چین بھی امریکہ ـ سعودیہ ـ ترکی کے نشانے پر؛

سنکیانگ میں شرانگیزی کے لئے سرزمین شام پر مسلح دہشت گردوں کی تیاریاں!!

 سنکیانگ میں شرانگیزی کے لئے سرزمین شام پر مسلح دہشت گردوں کی تیاریاں!!

چین میں مسلمانوں کی سرکوبی کے اسباب اہم نکات میں شمار ہوتے ہیں۔ چین کے جنوب اور مغرب میں مسلمانوں کا مسکن ہے؛ شمال اور جنوب میں مسلمان چین سے زندگی بسر کررہے ہیں مغرب میں واقع سنکیانگ صوبے میں حالات مختلف ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اگر اسلامی جمہوریہ ایران فلسطین، عراق، شام، بحرین اور بالخصوص یمن میں مسلمانوں کی صورت حال پر تنقید کرے تو امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جڑواں سعودی ـ یہودی ریاستوں اور کئی دیگر ریاستوں اور حکومتوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا عالمی سطح پر فطری امر سمجھا جاتا ہے لیکن سنکیانگ کے حوالے سے حال میں امریکی وزیر خارجہ کے بیان نے مبصرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ‎ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو ( Mike Pompeo ) نے ایک ٹوئیٹ کے ذریعے چین کے صوبہ سنکیانگ کے مسلمانوں کی بدحالی پر اسلامی جمہوریہ ایران کی خاموشی کو مورد تنقید ٹہرایا ہے اور دعوی کیا ہے: "چین کے لاکھوں مسلمانوں کو جیلوں میں بند کیا گیا ہے اور لاکھوں افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے! اب یہ الگ بات ہے کہ روہنیگیا مسلمانوں کے قتل عام پر امریکہ کی مجرمانہ خاموشی، بنی صہیون کے ہاتھوں فلسطینی مسلمانوں کے سترسالہ حبس بےجا اور امریکہ کے ماتحت بنی سعود کے ہاتھوں یمن کے کروڑوں انسانوں کی انسانیت کا مذاق اڑایا جانے میں واشنگٹن کے براہ راست ملوث ہونے کو کس کھاتے میں ڈالا جائے گا!!! لیکن اس سے اہم موضوع چین میں مسلمانوں کی وسیع گرفتاریوں کا موضوع ہے۔
چین میں مسلمانوں کی سرکوبی کے اسباب اہم نکات میں شمار ہوتے ہیں۔ شمال، جنوب اور مغربی چین میں مسلمانوں کا مسکن ہے۔ شمال اور جنوب میں مسلمان چین کی زندگی بسر کررہے ہیں لیکن مغرب اور صوبہ سنکیانگ کی صورت حال مختلف ہے۔ سنکیانگ میں ترک نژاد اویگور ( Uyghurs ) مسلم اقلیت آباد ہے۔ یہاں امن وامان کا مسئلہ ہر وقت درپیش رہتا ہے۔
آج سے کئی دہائیاں پہلے یہاں کی اقلیت کے اندر سے کچھ علیحدگی پسند تحریکیں بھی اٹھیں جنہیں "[عیسائی] امریکہ، [سیکولر] ترکی اور [تشدد پسند وہابی بنی سعود کی حکومت] سعودی عرب" حمایت حاصل تھی!۔ ان تحریکوں نے دو دہائیاں قبل باضابطہ طور پر مرکزی حکومت کے خلاف مسلحانہ جدوجہد کا آغاز کیا جس کے بہانے، چینی حکومت نے بدامنی کے ہر موضوع کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کیا اور علیحدگی پسندی کا سد باب کرنے کے لئے یہاں کے مسلمانوں کو شدت سے کچل دیا۔ سرکوبی کے اس اقدام میں بےشک کئی بےگناہ اویگور مسلمانوں کو بھی نقصان پہنچا ہوگا۔
عجب یہ کہ علیحدگی پسندی کی ان تحریکوں میں شامل اویگور باشندے ـ جو چین میں اپنا مقصد حاصل نہیں کرسکے تھے ـ اپنے حامیوں "امریکہ، ترکی اور سعودی عرب" کی مدد سے سنہ 2011ع‍ میں شام میں ان ہی کی تیار کردہ کھچڑی کھانے کے لئے مدعو ہوئے جو اب دوسرے دہشت گردوں کے ہمراہ شام کے صوبہ ادلب میں اکٹھے ہوچکے ہیں اور جس طرح کہ ترکی، یورپ اور امریکہ فکرمند ہیں کہ اگر شامی سرکار انہيں نکال باہر کرنے کے لئے کاروائی کرے تو یہ یہ دہشت گرد ترکی، یورپ اور امریکہ میں اپنے گھروں کو پلٹ کر ان ممالک کی سلامتی کو چیلنج کریں گے، چین کو اپنے ملک سے آئے ہوئے دہشت گردوں کے واپس گھر جانے کی وجہ سے تشویش ہے۔ گوکہ اگر ترکی اور مغرب نے ادلب میں شامی افواج کی کاروائی روکنے کے پر اپنی کوششیں مرکوز کر کررکھی ہیں تو چین نے ادلب کی کاروائی میں اپنے فوجی دستوں کی شرکت کا اعلان کیا ہے۔
چین نے پاکستان اور افغانستان میں مختلف قسم کے تربیتی مراحل سے گذرنے والے اویگور علیحدگی پسندوں کو بظاہر شکست دے چکا ہے لیکن اب شام میں کئی سال لڑکر جنگی تجربہ حاصل کرنے والے دہشت گردوں کی واپسی سے خاصا فکرمند ہے اور اس خاص مرحلے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ریاکاری کی انتہا کرتے ہوئے میانمار، یمن، فلسطین، عراق، شام اور بحرین کے مسلمانوں کے قتل عام پر اپنی مجرمانہ خاموشی یا پھر ان کی سرکوبی میں استبدادی قوتوں کا ساتھ دینے کے بعد، ایران سے مطالبہ کررہا ہے کہ چین میں مسلمانوں کی صورت حال پر اپنی خاموشی توڑ دے۔
اس فائل میں اویگور مسلمانوں کے مسئلے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔  
چینی مسلمانوں کا تعارف
چین کے مسلمان 56 قومی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ان 56 گروہوں میں سے 10 گروہ بنیادی طور پر مسلمان ہیں۔ چین کے سرکار اعداد و شمار کے مطابق اس ملک میں مسلمانوں کی آبادی دو کروڑ ستر لاکھ ہے جن میں صرف 10 ہزار مسلمان شیعہ ہیں۔ تاہم غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کے مسلمانوں کی تعداد سات سے 10 کروڑ کے درمیان ہے۔
چین کے دس مسلم گروہوں میں "ہوئی" مسلمان ( ہوئیژوو ( Huizhou ) کا مخفف ہے) اس ملک کے مسلمانوں کی پچاس فیصد آبادی کو تشکیل دیتے ہیں۔ ہوئی مسلمانوں کے آباء و اجداد عرب، ایرانی اور وسطی ایشیائی مسلمان ہیں جنہوں نے چین ہجرت کی ہے۔ مسلمانوں کا دوسرا بڑا گروہ اویگور مسلمان ہیں جو ہوئی گروہ کے بعد مسلمانوں کی چالیس فیصد آبادی کو تشکیل دیتے ہیں۔
کتاب "چینی مسلمان" ـ جو 1953ع‍ میں چین کی مسلم یونین نے شائع کی تھی ـ کے مطابق، اویگور اور 9 دیگر مسلم اقوام ـ جو سب درحقیقت غیر چینی ہیں منچور، منگول، سنکیانگ اور قبل از اسلام کے ایرانی اور وسطی ایشیائی اقوام سے تعلق رکھتی ہیں۔ اویگور مسلمان جو ترک نسل سے ہیں، مشرقی چین کے صوبہ سنکیانگ ـ اور وسطی ایشیا اور افغانستان کے پڑوس ـ میں سکونت پذیر ہیں۔ جبکہ دوسرے مسلمان چین کے جنوب اور شمال میں بغیر کسی مشکل کے زندگی بسر کررہے ہیں۔ صوبہ سکنیانگ سیاسی اسباب کی بنا پر مشتعل نظر آتا ہے اور ذرائع ابلاغ میں جب کہا جاتا ہے کہ چینی حکومت مسلمانوں کے خلاف اقدامات کررہی ہے تو مراد یہیں کے مسلمان ہیں۔ حالیہ عشروں میں یہ صوبہ سعودی وہابیت اور ترکی کے پان ترک ( Pan-Turk ) جماعتوں کی حمایت یافتہ جماعتوں کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ یا یوں کہئے کہ اگر چین اويگور مسلمانوں کو ـ دوسرے چینی مسلمانوں کی بہ نسبت ـ مختلف نگاہ سے دیکھتا ہے تو اس کا سبب حقیقتا سعودی اور ترکی نیز امریکی مداخلت میں مضمر ہے۔ مرکزی حکومت کی نگاہ میں واضح فرق "ہوئی" مسلمانوں اور "اویگور" مسلمانوں کے حوالے سے نظر آتی ہے جس کے تحت ہوئی مسلمانوں کو "اچھے مسلمانوں" اور اویگور مسلمانوں کو "برے مسلمانوں" کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے۔ یہ بہر حال چین کے قلمرو میں رہنے والے مسلمانوں کے درمیان چینی حکومت کی رائے ہے۔
اویگور مسلمان اور علیحدگی پسندی کا آغاز
اویگور مسلمانوں کے ساتھ چینی حکومت کا تصادم ایک صدی پرانا ہے لیکن جب یہاں دو علیحدگی پسند جماعتیں قائم ہوئیں: سنکیانگ میں "عالمی اویگور کانگریس" ( World Uyghur Congress ) اور "مشرقی ترکستان اسلامی تحریک" ( East Turkestan Islamic Movement [ETIM] ) جن کا مرکز اُرومچی (ئۈرۈمچی Ürümqi یا Ürümchi ) ہے؛ جس کے نتیجے میں سرکاری نگرانی میں شدت آئی۔ " مشرقی ترکستان تحریک" مشرقی ترکستان (سنکیانگ) کی اہم ترین علیحدگی پسند تحریک ہے۔ سنہ 1990ع‍ کے دہائی کے آخر میں سوویت یونین کی شکست و ریخت کے آثار نمودار ہوئے تو بیجنگ نے "کھلے دروازوں" کی پالیسی اپنائی جس کے باعث ان جماعتوں کو تقویت پہنچی۔ سنہ 1992ع‍ میں " مشرقی ترکستان تحریک" نے ترکی اور چند دوسرے اسلامی ممالک کی مالی مدد سے استنبول میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس میں کا اہم ترین فیصلہ "مشرقی ترکستانی حکومت" کے قیام پر تاکید سے عبارت تھا۔
سنہ 1996ع‍ تک مشرقی ترکستان تحریک کی مختلف شاخوں نے اپنی نشستوں اور کانفرنسوں میں اس تحریک کے دینی اور اسلامی پہلو کو نظر انداز کیا جاتا تھا اور ان کانفرنسوں اور نشستوں کے شرکاء نے اس ترکستان کے مسئلے کو عالمگیر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے "انسانی حقوق"، "بیان اور مذہب کی آزادی" جیسے موضوعات کو نمایاں کیا تا کہ یوں اس تحریک کو عالمی پہلو دیا جائے اور بیجنگ پر بین الاقوامی دباؤ بڑھایا جائے۔ علیحدگی پسند مشرقی ترکستان تحریک نے سنہ 1999ع‍ میں استنبول میں منعقدہ کانفرنس میں اعلان کیا کہ "اس کے بعد، مشرقی ترکستان تحریک مشرقی ترکستان میں حکومت کے قیام کی غرض سے مسلحانہ جدوجہد کا آغاز کرے گی"۔
اس مقصد کے حصول کے لئے اس علیحدگی پسند تحریک نے اپنے بےشمار اراکین کو مغربی ایشیا کے عرب ممالک، وسطی ایشیا کی ریاستوں، چیچنیا، افغانستان اور کشمیر میں عسکری تربیت کے حصول کے لئے روانہ کیا اور وسطی ایشیا، عرب ممالک اور افغانستان میں 20 تربیتی کیمپ قائم کئے گئے جن میں اس جماعت کے نمایاں راہنماؤں اور کمانڈروں کی تربیت کا انتظام کیا گیا اور سعودی عرب میں مقیم اویگور تاجروں، نے بڑی مقدار میں اسلحہ اور فوجی سازو سامان سعودی حکومت اور خلیج فارس کی ریاستوں سے خرید کر تحریک کے مسلح دھڑوں کے حوالے کیا۔
اس میں البتہ شک نہیں ہے کہ اویگور مسلمانوں کی اکثریت ـ جنہیں موجودہ تحریکوں کی ناکامی کا یقین ہے ـ اس قسم کی تحریکوں سے بیزار ہیں اور چین کے اندر رہ کر اس ملک کی ترقی میں کردار ادا کررہی ہے۔
 
اویگور مسلح افراد کی داعش کے ہاتھوں فروخت کا سلسلہ جاری
مورخہ 12 جولائی سنہ 2015ع‍ کو ایک اعلی چینی اہلکار نے اعلان کیا تھا کہ مغربی چین کے صوبہ سنکیانگ کے بعض اویگور باشندے جنوب مشرقی ایشیا میں مقیم ترک سفارتکاروں سے ترکی کے شناختی کارڈ وصول کرتے ہیں اور پھر انہیں ترکی بھیجا جاتا ہے تا کہ داعش جیسے دہشت گرد ٹولوں کے ہاتھوں فروخت کئے جائیں۔
العالم نے مڈل ایسٹ آنلائن کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ چین کی وزارت برائے امن عامہ کے محکمہ تحقيقاتِ فوجداری کے سربراہ تانگ بیشان ( Tong Bishan ) نے 12 جولائی 2015ع‍ کو، بیجنگ میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا: "اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اویگور مسلمان چینی باشندے ہیں، لیکن ترکی کے سفارتخانے انہیں ترکی شناختی کارڈ دے رہے ہیں"۔
ترک سفارتکاروں کے توسط سے اسمگل ہوکر ترکی پہنچائے جانے والے اویگور باشندے علیحدگی پسند دہشت گرد ٹولے "مشرقی ترکستان اسلامی تحریک" سے جا ملتے ہیں۔ "مشرقی ترکستان اسلامی تحریک" جو 120 سال قبل مشرقی ترکستان کے اویگور باشندوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے تشکیل دی گئی تھی، مغربی جاسوسی اداروں، نیز ترکی کے قومی جاسوسی ادارے ( Millî İstihbarat Teşkilatı ) یا " MIT " اور سعودی جاسوسی ادارے (رئاسة الاستخبارات العامة ‎ General Intelligence Presidency ) یا " GIP " نے لاکھوں اویگور باشندوں کو اپنی چھاؤنیوں اور فوجی کیمپوں میں فوجی تربیت دی ہے اور ـ تین سال قبل ـ کم از کم جدید ترین ہتھیاروں اور توپخانے، ٹینکوں، بکتربند گاڑیوں اور جدید ترین فوجی سازوسامان سے لیس ایک ہزار اویگور باشندوں کا ایک بریگیڈ تشکیل دے کر شام میں بھیجوا دیا ہے اور یہ چینی باشندے القاعدہ کے پرچم تلے شام کی قانونی حکومت اور شامی عوام کے خلاف دہشت گردانہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ ترک حکومت اور اس کے جاسوسی ادارے " MIT " چین کے اویگور باشندوں کی وسیع حمایت کی ہے اور چین کی اس اقلیت کو ہزاروں افراد کو ترکی منتقل کرکے ترکی شہریت دی ہے۔
شام میں داعش کے ہاتھ پر بیعت
مشرقی ترکستان اسلامی تحریک مشرقی ترکستان کی علیحدگی پسند جماعتوں میں شامل ہے۔ اس جماعت نے جب اپنی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کیا تو دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے اس کی حمایت کا اعلان کیا۔ القاعدہ اس زمانے میں اسامہ بن لادن کی سرکردگی میں افغانستان میں سرگرم عمل تھی۔ اس جماعت کے سربراہ نے حتی بن لادن سے خصوصی ملاقات بھی کی تھی جس کے بعد اس جماعت کے کارکنوں نے افغانستان اور پاکستان کی سرحدی پہاڑیوں میں عسکری تربیت حاصل کی۔ چینی ذرائع کے مطابق اس جماعت نے 1990ع‍ کی دہائی میں چین کے اندر 250 کاروائیاں کی ہیں جن کے نتیجے میں مجموع طور پر 600 افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ سنہ 2011ع‍ میں شام کا بحران شروع ہوا تو یہ جماعت بھی دوسری دہشت گرد جماعتوں کی طرح اپنے دہشت گرد شام بھجوانے کے درپے تھی۔ یہ لوگ ابتداء میں انفرادی طور پر ترکی کے راستے شام میں داخل ہوجایا کرتے تھے لیکن ان کی تعداد بڑھ گئی اور ان کے متعدد افراد اکٹھے ہوگئے تو خود ایک سرگرم دہشت گرد ٹولے کے طور پر فعال ہوئے۔
مورخہ 3 جولائی 2014ع‍ کی خبروں کے مطابق، بیجنگ میں شامی سفیر "عماد مصطفی" نے کہا تھا کہ "ہماری معلومات کے مطابق 30 اویگور نوجوان چین سے پاکستان جاکر فوجی تربیت حاصل کررہے ہیں یہ افراد وہاں سے ترکی جائیں گے۔ یہ نوجوان شام کی جنگ میں شرکت کے لئے پاکستان میں فوجی مہارت حاصل کررہے ہیں"۔
تکفیری اویگور دہشت گرد ابتداء میں "جبہۃ النصرہ" کی تکفیری دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوئے تھے جو باضابطہ طور پر القاعدہ کی ذیلی جماعت سمجھی جاتی ہے؛ گوکہ ان میں سے کچھ دہشت گرد تکفیری ٹولے "احرار الشام" میں شامل ہوئے تھے اور اس وقت ان کی بڑی تعداد داعش میں شامل ہوکر دہشت گردانہ کاروائیوں میں مصروف ہیں۔
شام میں 5000 اویگور دہشت گردوں کی موجودگی
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس وقت شام میں مشرقی ترکستان کی تکفیری تحریک کے 5000 اویگور باشندے موجود ہیں۔ یہ اعداد و شمار چین میں شامی سفیر "عماد مصطفی" کے پیش کردہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "سنکیانگ کے تقریبا 5000 اویگور دہشت گرد شام میں لڑ رہے ہیں اور بیجنگ کو اس سلسلے میں فکرمند ہونا چاہئے"۔
ماہ مئی 2017ع‍ میں عماد مصطفی نے رائٹرز خبررساں ادارے کے نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ: "گوکہ اویگور باشندے داعش کے جھنڈے تلے لڑ رہے ہیں، لیکن ان کی اکثریت اپنے مخصوص پرچم تلے اپنی علیحدگی پسندی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے جنگ میں شریک ہیں"۔
اویگور دہشت گرد شام کے کس علاقے میں ہیں؟
شامی ذرائع کی جنوری 2016 کی رپورٹ کے مطابق، تحریک مشرقی ترکستان کے تکفیری ٹولے کے شامی بحران کے آغاز سے ترکی کے جاسوسی ادارے MIT کی نگرانی میں فوجی تربیت پاکر اور اسلحہ وصول کرکے، القاعدہ کے سرغنوں کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد شام کے شمالی صوبوں "حلب"، اور "ادلب" میں داخل ہوئے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، چینی علیحدہ پسند دہشت گردوں کی اہم ترین کاروائیوں میں ادلب پر قبضہ، شیعہ قصبوں "فوعہ و کفریا" نیز حلب کے دو شیعہ شہروں "نبل اور الزہراء" کا محاصرہ اور ادلب کے مغرب میں ابو الظہور (یا ابو الضہور) ہوائی اڈے پر قبضہ شامل ہے۔
اسی رپورٹ کی رو سے، بعض عسکری اندازوں کے مطابق، ترک جاسوسی ادارے MIT نے 1500 چینی دہشت گردوں کو خصوصی تربیتی کورسز کے بعد ادلب اور حلب کے مختلف علاقوں میں تعینات کیا ہے۔ ان دہشتگردوں نے حتی کہ مشرقی ترکستان کی دہشت گرد تحریک کی "اطفال کی یونٹ" بھی شام کی سرزمین پر تشکیل دی ہے۔ اس خصوصی دہشت گرد یونٹ میں اویگور بچوں کو عسکری اور "اعتقادی" تربیت دی جاتی ہے۔
امریکی پالیسیوں میں تضادات اور اویگور باشندے
اس میں کوئی حرف نہیں ہے کہ عالم اسلام میں تمام تر دہشت گرد تنظیموں کو امریکہ نے بنایا، سنوارا، تربیت دے کر، مسلح کرکے مسلمانوں کے خلاف میدان جنگ میں اتارا ہے جس کے لئے سابق امریکی وزیر خارجہ اور سابق امریکی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کے اعترافات کافی ہیں؛ اور پھر سنہ 1980ع‍ کی دہائی کے آخری برسوں میں تیان آن مین چوک ( Tiananmen Square ) پر کئی مہینوں تک جاری مظاہروں میں امریکی کردار سے چین کے سلسلے میں امریکی بدنیتیوں کا ثبوت فراہم ہوتا ہے جبکہ ترکی اور بنی سعود کی امریکہ سے وابستگی کے باوجود ان ممالک میں اویگور دہشت گردوں کی تربیت امریکی ایجنسیوں کی نظروں سے ہرگز اوجھل نہ رہی ہوگی۔
جس سال کہ علیحدگی پسند تنظیموں نے چین کی مرکزی حکومت کے خلاف مسلحانہ جدوجہد کا اعلان کیا تو امریکہ نے اس اعلان پر کوئی منفی رد عمل ظاہر کئے بغیر، مشرقی ترکستان کے عوام کے انسانی حقوق ـ اور چین کے ہاتھوں ان حقوق کی پامالی ـ کے سلسلے میں اپنی ایک رپورٹ جاری کی۔ اسی زمانے سے مشرقی ترکستان کا مسئلہ امریکہ اور مغربی ممالک کے ہاتھوں میں حکومت چین پر دباؤ کے ایک مؤثر حربے کے طور پر بروئے کار لایا جاتا رہا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
مغربی ممالک نے اس دباؤ کو وسیعت دینے کے لئے کئی ریڈیو اور ٹی وی چینلز کی بنیاد رکھی؛ اسی زمانے سے متعدد اخبارات و جرائد کی اشاعت کا آغاز کیا اور چھپائی اور اشاعت کے مراکز کا افتتاح کیا اور ان تمام اقدامات کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ اس علاقے کے عوام کو مشتعل رکھا جائے، انہیں ترکستان کی آزادی اور خودمختاری کی ترغیب دلائی جاتی رہے، اور یوں مشرقی ترکستان چین سے الگ ہوکر ایک خودمختار ملک کے طور پر معرض وجود میں آسکے۔ لیکن 11 ستمبر 2001ع‍ کے واقعے کے بعد مشرقی ترکستان اسلامی تحریک کو بھی بہ امر مجبوری امریکہ کی اعلان کردہ دہشت گرد تنظيموں کی فہرست میں جگہ دینا پڑی کیونکہ اس کو بھی القاعدہ نیز افغان طالبان کی ہمہ جہت حمایت حاصل تھی اور 11 ستمبر کے حملوں کا الزام بھی القاعدہ ہی پر تھا؛ لیکن یہ دہشت گرد تنظیم جب شام میں آئی اور امریکہ، بنی سعود، قطر، ترکی اور یہودی ریاست کی فراہم کردہ بساط پر کھیلنے لگی تو امریکہ نے اس دہشت گرد تنظیم کی پس پردہ حمایت کا دوبارہ آغاز کیا۔
اب جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں آبسے ہیں تو چین سمیت دنیا کے مختلف ممالک پر امریکہ کی جارحانہ پالیسیوں کے ضمن میں، چین پر بھی امریکی دباؤ میں زبردست اضافہ ہوا اور اسی پالیسی کے تحت مشرقی ترکستان کی علیحدگی پسند تحریک کی از سر نو حمایت بھی شامل ہے اور اب امریکی وزیر خارجہ ریاکاری کی انتہا کرتے ہوئے ایران کو اپنی صف میں کھڑا کرنے کی دعوت دے رہے ہیں اور اویگور قوم کے دین و عقیدے کے نام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی پالیسیوں کے اندر موجودہ تضادات پر پردہ ڈال رہے ہیں اور اپنے تضادات کو ایران سے منسوب کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ورنہ تو روہنگیا اور یمن کا قصہ تو نمایاں تر ہے جہاں یا تو امریکہ بدھ مت کی دہشت گردانہ حکمرانی کے آگے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں یا پھر حملہ آور جارح بنی سعود کو ہتھیار فراہم کرکے اور جنگ میں براہ راست شریک ہوکر یمن میں انسانیت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram