کیا دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ غریبوں کے جھکے سر کو اٹھا سکے گا؟

کیا دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ غریبوں کے جھکے سر کو اٹھا سکے گا؟

کیا یہی ہے وہ ہندوستان جسکا خواب سردار پٹیل نے دیکھا تھا کہ ایک طرف تو لاکھوں کروڑوں لوگ بھوکے مریں انکے پاس اپنے پیٹ کی آگ کو بجھانے کا ذریعہ نہ ہو تو دوسری طرف کچھ لوگ انکے ہی مجسمہ بنانے پر کروڑوں لوگوں کا پیٹ کاٹ کر اپنا پیٹ بھریں کہ ہم ہندوستان کی آہنی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں؟

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ” سردار پٹیل اگر زندہ ہوتے تو اس مجسمے کے بارے میں کیا سوچتے؟ زیادہ امکان یہ ہےکہ اسے پسند نہ کرتے، اس دور کے رہنما ‘مورتی، مجسمہ، میموریل’ کی سیاست سے اکثر دور ہی رہتے تھے۔ لیکن مجسمہ تو بن گیا ہے، اگر انھیں اوپر سے جاکر نظارہ دیکھنے پر مائل کر لیا جاتا تو انھیں کیا نظر آتا؟” جس نے بھی کہا دل کی آواز کی ترجمانی کی ہے، اگر سردار پٹیل اتنی اونچائی سے ہندوستان کو دیکھتے تو کیا کچھ نظر نہیں آتا، کہیں انہیں زمین کا سینہ چیر کر خون پسینے کی محنت سے لہلہاتی ہری فصلیں لگانے والے کسان پیڑوں سے جھول کر دم توڑتے نظر آتے کہ انکے پاس قرضوں کے بوجھ سے نکل پانے کا ایک ہی راستہ بچا تھا اور وہ تھا خودکشی ، تو کہیں انہیں بچہ مزدوری کے تحت وہ چھوٹے چھوٹے بچے نظر آتے جنکے ہاتھوں میں کتابیں اور قلم ہونا چاہیے تھا لیکن انکے پاس اپنے ماں باپ اور خود کی بھوک مٹانے کا ایک ہی ذریعہ بچا تھا اور وہ تھا بچہ مزدوری کا طوق گلے میں ڈال کر صاحبان ثروت کی جھڑکیاں کھانا، کہیں انہیں عصمت دری کی شکار مائیں، بہنیں اور بیٹیاں نظر آتیں، کہیں رشوت لیتے سرکاری افسران تو کہیں باہری ممالک میں سیر سپاٹے میں مشغول حکومتی اہلکار، کہیں گایوں کے تحفظ کی خاطر دندناتے شر پسند تو کہیں بے جرم لاٹھیوں سے مار مار کر ہلاک ہو جانے والے اقلیتی فرقے کے بے بس و مجبور لوگ، کہیں فٹ پاتھ پر دم توڑتی انسانیت، تو کہیں غنڈوں کے ہاتھوں گرفتار شرافت، اسکے علاوہ کیا نظر آتا اور یہ سب دیکھ کر سردار پٹیل کو کیا افسوس نہیں ہوتا ان سب سے بڑھ کر کیا انہیں افسوس نہیں ہوتا کہ انکے مجسمے کی خاطر حکومت نے انسانوں کو تو کیا درختوں کو بھی نہیں بخشا اور نہ ہی ماحولیات کے ماہرین کی باتوں کو سنا گیا کہ دنیا کا بلند ترین مجسمہ ماحول پر کس بری طرح اثر ڈالے گا ۔


گزشتہ ہفتے عالمی ادارۂ صحت نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ آلودگی کی وجہ سے سنہ ۲۰۱۶ میں ایک لاکھ سے زیادہ ہندوستانی بچوں کی موت ہوئی تھی [۱]جبکہ اس مجسمہ کی ساخت میں بھی ایسے مواد کا استعمال کیا گیا ہے جو ماحول کے لئے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور ماہرین کی بات پر اگر یقین کیا جائے تو ”اسے شول پنیشور نامی نہایت حساس سینچری کے دائرے میں تعمیر کیا گیا ہے، اوپر سے اس سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کا کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ اتنا ہی نہیں مجسمہ تک جانے کے لئے جو ۶ لین کا ہائی وے تعمیر کیا گیا ہے اس کے لئے تقریباً ۲ لاکھ درختوں کی بلی چڑھا دی گئی ہے۔نرمدا ضلع کی زمین پانچویں شیڈیول میں شامل ہے، آئین کے مطابق جو زمین پانچویں شیڈیول میں شامل ہے اس کے لئے گرام سبھا سے منظوری لینی لازمی ہوتی ہے، لیکن گجرات حکومت نے متعلقہ گاؤوں کی گرام سبھاؤں سے کوئی منظوری حاصل نہیں کی تھی “[۲] کیا یہی ہے وہ ہندوستان جسکا خواب سردار پٹیل نے دیکھا تھا کہ ایک طرف تو لاکھوں کروڑوں لوگ بھوکے مریں انکے پاس اپنے پیٹ کی آگ کو بجھانے کا ذریعہ نہ ہو تو دوسری طرف کچھ لوگ انکے ہی مجسمہ بنانے پر کروڑوں لوگوں کا پیٹ کاٹ کر اپنا پیٹ بھریں کہ ہم ہندوستان کی آہنی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں ، کیا خراج عقیدت کا اس سے بہتر راستہ نہیں ہو سکتا تھا کہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہندوستان میں دنیا کا سب سے اونچا مجسمہ بنایا جائے اور وہ بھی ساڑھے تین ہزار کروڑ روپے (۴۳ کروڑ امریکی ڈالر) کے قریب کی لاگت سے۔ سچ کہا ہے کسی نے کہ جتنا کچھ اس مجسمہ پر صرف ہوا، اسے اگر عوام کی بہبود کے لئے انکی ترقی و فلاح کے لئے خرچ کیا جاتا تو ” کتنی اعلیٰ درجے کی یونیورسٹیاں بنائی جا سکتی تھیں، کتنے کسانوں کے قرضے معاف کیے جا سکتے تھے، کتنے ہسپتال بنائے جا سکتے تھے۔۔۔ انڈیا جیسے غریب ملک میں یہ فہرست بہت لمبی ہے” جس ملک میں تخمینوں کے مطابق مالی دشواریوں میں گھر کر سال میں ۱۲ہزار سے زیادہ کسان خود کشی کرتے ہوں اسی میں ایک مجسمہ پر اندھا دھند پیسوں کا خرچ کرنا اپنے آپ میں سوال ہے جبکہ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ مجسمہ محض سرکاری فنڈ سے بنا ہو اورعوام کے اوپر اسکا بوجھ نہ پڑا ہو بلکہ دیکھا جائے تو اس مجسمہ کے لئے دئیے گئے عطیات کا بوجھ بھی سیدھا عوام پر ہی پڑا ہے ، چنانچہ پٹرول کی آسمان چھوتی قیمتوں کو بھی اس مجسمہ کی اونچائی سے ناپ کر دیکھا جا سکتا ہے چنانچہ ایک رپورٹ کے مطابق “۳۱ مارچ ۲۰۱۷ کو ختم ہونے والے مالی سال میں مجسمہ اور متعلقہ سائٹ کی تعمیر کے لئے پانچ مرکزی پبلک سیکٹر کی کمپنیوں نے ۱۴۶٫۸۳ کروڑ روپے کی رقم سی ایس آر کے تحت فراہم کی ہے۔ ان میں سے تیل اور قدرتی گیس کارپوریشن نے ۵۰ کروڑ روپئے، ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ نے ۲۵ کروڑ روپے، بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ نے ۲۵ کروڑ روپے، انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ نے ۲۱٫۸۳ کروڑ روپے، اور آئل انڈیا لمیٹڈ نے ۲۵ کروڑ روپے کی رقم دی ہے[۳]” لیکن مجسمہ کی شان کے آگے کسی نے لوگوں کی جاتی جان کو نہیں دیکھا جبکہ خبروں کے مطابق جہاں یہ مجسمہ تعمیر کیا گیا ہے، وہاں کے بہت سے مقامی لوگ بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن بے روح مجسمہ کے آگے زندہ روح کے حامل لوگوں کی فریادوں کو بھی نہیں سنا گیا جبکہ موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ پیر کے روز یعنی ۲۹ اکتوبر کوسردار سروور ڈیم کے نزدیک واقع ۲۲ گاؤں کے پردھانوں نے وزیر اعظم کے نام خط لکھ کر کہا تھا کہ وہ مجسمہ کی افتتاحی تقریب کے دوران ان کا استقبال نہیں کریں گے۔


ادھر آدیواسی رہنماؤں نے بھی تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا، کیونکہ ان لوگوں کا الزام تھا کہ مجسمہ کی تعمیر سے قدرتی وسائل کو نقصان پہنچے گا۔قبل ازیں آدیواسی کارکنان یہ اعلان کر چکے تھے کہ ڈیم کے نزدیک واقع ۷۲ گاؤں کے لوگ ۳۱ اکتوبر ۲۰۱۸ کو یوم غم منائیں گے اور احتجاجاً کھانا نہیں بنائیں گے۔ اس سے پیشتر یہ آدیواسی مجسمہ کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے خون سے بھی خط لکھ چکے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف سردار سروور ڈیم کی ۳ کلومیٹر اراضی پر تعمیر کئے گئے اس مجسمہ کی وجہ سے تقریباً ۳۵۰۰۰ خاندان متاثر ہوئے ہیں اور تاحال باز آبادکاری کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ سب تو اپنی جگہ ہے لیکن اس مجسمہ کے بن جانے کے بعد یہاں کے غریب عوام کی غربت کا اندازہ یوں بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اسکا نام بھی مجسمہ اتحاد رکھنے کے بجائے ’اسٹیچو آف یونٹی‘ رکھا گیا ہے ،جس مجسمہ کو ہندوستان کے اقتدار کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کتنا افسوسناک ہے کہ اسکا نام تک اپنی زبان میں نہ رکھ کر ان لوگوں کی مادری زبان میں رکھا گیا ہے جنہوں نے سالہا سال ہندوستان کو غلام بنائے رکھا چنانچہ اس بات کی طرف ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اترا پردیش کی سابقہ وزیر اعلی نے یوں اشارہ کیا ’’سردار پٹیل، اپنی بول چال، رہن سہن اور کھانے پینے کی عادتوں میں مکمل ہندوستانیت اور ہندوستانی ثقافت کی ایک مثال تھے، لیکن ان کے عظیم مجسمے کا نام ہندی اور ہندوستانی ثقافت کے نزدیک ہونے کے بجائے ’اسٹیچو آف یونٹی‘ جیسا انگریزی نام رکھنا کتنی سیاست پر مبنی ہے اور بی جے پی کی ان میں کتنی عقیدت ہے، یہ ملک کے عوام اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔ بی ایس پی لیڈر نے کہا کہ سردار پٹیل خالص طور پر ہندوستانی ثقافت اور تہذیب کے پروردہ تھے لیکن ان کی مورتی پر غیر ملکی تعمیرات کی چھاپ ان کے حامیوں کو ہمیشہ دکھ دے گی۔ انهوں نے کہا کہ سردار پٹیل اور بابا صاحب قومی شخصیت کے مالک تھے لیکن بی جے پی اور مرکز حکومت نے انہیں علاقائیت کے دائرے میں قید کردیا ، “[۴]ممکن ہے یہ بات انہوں نے سیاسی چپقلش کا شکار ہو کر کہی ہو لیکن اتنا تو ہر ہندوستانی کو پوچھنے کا حق ہے کہ مانا کہ مجسمہ بہت ضروری تھا اور آپ نے ہر تنقید کا گلا گھونٹ کر یہ ضروری قدم اٹھا لیا تو کیا اسکا انگریزی نام بھی اتنا ہی ضروری تھا جتنا مجسمہ ؟ یہ ہندوستان میں غربت کے پاتال میں ڈھلتے غریب عوام کی غربت ہی تو ہے کہ انہیں دو وقت کی روٹی تو شومی قسمت سے ملتی نہیں ، اب انکے ملک کے اقتدار کی علامت سے انکی زبان بھی چھین لی گئی کل ملا کر ہندوستان کے غریب عوام کا سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر انہیں اس مجسمہ سے کیا ملا جسے ’اسٹیچو آف یونٹی، کہا جاتا ہے مانا کہ دنیا کا سب سے اونچا مجسمہ انکے ملک میں ہے یہ فخر کا مقام ہے لیکن کیا یہ بھی فخر کا مقام ہے ہے کہ اس افتخار قوم کو اسکی اپنی زبان میں ایک عنوان یا ٹائٹل بھی نہیں دیا جا سکا اس سے بڑھ کر غربت اور کیا ہوگی ؟…

حواشی :

[۱] ۔ https://www.bbc.com/urdu/science/2014/03/140325_air_pollution_danger_zs

مزید اطلاعات کے لئے :

thewireurdu.com/…/who-report-toxic-air-killed-1-lakh-children-india-2016-air-polluti…

[۲] ۔ https://www.qaumiawaz.com/news/sardar-patels-relatives-raises-finger-on-narendra-modi-on-statue-of-unity

[۳] ۔https://www.qaumiawaz.com/national/this-is-not-suitable-to-give-fund-for-statue-of-sardar-patel-by-govt-copanies

[۴] ۔ http://sachkiawaz.com/%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%88%D8%AA%DB%8C-%D9%86%DB%92-%D8%B3%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%D9%BE%D9%B9%DB%8C%D9%84-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%AC%D8%B3%D9%85%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%86/

منبع؛ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram