مسجدالاقصی پر صہیونی ریاست کے تسلط کی سازش پر عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کا رد عمل / عام لام بندی کی دعوت

  • News Code : 844473
  • Source : ابنا خصوصی
Brief

عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے الاقصی کی مبارک مسجد کے خلاف صہیونی دشمنوں کی منحوس سازشوں کی نسبت دنیا کے تمام ممالک ـ بالخصوص اسلامی ممالک اور مسلمانان عالم ـ کو خبردار کرتے ہوئے سرزمین فلسطین کی آزادی تک صہیونی ریاست کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی خصوصی رپورٹ;
صہیونی ریاست کے متشددانہ اقدامات میں اضافے اور مسلمانوں کے مسجد الاقصی میں داخلے پر پابندی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی نے اپنے ایک بیان میں اس مذموم سازش کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بچہ کُش صہیونی ریاست کے خلاف ہمہ جہت جدوجہد جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے: نسل پرست اور بچہ کُش صہیونی ریاست مسجد الاقصی کے مقام پر "ہیکل سلیمان (Solomon's Temple)" کی تعمیر کے بہانے، اور بائیں بازوں کے صہیونی ـ یہودی انتہاپسندوں کو اکسا کر تخریب کارانہ اقدامات کے ذریعے قدس کے تاریخی اور مقدس شہر میں تمام تر اسلامی آثار اور اداروں کو مٹانے کی کوشش کررہی ہے۔

عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے بیان کا متن:

بسم الله الرحمن الرحیم
وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ  أُولئِکَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (الحشر 19)
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جو اللہ کو بھول گئے تو اس نے انہیں خود ان کو بھلا دیا [اور خودفراموشی میں مبتلا کیا] اور یہی بدکردار لوگ ہیں۔

مسجد الاقصی، قبۃ الصخرۃ اور پوری سرزمین فلسطین پر مکمل تسلط جمانے کے لئے فیصلہ کن جنگ نے کروڑوں حریت پسند انسانوں اور غیرت مند مسلمانوں نیز مظلوم فلسطینیوں کو غیظ میں مبتلا کردیا۔
غاصب صہیونی فوجی حالیہ ایام میں اپنی جابرانہ پالیسیوں اور متشددانہ اقدامات میں اضافہ کرکے عوامی احتجاجات کے خاتمے کے بہانے، مظاہرین کو شہید اور زخمی کرتے ہوئے مسجد الاقصی میں برقی دروازے نصب کرچکے ہیں اور اس مسجد مقدس میں نماز جمعہ اور مسلمانوں کے دوسرے مذہبی فرائض کی ادائیگی سے شدت سے امتناع کررہے ہیں۔
 نسل پرست اور بچہ کُش صہیونی ریاست مسجد الاقصی کے مقام پر "ہیکل سلیمان (Solomon's Temple)" کی تعمیر کے بہانے، اور بائیں بازوں کے صہیونی ـ یہودی انتہاپسندوں کو اکسا کر تخریب کارانہ اقدامات کے ذریعے قدس کے تاریخی اور مقدس شہر میں تمام تر اسلامی آثار اور اداروں کو مٹانے کی کوشش کررہی ہے۔
[قبلۂ اول کے خلاف] ان وحشیانہ اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ کی حکومت اور امریکی کانگریس میں موجود تشدد پسند صہیونی لابیوں کی پشت پناہی حاصل ہے اور انھوں نے صہیونیوں کو فلسطینی عوام کی حرمت شکنی اور سرکوبی اور مسجد الاقصی کی مسماری اور اس کے آثار تک مٹانے کے لئے کھلی چھٹی دے رکھی ہے، یہاں تک کہ انھوں نے ایک ترغیبی اقدام کے طور پر تل ابیب سے اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
افسوس کا مقام ہے کہ علاقائی سطح پر بعض عرب اور اسلامی ممالک ـ جن کی سرکردگی خلیج فارس کی ساحلی عرب ریاستیں کررہی ہیں ـ فلسطین میں صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ پالیسیوں میں شدت آنے کے عین وقت میں اس ناجائز اور غاصب و جابر و متشدد ریاست کے ساتھ حالات معمول پر لانے میں مصروف ہوئے اور یوں صہیونی ریاست کے غاصب فوجیوں کو ہری بتی دکھا دی تا کہ وہ فلسطینی عوام کے کچلنے پر مبنی اور غاصبانہ قبضے کو جاری رکھ سکیں۔
1۔ عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی پوری دنیا کے باسیوں، بالخصوص مسلم ممالک اور مسلمانان عالم کو الاقصی کی مبارک مسجد کے خلاف مذموم صہیونی سازشوں سے خبردار کرتے ہوئے، پوری سرزمین فلسطین کی مکمل آزادی تک صہیونی ریاست کے خلاف ہمہ جہت جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کرتی ہے۔
ہم اعلان کرتے ہیں کہ مسجد الاقصی دنیا بھر کے مسلمانوں اور حریت پسندوں کے لئے سرخ لکیر ہے اور اس کی طرف ہر قسم کی دست درازی اسلامی مقدسات کی حرمت شکنی اور ہتک کے ہم معنی ہے، جس کے آگے کسی بھی حالت میں خاموش نہیں رہا جاسکتا اور امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے بقول " فلسطین کے مسئلے کا حل مذاکرات میں نہیں بلکہ جہاد اور مزاحمت میں ہے"۔
2۔ ہم مسجد الاقصی کے خلاف نسل پرست اور غاصب صہیونی ریاست کی جارحیتوں اور جرائم کے خاتمے اور اس مسجد پر اسلامی ادارہ اوقاف کی سیادت و حاکمیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
3۔ مسجدالاقصی کے نمازگزاروں اور محافظوں کی گرفتاری اور سرکوبی کے سلسلے میں صہیونی ریاست کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں اور دشمن کی ان جارحیتوں کے خطرناک نتائج کے سلسلے میں خبردار کرتے ہیں؛ بلاشبہ یہ جارحانہ اقدامات جواب کے بغیر نہیں رہیں گے۔
4۔ ہم مسجد الاقصی کے دفاع اور فلسطینی مسلمانوں کی انتفاضہ تحریک کی ہمہ جہت حمایت کے لئے پوری امت مسلمہ اور ملت فلسطین کو لام بندی کی دعوت دیتے ہیں، اور ضروری ہے کہ پورے فلسطین اور دنیا بھر کے ممالک میں صہیونی ریاست کی جارحیتوں کی مذمت کے لئے مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا جائے اور ایک بار پھر مسجد الاقصی کی راہ میں جانفشانی کی غرض سے اس مسجد کے ساتھ بیعت کی جائے اور حس طرح کہ رہبر معظم انقلاب (مد ظلہ العالی) نے فرمایا "مغربی پٹی کو مسلح ہونا چاہئے، اور فلسطین کی آزادی "بحر [روم] سے نہر [دریائے اردن] تک" ہمہ جہت جدوجہد اور مزاحمت کے ذریعے یقینی بنائی جائے"۔
5۔ علمائے اعلام، مبلغین، اہل دانش اور قانون دانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ مسجد الاقصی کی مدد کے لئے اٹھیں اور اس سے غفلت نہ کریں کیونکہ مسجد الاقصی اور دیگر مقدسات کی حمایت اور حفاظت تمام ترجیحات اور واجبات و فرائض پر مقدم ہے۔
6۔ اسلامی ـ عربی امت کو اپنے انسانی اور اسلامی فرائض پر عمل کرنا چاہئے اور اپنے حکمرانوں پر دباؤ بڑھانا چاہئے کہ وہ صہیونی دشمن کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش جیسے حرام فعل سے دستبردار ہوجائیں، صہیونی ریاست پر ہمہ جہت پابندیاں لگائیں اور اس کا ہر لحاظ سے مقاطعہ کریں۔
"وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِندِ اللّهِ إِنَّ اللّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ" (الانفال / 10)
اور فتح و ظفر نہیں ہے مگر اللہ کی طرف سے یقینا اللہ زبردست ہے بالکل صحیح کام کرنے وال)ا۔)
عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی
25 جولائی 2017 / 3 مرداد 1396 ہجری شمسی/ یکم ذوالقعدۃ الحرام 1438 ہجری قمری۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

پیام امام خامنه ای به مسلمانان جهان به مناسبت حج 2016
We are All Zakzaky
telegram