مبعث رسول اعظم (ص)

عالم اسلام کو اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کی طرف سے عید مبعث مبارک ہو / شب و روز مبعث کے مخصوص اعمال

عالم اسلام کو اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کی طرف سے عید مبعث مبارک ہو / شب و روز مبعث کے مخصوص اعمال

رحمت دو جہاں سید الانبیاء و المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے یوم بعثت کی مناسبت سے حضرت بقیۃ اللہ الاعظم و تمام اہل اسلام کو ہدیہ تبریک پیش کیا جاتا ہے ۔

ابنا: روز مبعث محبت و عطوفت کا دن ہے، اس دن عربوں کی جہالت کو ختم کرنے کا باقاعدہ قانون آ گیا۔ وہ جاہل عرب جو معصوم بچیوں کو ماں کی نرم و گرم آغوش دینے کی بجائے انکو زندہ دفن کردیا کرتے تھے، بیٹی کا وجود ان کے لئے باعث ننگ و عار تھا۔ معمولی معمولی باتوں پر جنگیں شروع ہو جاتیں جو سالوں جاری رہتیں، ہزاروں بیگناہ مارے جاتے، عورتوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، عورت کو صرف ہوا و ہوس اور بچے لانے کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا، بت پرستی کا دور دورہ تھا، ایسے میں رب العزت نے آج کے دن محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منصب رسالت پر فائز کر کے ایک سنت ناب محمدی کا آغاز کیا۔

27 رجب المرجب کا دن بہت ہی مبارک ہے، آج مبعث رسول اعظم کا دن ہے، آج کے دن خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیامبری کے درجے پر فائز کیا گیا۔ تاریخ میں نقل ہے، آج کے دن غار حرا میں جبرائیل امین خدا کی طرف سے پیامبر پر وحی لے کر نازل ہوئے، اور انکو پیامبری کی بشارت سنائی اور کہا کہ خدا نے آپکو دین مبین اسلام کی تبلیغ و ترویج پر نائل فرمایا ہے، پس بت پرستی کا خاتمہ کرو اور خدا پرستی کو رواج دو، اور خدا کے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچاو۔ جب آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی تو اسوقت آپ کی عمر مبارک 40 سال تھی۔ روز مبعث محبت و عطوفت کا دن ہے، اس دن عربوں کی جہالت کو ختم کرنے کا باقاعدہ قانون آ گیا۔ وہ جاہل عرب جو معصوم بچیوں کو ماں کی نرم و گرم آغوش دینے کی بجائے انکو زندہ دفن کردیا کرتے تھے، بیٹی کا وجود ان کے لئے باعث ننگ و عار تھا۔ معمولی معمولی باتوں پر جنگیں شروع ہو جاتیں جو سالوں جاری رہتیں، ہزاروں بیگناہ مارے جاتے، عورتوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا، عورت کو صرف ہوا و ہوس اور بچے لانے کا وسیلہ سمجھا جاتا تھا، بت پرستی کا دور دورہ تھا، ایسے میں رب العزت نے آج کے دن محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منصب رسالت پر فائز کر کے ایک سنت ناب محمدی کا آغاز کیا۔

شیعہ روایات کے مطابق:
شیعہ روایات کے مطابق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 27 رجب المرجب عام الفیل، 13 سال قبل از ہجرت، پیامبری کے لئے مبعوث ہوئے۔ اہل تشیع میں آج کے دن نہایت تزک و احتشام کے ساتھ جشن و محافل میلاد کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مبارک و بابرکت شب و روز کے لئے بہت سے اعمال بھی بیان کئے گئے ہیں۔ جن میں آج کے دن دعا، نماز، غسل مستحب اور روزہ رکھنے کی بہت تاکید کی گئی ہے۔

اہل سنت روایات کے مطابق:
اہل سنت والجماعت کے نزدیک مبعث کی دقیق تاریخ مشخص نہیں، لیکن بعض روایات و احادیث کے مطابق یہ واقعہ 21 رمضان کو پیش آیا۔ چونکہ اہلسنت کے نزدیک اس واقعے کی دقیق تاریخ نہیں ہے، اسی لئے روز مبعث کا جشن بھی نہیں منایا جاتا ہے۔

شب مبعث کے مخصوص اعمال:
مستحب ہے کہ انسان شب بیداری کرے اور وارد شدہ اعمال کو بجالاءے ۔اعمال کی کیفیت مندرجہ ذیل ہے :

۱۲رکعت نماز ہے جس کی ہر رکعت میں سورہ سورۂ حمد کے بعد سورۂ محمد کی تلاوت کرے ۔اور ہر دو رکعت کے بعد سلام کے ساتھ نماز کو تمام کرے ۔۱۲ رکعت نماز تمام ہو جانے کے بعد سات مرتبہ چار وں قل کی تلاوت کرے ۔پھر سات مرتبہ انا انزلناہ اور آیۃ الکرسی کی تلاوت کرے اور اس کے بعد اس دعا کو پڑھے ۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدا وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِيرا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِمَعَاقِدِ عِزِّكَ عَلَى أَرْكَانِ عَرْشِكَ وَ مُنْتَهَى الرَّحْمَةِ مِنْ كِتَابِكَ وَ بِاسْمِكَ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ وَ ذِكْرِكَ الْأَعْلَى الْأَعْلَى الْأَعْلَى وَ بِكَلِمَاتِكَ التَّامَّاتِ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ أَنْ تَفْعَلَ بِي مَا أَنْتَ أَهْلُهُ .اپنی حاجت طلب کریں انشاء اللہ مستجاب ہو گی ۔

۲۔ زيارت حضرت امير المؤمنين عليه السلام کہ اس رات کے افضل ترین اعمال میں سے ہے ۔

۳۔ شيخ كفعمى بلد الامين میں فرماتے ہیں کہ شب مبعث میں اس دعا کی تلاوت کریں :

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِالتَّجَلِّي [بِالنَّجْلِ‏] الْأَعْظَمِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ مِنَ الشَّهْرِ الْمُعَظَّمِ وَ الْمُرْسَلِ الْمُكَرَّمِ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ أَنْ تَغْفِرَ لَنَا مَا أَنْتَ بِهِ مِنَّا أَعْلَمُ يَا مَنْ يَعْلَمُ وَ لا نَعْلَمُ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ الَّتِي بِشَرَفِ الرِّسَالَةِ فَضَّلْتَهَا وَ بِكَرَامَتِكَ أَجْلَلْتَهَا وَ بِالْمَحَلِّ الشَّرِيفِ أَحْلَلْتَهَا اللَّهُمَّ فَإِنَّا نَسْأَلُكَ بِالْمَبْعَثِ الشَّرِيفِ وَ السَّيِّدِ اللَّطِيفِ وَ الْعُنْصُرِ الْعَفِيفِ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ أَنْ تَجْعَلَ أَعْمَالَنَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَ فِي سَائِرِ اللَّيَالِي مَقْبُولَةً وَ ذُنُوبَنَا مَغْفُورَةً وَ حَسَنَاتِنَا مَشْكُورَةً وَ سَيِّئَاتِنَا مَسْتُورَةً وَ قُلُوبَنَا بِحُسْنِ الْقَوْلِ مَسْرُورَةً وَ أَرْزَاقَنَا مِنْ لَدُنْكَ بِالْيُسْرِ مَدْرُورَةً اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَرَى وَ لا تُرَى وَ أَنْتَ بِالْمَنْظَرِ الْأَعْلَى وَ إِنَّ إِلَيْكَ الرُّجْعَى وَ الْمُنْتَهَى وَ إِنَّ لَكَ الْمَمَاتَ وَ الْمَحْيَا وَ إِنَّ لَكَ الْآخِرَةَ وَ الْأُولَى اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَذِلَّ وَ نَخْزَى وَ أَنْ نَأْتِيَ مَا عَنْهُ تَنْهَى اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِكَ وَ نَسْتَعِيذُ بِكَ مِنَ النَّارِ فَأَعِذْنَا مِنْهَا بِقُدْرَتِكَ وَ نَسْأَلُكَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَارْزُقْنَا بِعِزَّتِكَ وَ اجْعَلْ أَوْسَعَ أَرْزَاقِنَا عِنْدَ كِبَرِ سِنِّنَا وَ أَحْسَنَ أَعْمَالِنَا عِنْدَ اقْتِرَابِ آجَالِنَا وَ أَطِلْ فِي طَاعَتِكَ وَ مَا يُقَرِّبُ إِلَيْكَ وَ يُحْظِي عِنْدَكَ وَ يُزْلِفُ لَدَيْكَ أَعْمَارَنَا وَ أَحْسِنْ فِي جَمِيعِ أَحْوَالِنَا وَ أُمُورِنَا مَعْرِفَتَنَا وَ لا تَكِلْنَا إِلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَيَمُنَّ عَلَيْنَا وَ تَفَضَّلْ عَلَيْنَا بِجَمِيعِ حَوَائِجِنَا لِلدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ ابْدَأْ بِآبَائِنَا وَ أَبْنَائِنَا وَ جَمِيعِ إِخْوَانِنَا الْمُؤْمِنِينَ فِي جَمِيعِ مَا سَأَلْنَاكَ لِأَنْفُسِنَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْعَظِيمِ وَ مُلْكِكَ الْقَدِيمِ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَغْفِرَ لَنَا الذَّنْبَ الْعَظِيمَ إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الْعَظِيمَ إِلا الْعَظِيمُ اللَّهُمَّ وَ هَذَا رَجَبٌ الْمُكَرَّمُ الَّذِي أَكْرَمْتَنَا بِهِ أَوَّلُ أَشْهُرِ الْحُرُمِ أَكْرَمْتَنَا بِهِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ فَلَكَ الْحَمْدُ يَا ذَا الْجُودِ وَ الْكَرَمِ فَأَسْأَلُكَ بِهِ وَ بِاسْمِكَ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ الْأَعْظَمِ الْأَجَلِّ الْأَكْرَمِ الَّذِي خَلَقْتَهُ فَاسْتَقَرَّ فِي ظِلِّكَ فَلا يَخْرُجُ مِنْكَ إِلَى غَيْرِكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بَيْتِهِ الطَّاهِرِينَ وَ أَنْ تَجْعَلَنَا مِنَ الْعَامِلِينَ فِيهِ بِطَاعَتِكَ وَ الْآمِلِينَ فِيهِ لِشَفَاعَتِكَ اللَّهُمَّ اهْدِنَا إِلَى سَوَاءِ السَّبِيلِ وَ اجْعَلْ مَقِيلَنَا عِنْدَكَ خَيْرَ مَقِيلٍ فِي ظِلٍّ ظَلِيلٍ وَ مُلْكٍ جَزِيلٍ فَإِنَّكَ حَسْبُنَا وَ نِعْمَ الْوَكِيلُ اللَّهُمَّ اقْلِبْنَا مُفْلِحِينَ مُنْجِحِينَ غَيْرَ مَغْضُوبٍ عَلَيْنَا وَ لا ضَالِّينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِعَزَائِمِ مَغْفِرَتِكَ وَ بِوَاجِبِ رَحْمَتِكَ السَّلامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ وَ الْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَ الْفَوْزَ بِالْجَنَّةِ وَ النَّجَاةَ مِنَ النَّارِ اللَّهُمَّ دَعَاكَ الدَّاعُونَ وَ دَعَوْتُكَ وَ سَأَلَكَ السَّائِلُونَ وَ سَأَلْتُكَ وَ طَلَبَ إِلَيْكَ الطَّالِبُونَ وَ طَلَبْتُ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الثِّقَةُ وَ الرَّجَاءُ وَ إِلَيْكَ مُنْتَهَى الرَّغْبَةِ فِي الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ وَ اجْعَلِ الْيَقِينَ فِي قَلْبِي وَ النُّورَ فِي بَصَرِي وَ النَّصِيحَةَ فِي صَدْرِي وَ ذِكْرَكَ بِاللَّيْلِ وَ النَّهَارِ عَلَى لِسَانِي وَ رِزْقا وَاسِعا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَ لا مَحْظُورٍ فَارْزُقْنِي وَ بَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي وَ اجْعَلْ غِنَايَ فِي نَفْسِي وَ رَغْبَتِي فِيمَا عِنْدَكَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ .

سجده مین جاکر یه کهه: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِمَعْرِفَتِهِ وَ خَصَّنَا بِوِلايَتِهِ وَ وَفَّقَنَا لِطَاعَتِهِ شُكْرا شُكْرا ۔سو مرتبه سجده سے سر اٹھا کر یہ کہے:

اللَّهُمَّ إِنِّي قَصَدْتُكَ بِحَاجَتِي وَ اعْتَمَدْتُ عَلَيْكَ بِمَسْأَلَتِي وَ تَوَجَّهْتُ إِلَيْكَ بِأَئِمَّتِي وَ سَادَتِي اللَّهُمَّ انْفَعْنَا بِحُبِّهِمْ وَ أَوْرِدْنَا مَوْرِدَهُمْ وَ ارْزُقْنَا مُرَافَقَتَهُمْ وَ أَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ فِي زُمْرَتِهِمْ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ .

اس دن کے اعمال میں غسل مستحبی انجام دینے اور روزہ رکھنے کی بہت فضیلت ہے حتیٰ روایات میں اس دن کا روزہ رکھنے کے ثواب کو 700 سال روزے رکھنے کے ثواب کے برابر کہا گیا ہے۔ اس دن محمد و آل محمد پر کثرت سے صلوات بھیجنے اور زیارت حضرت رسول اور امیر المومنین علیہ السلام کی تلاوت کا بہت اجر بیان ہوا ہے۔

التماس دعا

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

haj 2018
We are All Zakzaky
telegram