مختصر بین الاقوامی روئیداد؛

آل سعود کی استبدادیت بارود کے ڈھیر پر

آل سعود کی استبدادیت بارود کے ڈھیر پر

سوال یہ ہے کہ کیا محمد بن سلمان حالیہ اصلاحات اور انسداد بدعنوانی کمیٹی کے توسط سے ملکی اقتدار کے ڈھانچے میں تبدیلی لانا چاہتا ہے یا اس کی اصلاحات محض سطحی سی ہیں اور اقتدار کا ڈھانچہ ویسا کا ویسا رہے گا؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب نے حالیہ مہینوں میں سابقہ روایات کی سرحدوں کو تیزی سے پھلانگنے کا سلسلہ سے تیزی سے شروع کررکھا ہے، جو کہ زیر تسلط ارض مقدس میں سماجی پھٹاؤ اور بھونچال کا سبب بن سکتا ہے۔
آل سعود کے ناتجربہ کار، جذباتیت سے مغلوب نوجوان ولیعہد محمد بن سلمان کے حکم پر نمائشی اصلاحات کا منصوبہ ـ عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا، نیز دینی قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے مخلوط زنانہ مردانہ فیشن نمائشوں اور بیرونی سیاحوں کے لئے جزیرہ نمائے عرب میں آنے کے لئے دلچسپی کے اسباب فراہم کرنا!، اور "بیرون ملکیوں!" کو حرام مشروبات کی فراہمی جائز قرار دینا! وغیرہ وغیرہ، کا سلسلہ ـ بدستور جاری ہے۔
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی معاشرہ اس قسم کی اصلاحات کے لئے ہرگز تیار نہیں ہے اور ایسے میں نام نہاد اصلاحات کے بہانے اس طرح کے روایت شکن اقدامات بموجب سعودی معاشرہ بارود کے خطرناک ڈھیر کی صورت اختیار کرچکا ہے؛ بطور مثال سعودی سلطنت کے شدید سینسرشپ کے باوجود ایک خبر یہ تھی کہ کچھ مَردوں نے کچھ ایسی خواتین پر حملہ کیا جو گاڑیاں چلا رہی تھیں اور اس حملے کی تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بھی بنیں۔۔۔ جبکہ بند معاشرے میں اس طرح کے بےشمار واقعات بہرصورت رازداری میں ہی رہ کر دفن ہوجایا کرتے ہیں۔
اسی سلسلے میں ایک سوئس روزنامے "جنیوا ٹربیون " (1) نے "سعودی عرب، محمد بن سلمان بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے" (2) کے زیر عنوان مضمون کے ضمن میں لکھا ہے: جو اصلاحات عرب معاشرے میں بن سلمان نے اختیار کی ہیں، بہت دشوار اور تیزرقتار ہیں جنہوں نے عرب معاشرے کے فیصلہ کن دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔
یہ روزنامہ فرانسیسی اخبار نویس اور کتاب "سعودی عرب صفر کے کم امیر ملک ہے" کی مصنفہ "کلیرنس روڈریگز" (3) کے حوالے سے لکھتا ہے: سعودی بادشاہت اس وقت ایک نوجوان اور تسلط پسند ولیعہد کے ہاتھ میں ہے جو سماجی روایات سے عبور کرنا چاہتا ہے اور جس کا نتیجہ ایک سماجی پھٹاؤ کی صورت برآمد ہوسکتا ہے۔
کلیرنس روڈریگز ـ جو نامہ نگار کی حیثیت سے طویل عرصے تک سعودی عرب میں قیام پذیر تھیں ـ لکھتی ہیں: بن سلمان اپنے اسلاف کے برخلاف افقی انداز سے حکومت نہیں کرنا چاہتا ـ جہاں دوسرے ادارے اور افراد بھی صاحب رائے ہوں ـ بلکہ وہ تو عمودی انداز سے مکمل طور پر آمرانہ اور مستبدانہ حکومت کرنے کا قائل ہے کیونکہ وہ ایک حقیقی مستبد اور مطلق العنان [بےلگام] شخص ہے۔
روڈریگز اپنے مضمون کے آخر میں سوال اٹھاتی ہیں: کیا بن سلمان کامیاب بھی ہوسکتا ہے؟ اور جواب یہ ہے کہ وہ تبدیلیاں لانے اور اصلاحات نافذ کرنے میں ناکامی کا منہ دیکھے گا جس کے نتیجے میں ایک بھونچال آئے گا جو کہ دنیا بھر میں آنے والے بھونچالوں اور زلزلوں کی طرح تباہ کن ہوگا۔
کچھ عرصہ قبل بھی "ڈیفنس ون" (4) نے سعودی سیاسی تبدیلیوں کے سلسلے میں، بیکر عمومی پالیسی انسٹٹیوٹ (5) کے رکن ڈاکٹر کریسٹین کوٹز اولرچسن (6) کا ایک مضمون شائع کیا۔
اولرچسن نے لکھا تھا کہ سعودی ولیعہد اصلاحات کا آغاز اور انسداد بدعنوانی کمیٹی قائم کرکے درحقیقت اقتدار کو اپنے ہاتھ میں مرکوز کرنا چاہتا ہے اور سعودی شہزادوں کو اقتدار کے ڈھانچے سے حذف کرنا چاہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا محمد بن سلمان حالیہ اصلاحات اور انسداد بدعنوانی کمیٹی کے توسط سے ملکی اقتدار کے ڈھانچے میں تبدیلی لانا چاہتا ہے یا اس کی اصلاحات محض سطحی سی ہیں اور اقتدار کا ڈھانچہ ویسا کا ویسا رہے گا؟
سلمان بن عبدالعزیز سعودی بادشاہت کے بانی عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کے سب سے چھوٹا بیٹا ہے جس نے جنوری 2015 میں بھائی عبداللہ بن عبدالعزیز کے چل بسنے کے بعد تخت بادشاہی پر قبضہ کرلیا۔ اس نے ابتداء ہی میں کچھ تبدیلیاں کرکے سب کو جتا دیا کہ اقتدار کو اپنے کنبے تک ہی محدود کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں کسی بھائی بھتیجے کی گنجائش نہیں ہوگی۔
سلمان نے ابتدائے امر میں نمائشی منظرنامے کے تحت بھائی مقرن کو ولیعہد اور بھتیجے محمد بن نائف کو ولیعہد کا جانشین مقرر کیا لیکن کچھ ہی دن بعد اپریل 2015 میں بھائی مقرن کو گھر بھجوایا اور محمد بن نائف کو نیا ولیعہد اور اپنے بیٹے محمد کو ولیعہد کا جانشین مقرر کیا۔
سلمان نے 21 جون 2017 کو عجیب ترین فعل کا ارتکاب کرتے ہوئے بھتیجے محمد بن نائف کو بھی فارغ کرکے نظربند کردیا اور بیٹے محمد کو سعودی ولیعہد کے طور پر مقرر کیا تا کہ باپ کے جانے کے بعد سعودی تخت و تاج کا وارث بن سکے۔
بن سلمان نے سب سے پہلے باپ کی حمایت سے تیل کے ذخائر کو ہتھیا لیا، معاشی ذرائع کو اپنے ہاتھ میں لیا، دفاعی اور عسکری شعبے پر بھی مسلط ہوگیا اور پھر اپنے من پسند افراد کی معاشی اور ترقیاتی کمیٹیاں قائم کیں اور یوں اپنی طاقت میں زبردست اضافہ کیا اور جب ہر لحاظ سے مطمئن ہوا تو انسداد بدعنوانی کے نام کے تحت ایک کمیٹی قائم کی اور ارب پتی شہزادوں کو قید کردیا اور ان سے بلیک میلنگ کے ذریعے بڑی بڑی رقوم وصول کرکے زیادہ تر کو چھوڑ دیا جبکہ اگر بدعنوانی کے خلاف اقدام کرنا مقصود ہوتا اور بدعنوانی ثابت ہوئی تھی تو بدعنوانوں کو سزا دینا بھی ضروری ہوتا۔ بہرصورت بدعنوانی کے خلاف نمائشی اقدامات کے ذریعے اس نے تقریبا تمام مشہور اور صاحب حیثیت اور امکانی دعویدار شہزادوں کو اقتدار کی دوڑ سے دور کردیا۔
۔۔۔۔
مترجم کی بات:
۔ مذہبی حلقوں کی طرف سے سخت رد عمل کی پیشنگوئیاں تو بہت ہورہی ہیں لیکن ٹماٹر، زعفران، جلیبی وغیرہ کی حرمت کے فتوے دینے والے درباری مفتی ابھی تک خاموش ہیں گویا ان کو اپنی جان کی پڑی ہوئی ہے اور شاید نئے حکمران کے ساتھ روپ بدلنا وہابی مفتیوں کا وطیرہ ہے اور شاید دنیا کے مسلمانوں کو اب شراب و کباب کی حمایت میں بھی درباری مفتیوں کے صادرہ فتاوی دیکھنا پڑے گا۔۔۔ بات یہ ہے کہ وہابی مفتیوں کی حیات کا ضامن سعودی خاندان ہے جس کے تمام تر غیر شرعی اقدامات کا الو سیدھا کرنا ان مفتیوں کا فریضہ منصبی رہا ہے۔۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ مذہبی حلقوں کی طرف سے نئے سعودی حکمران کو کسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے؟ کیا فکری لحاظ سے مفلوج سعودی معاشرہ مفتیوں کے فتؤوں کے باوجود آل سعود کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ کیا انہیں یاد نہیں ہے کہ وہابی مفتی سینکڑوں برسوں سے آل سعود کے جائز اور ناجائز کرتوتوں کی پیروی پر زور دیتے اور ان کے خلاف بغاوت کو حرام قرار دیتے آئے ہیں؟
۔ عجیب بات یہ ہے کہ بن سلمان کی نام نہاد اصلاحات میں کہیں عوام کو ووٹ کا حق دینے، جمہوریت کا قیام، جیلوں سے بےشمار بےگناہ قیدیوں کی رہائی ـ جنہیں مقدمہ چلائے بغیر بند کیا گیا ہے ـ پارلیمنٹ وغیرہ کا قیام ، انسانی حقوق، قوموں اور مذاہب کی آزادی ۔۔۔ مذہبی آزادی وغیرہ کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ بےشک جھوٹی اصلاحات کا یہ عمل بادشاہت کو آل سلمان تک محدود کرنے کا ایک ہتھکنڈہ ہے ورنہ خود محمد بن سلمان کی بدعنوانیوں کی داستانیں دوسرے شہزادوں سے زیادہ نہ ہوں تو کسی طور بھی کم نہیں ہیں۔
۔ عجیب تر یہ کہ بےدینی کی تمام باتیں سعودی شہزادے کی اصلاحات میں پائی جاتی ہیں لیکن دینداری کی کوئی بات نظر نہیں آتی!
۔۔۔۔۔۔
1۔ Tribune de Genève
2۔ L'Arabie saoudite de MBS est assise sur un baril
3۔ Clarence Rodriguez
4۔ Defense One - Atlantic Media
5۔ Baker's Public Policy Institute
6۔ Kristian Coates Ulrichsen
۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram