شام پر حملے سے امریکہ کی دوسری پسپائی؛

ٹرمپ نے بھی اپنے پیشرو اوباما کی طرح شام پر اعلان کردہ جنگ سے پسپائی اختیار کرلی

ٹرمپ نے بھی اپنے پیشرو اوباما کی طرح شام پر اعلان کردہ جنگ سے پسپائی اختیار کرلی

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انھوں نے شام پر حملے کا وقت معین نہیں کیا ہے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ “ہم نے داعش کو شکست دی ہے اور لوگوں کو ہمارا شکریہ ادا کرنا چاہئے”۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ابتداء میں تو سارے امریکی جذباتی ہوکر شام پر جنگ تھونپنے پر متفق تھے لیکن جب سی این این نے کہا کہ شواہد کافی نہیں ہیں اور پھر [2013 میں صدر اوباما کی اعلان جنگ کے بعد کے مرحلے کی طرح] ایک سینیٹر نے کہا کہ صدر کو جنگ شروع کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے اور اس کے لئے کانگریس کی منظوری چاہئے تو معلوم ہوا کہ امریکہ میں حملے کی جرأت نہیں ہے چنانچہ ٹرمپ نے ٹوئیٹ کیا کہ:
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے خلاف فوجی اقدام کے اپنے اعلان سے پسپا ہو کر کہا ہے کہ “میں نے شام پر حملہ کرنے کا وقت متعین نہیں کیا ہے۔
ٹرمپ نے آج [جمعرات 12 اپریل 2018 کو] بحیرہ روم میں زبردست عسکری تیاریوں کی طرف اشارہ کئے بغیر ٹویٹر پر لکھا: “میں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ شام پر حملہ کب ہوگا، شاید بہت جلد ہو یا ہرگز بہت جلد نہ ہو”۔
سابق صدر بارک اوباما نے بھی 2013 میں ہلیری کلنٹن کے ہاتھوں لیبیائی کیمیاوی ہتھیاروں کی شام منتقلی اور دہشت گردوں کے ہاتھوں ان کے استعمال کے بعد شام پر حملے کا اعلان کیا تھا جس سے انہیں پسپا ہونا پڑا تھا۔ 2013 میں امریکی پسپائی کسی بھی جنگ سے امریکہ کی پہلی پسپائی تھی۔
انھوں نے داعش کے ساتھ جنگ میں امریکہ کو مبینہ بڑی کامیابیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: “بہرصورت امریکی حکومت نے میرے زیر انتظام ایک غیر معمولی کارنامہ سرانجام دیا اور داعش کو علاقے سے نکال باہر کیا؛ تو پھر اس کا شکریہ کہاں ہے؟”
انھوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ان کی حکومت نے داعش کو علاقے سے نکال کر کہاں منتقل کیا اور پھر کس علاقے کے غیر استحکام کا منصوبہ ہے؟
ٹرمپ نے گذشتہ روز امریکی سفیر کے موقف پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ: “روس نے دعوی کیا ہے کہ وہ ہر میزائل، اور ان تمام میزائلوں کو جو شام پر داغے جائیں، مار گرائے گا، تو تیار رہو روس، کیونکہ ہمارے میزائل آرہے ہیں، خوبصورت، جدید اور ہوشیار”۔
ٹرمپ نے بین الاقوامی اداروں کی تصدیق کے بغیر تکفیری دہشت گردوں کی شکست کے بعد دمشق کے نواحی شہر دوما میں کیمیاوی گیسوں کے استعمال کی افواہ پر شام کے خلاف اعلان جنگ کیا اور دعوی کیا کہ اس حملے کے ذمہ دار شام کے صدر بشار اسد ہیں اور سفارتی آداب کے برعکس انہیں حیوان کا خطاب دیا اور کہا کہ وہ شامی عوام کے قتل کے مزے لیتے ہیں۔۔۔
انھوں نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکہ افغانستان، پاکستان، عراق، یمن، فلسطین اور شام میں لاکھوں انسانوں کے قتل عام میں بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر ملوث ہے اور داعش کا بانی بھی امریکہ ہی ہے جیسا کہ انھوں نے خود الیکشن کیمپین میں اعتراف کیا تھا۔
لبنان میں متعین روسی سفیر الیکزینڈر زاسیپکین (Alexander Zasypkin) نے خبردار کیا تھا کہ روس ہر اس میزائل کو مار گرائے گا جو شام پر داغا جائے گا۔
انھوں نے کہا تھا کہ روس شام پر کسی بھی امریکی حملے کا مقابلہ کرے گا، اس ملک کو نشانہ بنانے والے تمام میزائلوں کو مار گرائے گا اور میزائل داغنے والے تمام لانچروں کو تباہ کردے گا۔
واضح رہے کہ غوطہ شرقیہ کا علاقہ تکفیری دشمن سے آزاد کرالیا گیا ہے اور دوما میں تکفیریوں اور ان کے مغربی ـ عبری اور عرب حامیوں نے ایسے حال میں دوما شہر میں کیمیاوی گیسوں کے استعمال کا دعوی کیا جب وہ مسلسل پسپا ہورہے تھے اور کوئی عسکری منطق ہرگز ایسے کسی دعوے کی تصدیق نہیں کرتی کہ کسی فوج نے عین کامیابیوں کے وقت کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہوں۔
شامی افواج نے 2013 میں ہلیری کلنٹن کے ہاتھوں لیبیائی کیمیاوی ہتھیاروں کی شام منتقلی اور دہشت گردوں کے ہاتھوں ان کے استعمال کے بعد اپنے تمام کیمیاوی ہتھیار عالمی اداروں اور روس کی نگرانی میں تباہ کردیئے تھے۔
شام کے خلاف ٹرمپ کے اعلان جنگ کے بعد مبصرین کا خیال تھا کہ خواہ امریکہ شام پر حملہ کرے خواہ اس سے پسپائی اختیار کرے، امریکہ اس کے بعد طویل عرصے تک کسی ملک کے خلاف میدان جنگ میں نہیں کود سکے گا۔

منبع: جاثیہ نیوز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۰


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

Quds cartoon 2018
پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram