سی آئی اے سابق اہلکار:

ایران لیبیا ہے نہ عراق / ایران کا تاریخی تشخص بیرونی جبر کو تسلیم نہیں کرتا

ایران لیبیا ہے نہ عراق / ایران کا تاریخی تشخص بیرونی جبر کو تسلیم نہیں کرتا

سی آئی اے کے سابق اہلکار نے ایران کے سلسلے میں موجودہ امریکی حکومت کی پالیسیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنی ایک یادداشت میں لکھا: ایران لیبیا یا عراق نہیں ہے اور اس ملک کے عوام کا تاریخی تشخص بیرونی جبر کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، سابق ماہر انسداد دہشت گردی اور ملٹری انٹیلجنس کے سابق افسر فلپ جرالڈی (Philip Giraldi) نے منگل ۱۰ جولائی ۲۰۱۸ کو اپنی ایک یادداشت میں “امریکہ میں ایران کو سزا دینے کے لئے جدید قدامت پسندوں (Neoconservatives) کے منصوبے” پر اظہار خیال کیا ہے۔

جرالڈی ایران کے سلسلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: واضح ہے کہ وہ ایرانی عوام پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں کہ وہ اٹھ کر اپنے ملک کے نظام حکومت کو تبدیل کردیں۔

جرالڈی نے گذشتہ ہفتے منافقین (ایم کے او) کے اجلاس میں ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی (Rudy Giuliani) کے خطاب کو وائٹ ہاؤس کی طرف سے ایران کے نظام حکومت کے خاتمے کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا جس میں انھوں نے ایران کے حکومت کا تختہ الٹنے پر زور دیا تھا۔

انھوں نے لکھا ہے: حکومت کی فوری منتقلی کا خواب، ایک خیالی منصوبہ ہے جس کا واشنگٹن کے اسرائیل نواز جدید قدامپ پسند حلقوں میں شدت سے خیر مقدم کیا جاتا ہے۔

انھوں نے ٹرمپ اور ان کے مشیروں کی پالیسیوں کو غلط حکمت عملی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے ایرانی حکومت کو زبردست تقویت مل رہی ہے۔

ان کے بقول، عجیب نکتہ یہ ہے کہ وائٹ ہاؤس بظاہر اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہے کہ ایران نہ تو عراق ہے اور نہ ہی لیبیا، یہ ملک ایک طاقتور قومی اور تاریخی تشخص کا مالک ہے اور وہ اس تشخص کی بنیاد پر بیرونی طاقتوں کے جبر بالخصوص “آزاد دنیا کے راہنما، ریاست ہائے متحدہ امریکہ” کی جبری پالیسیوں کے مقابلے میں مزاحمت کرسکتا ہے۔

جرالڈی لکھتے ہیں: جدید قدامت پسند اور اسرائیل نواز ٹولے کے اراکین ـ جنہوں نے ٹرمپ کو اعلانیہ طور پر اپنے قابو میں رکھا ہوا ہے ـ سارے غلط بٹن دبا رہے ہیں؛ وہ ایران کی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے مختلف النوع پابندیاں نافذ کرنا چاہتے ہیں تا کہ اس ملک میں انتشار پھیل جائے اور عوام سڑکوں پر آئیں۔

جرالڈی نے اپنی یادداشت میں جدید قدامپ پسند جماعت سے وابستہ اور یہودی ریاست کے حامی ذرائع ابلاغ کے کردار کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ “نیشنل انٹرسٹ” سمیت ان تمام ذرائع ابلاغ نے ایران کے خلاف معاشی جنگ کے منصوبے اور ایرانی تیل پر پابندی کی حمایت کی ہے۔

سی آئی کے اس سابق اہلکار نے لکھا ہے: تحفظ جمہوریت فاؤنڈیشن (Foundation for Defense of Democracies) سمیت یہودی ریاست کے حامی اداروں نے “امام خمینی کے حکم کے نفاذ کے ادارے” ( “Execution of Imam Khomeini’s Order” (EIKO)) کے خلاف جنگ کا آغاز کردیا ہے، جبکہ کاؤنٹر پنچ کے نامہ نگار رابرٹ فونٹنیا (Robert Fontina) ایک خیراتی ادارے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ خیراتی ادارہ دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے، خواتین کی تقویت، گھروں اور اسکولوں کی تعمیر اور صحت و حفظان صحت کے حوالے سے خدمات پیش کرنے میں کردار ادا کررہا ہے۔ اس ادارے اور اس جیسے اداروں پر پابندیاں غذائی بدامنی اور محتاج طبقات کی ادویاتی ضروریات محدود کرنے کا باعث ہوگی اور اس کے منفی اثرات ایران کے عام لوگوں کی زندگی پر مرتب ہونگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram