس کے تعلیقات کا نئے سماجی انسانی مفاہیم میں استعمال یوں تو اوروں کے یہاں بھی ملتا ہے لیکن افتخار عارف کے تخلیقی وجدان کو اس سے جو گہری مناسبت ہے، اس کی نئی شاعری میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ افتخار عارف کے یہاں یہ بات ان کے تخلیقی عمل کے بنیادی محرک کا درجہ رکھتی ہے کہ وہ لمحۂ موجود کی پے چیدہ سیاسی، سماجی، اخلاقی اور انسانی صورتحال کو ایک وسیع تاریخی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کے یہاں ایک ایسے مرکزی کردار کا تصور ابھرتا ہے، جو مسلسل ہجرت میں ہے۔ عذابوں میں گھرا ہوا ہے، در بدر خاک بسر مارا مارا پھر رہا ہے اور کوئی دار الاماں اور جائے پناہ نہیں۔ ان کے یہاں بنیادی تاریخی حوالے سے جو پیکر ابھرتے ہیں مثلاً پیاس، دشت، گھرانا، گھمسان کارن، بستی، بیاباں، قافلۂ بے سروساماں، یہ سب ثقافتی روایت کے تاریخی نشانات بھی ہیں اور آج کے عذابوں میں گھری ہوئی زندگی کے کوائف و ظواہر بھی۔ ان کا شعری وجدان کچھ اس نوع کا ہے کہ ان کے اشعار صدیوں کے درد کا منظر نامہ بن جاتے ہیں اور ان میں وہ لطف و تاثیر بھی پیدا ہوجاتی ہے، جسے خداداد بھی کہا گیا ہے۔‘‘
یہاں افتخار عارف کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں، جس میں علامات کربلا کو اس طرح استعمال کیا گیا ہے،جس میں اس تاریخی وقوعے نے موجودہ عہد کی صورتحال کو واضح کردیا ہے، مثلاً:
کھلا جو روزن زنداں تو تیر آنے لگے
اب ان فضاؤں میں تازہ ہوا نہ مانگے کوئی
بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی
……………
خلق نے اک منظر نہیں دیکھابہت دنوں سے
نوک سناں پہ سحر نہیں دیکھا بہت دنوں سے
پتھر پر سر رکھ کر سونے والے دیکھے
ہاتھوںمیں پتھرنہیں دیکھا بہت دنوں سے
وہی پیاس ہے وہی دشت ہے وہی گھرانا ہے
مشکیزے سے تیر کا رشتہ بہت پرانا ہے
صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن
راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے
دریا پر قبضہ تھا جس کا اس کی پیاس عذاب

جس کی ڈھالیں چمک رہی تھیں وہی نشانا ہے
…………
دمشق مصلحت و کوفۂ نفاق کے بیچ
فغان قافلۂ بے نوا کی قیمت کیا
…………
زرۂ صبر سے پیکان ستم کھینچتے ہیں
ایک منظر ہے کہ ہم دم ہمددم کھینچتے ہیں
حکم ہوتا ہے تو سجدے میں جھکادئیے ہیں سر
اذن ملتا ہے تو شمشیر دو دم کھینچتے ہیں
افتخار عارف کے ان شعروں میں روزن زنداں، زنجیر، دعا، نوک سناں، پیاس، دشت، گھرانہ، مشکیزہ، تیر، رن پڑنا، دریا، ڈھالیں، دمشق مصلحت، کوفۂ نفاق، قافلۂ بے نوا، زرۂ صبر، پیکان ستم، سجدہ اور شمشیر وغیرہ کی حیثیت محض الفاظ کی نہیں ہے اور نہ یہ صرف کربلا کے وقوعے کوبیان کرتے ہیں بلکہ ان سے معنی کی کئی جہتیں اور حقیقتیں آشکارہ ہوتی ہیں۔ مثلاً افتخار عارف کا یہی شعر دیکھئے کہ کس طرح موجودہ عہد کی صورتحال کے خلاف ایک مکمل احتجاج کی صورت اختیار کرلیتا ہے:
خلق نے ایک منظر نہیں دیکھا بہت دنوں سے
نوک سناں پہ سر نہیں دیکھا بہت دنوں سے
اس شعر میں افتخار عارف نے خلق، منظر، نوک سناں اور سر کی لفظیات کے ذریعے ساحۂ کربلا کے اس وقوعے کو بیان کیا ہے، جب امام حسینؑ عالی مقام کی شہادت کے بعد ان کے سر کو نوک نیزہ پہ بلند کیا گیا تھا اور کوفہ و شام کے بازاروں میں پھرایا گیا۔ لیکن افتخار عارف کا مقصد سانحۂ کربلا کے اس وقوعے کو بیان کرنا نہیں ہے بلکہ اس وقوعے کے تناظر میں اپنے عہد کی صورتحال کی سفاکی کو آشکارہ کرنا ہے۔اب یہاں ’’سر‘‘ مظلومیت، سر بلندی، حق گوئی،جرأت، بلند ہمتی، انسانی اقدار اور انسانیت کے علمبردار کی علامت ہے، اور ’’نوک سناں‘‘ ظلم و استبداد، جوروستم، استحصالی قوتوں، استعماری طاقتوں اور یزید وقت کی علامت ہے۔ جوروستم،ظلم و جبر، استحصالی قوتوں،استکباری طاقتوں، حق تلفی اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرنا انسان کا اولین فریضہ ہے،جس کی آج کے انسان کو بہت ضرورت ہے۔ اس لئے افتخار عارف پھر نوک سناں پر کوئی سربلند ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ استحصالی طاقتوں اور تخریبی کا خاتمہ ہوسکے اور انسانی اقدار بحال ہوسکیں۔
پتھر پر سر رکھ کر سونے والے دیکھے
ہاتھوں میں پتھر نہیں دیکھا بہت دنوں سے
اس شعر میں ’’پتھر پر سر رکھ کے سونا‘‘ صبر و شکبائی اور ضبط و تحمل کی علامت ہے اور ’’ہاتھوں میں پتھر‘‘ ظلم و استبداد کے خلاف دست احتجاج بلند کرنے کی علامت ہے۔ افتخار عارف موجودہ صورتحال سے گھٹن محسوس کرتے ہیں کہ بستی کے افراد پر ایسی بے حسی طاری ہے کہ وہ ظلم و استبداد کو برداشت کررہے ہیں لیکن اپنے اسی وصف یعنی قوت صبر کو تلوار میں تبدیل نہیں کررہے ہیں۔ اس شعری ردیف ’’نہیں دیکھا بہت دنوں سے‘‘ سے ذہن سانحہ کربلا کے اس وقوعے کی طرف جاتا ہے ، جہاں گلوئے صبر سے شمشیر ظلم کو کمند کردیا گیاتھا، بس افتخار عارف بھی اسی منظر کو موجودہ عہد کی صورتحال کے خلاف بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ افتخار عارف کے لیے سانحۂ کربلا ظلم و استبداد کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ دیتا ہے اور اپنے عہد اور اپنے سماج کے اندر پل رہی تخریبی طاقتوں کے خاتمے کا زریعہ بن جاتا ہے۔
افتخار عارف کے بعد عرفان صدیقی نے کربلا کی علامتوں کو مستقل مزاجی،سنجیدگی اور مکمل تخلیقی قوت کے ساتھ اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے۔ان کی شاعری کے مطالعے سے اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ انہوںنے نہ صرف علامات کربلا کو استعمال کیا بلکہ اس میں افتخار عارف کی طرح عصری معنویتوں کی جستجو کی اور اپنے عہد کے مسائل و موضوعات کے بیان میں ان سے نئے نئے معنیاتی جہات بھی پیدا کئے۔ انہوںنے کربلا کے وقوعوں کے توسط سے ایک نیا لفظیاتی نظام ترتیب دیا، جو ان کے معاصر شاعروں میں ایک الگ شناخت کا سبب بنی۔ فرس، ہوار، مقتل، قائل، نوک سناں،نوک نیزہ،صف سردادگاں، سروں کے پھول، خیمہ، سردشت بلا، تیغ، تلوار، خنجر، سجدہ، ستم، برہنہ سر، خون، لہو، ردا، طشت، دولت سر، تیروکماں، صت، لشکر، دست بریدہ، بازو، مشکیزہ، ہوائے ناقہ نا مہرباں، خیمۂ صبرورضا، بازوئے بریدہ، جیت، معرکہ صبروجور، پانی، آب، پیاس، شمع
خیمہ، زنجیر، قید، قیدخانہ، اسیری ان الفاظ و تراکیب کے ذریعے عرفان صدیقی کربلاکے وقوعوں کے تناظر میں اپنے عہد کے مسائل وموضوعات اور اپنے عہد کی سفاکیوں کی ترجمانی کی ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کا ڈکشن بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ ان میں اکہرے مفہوم کے بجائے کثرت معانی کی صفت پیدا ہوگئی ہے۔ اب یہاں چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
تم جو کچھ ہو وہ تاریخ میں تحریر کرو
یہ تونیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سرمیں کیا ہے
تونے مٹی سے الجھنے کا نتیجہ دیکھا
ڈال دی میرے بدن نے تری تلوار پہ خاک
یہ کس نے دست بریدہ کی فصل بوئی تھی
تمام شہر میں نخل دعا نکل آئے
تری تیغ تو مری فتح مندی کا اعلان ہے
یہ بازو نہ کٹتے اگر میرا مشکیزہ بھرتانہیں
دولت سر ہوں سو ہر جیتنے والا لشکر
طشت میں رکھتا ہے نیزے پہ سجاتا ہے مجھے
خدا کرے صف سردادگاں نہ ہو خالی
جو میں گروں تو کوئی دوسرا نکل آئے
شمع خیمہ کوئی زنجیرنہیں ہم سفر و
جس کو جانا ہے چلا جائے اجازت کیسی
پہلے شعر میں نیزے اور سر کی علامتوں کے ذریعے سانحۂ کربلاکے اس وقوعے کو بیان کیا گیا ہے، جب شہادت امام حسین کے بعد ان کے سر کو نیزے پر بلند کیا گیا تھا مگر وہی نیزہ جوباطل قوتوں اور تخریبی طاقتوں اور جبر و تشدد کی علامت تھا، مظلومیت، حق پرستی، حق گوئی، سر بلندی، سر افرازی اور انسانی اقدار کا تحفظ کا ذریعہ بن گیا۔ یہی سبب ہے کہ ملوکیت اور شہنشاہیت کے زر خیز مورخ چاہ کر بھی حقیقتوں کو مسخ نہ کرسکے۔ یعنی دیکھا جائے توجس نیزے کو حقیقتوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا، وہی نیزہ حقیقتوں کو روشن اور آشکاراکرنے کا زریعہ بن گیا۔
دوسرے شعر میں مٹی، مظلومیت، صبر وضبط اوربے گناہی اورتلوار، ظالمانہ قوتوں اور جابرانہ طاقتوں کی علامت ہے۔ یہ شعر بھی سانحۂ کربلا کا پس منظر لئے ہوئے ہے کہ باضمیر اور حساس انسان کبھی بھی ظالم و جابر کے ہاتھوں اپنی عزت نفس اورتوقر گردی نہیں رکھ سکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ امام حسینؑ نے بیعت کو ٹھکرانے کے بعد سردینا گمراہ کرلیا، لیکن کیا ہوا۔ امام حسینؑ کے سر دینے کے باوجود قلب باطل میں ان کا معنوی وجود کھٹکتا رہا اور اپنی موجودگی کا اندراج کراتا رہا۔ کیونکہ شہادت حسینؑ کے بعدبھی لہو احتجاج بن کر باطل کی قوتوں اور جاہ وجلال پر خاک ڈال گیا۔ یعنی ظالم کے جبرو تشدد کے بعد مظلوم انسان کے دل میں رعب، دبدبہ اور عزت نفس اور توقیر کا جذبہ باقی ہے توباطل گویا اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔
تیسرے شعر میں دست بریدہ کی فصل بونے کے نتیجے میں نخل دعا کا نکلنا ایک طرف دست بریدہ اورنخل دعا کے رشتے کو نمایاں کرتا ہے تو دوسری طرف پہلا مصرعہ ظلم کے نتیجے کو ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسرا مصرعہ نالہ وفریاد کے رد عمل کو۔اہم بات یہ ہے کہ پہلے مصرعے میں نہ ظلم کا ذکر واضح کیا گیااور نہ دوسرے مصرعے میں رد عمل یا فریاد کی کوئی وضاحت کی گئی ہے۔ یعنی استعماری قوتیں اور استحصالی طاقتیں چاہ کر بھی پرچم حق کو سرنگوں نہیں کرسکتیں اس لئے پرچم حق کے نگوں کے لیے ایک ہاتھ کاٹا گیا تو اس کو بلند کرنے کے لیے سینکڑوں ہاتھ پیدا ہوجائیں گے۔
عرفان صدیقی کے اس قبیل کے شعروں کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انہوں نے سانحۂ کربلا کے وقوعات سے ماخوذ علامات و لفظیات کو محض اکہرے مفہوم میں استعمال نہیں کیا ہے بلکہ ان علامتوں کے ذریعے اپنے عہد کے مسائل و موضوعات کی ترجمانی کی ہے اور اپنے عہد کی معنویتوں سے متعلق کردیا ہے۔
سانحۂ کربلا بطور شعری استعاہ نئی غزل میں اہمیت تو دی جارہی تھی تاہم ما بعد جدید غزل میں ایک اہم رویے کی صورت اختیار کرگیا ہے کیونکہ ما بعد جدید غزل میں اس
موضوع کا اظہار بطور علامت ہوا ہے۔ مابعد جدیدغزل گو شعراء میں عرفان صدیقی اور افتخار عارف نے خصوصیت کے ساتھ تلمیحات کربلا کو بطور استعارہ مسلسل اور مستقل مزاجی سے استعمال کیا ہے۔(جیسا کہ اوپر کی گئی گفتگو سے واضح ہے) واقعہ کربلا جابرحکومت کے خلا ف ایک طرح کا احتجاج کرتی ہے اس لئے کربلا اور اس کی تعلیقات کے استعمال سے مابعد جدید شعری اظہار میں احتجاج کی کیفیت کو دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ احتجاج انسانی صورتحال کے خلاف بھی ہے اورسیاسی جبر و استبدادکے خلاف بھی، اور اس استحصال کے خلاف بھی، جس کی زد پر بالخصوص تیسری دنیا کے معاشرے کا فرد آتا ہے لیکن پروفیسر سیدمحمد عقیل نے اپنے مضمون ’’نئی غزل کا بدلتا ہوا رنگ‘‘(فکر و فن کے آئینے میں) میں واقعہ کربلا کی اشاریت میں خود کلامی دیکھتے ہیں اور انصاف نہ ملنے کے خلاف احتجاج کی آواز سے محروم دیکھتے ہیں حالانکہ واقعہ کربلا مکمل احتجاج، ظلم و ستم اور استعماری طاقتوں کے خلاف نبرد آزمائی، حق پرستی اور حق گوئی سے عبارت ہے۔ مابعد جدید غزل میں سانحہ کربلا کی اشاریت کا دخول کسی خارجی دباؤ کے باعث نہیں ہے بلکہ آج ہر انسان کے اندر ایک کربلا بپا ہے۔ کربلا میں اخلاقی و روحانی اقدار، رشوں کی پاسداری، دوستوں کے ساتھ حسن سلوک اور دیگر ساری انسانی قدریں اپنے معراج پرنظر آتی ہیںلیکن معاصر عہد میں یہ سب کچھ ختم ہورہا ہے اور انسان کربلائے عصر میں یکہ و تنہا ہے اور اس کے پاس انسانی اقدار کا سرمایہ بھی نہیں ہے تو ایسے میں سانحہ کربلا کی اشاریت غزل میں داخل ہورہی ہے تو حیرت کی بات نہیں ہے اور دوسری طرف انسان جب اپنے ارد گرد دیکھتا ہے تو ہر شہر کوفہ و شام نظر آتا ہے۔ ایسے میں شاعر موجودہ صورتحال کے خلاف نبرد آزما بھی ہوتا ہے اوراحتجاج بھی کرتا ہے اور مستقبل میں موجودہ صورتحال کی تبدیلی کی بشارت بھی دیتا ہوانظر آتا ہے۔مثلاً
تم ہی صدیوں سے یہ نہریں بند کرتے آئے ہو
مجھ کو لگتی ہے تمہاری شکل جانی پہچانی ہوئی
وہ مرحلہ ہے کہ اب سیل خوں پہ راضی ہیں
ہم اس زمیں کو شاداب دیکھنے کے لئے
            عرفان صدیقی
اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے
            افتخار عارف
سیاہ مکر وریا ساحلوںپہ خیمہ زن
غریق دجلۂ خوں ہیں شجاعتیں ساری
اسعدبدایونی
تمام وسعت صحرائے تشنگی میری
تمام سلسلۂ دجلہ و فرات میرا
                عشرت ظفر
ہم خاک ہوئے تو رہے خاک شفاہی
مٹی میں ملانے کا ہنر کام نہ آیا
                خالد عبادی
کوئی حسین بسا ہے ضرور اس دل میں
صباؔ میں چاروں طرف اپنی کربلا دیکھوں
                صبا اکرام
نوک نیزہ پہ کبھی، طشت رعونت میں کبھی
ہر تماشے کے لیے میرا ہی سر رکھا گیا
            رفیق الزماں

یہ کیسا شہر ہے کیسی ہے سرزمیں اس کی
جہاں کی خاک پلٹتا ہوں سرنکلتا ہے
                صدیق مجتبیٰ
تیروں کی بوچھاربھی سہنا ہے مجھ کو
میرے ہاتھ میں ہے مشکیزہ پانی کا
                شاہد میر
رقص کرتا ہوا مقتل میں چلا آیا ہوں
پاؤں مت دیکھ مرے پاؤں کی زنجیر کو دیکھ

نصف شب پشت خیمہ جاں پر
کوئی نوحہ کناں سا رہتا ہے
            شاہد کمال

آخری شعر میں امام حسینؑ اور کربلا کی تلمیحات سے اپنے عہد کی صورتحال کوبیان کیا ہے۔صبا اکرام اپنے چاروں طرف کربلا جیسی صورتحال کے باوجود اپنے اندر امام حسینؑ کوبسا ہوا یعنی بشارت حق اور انتظار صبح دیکھ رہے ہیں۔ اس شعر میں صبا اکرام نے رجائیت اور صبح امید کی ترجمانی کی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ان شعروں کی اشاریت، الفاظ کی بیرونی آواز اور علامت لے کراندرونی کرب کی مظہر بنتی ہے مگر اس کرب میں محرومی اور یاس کے بجائے ایک طرح کی صلاحیت اور احتجاج کی کیفیت ملتی ہے۔
اس مختصر جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سانحۂ کربلا اور اسکے متعلقات کا استعمال ہر عہد کی غزل میں ہوتا رہا ہے۔ جدید غزل میں پہلی بار یہ علامتیں اپنے لغوی، تاریخی اور کاروباری معنی سے نکل کر معاصر عہد کی ہولناکیوں اور دہشتناکیوں کی ترجمان ہوئیں۔ تاہم مابعد جدید غزل میں یہ علامتیں ایک تخلیقی رجحان کی حیثیت اختیار کرگئیں۔ پہلی بار مابعدجدید غزل گو شعرا نے ان علامتوں کے ذریعے موجودہ صورتحال کے خلاف نہ صرف احتجاج کیا بلکہ اس سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ بھی دیا، نیز مستقبل کی بشارت بھی دی۔ ہمایوں ظفر نے ’’ہوائے دشت ماریہ‘‘ کے دیباچے میں عرفان صدیقی کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے جن خوبیوں کی طرف اشارہ کیا ہے در اصل یہ علامات کربلا کے تناظر میں پوری مابعد جدید غزل کی خوبیوں کی نشاندہی کی ہے۔
’’عرفان صدیقی کی شاعری میں علامات کربلا کا تخلیقی استعمال نہ صرف یہ کہ ہمارے عہد کے دردو کرب کو پوری طرح نمایاں کرتا ہے بلکہ آئندہ زمانوں کی بشارت بھی دیتا ہے۔‘‘
    بقلم؛ ظفر نقی
       drznaqi@gmail.com

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram